https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Friday, 29 November 2024

تیمم کب کیا جاسکتا ہے

 تیمم کرنا اس شخص کے لیے  جائز  ہے جس کو  پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو، اور پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں:

1- پانی میسر  نہ ہو، مثلًا شہر سے باہر ہو اور  آس پاس ایک میل تک پانی دست یاب نہیں ہو، یا کنواں تو ہے مگر کنویں سے پانی نکالنے کی کوئی صورت نہیں ہے،  یا پانی پر کوئی درندہ بیٹھا ہے یا پانی پر دشمن کا قبضہ ہے،  اس کے خوف کی وجہ سے پانی تک پہنچنا ممکن نہیں ہے، تو ان تمام صورتوں میں  اس شخص کو گویا پانی میسر ہی نہیں ہے، ایسا شخص وضو اور غسل کے لیے تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے۔

2- پانی تو موجود ہے لیکن وہ شخص بیمار ہے، اور وضو یا غسل سے جان کی ہلاکت یا کسی عضو کے تلف ہوجانے کا یا بیماری میں اضافہ ہوجانے کا  یا بیماری کے طول پکڑجانے کا اندیشہ ہے  یا خود وضو یا غسل کرنے سے معذور ہے اور کوئی دوسرا آدمی وضو یا غسل کرانے والا موجود نہیں ہے تو ایسا آدمی تیمم کرسکتا ہے۔

 جواب دے چکی تھی، میں مسجد میں داخل ہوگیا، اور ایک کونے میں بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگا۔

کھانا لیے ایک عجمی نوجوان کی آمد

اتنے ہی میں ایک عجمی نوجوان صاف ستھری روٹیاں اور بھنا ہوا گوشت لے کر آیا اور بیٹھ کر انہیں کھانا شروع کردیا وہ جب لقمہ لیکر ہاتھ اوپر کرتا تو بھوک کی شدت کی وجہ سے بے اختیار میرا منھ کھل جاتا، کچھ دیر کے بعد میں نے اپنے آپ کو ملامت کی، اور دل میں کہا: یہ کیاحرکت ہے؟ یا تو خدا کھانے پینے کا کوئی انتظام کرے گا،اوراگرموت کا فیصلہ لکھ چکا ہے تو پھر وہ پورا ہوکر رہے گا!!

کھانے کے لئے اصرار

اچانک عجمی کی نظر میرے اوپر پڑی، اوراس نے مجھے دیکھ کر کہا: بھائی، آؤ کھانا کھالو، میں نے منع کردیا، اس نے قسم دی تو میرے نفس نے لپک کر کہا کہ اس کی بات مان لو، لیکن میں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے پھر انکار کردیا، اس نے پھر قسم دی، اور آخر میں راضی ہوگیا اور رُک رُک کر تھوڑا تھوڑا کھانے لگا، وہ مجھ سے پوچھنے لگا، تم کیا کرتے ہو؟ کہاں کے ہو؟ اور کیا نام ہے؟ میں نے کہا: میں جیلان سے پڑھنے کے لئے آیا ہوں، اس نے کہا: ”میں بھی جیلان کا ہوں“ کیا تم ابوعبداللہ صومعی درویش کے نواسے، عبدالقادر نامی، جیلانی نوجوان کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: میں وہی تو ہوں!۔(۲)

Wednesday, 27 November 2024

بغیر ولی کے نکاح

 عاقلہ بالغہ  لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کرے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہوجاتا ہے،  اگرچہ والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعاً و اخلاقاً پسندیدہ نہیں ہے،  اگر لڑکی نے  ولی کی اجازت کے بغیر   غیر کفو میں نکاح کیا   تو   اولاد ہونے سے پہلے پہلے لڑکی کے اولیاء کو  عدالت سے  رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور اگر کفو میں نکاح کیا ہے توپھر لڑکی کے اولیاء   کو وہ نکاح  فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ،  اور کفو کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین، دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ ہو ، اس سے کم نہ ہو، نیز کفاءت میں مرد کی جانب کا اعتبار ہے یعنی لڑکے کا لڑکی کے ہم پلہ اور برابر ہونا ضروری ہے، لڑکی کا لڑکے کے برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔

قرآن کریم کی آیت کریمہ بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی رضاسے ہونا چاہیے، اور عاقلہ بالغہ عورت اگر مناسب جگہ اپنی رضا سے نکاح کرتی ہے تو اولیاء بلاکسی شرعی سبب کے اسے روکنے کا اختیار نہیں رکھتے ،چنانچہ سورہ بقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} [البقرة: 232]

ترجمہ :" اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پورا کر چکیں اپنی عدت کو تو اب نہ روکو ان کو اس سے کہ نکاح کرلیں اپنے ان ہی خاوندوں سے جب کہ راضی ہو جاویں آپس میں موافق دستور کے، یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو کہ تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اس میں تمہارے واسطے بڑی ستھرائی ہے اور بہت پاکیزگی، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

"مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے سے بلاوجہ شرعی روکنا حرام ہے:

دوسری آیت میں اس ناروا ظالمانہ سلوک کا انسداد کیا گیا ہے جو عام طور پر مطلقہ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے  کہ ان کو دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے، پہلا شوہر بھی عموماً اپنی مطلقہ بیوی کو دوسرے شخص کے نکاح میں جانے سے روکتا اور اس کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتا ہے اور بعض خاندانوں میں لڑکی کے اولیاء بھی اس کو دوسری شادی کرنے سے روکتے ہیں اور ان میں بعض اس طمع میں روکتے ہیں کہ اس کی شادی پر ہم کوئی رقم اپنے لیے حاصل کرلیں، بعض اوقات مطلقہ عورت پھر اپنے سابق شوہر سے نکاح پر راضی ہوجاتی ہے مگر عورت کے اولیاء واقرباء کو طلاق دینے کی وجہ سے ایک قسم کی عداوت اس سے ہوجاتی ہے، وہ اب دونوں کے راضی ہونے کے بعد بھی ان کے باہمی نکاح سے مانع ہوتے ہیں، آزاد عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی سے بلاعذر شرعی روکنا خواہ پہلے شوہر کی طرف سے ہو یا لڑکی کے اولیاء کی طرف سے بڑا ظلم ہے، اس ظلم کا انسداد اس آیت میں فرمایا گیا ہے ... اس آیت کے خطاب میں وہ شوہر بھی داخل ہیں جنہوں نے طلاق دی ہے اور لڑکی کے اولیاء بھی، دونوں کو یہ حکم دیا گیا کہ {فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ} یعنی مت روکو مطلقہ عورتوں کو اس بات سے کہ وہ اپنے تجویز کیے ہوئے شوہروں سے نکاح کریں خواہ پہلے ہی شوہر ہوں جنہوں نے طلاق دی تھی یا دوسرے لوگ، مگر اس کے ساتھ یہ شرط لگا دی گئی {اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ} یعنی جب دونوں مرد وعورت شرعی قاعدہ کے مطابق رضامند ہوجائیں تو نکاح سے نہ روکو جس میں اشارہ فرمایا گیا کہ اگر ان دونوں کی رضامندی نہ ہو کوئی کسی پر زور زبردستی کرنا چاہے تو سب کو روکنے کا حق ہے، یا رضامندی بھی ہو مگر شرعی قاعدہ کے موافق نہ مثلاً بلا نکاح آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنے پر رضامند ہوجائیں یا تین طلاقوں کے بعد ناجائز طور پر آپس میں نکاح کرلیں یا ایام عدت میں دوسرے شوہر سے نکاح کا ارادہ ہو تو ہر مسلمان کو بالخصوص ان لوگوں کو جن کا ان مرد وعورت کے ساتھ تعلق ہے روکنے کا حق حاصل ہے، بلکہ بقدرِ استطاعت روکنا واجب ہے۔

اسی طرح کوئی لڑکی بلا اجازت اپنے اولیاء کے اپنے کفو کے خلاف دوسرے کفو میں نکاح کرنا چاہے یا اپنے مہر مثل سے کم پر نکاح کرنا چاہے جس کا اثر خاندان پر پڑتا ہے جس کا اس کو حق نہیں تو یہ رضا مندی بھی قاعدہ شرعی کے مطابق نہیں، اس صورت میں لڑکی کے اولیاء کو اس نکاح سے روکنے کا حق حاصل ہے {اِذَا تَرَاضَوْا} کے الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ عاقلہ بالغہ لڑکی بغیر اس کی رضا اجازت کے نہیں ہوسکتا"۔(معارف القرآن 1/575.576مکتبہ معارف القرآن )

نیزاحناف کا مستدل اس باب میں وہ احادیثِ مبارکہ  بھی ہیں جن میں نبی کریم ﷺنے عورت کے عاقلہ بالغہ ہونے کی صورت میں ا س کے  اولیاء کو عورت سے اس کی رائے اور رضامندی معلوم کرنے کا حکم دیاہے، نیز ان ہی روایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ولی اور سرپرست عاقلہ بالغہ کی مرضی کے خلاف جبر واکراہ کرکے کسی سے اس کا نکاح منعقد نہیں کرسکتے ۔ احناف کے حدیثی مستدلات میں سے دوروایات ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں :

(1)"الثيب أحق بنفسها من وليّها، والبكر يستأذنها أبوها في نفسها وإذنها صماتها". (رواه مسلم عن ابن عباس رضي الله عنهما)

ترجمہ:شادی شدہ عورت اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور باکرہ نوجوان عورت سے اس کے نفس کے بارے میں اس کا باپ اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی طرف سے اجازت ہے ۔

(2) عن أبي سلمة أن أبا هريرة حدّثهم أنّ النبيّ صلى الله عليه وسلم قال : لاتنكح الأيم حتى تستأمر، ولاتنكح البكر حتى تستأذن، قالوا: يا رسول الله وكيف إذنها؟ قال: أن تسكت". (صحیح البخاري)

ترجمہ: شوہر دیدہ  عورت (خواہ شوہر کا انتقال ہوگیا ہو یا اس نے طلاق دے دی ہو)کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور نہ باکرہ کا بغیر اس کی اجازت کے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! باکرہ کی اجازت کس طرح معلوم ہوسکتی ہے؟ فرمایا کہ اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔

علامہ نواب قطب الدین خان دہلویؒ ان احادیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
" عورت سے اس کے نکاح کی اجازت حاصل کرنے کے سلسلے میں حدیث نے باکرہ کنواری اور ثیب بیوہ کا ذکر اس فرق کے ساتھ کیا ہے کہ ثیب کے بارے میں تو یہ فرمایا گیا کہ جب تک اس کا حکم حاصل نہ کر لیا جائے اور باکرہ کے بارے میں یہ الفاظ ہیں کہ جب تک کہ اس کی اجازت حاصل نہ کر لی جائے؛ لہذا حکم اور اجازت کا یہ فرق اس لیے ظاہر کیا گیا ہے کہ ثیب یعنی بیوہ عورت اپنے نکاح کے سلسلہ میں زیادہ شرم و حیاء نہیں کرتی، بلکہ وہ خود کھلے الفاظ میں اپنے نکاح کا حکم کرتی ہے یا کم سے کم صریح اشارات کے ذریعہ اپنی خواہش کا ازخود اظہار کر دیتی ہے اور اس بارے میں کوئی خاص جھجک نہیں ہوتی، اس کے برخلاف باکرہ یعنی کنواری عورت چوں کہ بہت زیادہ شرم و حیاء کرتی ہے؛ اس لیے وہ نہ تو کھلے الفاظ میں اپنے نکاح کا حکم کرتی ہے اور نہ صریح اشارات کے ذریعہ ہی اپنی خواہش کا اظہار کرتی ہے، ہاں جب اس کے نکاح کی اجازت اس سے لی جائے تو وہ اپنی رضا مندی و اجازت دیتی ہے، بلکہ زیادہ تر تو یہ ہوتا ہے کہ طلبِ اجازت کے وقت وہ زبان سے اجازت دینا بھی شرم کے خلاف سمجھتی ہے اور اپنی خاموشی و سکوت کے ذریعہ ہی اپنی رضا مندی کا اظہار کر دیتی ہے۔

اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے حکم یا اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں ہوتا، لیکن فقہاء کے یہاں اس بارے میں تفصیل ہے اور وہ یہ کہ تمام عورتوں کی چار قسمیں ہیں:

اول ثیب بالغہ، یعنی وہ بیوہ عورت جو بالغ ہو، ایسی عورت کے بارے متفقہ طور پر تمام علماء کا قول یہ ہے کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا جائز نہیں ہے، بشرطیکہ وہ عاقلہ ہو یعنی دیوانی نہ ہو، اگر عاقلہ نہ ہو گی تو ولی کی اجازت سے اس کا نکاح ہو جائے گا

دوم باکرہ صغیرہ، یعنی وہ کنواری لڑکی جو نابالغ ہو ، اس کے بارے میں بھی تمام علماء کا متفقہ طور پر یہ قول ہے کہ اس کے نکاح کے لیے اس کی اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا ولی اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کر سکتا ہے۔

سوم ثیب صغیرہ، یعنی وہ بیوہ جو بالغ نہ ہو اس کے بارے میں حنفی علماء کا تو یہ قول ہے کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر ہو سکتا ہے، لیکن شافعی علماء کہتے ہیں کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔

۔چہارم باکرہ بالغہ، یعنی وہ کنواری جو بالغہ ہو ، اس کے بارے میں حنفی علماء تو یہ کہتے ہیں کہ اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، لیکن شافعی علماء کے نزدیک جائز ہے۔

گویا تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ حنفی علماء کے نزدیک ولایت کا مدار صغر پر ہے، یعنی ان کے نزدیک ولی کو عورت کی اجازت کے بغیر نکاح کر دینے کا حق اسی صورت میں حاصل ہو گا جب کہ وہ کم سن یعنی نابالغ ہو، خواہ وہ باکرہ کنواری ہو یا ثیب بیوہ ہو، جب کہ شافعی علماء کے نزدیک ولایت کا مدار بکارت پر ہے، یعنی ان کے نزدیک ولی کو عورت کی اجازت کے بغیر نکاح کر دینے کا حق اس صورت میں حاصل ہوگا جب کہ وہ باکرہ ہو خواہ بالغ ہو یا نابالغ ہو ۔ لہذا یہ حدیث حنفیہ کے نزدیک بالغہ پر محمول ہے، خواہ وہ ثیب ہو یا باکرہ ہو، اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی حدیث: "ولاتنکح البکر حتی تستأذن"  (کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت حاصل نہ کر لی جائے) شوافع کے قول کے خلاف ایک واضح دلیل ہے"۔

باقی وہ روایات جو حضرات شوافع کا مستدل ہیں، جن میں نبی کریم ﷺنے نکاح کو ولی کی اجازت پر موقوف قرار دیا ہے، یا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا ہے، احناف کے نزدیک ان روایا ت کا تعلق یا تو نابالغہ اور غیر عاقلہ سے ہے، یعنی کم سن لڑکی اور جنون میں مبتلا دیوانی عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔اور اگر ان روایات کو ان کے ظاہری الفاظ کے ساتھ عموم پر محمول کریں تو اس صورت میں  امام ابوحنیفہ ؒکے ہاں ان روایات میں کمال کی نفی کی گئی ہے، یعنی یہ روایات  نفیِ کمال پر محمول ہیں کہ اصل نکاح منعقد ہوجائے گا، لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ عورت ولی کی اجازت سے اپنا نکاح کرے۔

نیز محدثین نے اِن روایات پر جن میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیاگیا ہے،  فنی اعتبار سے بھی کلام کیاہے۔اور ان کی حیثیت یہ لکھی ہے کہ یہ روایات  اس درجہ کی نہیں ہیں کہ انہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے موقف کے مقابلے میں بطور دلیل اختیار کیا جا سکے۔ جیساکہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں تفصیل موجود ہے۔

فقہی عبارات درج ذیل ہیں :

فتاوی شامی میں ہے:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا". (3/ 55، کتاب النکاح ، باب الولی، ط: سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض". (2/ 247،کتاب النکاح، فصل: ولایة الندب والاستحباب في النکاح، ط: سعید )

(فتاوی عالمگیری، ۱/۲۹۲، کتاب النکاح، الباب الخامس في الأکفاء في النکاح، ط: رشیدیة)