https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Thursday, 9 April 2026

حیض کی کم سے کم مدت

 حیض کی کم سے کم مدت (دورانیہ) تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) ہیں، اس سے کم خون شرعاً حیض شمار  نہیں ہوتا۔

مراقی الفلاح ميں هے :

"أقل ‌الحيض ثلاثة وأكثره عشرة وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يومًا و لا حد لأكثره" لأنه قد يمتد أكثر من سنة."

(كتاب الطهارة، باب الحیض والنفاس، ص:٦١، ط: المكتبة العصرية)

ہدایہ میں ہے:

"‌أقل ‌الحيض ثلاثة ايام ولياليها وما نقص من ذلك فهو استحاضة."

(كتاب الطهارات، ‌‌باب الحيض والاستحاضة، ١/ ٣٢، ط: دارإحياء التراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والناقص) عن أقله(والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة)."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ١/ ٢٨٥، ط: سعيد)

پاکی کی مدت پندرہ دن ہے

 واضح رہے کہ شرعاً دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کا فاصلہ ہونا  ضروری ہے،پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون شرعاً استحاضہ شمار ہوگا،اور  عورت کی عادت کے مطابق ہی حیض اور طہر کے ایام مقرر کیے جائیں گے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ خاتون کے حیض  کی عادت چوں کہ  ایک ہفتہ کی ہے اس لیے  ایک  ہفتہ مذکورہ خاتون کو جو خون آرہا ہے وہ  حیض  شمار ہوگا اور  آٹھویں دن حیض سے پاک ہوکر مذکورہ خاتون کوپندرہویں   دن سے پہلے جو خون آرہاہے  وہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اور استحاضہ کے دنوں کا حکم یہ ہے کہ اس میں نماز ،روزہ ،تلاوت ،قربت غرض یہ کہ پاکی والے تمام اعمال کیے جائیں گے، اور  عادت کے مطابق جب تک پاکی کے 15دن مکمل نہ ہوجائیں اس وقت تک مذکورہ خاتون پاک شمار ہوگی،اور  جب   مذکورہ خاتون کے پاکی کے دن عادت کے مطابق  مکمل ہوجائیں تو  حیض کے ایام  اس پاکی کے بعد سے شمارکیے جائیں گے۔

  نیز استحاضہ کے ایام  میں  اگر  مذکورہ خاتون کو خون اتنے وقفے سے آتاہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو ہوکر   وقتی فرض نماز  ادا کرسکتی ہو تو ایسی صورت میں پاکی کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے نماز ادا کرنی ہوگی ، اور اگر استحاضہ  کا خون مسلسل جاری  ہو   اور اتنا وقت بھی نہ مل رہا ہو کہ پاک صاف ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکے ،تو ایسی صورت میں  ہرنماز کے وقت میں نیا وضو کرناہوگا، پھر اس وضو سے  اگلی نماز کے وقت تک جتنے فرائض و نوافل  چاہےپڑھ سکتی ہے، نیز روزے  بھی رکھ سکتی ہے اور قرآنِ کریم کی تلاوت بھی کرسکتی ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"فالأصل عند أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة الآخر على ما في المبسوط أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لا يصير فاصلا بل يجعل كالدم المتوالي؛ لأنه لا يصلح للفصل بين الحيضتين فلا يصلح للفصل بين الدمين."

( كتاب الطهارة،باب الحيض،216/1،ط:دار الکتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودم الإستحاضة حکمه کرعاف دائم وقتًا کاملاً لایمنع صومًا وصلاةً ولو نفلاً وجماعَا؛ لحدیث: توضئي وصلي وإن قطر الدم علی الحصیر".

(کتاب الطهارۃ،باب الحیض،298/1،ط: سعید )

Friday, 3 April 2026

سرکاری اور پرائیویٹ بنک سے ملنے والے سود میں فرق

 سودی رقم کا اصل مصرف یہ ہے کہ جہاں سے وہ رقم حاصل ہو، اسی کو واپس کردی جائے، اب اگر سرکاری بینک سے سودی رقم حاصل ہو، تو سرکار کو واپس کرنے کی ایک شکل یہ ہے کہ انکم ٹیکس میں یہ رقم جمع کردی جائے، اس طرح سودی رقم سرکار تک پہنچ جائے گی؛ اس لیے کہ انکم ٹیکس کی رقم سرکار کے پاس جاتی ہے، لہٰذا سود کی جو رقم سرکاری بینک کے توسط سے حاصل ہو، اس کو انکم ٹیکس میں دینے کی گنجائش ہے، برخلاف پرائیویٹ بینک کی سودی رقم اس کو انکم ٹیکس میں دینا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ سودی رقم پرائیویٹ بینک تک نہیں پہنچے گی۔

Thursday, 2 April 2026

فسخ نکاح بوجہ مفقود الخبر ی زوج

 شوہر کے غائب ہوجانے کی صورت میں  اگر بیوی کے لیے پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہ ہو تو عورت عدالت میں مقدمہ دائر کرے،عدالت سرکاری تعاون سے تحقیقات کرنے کے بعد ایک سال کی مدت مقرر کرے، سال گزرنے پر بھی شوہر نہ آئے تو عدالت فسخِ نکاح کا فیصلہ کردے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد عدتِ وفات (حاملہ نہ ہونے کی صورت میں چار ماہ دس دن اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل یعنی بچہ کی پیدائش) گزارنے کے بعد دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔

اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے  پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛  اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی۔ اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی ہو تو  پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔


مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اس صورت میں عورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ عدالت میں دعویٰ تفریق بوجہ مفقود الخبری شوہر دائر کرے، حاکم بعد تحقیقات ایک سال کی مدت انتظار کے لیے مقرر کردے، اگر اس عرصہ میں زوجِ غائب نہ آئے تو نکاح فسخ کردے، تاریخِ فسخ سے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلے۔ ایک سال کی مدت مقرر کرنا ضروری ہے، ذرائعِ رسل ورسائل کا وسیع ہونا اس شرط کے خلاف نہیں ہے، اور نہ ذرائع کی وسعت اس امر کو لازم ہے کہ گم شدہ شوہر کا پتا معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں،آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے متعلق معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، تمام ذرائع استعمال کرلیے جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیا جاتاہے، لیکن بعد میں فیصلہ غلط ہوتاہے۔

غرض یہ کہ ایک سال کی مدت اس مصلحت کے لیے ہے کہ امکانی حد تک شوہر کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچاجائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 295):

وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ

المبسوط للسرخسي ـ موافق للمطبوع (11/ 64):

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس".

Friday, 27 February 2026

آیت سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ تلاوت سے اٹھ کربھولے سے سورہ فاتحہ پڑھنا

 فتوی: 1738-1738/M=1/1434 (۱) امام نے نماز تراویح میں آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوکر بجائے اس کے کہ جہاں سے قرآن پڑھنا تھا اس کو نہیں پڑھا بلکہ سورہٴ فاتحہ پڑھ لیا تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی، سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا۔ (۲) نہیں دہرانی پڑے گی۔ ولو قرأ فاتحة الکتاب وسورة ثم قرأ فاتحة الکتاب فلا سہو علیہ؛ لأنہ ما قرأہا علی الولاء․ (الفتاوی التاتارخانیة: ۲/۳۹۱، کتاب الصلاة، فصل سجود السہو)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Sunday, 15 February 2026

ایک ہاتھ والے کی امامت

 ایسا شخص متقی پرہیز گار عالم ہو تو اس کے  پیچھے نماز پڑھنا بلاکراہت جائز ہے، لیکن اگر ہاتھ کٹا ہونے کی وجہ سے جماعت میں لوگ کم ہوتے ہوں تو دوسرا امام جس کے دونوں ہاتھ پیر  صحیح و سالم ہوں اور مسائل نماز سے واقف ہو اور نیک شخص ہو  بہتر ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (1/ 562):

"وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغيره أولى، تاترخانية. وكذا أجذم، بيرجندي . ومجبوب وحاقن ومن له يد واحدة، فتاوى الصوفية عن التحفة. و الظاهر أنّ العلة النفرة، ولذا قيد الأبرص بالشيوع؛ ليكون ظاهرًا، ولعدم إمكان إكمال الطهارة أيضًا في المفلوج و الأقطع والمجبوب".

Sunday, 1 February 2026

تثویب کاحکم

  ہماری بستی میں ایک شخص فجر کی اذان  دیتاہے اور اس کے بعد گھر گھر جاکر بآواز بلند سب کو جگاتا ہے،کیا یہ درست ہے ؟

جواب

اذان و اقامت کے دوران باقاعدہ کچھ الفاظ پکار کر ان کے ذریعہ لوگوں کو نماز کی جانب بلانا یہ درست نہیں ہے۔البتہ اگر اذان کے بعد کوئی شخص گھر گھر جاکر یا گلی محلے میں آواز دے کر لوگوں کو  نماز کے لیے اٹھاتا ہے اور اس عمل کو اذان کا حصہ نہیں سمجھتا تو اس میں قباحت نہیں۔ البتہ یہ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں اذان کو ہی نما زکی اطلاع کے لیے کافی سمجھا جاتاتھا، اذان کے بعد نما زکے لیے باقاعدہ دوبارہ کوئی اطلاع نہیں دی جاتی تھی، اور آج کل مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ہوتے ہوئے تقریباً ہر گھر میں اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے، نیز مؤذن کی یہ ذمہ داری بھی نہیں کہ اذان کے بعد لوگوں کو نماز کے لیے بلاتا پھرے، اس لیے مذکورہ عمل کی عادت ڈالنا مناسب نہیں ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ اسی نوعیت کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

’’(الجواب)اصل حکم یہی ہے کہ تثویب(اذان کے بعد اعلان) مکروہ ہے کہ اذان کافی ہے۔ اذان کے بعد اعلان کی ضرورت نہیں رہتی،  بلکہ اس سے اذان کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔مگر افسوس کہ خدائی بلاوا  ’’حی علی الصلاۃ ، حی علی الفلاح‘‘ کی مسلمان پروا نہیں کرتے؛  اس لیے بعض علماء نے غافلوں کی تنبیہ کے لیے اجازت دی ہے ۔ مجالس الا برار میں ہے ۔

’’ولظهور التواني في الأمور الدینیة استحسن المتأخرون التثویب بین الأذان والإقامة في الصلوات کلها سوی المغرب، وهذا العود إلی الإعلام بعد الإعلام بحسب ما تعارفه کل قوم لأنه مبالغة في الإعلام فلایحصل ذلك إلا بمایتعارفونه‘‘. (مجالس الأبرار، ص: ۲۸۷ مجلس: ۴۸)

کبیریمیں ہے:

’’واستحسن المتأ خرون التثویب وهو العود إلی الإعلام بعد الإعلام یحسب ما تعارفه کل قوم لظهور التواني في الأمور الدینیة‘‘. (ص: ۳۶۱) (نور الإیضاح ص ۶۲ باب الأذان)(الشامية ج ۱ ص ۳۶۱، ص۳۶۲ أیضاً)

بلاشبہ صبح کا وقت غفلت کا وقت ہے، غافلوں کو بیدار کرنے اور نماز باجماعت کا عادی بنانے کے لیے باہمت لوگ جگانے کے لیے نکلتے ہوں تو ان کو روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب تک ضرورت ہو، یہ عمل جاری رکھاجاسکتا ہے۔ مگر کام سلیقہ سے ہونا چاہیے۔ تماشا نہ بنا لیا جائے اور باعثِ ایذاء مسلمین نہ ہو ، مستورات اور معذورین، مکانوں میں نماز اور ذکر ﷲ میں مشغول ہوں تو ان کا لحاظ رکھا جائے۔ لوگوں کو چاہیے کہ غافلین میں اپنا شمار نہ کرائیں ۔ اورلوگوں کو اٹھانے کی زحمت سے بچائیں۔

 فقط واﷲاعلم بالصواب ۲۷ جمادی الاخریٰ ۱۳۹۷؁ھ‘‘. (5/120)

(امدادالمفتین 2/69-کفایت المفتی 3/55-فتاوی رحیمیہ 5/121)

امدادالاحکام میں ہے :

’’ اذان میں تثویبِ مسنون تو یہ ہے کہ اذان فجر میں’’الصلاۃ خیرمن النوم‘‘ اضافہ کیاجائے،  اور تثویبِ مبتدع ایک تو اذان میں ہے کہ ’’حی علیٰ خیرالعمل‘‘  اضافہ کیاجائے جیسا روافض کرتے ہیں، اور ایک مابین الاذان والاقامۃ ہے کہ موذن تھوڑی دیر میں’’الصلاۃ جامعۃ یا الصلاۃ رحمکم اللہ‘‘  پکارتا ہے، یہ دونوں بدعت ومکروہ ہیں، والأول أشد ابتداعاً وکراهةً". (1/433) 

۔  فقط واللہ اعلماذان کے بعد دوبارہ لوگوں کو نماز کے لئے بلانا ”تثویب“ کہلاتا ہے اور تثویب شرعاً پسندیدہ نہیں ہے؛ اس لئے اگر کسی جگہ یہ رواج ہو کہ موٴذن اذان کے بعد دوبارہ لوگوں کو نماز کے لئے پکارتا ہے تو یہ رواج ناپسندیدہ اور قابل ترک ہے (دیکھیں: فتاوی دارالعلوم: ۲/۹۶، ط: مکتبہ دارالعلوم دیوبند)

Wednesday, 7 January 2026

طلاق دیدوں گا کہنے سے طلاق نہیں ہوتی

 صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے اپنی بیوی سے واقعی صرف اتنا ہی کہا تھا کہ اگر تم باہر جاؤگی تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا تو اس جملے سے طلاق واقع نہیں ہوگی ، کیونکہ یہ جملہ صرف اور صرف طلاق کی دھمکی ہے طلاق نہیں ہے۔اور طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قالت لزوجها: من باتو نمي باشم، فقال الزوج: مباش، فقالت: طلاق بدست تو است مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق ميكنم، طلاق ميكنم، وكرر ثلاثًا، طلقت ثلاثًا بخلاف قوله: كنم؛ لأنه استقبال فلم يكن تحقيقًا بالتشكيك."

( الفتاوی الهندیة: كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية(1/ 384)، ط. رشيديه)

Sunday, 4 January 2026

دونوں خطبوں کے دوران بیٹھنا مسنون ہے

 خطبے کی واجب مقدار جس سے خطبہ ادا ہوجاتا ہے وہ ذکر اللہ  ہے یعنی ایک مرتبہ   "الحمد للہ" ، "سبحان اللہ" ،" لاإله إلا الله " اگر کوئی خطبے کی نیت سے کہہ دے تو خطبے كی واجب مقدار  ادا ہوجائے گی  ، نیز دونوں خطبے سنت سےثابت ہے اور ان کے درمیان بیٹھنا مسنون ہے  ۔

ہندیہ میں ہے:

"الخطبة تشتمل على فرض وسنة فالفرض شيئان الوقت وهو بعد الزوال وقبل الصلاة حتى لو خطب قبل الزوال أو بعد الصلاة لا يجوز، هكذا في العيني شرح الهداية، والثاني ذكر الله تعالى، كذا في البحر الرائق وكفت تحميدة أو تهليلة أو تسبيحة، كذا في المتون"

(كتاب الصلاة ،الباب السادس عشر فى صلاة الجمعة ، 1/ 146، ط: رشيدية)

حدیث مبارک میں ہے :

"وحدثني عن مالك، عن جعفر بن محمد، عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «‌خطب ‌خطبتين يوم الجمعة، وجلس بينهما»۔"

(مؤطا امام مالك ،كتاب الجمعة ، باب القرأة فى صلاة الجمعة ، 1/ 112، رقم الحديث:21،ط: دارإحياء التراث العربى )

مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح ميں هے :

"و يسن خطبتان للتوارث إلى وقتنا، و يسن الجلوس بين الخطبتين."

(كتاب الصلاة ، باب صلاة الجمعة ،ص: 196،ط:المكتبة العصرية )

Wednesday, 24 December 2025

آنکھ کے آپریشن کی وجہ سے تیمم کریں یا آنکھ کے علاوہ باقی اعضاء دھویں

 آنکھ پر پانی پہنچنے کی بنا پر نقصان کا اندیشہ ہو، تو آنکھ پر مسح کرے اگر آنکھ پر مسح کرنا ممکن ہو، ورنہ چھوڑدے(۱)اور بقیہ بدن پر پانی بہانا لازم ہے، اور اگر پورے بدن پر پانی بہانے کی وجہ سے آنکھ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، تو پھر اس صورت میں تیمم کرسکتا ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ویجوز) أي یصح مسحها (و لو شدت بلا وضوء) وغسل دفعًا للحرج (ویترک) المسح کالغسل (إن ضر وإلا لا) یترک۔ 

(۴۰۷/۱ ، کتاب الطهارة ، مطلبٌ : الفرق بین الفرض العملي والقطعي والواجب ، ط : دار الکتاب دیوبند)

ما في ” البحر الرائق “ : إذ زادت الجبیرة علی رأس الجرح إن کان حل الخرقة وغسل ما تحتها یضر بالجراحة ، یمسح علی الکل تبعًا ، وإن کان الحل والمسح لا یضر بالجرح لا یجزئه مسح الخرقة بل یغسل ما حول الجراحة ویمسح علیها لأعلی الخرقة ، وإن کان یضره المسح ولا یضره الحل یمسح علی الخرقة التي علی رأس الجرح ویغسل حوالیها وتحت الخرقة الزائدة ، إذ الثابت بالضرورة یتقدر بقدرها ۔(۳۲۶/۱ ، کتاب الطهارة ، باب المسح علی الخفین ، ط : دار الکتاب دیوبند)

(۲) ما في ” کنز الدقائق مع البحر الرائق “ : یتیمم لبعده میلا عن ماء أو لمرض ۔(۲۴۱/۱ ، کتاب الطهارة ، باب التیمم ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

ما في ” البحر الرائق “ : بأن یخاف اشتداد مرضه لو استعمل الماء ۔(۲۴۵/۱ ، کتاب الطهارة ، باب التیمم)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وقال العلامة الحصکفي رحمه اللّٰه تعالٰی : أو (لمرض) یشتد أو یمتد بغلبة ظن أو قول حاذق مسلم ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (أو حاذق مسلم) أي إخبار طبیب حاذق مسلم غیر ظاهر الفسق ، وقیل عدالته شرط ۔ (۳۵۲/۱)

ما في ”الفتاوی الهندیة“:ولوکان یجد الماء إلا أنه مریض یخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ بروٴه یتیمم۔

(۲۸/۱، کتاب الطهارة ، الباب الرابع في التیمم ، ط : مکتبه زکریا سهارنپور) فقط

Friday, 12 December 2025

گردن کا مسح مستحب ہے

 احناف کے نزدیک گردن کے پچھلے حصے کا جسے گدی کہتے ہیں، کامسح کرنا مستحب ہے،اوریہ احادیث وآثارصحابہ سے ثابت ہے؛ جب كه گدی  پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ  انگلیوں کی پشت کو گردن پر پھیر لیا جائے، البتہ چوں کہ  حلقوم يعنی گلے کی اگلی جانب كا مسح ثابت نهيں، اس لیے گلے کا مسح کرنا بدعت ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ومسح الرقبة) بظهر يديه (لا الحلقوم) لأنه بدعة.

(قوله: ومسح الرقبة) هو الصحيح، وقيل: إنه سنة كما في البحر وغيره (قوله: بظهر يديه) أي لعدم استعمال بلتهما بحر، فقول المنية: بماء جديد لا حاجة إليه كما في شرحها الكبير، وعبر في المنية بظهر الأصابع ولعله المراد هنا (قوله: لأنه بدعة) إذ لم يرد في السنة."

(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، 124/1، ط: سعيد)

السنن الكبرى للبيهقي میں ہے:

"278 - وأخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجار المقري بالكوفة، أنا أبو القاسم جعفر بن محمد بن عمرو الأخمسي، ثنا أبو حصين الوادعي، ثنا يحيى الحماني، ثنا حفص، عن ليث، عن طلحة، عن أبيه، عن جده " أنه أبصر النبي صلى الله عليه وسلم حين توضأ مسح رأسه وأذنيه وأمر يديه على قفاه ".

( كتاب الطهارة، أبواب سنة الوضوء وفرضه، باب إمرار الماء على القفا، 99/1، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)

نیل الاوطار میں ہے:

"عن أنس بن سيرين عن (ابن عمر أنه كان إذا توضأ مسح عنقه ويقول: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: من توضأ ‌ومسح ‌عنقه لم يغل بالأغلال يوم القيامة)."

(كتاب الطهارة، ‌‌باب مسح العنق، ج:1، ص:207، ط: دار الحديث، مصر)

"تحفة الطلبة في تحقیق مسح الرقبة "میں ہے:

"(۱) روی أبونعیم في تاریخ أصفھان من حدیث ابن عمر أن النبي صلی اللہ علیه وسلم قال: من توضأ ومسح عنقه وقي الغلّ یوم القیامة.

(۲) روی الدیلمي في مسند الفردوس من حدیث ابن عمر، مسح الرقبة أمان من الغلّ یوم القیامة، قال العلي القاري سندہ ضعیف، والضعیف یعمل به في فضائل الأعمال اتفاقاً، ولذا قال أئمتنا أنه مستحب أو سنة."

(۳) روی أبوعبید في کتاب الطهور عن عبد الرحمن بن مهدي عن المسعودي عن القاسم ابن عبد الرحمن عن موسی ابن طلحة أنه قال: من مسح قفاہ مع رأسه وقي الغلّ یوم القیامة․

(٤) حکی ابن همام من حدیث وائل في صفة وضوء رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم، ثم مسح علی رأسه ثلاثا وظاهر أذنیه وظاہر رقبته وأظنّه قال ظاهر لحیته، ثم غسل قدمه الیمنی الحدیث رواہ الترمذي․

(٥) روی أبو داؤد وأحمد من حدیث طلحة ابن مصرّف عن أبیه عن جدّہ قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم مسح رأسه مرة واحدة حتی بلغ القذال، ووقع في سنن أبي داؤد وهو أول الفقا."

(مأخوذ من تحفة الطلبة في تحقیق مسح الرقبة، مجموعة سبع رسائل لمولانا عبد الحي اللکھنوي رحمه الله، ص5، ط: ايچ ايم سعيد)

اعلاءالسنن میں ہے:

"والذي ظهرلنامن تتبع اللغة والأحاديث أن مقدم العنق ومؤخره كلاهمافي جانب الرأس ،فمقدمه أي مبتدأه وهو مايلي القذال، أي مؤخرالرأس ومؤخر العنق مايلي مبتدأ الظهر ،والدليل على ذلك مافي حديث المتن برواية الطحاوي حتى بلغ القذال من مقدم عنقه."

(كتاب الطهارة، باب استحباب مسح الرقبة، ج:1، ص: 291، ط: المكتبة الأشرفية بديوبند)

Thursday, 11 December 2025

کرپٹو کرنسی کا شرعی حکم

 کرپٹو کرنسی میں پیسے لگانا ناجائز ہے۔

تجارت کے مسائل کاانسائیکلوپیڈیا میں ہے :

’’بٹ کوائن‘‘  محض ایک فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہذا موجودہ  زمانے میں   " کوئن" یا   "ڈیجیٹل کرنسی"  کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے   " بٹ کوائن" یا کسی بھی   " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔(2/ 92)

بٹ کوائن" یا کسی بھی " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہےاور نہ اس کے ذریعہ نفع کمانا جائز ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون."(المائدۃ: 90)

ترجمہ:"اے ایمان والو :بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام  ہیں ،سواس سے بالکل الگ رہو،تاکہ تم کو فلاح ہو۔"

مسند احمد میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌إن ‌الله ‌حرم على أمتي الخمر والميسر."

(جلد 11 ص: 105ط: مؤسسة الرسالة)

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص."

(کتاب الحظر و الاباحة , فصل فی البیع،، جلد 6، ص: 403، ط: دارالفکر)

دارالعلوم دیوبند کی  ویب سائٹ پر درج ذیل فتویٰ موجود ہے:

"کریپٹو کرنسی (بٹ کوئن وغیرہ) ایک فرضی کرنسی ہے اور اس کا عنوان ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے اور فقہائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں یہ کرنسی از روئے شرع مال نہیں ہے اور نہ ہی ثمن عرفی۔ نیز اس کاروبار میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی شکل ہے ؛ اس لیے کرپٹو کرنسی (بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی) کی خرید وفروخت کی شکل میں نیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاًحلال وجائز نہیں ہے، مسلمانوں کو اس میں حصہ داری نہیں کرنی چاہیے۔" (فتوی نمبر 692-617: 1439)

Thursday, 27 November 2025

حاملہ کانکاح

 اگر زنا سےحمل ٹھہر گیا ہوتو حمل کے ہوتے ہوئے نکاح جائز ہے، اگر زانی کے ساتھ نکاح ہوا ہو تو  پھر جماع بھی  جائز ہے اور اگر  زانی کے علاوہ کسی اور  سےہوا  ہوتو وضع حمل( بچہ کی پیدائش) تک جماع جائز نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وعلى هذا يخرج ما إذا تزوج امرأة حاملا من الزنا أنه يجوز في قول أبي حنيفة ومحمد، ولكن لا يطؤها حتى تضع وقال أبو يوسف: (لا يجوز) وهو قول زفر."

(کتاب النکاح ،فصل ان لا یکون بہا حمل ثابت النسب من الغیر،ج:2،ص:269،دارالکتب العلمیۃ)

امداد الاحکام میں ہے :

"حاملہ من الزنا  کا نکاح درست ہے  خواہ زانی سے ہو یا غیر زانی سے ،البتہ اگر زانی سے ہو تو اس کو  قبل وضع حمل وطی بھی جائز ہے اور غیر زانی کو وطی جائز نہیں جب تک وضع حمل نہ ہو ۔۔۔۔الخ"

(کتاب النکاح ،ج:2،ص:203،دارالعلوم کرچی)