https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Monday, 2 November 2026

نصر بن حجاج

 نصر بن حجاج بن علاط بن خالد بن ثوير بن حنثر بن هلال بن عبيد بن ظفر بن سعد بن عمرو بن تيم بن بهز بن امرئ القيس بن بهثة بن سليم بن منصور السلمي ثم البهزي.

اشتهر بجماله .. وقيل أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه سمـع وهـو يـعـس بليـلٍ امـرأة تقول:

هل من سبيل إلى خمر فاشربها
أو من سبيل إلى نصر بن حجاج

فلما أصبح سأل عنه عمر بن الخطاب رضي الله عنه، فإذا هو من بني سُليم، فأرسل إليه فأتاه فــإذا هـو مـن أحـسن الناس شعراً وأحسنهم وجهاً، فأمر عمر أن يحلق شعره، ففعل، فخرجت جبهته فازداد حسناً. ثم سمعها عمر بعد ذلك تقول:

حلقوا رأسه ليكـسـب قبحاً
غيرة منهم عليه وشحا
كان صبحا عليه ليل بهيم
فمحوا ليله وأبقوه صبحا

فنفاه عمر رضي الله عنه إلى البصرة، وأقسم أنه لا يدخل المدينة أبداً ما دام هو فيها. ولما كان بالبصرة ساقه الشوق إلى المدينة فأنشد لعمر يقول ..

لئـن غنـت الزلفاء يوما بمنيـة
وبعض أماني النسـاء غرام
ظننت بي الظـن الـذي ليس بـعده
بقاء ومالـي جرمــة فألام
فيمنـعنـي مما تـقـول تـكـرمـي
وآبـاء صـدق سالفون كرام
ويمنـعـها مـمـا تقـول صلاتـهـا
وحال لها في قومها وصيام
فهـذان حـالانا فهل أنـت راجعـي
فقـد جـب مني كاهل وسنام

ولكن عمر رضي الله عنه لم يسمح له بالقدوم .. مصدر كتاب الاستقامة لابن تيمية

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان

 حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے دورِ خلافت میں مجاہدینِ اسلام اور افواج کے لیے یہ قانون مقرر کیا تھا کہ کوئی بھی فوجی اپنی بیوی سے چار ماہ سے زیادہ دور نہیں رہے گا۔

اس فیصلے کے پیچھے ایک اہم واقعہ اور انسانی نفسیات کی گہری سمجھ تھی:
واقعہ اور پس منظر
ایک رات امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت فرما رہے تھے کہ انہوں نے ایک گھر سے ایک خاتون کے شعر پڑھنے کی آواز سنی۔ وہ خاتون اپنے شوہر کی جدائی میں غمگین اشعار پڑھ رہی تھی، جو جہاد کے لیے محاذِ جنگ پر گئے ہوئے تھے۔
سیدہ عائشہؓ سے مشورہ
اس واقعے نے حضرت عمرؓ کو شدید متاثر کیا۔ اگلے دن انہوں نے اپنی بیٹی اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ "ایک عورت اپنے شوہر کے بغیر کتنے عرصے تک صبر کر سکتی ہے؟"
حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ چار ماہ۔
خلیفہ کا شاہی فرمان
اس مشورے کے بعد، حضرت عمر فاروقؓ نے فوری طور پر تمام لشکروں کے سالاروں کو یہ باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا:
  • کسی بھی شادی شدہ فوجی کو محاذ پر چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔
  • چار ماہ گزرنے کے بعد انہیں لازمی رخصت دے کر گھر بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی بیویوں کے حقوق ادا کر سکیں، اور ان کی جگہ نیا دستہ تعینات کیا جائے۔
یہ قانون اسلامی تاریخ میں انسانی حقوق، خاندانی نظام کی حفاظت اور فوجیوں کی نفسیاتی و ازدواجی زندگی کے توازن کی ایک بہترین مثال ہے

Saturday, 31 October 2026

نکاح کا مقصد

 شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کا مقصد صرف ظاہری یا جسمانی ضرورت کی تکمیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بابرکت عبادت، سماجی ضرورت اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ شریعت کی روشنی میں نکاح کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں: [1, 2]

1. تقویٰ اور عفت کا حصول
  • گناہوں سے حفاظت: نکاح انسان کی نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور اسے زنا، فحاشی اور جنسی بے راہ روی سے بچاتا ہے۔
  • نصف ایمان کی تکمیل: احادیث کے مطابق نکاح کرنے سے انسان کا نصف ایمان مکمل ہو جاتا ہے، کیونکہ باقی نصف میں تقویٰ اور اخلاق شامل ہیں۔ [1, 2, 3, 4]
2. نسلِ انسانی کا بقا اور افزائش
  • نسل کی حفاظت: نکاح کا ایک اہم مقصد انسانی نسل کو آگے بڑھانا اور اولاد کے ذریعے دنیا کو آباد کرنا ہے۔
  • نسب کا تحفظ: شریعت میں نکاح ہی وہ واحد حلال رشتہ ہے جس کے ذریعے اولاد کا نسب (خاندانی شناخت) محفوظ ہوتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ نہیں آتا۔ [1, 2, 3]
3. روحانی سکون اور محبت
  • سکونِ قلب: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اس نے مرد و عورت کے درمیان محبت اور رحمت رکھی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کریں۔
  • اخلاقی و ذہنی توازن: نکاح انسانی جذبات کو درست سمت دیتا ہے اور میاں بیوی کو ذہنی و جسمانی سکون فراہم کرتا ہے

Thursday, 29 October 2026

فسخ النكاح بسبب الشقاق بين الزوجين


مفهوم الشقاق
  • التعريف: هو النزاع والخصومة الشديدة وتبادل الإساءة أو الهجر بين الزوجين، بحيث يتعذر معه إصلاح ذات البين.
  • الأصل الشرعي: قوله تعالى: ﴿وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها إن يريدا إصلاحاً يوفق الله بينهما﴾ [النساء: 35]. [1]
إجراءات وخطوات الفسخ بسبب الشقاق
  1. رفع الدعوى: تتقدم الزوجة (أو الزوج أحيانًا) بصحيفة دعوى أمام محكمة الأحوال الشخصية تطلب فيها الفسخ للشقاق والضرر.
  2. محاولة الإصلاح: يقوم القاضي بمحاولة التوفيق بين الزوجين وحل الخلافات بالطرق الودية.
  3. بعث الحكمين: إذا استمر النزاع، يبعث القاضي حكمين (حكماً من أهل الزوج وحكماً من أهل الزوجة) لدراسة أسباب الشقاق والسعي للإصلاح، أو تقرير التفريق إن تعذر ذلك.
  4. صدور الحكم: بناءً على تقرير الحكمين واقتناع القاضي باستحالة العشرة، يصدر الحكم بفسخ عقد النكاح. [1, 2, 3, 4, 5]
الفرق بين فسخ النكاح للشقاق والطلاق والخلع
  • الفسخ للشقاق: يتم بحكم قضائي بناءً على وجود ضرر أو شقاق، ولا يُحسب من عدد التطليقات الثلاث.
  • الطلاق: يكون بإرادة الزوج ويحسب من عدد التطليقات.
  • الخلع: يكون بطلب الزوجة وموافقة الزوج مقابل عوض مالي (رد المهر أو جزء منه) دون بالضرورة وجود ضرر مثبت. [1, 2]
الحقوق المالية المترتبة
  • إذا ثبت للضرر والشقاق من جانب الزوج، فللزوجة الحق في المطالبة بفسخ النكاح مع الاحتفاظ بكامل حقوقها أو مهرها بحسب تقدير المحكمة والنظام المطبق. [1]
  • أما إذا كان الفسخ بعوض أو بناءً على طلب الزوجة دون إثبات ضرر معتبر، فقد يترتب عليها رد جزء أو كل ما قبضته من مهر وفقاً للمادة المنظمة لذلك في لائحة الأحوال الشخصية. [1]

Wednesday, 28 October 2026

فسخ نکاح بوجہ شقاق

 شقاق (میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف، نفرت اور عداوت) کی بنیاد پر نکاح کے فسخ یا تنسیخ کا شرعی اور قانونی حکم درج ذیل ہے:

شقاق کا مفہوم
  • شقاق کا مطلب ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات اس حد تک خراب ہو جائیں کہ ان کے درمیان شدید نفرت، دشمنی یا نزاع پیدا ہو جائے اور ان کا ایک ساتھ رہنا یا ازدواجی حقوق کی ادائیگی ممکن نہ رہے. [1]
شرعی حیثیت (احناف اور دیگر فقہا)
  • روایتی حنفی فقہ: کلاسیکی حنفی فقہ کے مطابق صرف شوہر کے ظلم یا باہمی شقاق کی بنیاد پر بیوی کو یکطرفہ طور پر عدالت کے ذریعے نکاح فسخ کروانے کا حق نہیں ہوتا، جب تک کوئی اور شرعی سبب (مثلاً نفقہ کا نہ دینا، شوہر کا مفقود الاخبر ہونا یا عیبِ نکاح) موجود نہ ہو. [1]
  • مالکی مذہب اور موجودہ عمل: ضرورت اور حاجت کے پیش نظر، عصر حاضر کے دارالقضا اور عدالتیں امام مالک رحمہ اللہ کے مسلک کو اختیار کرتی ہیں۔ اس کے مطابق جب شقاق ثابت ہو جائے، تو فریقین میں تفریق کرائی جا سکتی ہے۔ [1, 2]
عدالتی طریقہ کار (قرآن و قانون)
  • حکم (آربیٹریشن): قرآن مجید کی سورۃ النساء (آیت 35) کے مطابق، جب میاں بیوی میں شقاق کا اندیشہ ہو، تو ایک حکم (نمائندہ) مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کیا جاتا ہے۔ [1, 2]
  • صلح یا جدائی: یہ دونوں حکم مل کر صلح کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر صلح ممکن نہ ہو اور دونوں یا کسی ایک کی طرف سے ناقابل برداشت نفرت ثابت ہو جائے، تو وہ علیحدگی یا فسخِ نکاح کا فیصلہ کرتے ہیں۔ [1]
  • قانونی حیثیت: موجودہ ملکی قوانین اور عدالتی فیصلوں (جیسے سپریم کورٹ کے احکامات) کے مطابق بھی، اگر ظلم یا دیگر اسباب مکمل ثابت نہ بھی ہوں، لیکن شقاق (شدید اختلاف) ثابت ہو جائے تو عدالت خلع یا فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔ [1]

شوھر نے طلاق دی

 صورتِ مسئولہ میں جب شوہر دو مرتبہ طلاق دینے کا اقرار کر رہا ہے اور عورت کو تعداد یاد نہیں ہے (اور تین کا کوئی معتبر شرعی ثبوت یا گواہ موجود نہیں ہیں)، تو فقہی اصول کے مطابق دو طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہیں۔ [1, 2, 3]

اس سے متعلق اہم احکام درج ذیل ہیں:
  • طلاق کی تعداد: شوہر کی جانب سے دو مرتبہ طلاق دیے جانے کے اعتراف اور بیوی کو یقین نہ ہونے کی صورت میں صرف دو طلاقیں شمار ہوں گی۔ [1, 2]
  • رجوع کا حق: دو طلاقِ رجعی کے بعد شوہر کو عدت (تین ماہواری) کے اندر اندر رجوع کرنے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ [1, 2, 3]
  • رجوع کا طریقہ: زبان سے کہہ دینا (مثلاً یہ کہنا کہ "میں نے رجوع کیا") یا عدت کے دوران تعلقات قائم کرنے سے رجوع ہو جاتا ہے۔ رجوع پر گواہ بنانا سنت و بہتر ہے۔ [1, 2, 3]
  • باقی اختیار: رجوع کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ جاتا ہے۔ [1, 2, 3]
  • عدت گزرنے کا حکم: اگر عدت گزر گئی اور شوہر نے رجوع نہیں کیا، تو یہ طلاقِ بائن بن جائے گی اور دوبارہ ساتھ 
  • رہنے کے لیے نئے مہر اور گواہوں کے ساتھ تجدیدِ نکاح (نئے نکاح) کی ضرورت ہوگی۔ [1, 2, 3]


  • قال تعالیٰ: {وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ، فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأْتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآئِ} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۸۲]
    ونصابہا لغیرہا من الحقوق، سواء کان الحق مالا أو غیرہ، کنکاح وطلاق … رجلان أو رجل وامرأتان۔ (الدر المختار مع الشامي ۱۱؍۹۶-۹۷ زکریا)
    والمرأۃ کالقاضي إذا سمعتہ أو أخبرہا عدل لایحل لہا تمکینہ۔ (شامي ۳؍۲۵۱ کراچی، ۴؍۴۶۳ زکریا، تبیین الحقائق ۲؍۲۱۸، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۳۵۴ زکریا، البحر الرائق / باب الطلاق ۳؍۲۵۷ کوئٹہ)
    ویقع طلاق من غضب خلافا لابن القیم۔ (شامي ۴؍۴۵۲ زکریا) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

Sunday, 25 October 2026

فسخ نکاح بوجہ شقاق

 تفریق بسبب ظلم و ضرر

  ” زوجہ اپنے شوہر کے ظلم و ضرر کے سبب بذریعہ عدالت تفریق طلب کرنے کی مجاز ہے .” (مجموعہ قوانین اسلام:۲ /دفعہ۱۲۸)

دفعہ ۱۲۹

 ’’ شوہر کے ظلم کے سبب عدالت زوجین میں جو تفریق کرائے گی وہ بمنزلہ ایک طلاق بائن کےہوگی‘‘ ۔ (ایضا)

 واضح رہے کہ شوہر کی طرف سے بیوی پر ظلم و زیادتی نیز شقاق یعنی ایک دوسرے سے نفرت، عداوت اور دشمنی کی بنیاد پر فسخ نکاح احناف کے نزدیک نہیں ہے، لیکن ضرورت و حاجت کے پیش نظر احناف نے امام مالک کا قول اختیار کر لیا ہے، موجودہ دارالقضاؤں کا عمل اسی پر ہے۔

” شقاق” کا مفہوم یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات آخری درجہ میں خراب ہوجائیں، ان کے درمیان نفرت پیدا ہو جائے اور وہ یہ سمجھیں کہ اب ان کا ایک ساتھ رہنا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارپانا مشکل ہے ،خواہ یہ نفرت بیوی کو تکلیف دہ مار پیٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو یا بیوی کے نشوز یا دونوں خاندانوں میں دشمنی یا دیگر وجوہات سے پیدا ہوئی ہو۔

 یہ بھی واضح رہے کہ ایک فریق کی طرف سے بھی تنفر ہو تو شقاق متحقق ہو جائے گا، اس لیے کہ ایک فریق نفرت کرےگا،دوسرا نہ کرے تب بھی وہ الگ گوشہ 

اختیار کرنے والا قرار دیا جائے گا ۔(اسلامی عائلی قوانین: ۱۷۶- ۱۷۷)


الدر المختار (3/ 441)

(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)…

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)

(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.

الفتاوى الهندية (1/ 488)

إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان ۔



فالشقاق بين الزوجين معناه: وجود خلاف ونزاع وتنافر بينهما، ففي لسان العرب لابن منظور: الشقاق: العداوة بـين فريقـين والـخلاف بـين اثنـين، سمي ذلك شقاقا، لأن كل فريق من فرقتي العداوة قصد شقا أي ناحية غير شق صاحبه.انتهى.

والشقاق بين الزوجين يصلح أن يكون سببا للانفصال، بل إنه من أكبر أسباب الانفصال، لكنه ـ مع ذلك ـ لا يفسخ النكاح بمجرد حصوله، بل إن ظهر اعتداء أحد الزوجين على الآخر فإن القاضي يزجر الظالم منهما عن ظلمه، وإن أشكل أمرهما تعين بعث حكمين للنظر في أمرهما وفعل ما تقتضيه المصلحة من صلح أو خلع أو طلاق، وإليك كلام بعض أهل العلم في المسألة، قال المواق المالكي في التاج والإكليل: وعبارة اللخمي: إذا اختلف الزوجان وخرجا إلى  ما لا يحل من المشاتمة والوثوب كان على السلطان أن يبعث حكمين ينظران في أمرهما, وإن لم يرتفعا ويطلبا ذلك منه فلا يحل أن يتركهما على ما هما عليه من المآثم وفساد الدين.انتهى.

وقال الخرشي المالكي في شرحه لمختصر خليل: يعني أن الزوج إذا كان يضارر زوجته فلها أن ترفع أمره إلى الحاكم فإذا ثبت عنده أنه يضاررها فإنه يزجره عن ذلك ويكفه عنها، ويتولى الحاكم زجره باجتهاده كما كان يتولى الزوج زجرها حين كان الضرر منها، كما قاله ابن عبد السلام. انتهى.

وقال الباجي في المنتقي أيضا: فقال علي بن أبي طالب ـ رضي الله عنه ـ للحكمين: أتدريان ما عليكما إن رأيتما أن تجمعا جمعتما, وإن رأيتما أن تفرقا فرقتما. انتهى.

وفى الموسوعة الفقهية: الشقاق هنا: هو النزاع بين الزوجين, سواء أكان بسبب من أحد الزوجين, أو بسببهما معا, أو بسبب أمر خارج عنهما, فإذا وقع الشقاق بين الزوجين وتعذر عليهما الإصلاح, فقد شرع بعث حكمين من أهلهما للعمل على الإصلاح بينهما وإزالة أسباب النزاع والشقاق بالوعظ وما إليه, قال تعالى: وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما. انتهى.

والمؤانسة: تطلق على المؤالفة بين الزوجين بالكلام ونحوه، قال ابن منظور في لسان العرب أيضا: والأنس: خلاف الوحشة، وهو مصدر قولك أنست به بالكسر أنسا وأنسة، قال: وفـيه لغة أخرى: أنست به أنسا مثل كفرت به كفرا، قال: و الأنس والاستئناس هو التأنس، وقد أنست بفلان، والإنسي: منسوب إلـى الإنس. انتهى.

وقد وردت في كلام بعض أهل العلم بهذا المعني، ففي بريقة محمودية متحدثا عن الكلام المستحب: أو تسلية النساء المفارقات لأهاليهن والمحبوسات في البيوت والمتوحشات بالوحدة والعزلة والمفارقة وحسن المعاشرة معهن، فإن ذلك يوجب المؤانسة والألفة، والصمت ربما يوقع الوحشة والبرودة قيل هنا، كما فعل صلى الله تعالى عليه وسلم في حديث: أم زرع وقص ذلك على من كان عنده من زوجاته، وتفصيله في المشارق. انتهى.

وقد وردت في كلام بعض أهل العلم بهذا المعني، ففي بريقة محمودية متحدثا عن الكلام المستحب: أو تسلية النساء المفارقات لأهاليهن والمحبوسات في البيوت والمتوحشات بالوحدة والعزلة والمفارقة وحسن المعاشرة معهن، فإن ذلك يوجب المؤانسة والألفة، والصمت ربما يوقع الوحشة والبرودة قيل هنا، كما فعل صلى الله تعالى عليه وسلم في حديث: أم زرع وقص ذلك على من كان عنده من زوجاته، وتفصيله في المشارق. انتهى.

وإذا كانت المؤانسة بمعني المؤالفة بين الزوجين بالكلام ونحوه فهي مما ينبغي فعله، ولكن عدم وجودها بين الزوجين لا يصلح أن يكون سببا للطلاق مالم يصل الأمر إلى الهجر وقطع الكلام، فإن ذلك من الضرر البين الذي يبيح للزوجة طلب الطلاق، قال الخرشي في شرحه لمختصر خليل المالكي متحدثا عن الضرر المبيح للطلاق: ومن الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه عنها وضربها ضربا مؤلما. انتهى.