https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Tuesday, 3 November 2026

فسخ النكاح بسبب الشقاق بين الزوجين


فالشقاق بين الزوجين معناه: وجود خلاف ونزاع وتنافر بينهما، ففي لسان العرب لابن منظور: الشِّقاقُ: العداوةُ بـين فريقـين والـخلافُ بـين اثنـين، سمي ذلك شِقاقاً، لأن كل فريق من فِرقتي العداوة قصد شِقًّا أَي ناحية غير شِقَّ صاحبه.انتهى.

والشقاق بين الزوجين يصلح أن يكون سببا للانفصال، بل إنه من أكبر أسباب الانفصال، لكنه ـ مع ذلك ـ لا يفسخ النكاح بمجرد حصوله، بل إن ظهر اعتداء أحد الزوجين على الآخر فإن القاضي يزجر الظالم منهما عن ظلمه، وإن أشكل أمرهما تعين بعث حكمين للنظر في أمرهما وفعل ما تقتضيه المصلحة من صلح أو خلع أو طلاق، وإليك كلام بعض أهل العلم في المسألة، قال المواق المالكي في التاج والإكليل: وعبارة اللخمي: إذا اختلف الزوجان وخرجا إلى ما لا يحل من المشاتمة والوثوب كان على السلطان أن يبعث حكمين ينظران في أمرهما, وإن لم يرتفعا ويطلبا ذلك منه فلا يحل أن يتركهما على ما هما عليه من المآثم وفساد الدين.انتهى.

وقال الخرشي المالكي في شرحه لمختصر خليل: يعني أن الزوج إذا كان يضارر زوجته فلها أن ترفع أمره إلى الحاكم فإذا ثبت عنده أنه يضاررها فإنه يزجره عن ذلك ويكفه عنها، ويتولى الحاكم زجره باجتهاده كما كان يتولى الزوج زجرها حين كان الضرر منها، كما قاله ابن عبد السلام. انتهى.

وقال الباجي في المنتقي أيضا: فقال علي بن أبي طالب ـ رضي الله عنه ـ للحكمين: أتدريان ما عليكما إن رأيتما أن تجمعا جمعتما, وإن رأيتما أن تفرقا فرقتما. انتهى.

وفى الموسوعة الفقهية: الشقاق هنا: هو النزاع بين الزوجين, سواء أكان بسبب من أحد الزوجين, أو بسببهما معا, أو بسبب أمر خارج عنهما, فإذا وقع الشقاق بين الزوجين وتعذر عليهما الإصلاح, فقد شرع بعث حكمين من أهلهما للعمل على الإصلاح بينهما وإزالة أسباب النزاع والشقاق بالوعظ وما إليه, قال تعالى: وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما. انتهى.

والمؤانسة: تطلق على المؤالفة بين الزوجين بالكلام ونحوه، قال ابن منظور في لسان العرب أيضا: والأَنَسُ: خلاف الوَحْشَةِ، وهو مصدر قولك أَنِسْتُ به بالكسر أَنَساً وأَنَسَةً، قال: وفـيه لغة أُخرى: أَنَسْتُ به أُنْساً مثل كفرت به كُفْراً، قال: و الأُنْسُ والاستئناس هو التَّأَنُّسُ، وقد أَنِسْتُ بفلان، والإِنْسِيُّ: منسوب إِلـى الإِنْس. انتهى.

وقد وردت في كلام بعض أهل العلم بهذا المعني، ففي بريقة محمودية متحدثا عن الكلام المستحب: أو تسلية النساء المفارقات لأهاليهن والمحبوسات في البيوت والمتوحشات بالوحدة والعزلة والمفارقة وحسن المعاشرة معهن، فإن ذلك يوجب المؤانسة والألفة، والصمت ربما يوقع الوحشة والبرودة قيل هنا، كما فعل صلى الله تعالى عليه وسلم في حديث: أم زرع وقص ذلك على من كان عنده من زوجاته، وتفصيله في المشارق. انتهى.

وإذا كانت المؤانسة بمعني المؤالفة بين الزوجين بالكلام ونحوه فهي مما ينبغي فعله، ولكن عدم وجودها بين الزوجين لا يصلح أن يكون سببا للطلاق مالم يصل الأمر إلى الهجر وقطع الكلام، فإن ذلك من الضرر البين الذي يبيح للزوجة طلب الطلاق، قال الخرشي في شرحه لمختصر خليل المالكي متحدثا عن الضرر المبيح للطلاق: ومن الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه عنها وضربها ضربا مؤلما. انتهى.

امساک بمعروف وتسریح باحسان کی تشریح

 قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 229 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ"۔

اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے: "پھر یا تو بھلائی کے ساتھ روک رکھنا ہے یا نیکی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے"۔
یہ آیت اسلامی عائلی قوانین (Family Laws) اور میاں بیوی کے تعلقات کے حوالے سے ایک بنیادی اور سنہری اصول بیان کرتی ہے۔ یہ اصول خاص طور پر اس وقت لاگو ہوتا ہے جب ازدواجی زندگی میں دراڑ آ جائے اور علیحدگی یا طلاق کی نوبت آ پہنچے۔
اس حکمِ الٰہی کی تفصیلی تشریح درج ذیل دو اہم حصوں پر مشتمل ہے:
1۔ اِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ (بھلائی کے ساتھ روک رکھنا)
  • معنی: اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہوں اور طلاق (پہلی یا دوسری) کے بعد رجوع کرنے کا موقع ہو، تو شوہر کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔
  • تشریح: "بھلائی کے ساتھ روکنے" کا مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر رجوع کر رہا ہے، تو اس کی نیت بیوی کو ستانا، ذلیل کرنا یا انتقام لینا نہ ہو، بلکہ محبت اور خلوص کے ساتھ دوبارہ گھر بسانا ہو۔ اسے بیوی کے تمام حقوق (نان و نفقہ، عزت، اور حسنِ سلوک) اسی طرح ادا کرنے ہوں گے جیسے ایک اچھے شوہر کو کرنے چاہئیں۔
  • ممانعت: اسلام اس بات کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ بیوی کو صرف اس لیے نکاح میں جکڑ کر رکھا جائے تاکہ اسے تنگ کیا جائے یا وہ مجبور ہو کر اپنا مہر چھوڑ دے۔
2۔ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ (نیکی کے ساتھ رخصت کر دینا)
  • معنی: اگر شوہر کو یہ محسوس ہو کہ اب مزاج یا حالات کے فرق کی وجہ سے نباہ ممکن نہیں ہے، اور دل صاف کر کے ساتھ رہنا محال ہے، تو اسلام اسے الگ ہونے کا راستہ دیتا ہے۔ لیکن یہ علیحدگی لڑائی جھگڑے، گالی گلوچ یا دشمنی کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے۔
  • تشریح: "احسان کے ساتھ رخصت کرنے" کا مطلب یہ ہے کہ طلاق انتہائی باوقار طریقے سے دی جائے۔ رخصت کرتے وقت عورت پر جھوٹے الزامات نہ لگائے جائیں، اس کی کردار کشی نہ ہو، اور جو تحائف یا مہر اسے دیا جا چکا ہے، وہ واپس نہ مانگا جائے (جیسا کہ اسی آیت کے اگلے حصے میں تفصیل ہے)۔ بلکہ رخصت کرتے وقت بھی اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ یا کپڑے وغیرہ (متاع) دے کر رخصت کیا جائے تاکہ اس کی دلجوئی ہو۔

خلاصہ اور حاصلِ کلام
یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں شرافت کے ساتھ جینے اور شرافت کے ساتھ الگ ہونے کا حکم ہے۔
  • اگر ساتھ رہنا ہے، تو عزت اور محبت کے ساتھ رہا جائے۔
  • اگر الگ ہونا ہے، تو خوش اسلوبی، امن اور احترام کے ساتھ الگ ہوا جائے، نہ کہ ایک دوسرے کی زندگی کو عذاب بنا کر

اسلام میں عورتوں کے حسن سلوک کا حکم

 اسلام میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی نہایت تاکید کی گئی ہے۔ قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں عورت کو عزت، احترام، مساوی روحانی درجہ اور مختلف رشتوں (بیٹی، ماں، بہن اور بیوی) میں نمایاں حقوق دیے گئے ہیں۔ [1, 2, 3]

قرآن کریم کی روشنی میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک
  • حسن معاشرت کا حکم:
    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا"
    (سورۃ النساء: 19)
    ترجمہ: اور ان کے ساتھ اچھی طرح زندگی بسر کرو۔ پھر اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں (تو بھی ان سے نباہ کرو) ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہتری رکھ دے۔
    [1]
  • مساوی روحانی اور تخلیقی حیثیت:
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    "يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا..."
    (سورۃ النساء: 1)
    اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیق کی اصل ایک ہے اور دونوں کو اللہ کے ہاں برابر کا انسانی شرف حاصل ہے۔
  • سکون اور محبت کا رشتہ:
    قرآن میں میاں بیوی کے تعلق کو سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے:
    "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَدَّةً وَرَحْمَةً..."
    (سورۃ الروم: 21)
    اس میں زوجین کے درمیان الفت، شفقت اور رحمت کے رشتے پر زور دیا گیا ہے۔
    [1]

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک
  • عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت:
    رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اور مختلف مواقع پر فرمایا:
    "اسْتَوْصُوا بالنساءِ خَيْرًا"
    (
    صحیح بخاری و صحیح مسلم
    )
    ترجمہ: "تم عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو"۔
    [1]
  • بہترین انسان کا معیار:
    آپ ﷺ نے مردوں کے لیے بہترین اخلاق کا معیار ان کی بیویوں کے ساتھ سلوک کو قرار دیا:
    "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي"
    (
    سنن الترمذی
    )
    ترجمہ: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں (بیوی) کے ساتھ سب سے اچھا ہے، اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں۔"
  • عورت کی فطرت اور نرمی کی تلقین:
    آپ ﷺ نے عورت کی نفسیاتی و جسمانی کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی برتنے کی تلقین فرمائی:
    "استوصوا بالنساء خيراً، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعسره..."
    (صحیح بخاری و مسلم)
    ترجمہ: عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید مانو، اس لیے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر کا حصہ ہے۔ لہذا ان کے ساتھ تحمل اور نرمی سے کام لیں۔

Monday, 2 November 2026

نصر بن حجاج

 نصر بن حجاج بن علاط بن خالد بن ثوير بن حنثر بن هلال بن عبيد بن ظفر بن سعد بن عمرو بن تيم بن بهز بن امرئ القيس بن بهثة بن سليم بن منصور السلمي ثم البهزي.

اشتهر بجماله .. وقيل أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه سمـع وهـو يـعـس بليـلٍ امـرأة تقول:

هل من سبيل إلى خمر فاشربها
أو من سبيل إلى نصر بن حجاج

فلما أصبح سأل عنه عمر بن الخطاب رضي الله عنه، فإذا هو من بني سُليم، فأرسل إليه فأتاه فــإذا هـو مـن أحـسن الناس شعراً وأحسنهم وجهاً، فأمر عمر أن يحلق شعره، ففعل، فخرجت جبهته فازداد حسناً. ثم سمعها عمر بعد ذلك تقول:

حلقوا رأسه ليكـسـب قبحاً
غيرة منهم عليه وشحا
كان صبحا عليه ليل بهيم
فمحوا ليله وأبقوه صبحا

فنفاه عمر رضي الله عنه إلى البصرة، وأقسم أنه لا يدخل المدينة أبداً ما دام هو فيها. ولما كان بالبصرة ساقه الشوق إلى المدينة فأنشد لعمر يقول ..

لئـن غنـت الزلفاء يوما بمنيـة
وبعض أماني النسـاء غرام
ظننت بي الظـن الـذي ليس بـعده
بقاء ومالـي جرمــة فألام
فيمنـعنـي مما تـقـول تـكـرمـي
وآبـاء صـدق سالفون كرام
ويمنـعـها مـمـا تقـول صلاتـهـا
وحال لها في قومها وصيام
فهـذان حـالانا فهل أنـت راجعـي
فقـد جـب مني كاهل وسنام

ولكن عمر رضي الله عنه لم يسمح له بالقدوم .. مصدر كتاب الاستقامة لابن تيمية

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان

 حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے دورِ خلافت میں مجاہدینِ اسلام اور افواج کے لیے یہ قانون مقرر کیا تھا کہ کوئی بھی فوجی اپنی بیوی سے چار ماہ سے زیادہ دور نہیں رہے گا۔

اس فیصلے کے پیچھے ایک اہم واقعہ اور انسانی نفسیات کی گہری سمجھ تھی:
واقعہ اور پس منظر
ایک رات امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت فرما رہے تھے کہ انہوں نے ایک گھر سے ایک خاتون کے شعر پڑھنے کی آواز سنی۔ وہ خاتون اپنے شوہر کی جدائی میں غمگین اشعار پڑھ رہی تھی، جو جہاد کے لیے محاذِ جنگ پر گئے ہوئے تھے۔
سیدہ عائشہؓ سے مشورہ
اس واقعے نے حضرت عمرؓ کو شدید متاثر کیا۔ اگلے دن انہوں نے اپنی بیٹی اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ "ایک عورت اپنے شوہر کے بغیر کتنے عرصے تک صبر کر سکتی ہے؟"
حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ چار ماہ۔
خلیفہ کا شاہی فرمان
اس مشورے کے بعد، حضرت عمر فاروقؓ نے فوری طور پر تمام لشکروں کے سالاروں کو یہ باقاعدہ حکم نامہ جاری کیا:
  • کسی بھی شادی شدہ فوجی کو محاذ پر چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔
  • چار ماہ گزرنے کے بعد انہیں لازمی رخصت دے کر گھر بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی بیویوں کے حقوق ادا کر سکیں، اور ان کی جگہ نیا دستہ تعینات کیا جائے۔
یہ قانون اسلامی تاریخ میں انسانی حقوق، خاندانی نظام کی حفاظت اور فوجیوں کی نفسیاتی و ازدواجی زندگی کے توازن کی ایک بہترین مثال ہے

Saturday, 31 October 2026

نکاح کا مقصد

 شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کا مقصد صرف ظاہری یا جسمانی ضرورت کی تکمیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بابرکت عبادت، سماجی ضرورت اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ شریعت کی روشنی میں نکاح کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں: [1, 2]

1. تقویٰ اور عفت کا حصول
  • گناہوں سے حفاظت: نکاح انسان کی نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور اسے زنا، فحاشی اور جنسی بے راہ روی سے بچاتا ہے۔
  • نصف ایمان کی تکمیل: احادیث کے مطابق نکاح کرنے سے انسان کا نصف ایمان مکمل ہو جاتا ہے، کیونکہ باقی نصف میں تقویٰ اور اخلاق شامل ہیں۔ [1, 2, 3, 4]
2. نسلِ انسانی کا بقا اور افزائش
  • نسل کی حفاظت: نکاح کا ایک اہم مقصد انسانی نسل کو آگے بڑھانا اور اولاد کے ذریعے دنیا کو آباد کرنا ہے۔
  • نسب کا تحفظ: شریعت میں نکاح ہی وہ واحد حلال رشتہ ہے جس کے ذریعے اولاد کا نسب (خاندانی شناخت) محفوظ ہوتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ نہیں آتا۔ [1, 2, 3]
3. روحانی سکون اور محبت
  • سکونِ قلب: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اس نے مرد و عورت کے درمیان محبت اور رحمت رکھی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے پاس سکون حاصل کریں۔
  • اخلاقی و ذہنی توازن: نکاح انسانی جذبات کو درست سمت دیتا ہے اور میاں بیوی کو ذہنی و جسمانی سکون فراہم کرتا ہے

Thursday, 29 October 2026

فسخ النكاح بسبب الشقاق بين الزوجين


مفهوم الشقاق
  • التعريف: هو النزاع والخصومة الشديدة وتبادل الإساءة أو الهجر بين الزوجين، بحيث يتعذر معه إصلاح ذات البين.
  • الأصل الشرعي: قوله تعالى: ﴿وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها إن يريدا إصلاحاً يوفق الله بينهما﴾ [النساء: 35]. [1]
إجراءات وخطوات الفسخ بسبب الشقاق
  1. رفع الدعوى: تتقدم الزوجة (أو الزوج أحيانًا) بصحيفة دعوى أمام محكمة الأحوال الشخصية تطلب فيها الفسخ للشقاق والضرر.
  2. محاولة الإصلاح: يقوم القاضي بمحاولة التوفيق بين الزوجين وحل الخلافات بالطرق الودية.
  3. بعث الحكمين: إذا استمر النزاع، يبعث القاضي حكمين (حكماً من أهل الزوج وحكماً من أهل الزوجة) لدراسة أسباب الشقاق والسعي للإصلاح، أو تقرير التفريق إن تعذر ذلك.
  4. صدور الحكم: بناءً على تقرير الحكمين واقتناع القاضي باستحالة العشرة، يصدر الحكم بفسخ عقد النكاح. [1, 2, 3, 4, 5]
الفرق بين فسخ النكاح للشقاق والطلاق والخلع
  • الفسخ للشقاق: يتم بحكم قضائي بناءً على وجود ضرر أو شقاق، ولا يُحسب من عدد التطليقات الثلاث.
  • الطلاق: يكون بإرادة الزوج ويحسب من عدد التطليقات.
  • الخلع: يكون بطلب الزوجة وموافقة الزوج مقابل عوض مالي (رد المهر أو جزء منه) دون بالضرورة وجود ضرر مثبت. [1, 2]
الحقوق المالية المترتبة
  • إذا ثبت للضرر والشقاق من جانب الزوج، فللزوجة الحق في المطالبة بفسخ النكاح مع الاحتفاظ بكامل حقوقها أو مهرها بحسب تقدير المحكمة والنظام المطبق. [1]
  • أما إذا كان الفسخ بعوض أو بناءً على طلب الزوجة دون إثبات ضرر معتبر، فقد يترتب عليها رد جزء أو كل ما قبضته من مهر وفقاً للمادة المنظمة لذلك في لائحة الأحوال الشخصية. [1]