https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Sunday, 5 July 2026

عورت اور مرد کی نماز کا فرق

 مرد و عورت کی نماز میں اصولی فرق ستر اور پردے کا ہے، جیساکہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے، لہٰذا عورت کے حق میں مختلف ارکان کی ادائیگی میں زیادہ ستر (پردے) کا خیال رکھا گیاہے، مرد اور عورت کی نماز کے درمیان فرق درج ذیل ہیں:

1-  پہلا فرق تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کے اٹھانے کی ہیئت میں ہے:

جس کی تفصیل یہ ہے کہ مرد تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھائیں گے جب کہ خواتین کے لیے سینے تک ہاتھ اٹھانے کا حکم ہے۔

"عَنْ وَائِلِ بن حُجْرٍ، قَالَ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يَا وَائِلَ بن حُجْرٍ، إِذَا صَلَّيْتَ فَاجْعَلْ يَدَيْكَ حِذَاءَ أُذُنَيْكَ، وَالْمَرْأَةُ تَجْعَلُ يَدَيْهَا حِذَاءَ ثَدْيَيْهَا".(المعجم الکبیر للطبرانی: ج9ص144رقم17497، مجمع الزوائد: ج9 ص624 رقم الحدیث1605، البدر المنير لابن الملقن:ج3ص463)

ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (درمیان میں طویل عبارت ہے، اس میں ہے کہ) آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ارشاد فرمایا: اے وائل! جب تم نماز پڑھو تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاؤ اور عورت اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی کے برابر اٹھائے۔

"حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَيْخٌ لَنَا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً؛ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ كَيْفَ تَرْفَعُ يَدَيْهَا فِي الصَّلاَةِ ؟ قَالَ : حَذْوَ ثَدْيَيْهَا". (مصنف ابن أبي شیبة: ج1ص270باب في المرأة إذَا افْتَتَحَتِ الصَّلاَةَ ، إلَى أَيْنَ تَرْفَعُ يَدَيْهَا)

ترجمہ: حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ عورت نماز میں ہاتھ کہاں تک اٹھائے؟فرمایا : اپنے سینے تک۔

"عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ زَيْتُونَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَرْفَعُ يَدَيْهَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهَا حِينَ تَفْتَتِحُ الصَّلاَةَ". (مصنف ابن أبي شیبة: ج2ص421باب في المرأة إذا افتتحت الصلاة إلی أین ترفع یدیها؟)

ترجمہ: عبد ربہ بن زیتون سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتیں۔

ان تین روایات سے عورت کے لیے ہاتھوں کو کندھے اور سینہ تک اٹھانے کا تذکرہ موجود ہے۔ لہٰذا عورت اپنے ہاتھ اس طرح اٹھائے گی کہ ہاتھوں کی انگلیاں کندھوں تک اور ہتھیلیاں سینہ کے برابر آجائیں۔ اس فرق کی عقلی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ہاتھ اٹھانے میں زیادہ ستر پوشی ہوتی ہے، جو عورت کے حق میں عین مطلوب ہے۔

"المرأة ترفع يديها حذاء منکبيها، وهو الصحيح؛ لأنه أسترلها". (فتح القدير لابن الہمام: ج1ص246)

ترجمہ: تکبیر تحریمہ کے وقت عورت اپنے کندھوں کے برابر اپنے ہاتھ اٹھائے، یہ صحیح تر ہے؛ کیوں کہ اس میں اس کی زیادہ پردہ پوشی ہے۔

2-  دوسرا فرق قیام میں ہاتھ باندھنے کی ہیئت میں ہے کہ مرد کے لیے ناف کے نیچے ہاتھ باندھا مستحب ہے، اگرچہ فقہاء میں اس حوالے سے اختلاف بھی ہے، تاہم خواتین کے حوالہ سے تمام اہلِ علم کا اجماع ہے کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی اور اجماع مستقل دلیل شرعی ہے۔

"وَ الْمَرْاَة تَضَعُ [یَدَیْها]عَلٰی صَدْرِها بِالْاِتِّفَاقِ". (مستخلص الحقائق شرح کنز الدقائق: ص153)

ترجمہ: عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔

"وَ الْمَرْاَةُ تَضَعُ [یَدَیْها]عَلٰی صَدْرِها اِتِّفَاقًا؛ لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِها عَلَی السَّتْرِ". (فتح باب العنایة: ج1 ص243 سنن الصلاة)

ترجمہ:عورت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی،اس پر سب فقہاء کا اتفاق ہے، کیوں کہ عورت کی حالت کا دارو مدار پردے (ستر) پر ہے۔

"وَاَمَّا فِي حَقِّ النِّسَاءِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی أَنَّ السُّنَّةَ لَهُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِأَنَّهَا أَسْتَرُ لَهَا". (السعایة ج 2ص156)

ترجمہ: رہا عورتوں کے حق میں[ہاتھ باندھنے کا معاملہ] تو تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کے لیے سنت سینہ پر ہاتھ باندھناہے؛ کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔

3-  تیسرا فرق رکوع کی ہیئت میں ہے کہ مرد رکوع میں اپنے بازو اپنے پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین اپنے بازؤں کو پہلو سے جدا نہیں کریں گی۔

"عن عطاء قال: تجتمع المراة إذا ركعت ترفع يديها إلى بطنها وتجتمع ما استطاعت". (مصنف عبدالرزاق ج3ص50رقم5983)

ترجمہ: حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت سمٹ کر رکوع کرے گی، اپنے ہاتھوں کو اپنے پیٹ کی طرف ملائے گی، جتنا سمٹ سکتی ہو سمٹ جائے گی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"والمرأة تنحني في الرکوع يسيراً ولاتعتمد ولاتفرج أصابعها ولکن تضم يديها وتضع علي رکبتيها وضعاً وتنحني رکبتيها ولاتجافي عضدتيها". (الفتاویٰ الهندیة: ج1ص74)

ترجمہ: عورت رکوع میں کسی قدر جھکے گی،گھٹنوں کو مضبوطی سے نہیں پکڑے گی،اپنی انگلیوں کو کشادہ نہیں کرے گی، البتہ ہاتھوں کو ملا کر اپنے گھٹنوں پر جما کر رکھے گی، گھٹنوں کو قدرے ٹیڑھا کرے گی اور اپنے بازو جسم سے دور نہ رکھے گی۔

غیرمقلد عالم عبدالحق ہاشمی اپنی کتاب ”نصب العمود“ میں لکھتے ہیں:

4-  چوتھا فرق سجدہ کرنے کی ہیئت میں ہے کہ مرد سجدے میں بازو کو پہلو سے جدا رکھیں گے جب کہ خواتین مرد کی طرح کھل کر سجدہ نہیں کریں گی، بلکہ اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے ملائیں گی، بازؤوں کو پہلو سے ملا کر رکھیں گی اور کہنیاں زمین پر بچھا دیں گی۔

"عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى امْرَأَتَيْنِ تُصَلِّيَانِ ، فَقَالَ : إِذَا سَجَدْتُمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ إِلَى الأَرْضِ ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَتْ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ". (مراسیل أبي داؤد: ص103 باب مِنَ الصَّلاةِ، السنن الکبری للبیهقي: ج2ص223, جُمَّاعُ أَبْوَابِ الاسْتِطَابَة)

ترجمہ : حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں،  آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملالیا کرو؛  کیوں کہ عورت (کا حکم سجدہ کی حالت میں) مرد کی طرح نہیں ہے۔

"عَنْ عَبْدِاللّٰه بْنِ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلی الله علیه وسلم: إِذَاجَلَسَتِ الْمَرْاَةُ فِي الصَّلاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلٰی فَخِذِهَا الْاُخْریٰ، فَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذِهَاکَأَسْتَرِ مَا یَکُوْنُ لَها، فَإِنَّ اللّٰهَ یَنْظُرُ إِلَیْها وَ یَقُوْلُ: یَامَلَائِکَتِيْ أُشْهِدُکُمْ أَنِّيْ قَدْغَفَرْتُ لَها". (الکامل لابن عدي ج 2ص501، رقم الترجمة 399 ،السنن الکبری للبیهقي ج2 ص223 باب ما یستحب للمرأة الخ،جامع الأحادیث للسیوطي ج 3ص43 رقم الحدیث 1759)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔

"عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍالْخُدْرِيِّ رضي الله عنه صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰه صلی الله علیه وسلم أَنَّه قَالَ: ... کَانَ یَأْمُرُالرِّجَالَ أَنْ یَّتَجَافُوْا فِيْ سُجُوْدِهِمْ وَ یَأْمُرُالنِّسَاءَ أَنْ یَّتَخَفَّضْنَ". (السنن الکبریٰ للبیهقي: ج 2ص222.223 باب ما یستحب للمرأة... الخ)

ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ سجدے میں (اپنی رانوں کو پیٹ سے) جدا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ خوب سمٹ کر (یعنی رانوں کو پیٹ سے ملا کر) سجدہ کریں۔

"عن الحسن وقتادة قالا: إذا سجدت المرأة؛ فإنها تنضم ما استطاعت ولاتتجافي لكي لاترفع عجيزتها". (مصنف عبدالرزاق ج 3ص49 باب تکبیرة المرأة بیدیها وقیام المرأة ورکوعها وسجودها)

ترجمہ: حضرت حسن بصری اور حضرت قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب عورت سجدہ کرے تو جہاں تک ہوسکے سکڑ جائے اور اپنی کہنیاں پیٹ سے جدا نہ کرے؛ تاکہ اس کی پشت اونچی نہ ہو۔

"عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ". (مصنف ابن أبي شیبة: رقم الحديث 2704)

ترجمہ: حضرت مجاہد رحمہ ﷲ اس بات کو مکروہ جانتے تھے کہ مرد جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں پر رکھے، جیسا کہ عورت رکھتی ہے۔

"عن عطاء قال: ... إذا سجدت فلتضم يديها إليها، وتضم بطنها وصدرها إلى فخذيها، وتجتمع ما استطاعت". (مصنف عبدالرزاق ج3ص50رقم5983)

ترجمہ: حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ عورت جب سجدہ کرے تو اپنے بازو اپنے جسم کے ساتھ ملا لے، اپنا پیٹ اور سینہ اپنی رانوں سے ملا لے اور جتنا ہو سکے خوب سمٹ کر سجدہ کرے۔

5-پانچواں فرق سجدے سے اٹھ کر بیٹھنے کی ہیئت میں ہے  کہ عورت اپنے دونوں پاؤں دائیں جانب نکال کر سرین کے بل اس طرح بیٹھے کہ دائیں ران بائیں ران کے ساتھ ملا دے۔

"عَنْ عَبْدِاللّٰه بْنِ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلی الله علیه وسلم: إِذَاجَلَسَتِ الْمَرْأَةُ فِي الصَّلاةِ وَضَعَتْ فَخِذَهَا عَلٰی فَخِذِهَا الْاُخْریٰ، فَإِذَا سَجَدَتْ أَلْصَقَتْ بَطْنَهَا فِي فَخِذِهَاکَأَسْتَرِمَا یَکُوْنُ لَهَا فَإِنَّ اللّٰهَ یَنْظُرُ إِلَیْهَا وَ یَقُوْلُ: یَا مَلَائِکَتِيْ أُشْهِدُکُمْ أَنِّيْ قَدْغَفَرْتُ لَهَا". (الکامل لابن عدي ج 2ص501، رقم الترجمة 399 ،السنن الکبری للبیهقي ج2 ص223 باب ما یستحب للمرأة ... الخ،جامع الأحادیث للسیوطي ج 3ص43 رقم الحدیث 1759)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو اپنا پیٹ اپنی رانوں کے ساتھ ملا لے جو اس کے لیے زیادہ پردے کی حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں:اے میرے ملائکہ ! گواہ بن جاؤ میں نے اس عورت کو بخش دیا۔

"عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰه صلی الله علیه وسلم أَنَّه قَالَ: ... وَکَانَ یَأْمُرُالرِّجَالَ أَنْ یَّفْرِشُوْا الْیُسْریٰ وَیَنْصَبُوْا الْیُمْنٰی فِي التَّشَهُّدِ وَ یَأْمُرُالنِّسَاءَ أَنْ یَّتَرَبَّعْنَ". (السنن الکبری للبیهقي ج 2ص222.223 باب ما یستحب للمرأة ... الخ، التبویب الموضوعي للأحادیث ص2639 )

ترجمہ: صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو حکم فرماتے تھے کہ تشہد میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور عورتوں کو حکم فرماتے تھے کہ چہار زانو بیٹھیں۔

"عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ: كَيْفَ كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ كُنَّ يَتَرَبَّعْنَ ، ثُمَّ أُمِرْنَ أَنْ يَحْتَفِزْنَ". (جامع المسانید از محمد بن محمود خوارزمی ج1ص400، مسند أبي حنیفة روایة الحصكفي: رقم الحديث 114)

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں نماز کس طرح ادا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: پہلے توچہار زانوں ہو بیٹھتی تھیں، پھر ان کو حکم دیا گیا کہ دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر سرین کے بل بیٹھیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه اَنَّه سُئِلَ عَنْ صَلاة الْمَرْأةِ فَقَالَ: تَجْتَمِعُ وَتَحْتَفِزُ". (مصنف ابن أبي شیبة ج 2ص505، المرأة کیف تکون في سجودها، رقم الحدیث2794)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عورت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوب سمٹ کر نماز پڑھے اور بیٹھنے کی حالت میں سرین کے بل بیٹھے






Thursday, 25 June 2026

مہر ادا نہ ہوا ہو اورعورت انتقال کرجائے تو مہر کس کو دیا جائے

 اگر شوہر نے بیوی کا حق مہر  (معجل یا مؤجل)  ادا نہ کیا ہو اور اس عورت کا انتقال ہوجائے تو  اس عورت کا  حق ِ مہر  شوہر  کے  ذمہ  واجب الادا  قرضہ ہونے کی وجہ سے اس عورت کے ترکہ میں شامل ہوگا،جو مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

لہٰذا شوہر مرحومہ بیوی کے دیگر ترکہ کے ساتھ مہر کی رقم کو بھی شامل کردے اور مہر کی رقم میں سے میراث کے ضابطہ شرعی کے مطابق اپنا حصہ کاٹنے کے بعد باقی رقم مرحومہ بیوی کے دیگر ورثاء کو ادا کردے، اور مرحومہ کے  بیٹے بھی مہر کی رقم میں سے اپنے حصے کے بقدر مطالبہ کرسکتے ہیں۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 378):

’’قال: (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرًا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. وقالا: لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول ومهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط  نصيبه من ذلك. وأما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت كما إذا مات أحدهما. ولأبي حنيفة أن موتهما يدل على انقراض أقرانهما فبمهر من يقدر القاضي مهر المثل.

(قوله: على ما نبينه) يعني في المسألة التي تليها من غير فصل، وهي ما إذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، هذا إذا علم أن الزوج مات أولا أو علم أنهما ماتا معا أو لم تعلم الأولية؛ لأن المهر كان معلوم الثبوت، فلما لم يتيقن بسقوط شيء منه بموت المرأة أولا لا يسقط، وأما إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط منه نصيب الزوج؛ لأنه ورث دينا على نفسه.‘‘

Sunday, 21 June 2026

بچہ گود لینے کا حکم

 اللہ تعالیٰ نےدنیاکی  ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی، بلکہ اس میں فرق رکھا ہے، جس کو جو چاہا نعمت عطا کر دی، ہر آدمی کو اولاد کی نعمت کا میسر آنا ضروری نہیں، چناں چہ اگر کسی شخص کی کوئی اولاد نہ ہو  یا اولاد ہو پھر بھی وہ کسی کو  لے کر پالنا  چاہے تو اس طرح کسی بچے کو لے کر پال لینا جائز ہے، لیکن اس میں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:

ایک بات تو یہ کہ لے پالک بچوں کی نسبت ان کے حقیقی والدین ہی کی طرف کی جائے، جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئے ہیں،  اس لیے کہ کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے شرعاً وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے اَحکام جاری ہوتے ہیں،  البتہ گود میں لینے والے کو  پرورش ، تعلیم وتربیت  اور ادب واخلاق سکھانے کا ثواب ملے گا،  جاہلیت کے زمانہ  میں یہ دستور تھا کہ لوگ لے پالک اور منہ بولے اولاد کو حقیقی اولاد کا درجہ دیتے تھے ، لیکن اسلام نے اس تصور ورواج کو ختم کرکے یہ اعلان کردیا کہ منہ بولے  اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوسکتے، اور   لے پالک اور منہ بولے اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔

نیز اس میں  اس بات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اگر  گود لینے والا یا والی اس بچے کے لیے نا محرم ہو تو بلوغت کے بعد پردے کا اہتمام کیا جائے، محض گود لینے سے محرمیت قائم نہیں ہوتی۔ البتہ اگر گود لینے والی عورت اس بچے کو رضاعت کی مدت میں دودھ پلادے تو  وہ اس بچے کی رضاعی ماں بن جائے گی، اور اس کا شوہر رضاعی باپ بن جائے گا  یا  گود لینے والے بچے کو  اس عورت کی  بہن  دودھ پلادے تو یہ عورت اس کی رضاعی خالہ بن جائے گی، اس صورت میں گود لینے والی سے بچے کے پردے کا حکم نہیں ہوگا، اسی طرح اگر بچی گود لی ہو  تو  شوہر  کی بیوی یا بہن وغیرہ اس کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلادے ۔

تیسرا یہ کہ وراثت کے معاملہ میں بھی گود لینے والے کو باپ کا درجہ نہیں دیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے :

﴿وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذ‌ٰلِكُم قَولُكُم بِأَفو‌ٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ ﴿٤﴾ ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَو‌ٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورً‌ا رَ‌حيمًا ﴿٥﴾  سورةالاحزاب

ترجمہ: "اورنہ تمہارے لے پالکوں کوتمہارے بیٹے بنایا ، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالی توسچی بات فرماتا ہے اور وہ سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ مومنو! لے پالکوں کو ان کے( اصلی ) باپوں کےنام سے پکارا کرو کہ اللہ کےنزدیک یہ بات درست ہے۔ اگر تم کو ان سےباپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سےغلطی سےہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دل سے کرو ( اس پر مؤاخذہ ہے )اوراللہ بڑا بخشنے ولا نہایت  مہربان ہے ۔‘‘

نبی ﷺ نے فرمایاہے :

"مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ". (سنن ابی داؤد: 5115)

ترجمہ: ’’جو شخص اپنےباپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعو ی کرے یا (کوئی غلام ) اپنے آقاؤں کی بجائےدوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالی کی مسلسل لعنت ہو "۔

نیز اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، اور مسلسل اس سے دعائیں مانگتے رہنا چاہیے، کہ اس کی رحمت سے کوئی بعید نہیں ہے کہ وہ کئی سالوں بعد اولاد کی نعمت سے نواز دے

Sunday, 14 June 2026

مرد کے لیے پتھر کے نگ والی چاندی کی انگوٹھی پہننا

 مردوں کے لیے صرف ایک مثقال  سے کم  وزن چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے،  اور ایک مثقال  ساڑھے چار ماشے  یعنی۴گرام،۳۷۴ملی گرام (4.374 gm) ہوتا ہے۔

روایت میں آتا ہے کہ ایک  شخص نے دریافت کیاکہ یارسول اللہ! میں کس دھات کی انگوٹھی پہنوں؟تو آپ نے فرمایا: چاندی کی، مگر ایک مثقال تک اس کا وزن نہ پہونچے۔

خالص پتھر کی انگوٹھی پہننا درست نہیں، البتہ چاندی کی انگوٹھی میں پتھر کا نگینہ لگا ہو تو پہن سکتے ہیں، لیکن نام کی مناسبت سے کسی پتھر  کا نگینہ پہننایا پتھر کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا درست نہیں۔

(الدر المختار مع حاشيته رد المحتار: 6/ 358):

"(ولايتحلى) الرجل (بذهب وفضة)  مطلقاً (إلا بخاتم ومنطقة وجلية سيف منها) أي الفضة ... (ولايتختم) إلا بالفضة؛ لحصول الاستغناء بها، فيحرم (بغيرها كحجر) ... ولايزيده على مثقال.

 (قوله: ولايتختم إلا بالفضة) هذه عبارة الإمام محمد في الجامع الصغير، أي بخلاف المنطقة، فلايكره فيها حلقة حديد ونحاس كما قدمه، وهل حلية السيف كذلك؟ يراجع! قال الزيلعي: وقد وردت آثار في جواز التختم بالفضة وكان للنبي صلى الله تعالى عليه وسلم خاتم فضة، وكان في يده الكريمة، حتى توفي صلى الله تعالى عليه وسلم، ثم في يد أبي بكر رضي الله تعالى عنه إلى أن توفي، ثم في يد عمر رضي الله تعالى عنه إلى أن توفي، ثم في يد عثمان رضي الله تعالى عنه إلى أن وقع من يده في البئر، فأنفق مالاً عظيماً في طلبه فلم يجده، ووقع الخلاف فيما بينهم والتشويش من ذلك الوقت إلى أن استشهد رضي الله تعالى عنه. (قوله: فيحرم بغيرها إلخ)؛ لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن خاتم الذهب»، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه: «أن رجلاً جاء إلى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وعليه خاتم من شبه، فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام! فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار! فطرحه، فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولاتتمه مثقالاً». " فعلم أن التختم بالذهب والحديد والصفر حرام؛ فألحق اليشب بذلك؛ لأنه قد يتخذ منه الأصنام، فأشبه الشبه الذي هو منصوص معلوم بالنص، إتقاني، والشبه محركاً: النحاس الأصفر، قاموس۔ وفي الجوهرة: والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجل والنساء ... (قوله: ولا يزيده على مثقال)، وقيل: لايبلغ به المثقال، ذخيرة. أقول: ويؤيده نص الحديث السابق من قوله عليه الصلاة والسلام : «ولاتتممه مثقالاً»

Thursday, 11 June 2026

حاجی کا استقبال اور دعوت

 حاجی حج سے آکر جو دعوت کرتے ہیں تو چونکہ یہ ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے، اس لیے یہ دعوت کرنا بنفسہٖ مباح عمل ہے، اور اس دعوت کا کھانا کھانا بھی درست ہے، بشرطیکہ دعوت اخلاص کے ساتھ ہو، اظہارِ تشکر کے طورپر ہو، ریاکاری نہ ہو، اس دعوت میں خلافِ شرع کسی کام کا ارتکاب نہ ہو اور اس دعوت کو ضروری نہ سمجھا جاتا ہو، اس دعوت میں اِسراف نہ ہو۔

باقی خوشی کے اس موقع پر حاجی کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالنا بھی ایک مباح عمل ہے۔ 
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’والمباح: ما أجیز للمکلفین فعلہٗ وترکہٗ بلااستحقاق ثواب وعقاب۔‘‘(فتاویٰ شامی ، ج:۶، ص:۳۳۶، ط: سعید)
اعلاء السنن میں ہے:
’’وقال بعض الفقہاء من أصحابنا وغیرہم أن الولیمۃ تقع علٰی کل طعام لسرور حادث، إلا أن استعمالھا في طعام العرس أکثر۔۔۔۔فحکم الدعوۃ للختان وسائر الدعوات غیر الولیمۃ إنھا مستحبۃ لما فیھما من إطعام الطعام والإجابۃ إلیھا مستحبۃ غیر واجبۃ۔‘‘(اعلاء السنن ، ج:۱۲، ص:۱۶،۱۷، ط: ادارۃ القرآن)

Tuesday, 9 June 2026

جانوروں کی خریدوفروخت میں علت

 شریعت مطہرہ میں کسی چیز کی خرید و فروخت کے جائز اور ناجائز  ہونے کا دار و مدار اس چیز سے "انتفاع "(نفع حاصل کرنا)  کے جائز اور ناجائز ہونے پر ہے،یعنی اگر اس چیز سے شرعاً نفع حاصل کرنا جائز ہو تو اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہوگی اور اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہو  تو اس کی خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہو گی، مثلاً شراب، خنزیر، مردار اور خون وغیرہ سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے اس لیےان کی خرید و فروخت بھی ناجائز اور باطل ہے، کیوں کہ ان سے فائدہ حاصل کرنے کو شریعت مطہرہ یعنی قرآن کریم اور حدیث میں صراحت سے ناجائز قرار دیا گیا ہے، تاہم ایسی چیزیں  جن کو کھانے پینے کے استعمال میں لانے سے شریعت نے کسی علت کی بنا پر منع کیا ہے اور ناجائز قرار دیا ہے، اور کھانے پینے کے علاوہ دیگر امور میں انتفاع سے منع نہیں کیا، تو شرعا ان چیزوں کے استعمال کی ان امور میں بہر حال گنجائش ہوگی اور اس کی خرید و و فروخت کی بھی اجازت ہوگی، چنانچہ حلال جانور کے گوبر کو کھانا ناجائز ہے، لیکن دوسرے کاموں میں اس کا استعمال جائز ہے لہذا اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔

أحكام القرآن للجصاص میں ہے :

"قال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على وجه ولا يطعمها الكلاب والجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، وقد حرم الله الميتة تحريما مطلقا معلقا بعينها مؤكدا به حكم الحظر فلا يجوز الانتفاع بشيء منها إلا أن يخص شيء منها بدليل يجب التسليم له".

(باب تحريم الميتة، ج : 1، ص : 130، ط : دار الكتب العلمية)

بلی کی خریدوفروخت کا حکم

 بلی  پالنا جائزہے،نیز  بلی فروخت کرنا بھی جائز ہے، شرط یہ ہےکہ اسے تکلیف نہ دی جائے ،اور اس کےکھاناپانی کاخیال رکھاجائے۔

بلی فروخت کرنے کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم خود استعمال کرنا یا ان پر ہی خرچ کرنا جیسا کہ سوال میں درج ہے دونوں صورتیں جائز ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 68):

’’لكن في الخانية: بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور، وسباع الوحش والطير جائز معلماً أو غير معلم‘‘.

الفتاوى الهندية (3/ 114):

’’بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذلك بيع السنور وسباع الوحش والطير جائز عندنا معلماً كان أو لم يكن، كذا في فتاوى قاضي خان‘‘.

الفتاوى الهندية (3/ 114):

’’وبيع الكلب غير المعلم يجوز إذا كان قابلاً للتعليم وإلا فلا، وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي‘‘.

Monday, 13 April 2026

مفقود الخبر کی بیوی کی عدت

 جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو گیا ہو اس کی بیوی اپنا مقدمہ مسلمان قاضی کی عدالت میں پیش کرے اور گواہوں سے ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، پھر گواہوں سے اس کا مفقود اور لاپتا ہونا ثابت کرے، اس کے بعد قاضی خود اپنے طور پر اس کی تفتیش وتلاش کرے، جہاں اس کے جانے کا غالب گمان ہو وہاں آدمی بھیجا جائے، اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو، صرف احتمال ہو، وہاں خط ارسا ل کرنے کو کافی سمجھے، اور خطوط ارسال کرکے تحقیق کرے، اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے۔

    الغرض تفتیش وتلاش میں پوری کوشش کرے، اور جب پتا چلنے سے مایوسی ہوجائے تو قاضی، عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم دے، پھر ان چار سالوں کے اندر بھی اگر مفقود کا پتا نہ چلے تو عورت قاضی کے پاس دوبارہ درخواست کرے، جس پر قاضی اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدت گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔
    اور اگر چار سال تک عورت عفت اور پاکدامنی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی اور گناہ  کا شدید خطرہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال کے انتظار کا حکم ضروری نہیں، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ شوہر کے غائب ہونے کے وقت سے اب تک کم از کم ایک سال کا عرصہ گزرچکا ہے یا نہیں؟ اگر گزر چکا ہو تو قاضی مزید مہلت دیے بغیر اس وقت بھی نکاح ختم کرسکتا ہے، اسی طرح اگر زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں، لیکن مفقود کا اتنا مال موجود نہیں جو ان چار سالوں میں اس کی بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو، یا بیوی کے لیے مفقود کے مال سے نان ونفقہ حاصل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں اگر نان ونفقہ دینے کے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو تو قاضی نکاح ختم کرسکتا ہے۔
    واضح رہے کہ آخری ان دونوں صورتوں میں عورت عدتِ وفات کے بجائے عدتِ طلاق گزارے گی، جو قاضی کے فیصلے کے وقت سے شمار ہوگی۔

اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو  مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے  پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛  اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی۔ اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی ہو تو  پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اس صورت میں عورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ عدالت میں دعویٰ تفریق بوجہ مفقود الخبری شوہر دائر کرے، حاکم بعد تحقیقات ایک سال کی مدت انتظار کے لیے مقرر کردے، اگر اس عرصہ میں زوجِ غائب نہ آئے تو نکاح فسخ کردے، تاریخِ فسخ سے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلے۔ ایک سال کی مدت مقرر کرنا ضروری ہے، ذرائعِ رسل ورسائل کا وسیع ہونا اس شرط کے خلاف نہیں ہے، اور نہ ذرائع کی وسعت اس امر کو لازم ہے کہ گم شدہ شوہر کا پتا معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں،آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے متعلق معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، تمام ذرائع استعمال کرلیے جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیا جاتاہے، لیکن بعد میں فیصلہ غلط ہوتاہے،غرض یہ کہ ایک سال کی مدت اس مصلحت کے لیے ہے کہ امکانی حد تک شوہر کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچاجائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم‘‘

(رجسٹر نمبر 1، صفحہ نمبر 27)


الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 295):

وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ

المبسوط للسرخسي ـ موافق للمطبوع (11/ 64):

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس".

Thursday, 9 April 2026

حیض کی کم سے کم مدت

 حیض کی کم سے کم مدت (دورانیہ) تین دن اور تین راتیں (72 گھنٹے) ہیں، اس سے کم خون شرعاً حیض شمار  نہیں ہوتا۔

مراقی الفلاح ميں هے :

"أقل ‌الحيض ثلاثة وأكثره عشرة وأقل ما بين الحيضتين خمسة عشر يومًا و لا حد لأكثره" لأنه قد يمتد أكثر من سنة."

(كتاب الطهارة، باب الحیض والنفاس، ص:٦١، ط: المكتبة العصرية)

ہدایہ میں ہے:

"‌أقل ‌الحيض ثلاثة ايام ولياليها وما نقص من ذلك فهو استحاضة."

(كتاب الطهارات، ‌‌باب الحيض والاستحاضة، ١/ ٣٢، ط: دارإحياء التراث العربي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والناقص) عن أقله(والزائد) على أكثره أو أكثر النفاس أو على العادة وجاوز أكثرهما. (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة)."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ١/ ٢٨٥، ط: سعيد)

پاکی کی مدت پندرہ دن ہے

 واضح رہے کہ شرعاً دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کا فاصلہ ہونا  ضروری ہے،پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون شرعاً استحاضہ شمار ہوگا،اور  عورت کی عادت کے مطابق ہی حیض اور طہر کے ایام مقرر کیے جائیں گے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ خاتون کے حیض  کی عادت چوں کہ  ایک ہفتہ کی ہے اس لیے  ایک  ہفتہ مذکورہ خاتون کو جو خون آرہا ہے وہ  حیض  شمار ہوگا اور  آٹھویں دن حیض سے پاک ہوکر مذکورہ خاتون کوپندرہویں   دن سے پہلے جو خون آرہاہے  وہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اور استحاضہ کے دنوں کا حکم یہ ہے کہ اس میں نماز ،روزہ ،تلاوت ،قربت غرض یہ کہ پاکی والے تمام اعمال کیے جائیں گے، اور  عادت کے مطابق جب تک پاکی کے 15دن مکمل نہ ہوجائیں اس وقت تک مذکورہ خاتون پاک شمار ہوگی،اور  جب   مذکورہ خاتون کے پاکی کے دن عادت کے مطابق  مکمل ہوجائیں تو  حیض کے ایام  اس پاکی کے بعد سے شمارکیے جائیں گے۔

  نیز استحاضہ کے ایام  میں  اگر  مذکورہ خاتون کو خون اتنے وقفے سے آتاہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو ہوکر   وقتی فرض نماز  ادا کرسکتی ہو تو ایسی صورت میں پاکی کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے نماز ادا کرنی ہوگی ، اور اگر استحاضہ  کا خون مسلسل جاری  ہو   اور اتنا وقت بھی نہ مل رہا ہو کہ پاک صاف ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکے ،تو ایسی صورت میں  ہرنماز کے وقت میں نیا وضو کرناہوگا، پھر اس وضو سے  اگلی نماز کے وقت تک جتنے فرائض و نوافل  چاہےپڑھ سکتی ہے، نیز روزے  بھی رکھ سکتی ہے اور قرآنِ کریم کی تلاوت بھی کرسکتی ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"فالأصل عند أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة الآخر على ما في المبسوط أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لا يصير فاصلا بل يجعل كالدم المتوالي؛ لأنه لا يصلح للفصل بين الحيضتين فلا يصلح للفصل بين الدمين."

( كتاب الطهارة،باب الحيض،216/1،ط:دار الکتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودم الإستحاضة حکمه کرعاف دائم وقتًا کاملاً لایمنع صومًا وصلاةً ولو نفلاً وجماعَا؛ لحدیث: توضئي وصلي وإن قطر الدم علی الحصیر".

(کتاب الطهارۃ،باب الحیض،298/1،ط: سعید )


احسن الفتاویٰ میں ہے:

"زوجہ مفقود کے لیے قاضی کی عدالت میں فسخِ نکاح کی درخواست کے بعد جو مزید چار سال کے انتظام کا حکم دیا گیا ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ عورت کے لیے نفقہ اور گزارے کا بھی کچھ انتظام ہو اور عفت اور عصمت کے ساتھ یہ مدت گزارنے پر قدرت بھی ہو، اور اگر اس کے نفقہ اور گزارے کا کوئی انتظام نہ ہو، نہ شوہر کے مال سے، نہ کسی عزیز و قریب یا حکومت کے تکفل سے اور خود بھی محنت و مزدوری، پردہ و عفت کے ساتھ کر کے اپنا گزارا نہیں کر سکتی، تو جب تک صبر کر سکے، شوہر کا انتظار کرے، جس کی مدت ایک ماہ سے کم نہ ہو، اس کے بعد قاضی یا کسی مسلمان حاکم مجاز کی عدالت میں فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر کرے، اور اگر نفقہ اور گزارے کا انتظام ہے مگر بغیر شوہر کے رہنے میں اپنی عفت و عصمت کا اندیشہ قوی ہے، تو سال بھر صبر کرنے کے بعد قاضی کی طرف مرافعہ کرے، اور دونوں صورتوں میں گواہوں کے ذریعہ یہ ثابت کرے کہ اس کا شوہر فلاں اتنی مدت سے غائب ہے، اور اس نے اس کے لیے کوئی نان و نفقہ نہیں چھوڑا، اور نہ کسی کو نفقہ کا ضامن بنایا، اور اس نے اپنا نفقہ اس کو معاف بھی نہیں کیا، اور اس عورت پر حلف بھی کرے، اور دوسری صورت یعنی عفت کے خطرے کی حالت میں قسم کھائے کہ میں بغیر شوہر کے اپنی عفت قائم نہیں رکھ سکتی، قاضی کے پاس جب یہ ثبوت مکمل ہو جائے، تو قاضی اس کو  کہہ دے کہ میں نے تمہارا نکاح فسخ کر دیا، یا شوہر کی طرف سے طلاق دے دی، یا خود عورت کو اختیار دے دے کہ وہ اپنے نفس پر طلاق واقع کرے اور جب عورت اپنے نفس پر طلاق واقع کرے تو قاضی اس طلاق کو نافذ کر دے۔"

(جلد:5، صفحہ:422، طبع: ایچ ایم سعید)


Friday, 3 April 2026

سرکاری اور پرائیویٹ بنک سے ملنے والے سود میں فرق

 سودی رقم کا اصل مصرف یہ ہے کہ جہاں سے وہ رقم حاصل ہو، اسی کو واپس کردی جائے، اب اگر سرکاری بینک سے سودی رقم حاصل ہو، تو سرکار کو واپس کرنے کی ایک شکل یہ ہے کہ انکم ٹیکس میں یہ رقم جمع کردی جائے، اس طرح سودی رقم سرکار تک پہنچ جائے گی؛ اس لیے کہ انکم ٹیکس کی رقم سرکار کے پاس جاتی ہے، لہٰذا سود کی جو رقم سرکاری بینک کے توسط سے حاصل ہو، اس کو انکم ٹیکس میں دینے کی گنجائش ہے، برخلاف پرائیویٹ بینک کی سودی رقم اس کو انکم ٹیکس میں دینا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ سودی رقم پرائیویٹ بینک تک نہیں پہنچے گی۔

Thursday, 2 April 2026

فسخ نکاح بوجہ مفقود الخبر ی زوج

 شوہر کے غائب ہوجانے کی صورت میں  اگر بیوی کے لیے پاک دامنی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہ ہو تو عورت عدالت میں مقدمہ دائر کرے،عدالت سرکاری تعاون سے تحقیقات کرنے کے بعد ایک سال کی مدت مقرر کرے، سال گزرنے پر بھی شوہر نہ آئے تو عدالت فسخِ نکاح کا فیصلہ کردے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد عدتِ وفات (حاملہ نہ ہونے کی صورت میں چار ماہ دس دن اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل یعنی بچہ کی پیدائش) گزارنے کے بعد دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔

اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے  پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛  اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی۔ اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی ہو تو  پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔


مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اس صورت میں عورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ عدالت میں دعویٰ تفریق بوجہ مفقود الخبری شوہر دائر کرے، حاکم بعد تحقیقات ایک سال کی مدت انتظار کے لیے مقرر کردے، اگر اس عرصہ میں زوجِ غائب نہ آئے تو نکاح فسخ کردے، تاریخِ فسخ سے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلے۔ ایک سال کی مدت مقرر کرنا ضروری ہے، ذرائعِ رسل ورسائل کا وسیع ہونا اس شرط کے خلاف نہیں ہے، اور نہ ذرائع کی وسعت اس امر کو لازم ہے کہ گم شدہ شوہر کا پتا معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں،آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے متعلق معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، تمام ذرائع استعمال کرلیے جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیا جاتاہے، لیکن بعد میں فیصلہ غلط ہوتاہے۔

غرض یہ کہ ایک سال کی مدت اس مصلحت کے لیے ہے کہ امکانی حد تک شوہر کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچاجائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"(ولو قضى على الغائب بلا نائب ينفذ) في أظهر الروايتين عن أصحابنا".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 414):

"قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لايجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 295):

وقال في الدر المنتقى: ليس بأولى، لقول القهستاني: لو أفتى به في موضع الضرورة لا بأس به على ما أظن اهـ

المبسوط للسرخسي ـ موافق للمطبوع (11/ 64):

"وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر رضي الله عنه في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حياً أنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي رضي الله عنه، فإنه كان يقول: ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر، وبهذا كان يأخذ إبراهيم رحمه الله فيقول: قول علي رضي الله عنه أحب إلي من قول عمر رضي الله عنه، وبه نأخذ أيضاً؛ لأنه تبين أنها تزوجت وهي منكوحة، ومنكوحة الغير ليست من المحللات، بل هي من المحرمات في حق سائر الناس".

Friday, 27 February 2026

آیت سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ تلاوت سے اٹھ کربھولے سے سورہ فاتحہ پڑھنا

 فتوی: 1738-1738/M=1/1434 (۱) امام نے نماز تراویح میں آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوکر بجائے اس کے کہ جہاں سے قرآن پڑھنا تھا اس کو نہیں پڑھا بلکہ سورہٴ فاتحہ پڑھ لیا تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی، سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا۔ (۲) نہیں دہرانی پڑے گی۔ ولو قرأ فاتحة الکتاب وسورة ثم قرأ فاتحة الکتاب فلا سہو علیہ؛ لأنہ ما قرأہا علی الولاء․ (الفتاوی التاتارخانیة: ۲/۳۹۱، کتاب الصلاة، فصل سجود السہو)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند