اللہ کے
بندے اللہ ہی سے مدد مانگتے ہیں
:اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے ۔ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے، رحمان اور رحیم ہے، روز جزا کا مالک ہے ۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جوبھٹکے ہوئے نہیں ہیں ۔
(فاتحۃ ۔ ۔ ۔ ۷)
حدیث نمبر: 1892 --- حکم البانی: صحيح... عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے خواہ وہ اخیر کے ہوں ، یا کہا : شروع کے ، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی ، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے : « التحيات للہ والصلوات والطيبات السلام عليك أيہا النبي ورحمۃ اللہ وبركاتہ السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ » ” آداب بندگیاں ، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں ، اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بند ے اور رسول ہیں “ اور حاجت کا خطبہ یہ ہے : « إن الحمد للہ نحمدہ ونستعينہ ونستغفرہ ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن يضلل فلا ہادي لہ وأشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شريك لہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ » ” بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں ، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں ، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں ، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی ساجھی نہیں ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں “ اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو : « يا أيہا الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ » ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور مسلمان ہی رہ کر مرو “ اخیر آیت تک « واتقوا اللہ الذي تساءلون بہ والأرحام » ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو ، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو ، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے “ اخیر آیت تک « اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم » ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوارے دے گا ، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا ..
.سنن ابن ماجہ --- کتاب: نکاح کے احکام و مسائل --- باب : خطبہ نکاح کا بیان ۔ [سنن ابن ماجہ
اللہ کی کتاب کیاہے
الف، لام، میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ہے ان پرہیزگار لوگوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۵)
کتاب اللہ کا انکار کرنے والے
جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کر دیا، ان کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۷)
عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہ یہ آیت جو قرآن میں ہے « يا أيہا النبي إنا أرسلناك شاہدا ومبشرا ونذيرا » ” اے نبی ! بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ “ تو نبی کریم ﷺ کے متعلق یہی اللہ تعالیٰ نے توریت میں بھی فرمایا تھا ” اے نبی ! بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ان پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ آپ میرے بندے ہیں اور میرے رسول ہیں ۔ میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ، آپ نہ بدخو ہیں اور نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور کرنے والے اور نہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں گے بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیں گے اور اللہ ان کی روح اس وقت تک قبض نہیں کرے گا جب تک کہ وہ کج قوم (عربی) کو سیدھا نہ کر لیں یعنی جب تک وہ ان سے « لا إلہ إلا اللہ » کا اقرار نہ کرا لیں پس اس کلمہ توحید کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو اور بہرے کانوں کو اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دیں گے ۔ “
صحیح بخاری --- کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں --- باب : آیت «إنا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا» کی تفسیر ۔ [صحیح بخاری]
منافقین کی دھوکہ بازی
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا ہے، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے دردناک سزا ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں __ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟__ خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں ۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں __ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اس نے سارے ماحول کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کا نورِ بصارت سلب کر لیا اور انہیں اس حال میں چھوڑدیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، یہ اب نہ پلٹیں گے ۔ یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ اِن منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں __ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کر لیتا، یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۰)
صحیح مسلم --- جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ طریقے --- باب : رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور منافقین کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان ۔ [صحیح مسلم]
حدیث نمبر: 4659 --- سیدنا اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے ، اس پر ایک پالان تھا ، اور نیچے اس کے ایک چادر تھی فدک کی ۔ (فدک ایک مشہور شہر تھا مدینہ سے دو یا تین منزل پر) آپ ﷺ کے پیچھے اسی گدھے پر سیدنا اسامہ بن زید ؓ تھے ، آپ ﷺ تشریف لے گئے سعد بن عبادہ ؓ کو پوچھنے کے لیے ، ان کی بیماری میں بنی حارث بن خزرج کے محلہ میں اور قصہ بدر کی جنگ سے پہلے کا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ گزرے ایک مجلس پر جس میں سب قسم کے لوگ یعنی مسلمان اور مشرک بت پرست اور یہود ملے جلے تھے ۔ ان لوگوں میں عبداللہ بن ابی (منافق مشہور) بھی تھا اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی تھے ، جب اس مجلس میں جانور کی گرد پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک بند کر لی چادر سے اور کہنے لگا مت گرد اڑاؤ ہم پر ، رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو سلام کیا پھر کھڑے ہوئے اور گدھے پر سے اترے بعد اس کے ان کو بلایا اللہ کی طرف اور ان کو قرآن سنایا : عبداللہ بن ابی نے کہا : اے شخص ! اس سے اچھا کچھ نہیں یا اس سے تو یہ بہتر تھا کہ تم اپنے گھر میں بیٹھتے اگر تم جو کہتے ہو وہ سچ ہے تو مت ستاؤ ہم کو ہماری مجلسوں میں اور لوٹ جاؤ اپنے ٹھکانے کو ، جو ہم میں سے تمہارے پاس آئے اس کو یہ قصہ سناؤ ۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا : ہم کو ضرور سنائیے ہماری مجلسوں میں کیوں کہ ہم پسند کرتے ہیں ان باتوں کو ۔ سیدنا اسامہ ؓ نے کہا : پھر مسلمان اور مشرک اور یہود گالی گلوچ کرنے لگے یہاں تک کہ قصد کیا ایک دوسرے کو مارنے کا اور رسول اللہ ﷺ اس جھگڑے کو دباتے تھے ۔ آخر آپ ﷺ سوار ہوئے اپنے جانور پر اور سیدنا سعد بن عبادہ ؓ کے پاس گئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اے سعد ! تم نے نہیں سنیں ابوحباب کی باتیں (یہ کنیت ہے عبداللہ بن ابی کی) اس نے ایسی ایسی باتیں کہیں ۔ “ سیدنا سعد ؓ نے کہا : آپ معاف کر دیجئے یا رسول اللہ ! اور درگزر کیجیے قسم اللہ کی ، اللہ نے آپ کو دیا جو دیا اور اس شہر والوں نے تو یہ ٹھہرایا تھا کہ عبداللہ بن ابی کو تاج پہنا دیں اور عمامہ بندھوا دیں (یعنی اس کو بادشاہ کریں یہاں کا) جب اللہ تعالیٰ نے یہ بات نہ ہونے دی اس حق کی وجہ سے جو آپ کو دیا گیا تو وہ جل گیا (حسد کے مارے) اسی حسد نے اس سے یہ کرایا جو آپ نے دیکھا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کو معاف کر دیا
رب کی بندگی اختیار کرو
لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اسی صورت سے ہو سکتی ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدمقابل نہ ٹھیراؤ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲)
قرآن کی نقل ممکن نہیں
اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو، ایک اللہ کو چھوڑکر باقی جس جس کی چا ہو، مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، اور یقیناً کبھی نہیں کر سکتے، تو ڈرو اس آگ سے، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر، جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴)
عاملِ قرآن کو جنت کی خوشخبری
اور اے پیغمبر، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے ۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ۔ ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵)
اللہ تمثیلیں کیوں بیان کرتا ہے
ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے ۔ جو لوگ حق کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے ۔ اور اس سے گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں، اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑدیتے ہیں، اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۷)
اللہ دوبارہ زندگی عطا کرے گا
تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی، پھر وہی تمہاری جان سلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے ۔ اور وہ ہر چیزکا علم رکھنے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۹)
تخلیقِ آدم ؑپر فرشتوں کا اعتراض
پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ‘‘۔ انہوں نے عرض کیا: ’’کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑدے گا اور خونریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ‘‘۔ فرمایا: ’’میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے ‘‘۔ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا ’’اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑجائے گا)، تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ‘‘۔ انہوں نے عرض کیا ’’نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے ۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ‘‘۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا: ’’تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ‘‘۔ جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے، تواللہ نے فرمایا: ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے بھی میں جانتا ہوں ‘‘۔ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھگ جاؤ، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۳۴)
نکلنا خلد سے آدمؑ کا
پھر ہم نے آدم سے کہا کہ ’’تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چا ہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہو گے ‘‘۔ آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے ۔ ہم نے حکم دیا کہ ’’اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ‘‘۔ اس وقت آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی جس کو اس کے رب نے قبول کر لیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ ہم نے کہا کہ ’’تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور ر نج کا موقع نہ ہو گا، اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۳۹)
بنی اسرائیل سے اللہ کا خطاب
)اے بنی اسرائیل! ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی۔ میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اسے تم پورا کرو تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اسے میں پورا کروں، اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔ اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو اور میرے غضب سے بچو۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟ صبر اور نماز سے مدد لو، بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخرکار انہیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۴۶)
بنی اسرائیل کو فضیلت عطا کی گئی
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اس نعمت کو، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی۔ اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہو گی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۴۸)
فرعون کا لڑکوں کو ذبح کروانا
یادکرو وہ وقت جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی__ انہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۴۹)
اللہ نے سمندر پھاڑکر راستہ بنایا
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑکر تمہارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔ یاد کرو، جب ہم نے موسیٰ ؑکو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بلایا، تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبود بنا بیٹھے ۔ اس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی، مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۵۲)
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو معبود بنانا
یاد کرو کہ (ٹھیک اس وقت جب تم یہ ظلم کر رہے تھے ) ہم نے موسیٰ ؑکو کتاب اور فرقان عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پا سکو۔ یادکرو جب موسیٰ ؑ(یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا، تو اس) نے اپنی قوم سے کہاکہ ’’لوگو، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو، اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے ‘‘۔ اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۵۴)
بنی اسرائیل کا خدا کو دیکھنے پر اصرار
یاد کرو جب تم نے موسیٰ ؑسے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ خدا کو (تم سے کلام کرتے ) نہ دیکھ لیں ۔ اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست کڑکے نے تم کو آ لیا۔ تم بے جان ہو کر گر چکے تھے، مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اٹھایا، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاؤ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۵۶)
قومِ موسیٰ پرمن و سلویٰ کا نزول
ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا، من و سلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، انہیں کھاؤ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا، بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظ۔ لم کیا۔ پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ’’یہ بستی، جو تمہارے سامنے ہے، اس میں داخل ہو جاؤ، اس کی پیداوار، جس طرح چا ہو، مزے سے کھاؤ، مگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونا اورکہتے جانا حِطّۃ حِطّۃ، ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے ‘‘ مگر جو بات کہی گئی تھی، ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کر دیا۔ آخرکار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔ یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی، جو وہ کر رہے تھے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۵۹)
اور چٹان سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے
یاد کرو، جب موسیٰ ؑنے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر قبیلے نے جان لیا کہ کونسی جگہ اس کے پانی لینے کی ہے ۔ (اس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ) اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۶۰)
وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے
یاد کرو، جب تم نے کہا تھا کہ ’’اے موسیٰ ؑ، ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے ۔ اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار، ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز، دال وغیرہ پیدا کرے ‘‘۔ تو موسیٰ ؑ نے کہا : ’’کیا ایک بہتر چیز کے بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو؟ اچھا،کسی شہری آبادی میں جا رہو۔ جو کچھ تم مانگتے ہو، وہاں مل جائے گا‘‘۔ آخرکار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلت و خواری اور پستی و بدحالی ان پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گِھر گئے ۔ یہ نتیجہ تھا اِس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے ۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدود شرع سے نکل نکل جاتے تھے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۶۱)
نیک عمل کا اجر رب کے پاس ہے
یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی، جو بھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طور کو تم پر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا اور کہا تھا کہ ’’جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھنا۔ اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ کی روش پر چل سکو گے ‘‘۔ مگر اس کے بعد تم نے اپنے عہد سے پِھرگئے ۔ اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۶۴)
نافرمان انسانوں کا بندر بننا
پھر تمہیں اپنی قوم کے ان لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا۔ ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے ۔ اس طرح ہم نے ان کے انجام کو اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بنا کر چھوڑا۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۶۶)
قومِ موسیٰ کو گائے ذبح کرنے کا حکم
پھر وہ واقعہ یاد کرو، جب موسیٰ ؑنے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰ ؑنے کہا: میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں ۔ بولے اچھا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے ۔ موسیٰ ؑنے کہا، اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔ پھر کہنے لگے اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسٰی ؑ نے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی چاہیے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے ۔ پھر بولے اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعے ین میں اشتباہ ہو گیا ہے، اللہ نے چاہا، تو ہم اس کا پتہ پالیں گے ۔ موسٰی ؑنے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہے ۔ اس پر وہ پکار اٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے ۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۷۱)
پتھر سا دِل رکھنے والے
اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو، اس طرح اللہ مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو__ مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخرکار تمہارے دل سخت ہو گئے، پتھروں کی طرح سخت، بلکہ سختی میں کچھ اُن سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے، اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے ۔ اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۷۴)
کلام اللہ میں تحریف کرتے رہے
اے مسلمانو! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔ (محمد رسول اللہﷺ پر) ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہو گئے ہو؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ؟__ اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے ؟__ ان میں ایک دوسرا گروہ اُمّیوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں ۔ پس ہلاکت اور تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں ۔ ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت۔ وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چُھونے والی نہیں الّا یہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے ۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کر سکتا؟ یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمہ لیا ہے ؟ آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی؟ جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطاکاری کے چکر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ (البقرۃ۔ ۔ ۔ ۸۲۲۶۔ بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پِھرگئے اور اب تک پِھرے ہوئے ہو۔ پھر ذرا یادکرو، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا۔ تم نے اس کا اقرار کیا تھا، تم خود اس پر گواہ ہو۔ مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا۔ تو کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، ان کی سزا اس کے سوا اورکیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو__ یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خرید لی ہے، لہٰذا نہ ان کی سزا میں کوئی تخفیف ہو گی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۸۶)
عیسٰیؑ کو روحِ پاک سے مدد کی گئی
ہم نے موسٰی ؑ کو کتاب دی، اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے، آخرکار عیسٰی ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روحِ پاک سے اس کی مدد کی۔ پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا!__ وہ کہتے ہیں، ہمارے دل محفوظ ہیں ۔ نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں __ اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے، اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی، باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آ گئی، جسے وہ پہچان بھی گئے، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ خدا کی لعنت ان منکرین پر، کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا۔ نواز دیا! لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۹۰)
بنی اسرائیل کا حق کو ماننے سے انکار
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں ’’ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو ہمارے ہاں (یعنی نسلِ اسرائیل میں ) اتری ہے ‘‘۔ اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اچھا، ان سے کہو: اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی، تو اس سے پہلے اللہ کے اُن پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے ) کیوں قتل کرتے رہے ؟ تمہارے پاس موسٰی ؑ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا۔ پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے ۔ پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو، جو طُور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں ۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ کہو: اگر تم مومن ہو تو یہ عجیب ایمان ہے، جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۹۳)
کافر کبھی موت کی تمنا نہ کرینگے
ان سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑکر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے، تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کرو، اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو__ یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کما کر انہوں نے وہاں بھیجا ہے، اس کا تقاضہ یہی ہے (کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں )، اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے ۔ تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤ گے حتیٰ کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۹۶)
فرشتوں کا دشمن اللہ کا دشمن ہے
ان سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جبریل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے ۔ (اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے، تو کہہ دو کہ) جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۹۸)
قرآن کا انکار کرنے والے
ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں ۔ اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔ کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا، تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالائے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو اِن کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پُشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۰۱)
سلیمان ؑ ا ور ہاروت و ماروت کا ذکر
اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیاطین، سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان ؑنے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے ۔ وہ پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابِل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے ) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ ’’دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو‘‘۔ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ۔ ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضر ر نہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان دہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا! اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا۔ کاش انہیں خبر ہوتی
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۰۳)
اہل کتاب و مشرکین کا رویہ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رَاعِنا نہ کہا کرو، بلکہ اُنظُرنا کہو اور توجہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں ۔ یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، مگر اللہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لیے چُن لیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بُھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ؟ کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبرگیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے ؟پھر کیا تم اپنے رسول سے اس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسٰی ؑ سے کیے جا چکے ہیں ؟ حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا، وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے ۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے ۔ مطمئن رہو کہ اللہ (تعالیٰ) ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے ۔ جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۰)
عیسائی ویہودی کا جنتی ہونے کا دعویٰ
ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۔ ان سے کہو، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے، نہ کسی اور کی۔ حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۲)
یہودی و عیسائی کے اختلافات
یہودی کہتے ہیں : عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں ۔ عیسائی کہتے ہیں : یہودیوں کے پاس کچھ نہیں __ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں __ اور اسی قسم کے دعوے ان لوگوں کے بھی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے ۔ یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۳)
بڑا ظالم شخص کون ہو گا؟
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جواللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گا ہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں ۔ ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذابِ عظیم۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۴)
مشرق و مغرب سب اللہ کے ہیں
مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں ۔ جس طرف بھی تم رخ کرو گے، اسی طرف اللہ کا رخ ہے ۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ق
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۵)
اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے
ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی مِلک ہیں ۔ سب کے سب اس کے مطیعِ فرمان ہیں، وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ’’ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۷)
نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی
نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے ۔ ان سب (اگلے پچھلے گمرا ہوں ) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں ۔ یقین دلانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں ۔ (اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہو گی کہ) ہم نے تم کو علمِ حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑچکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۹)
یہودی اور عیسائی راضی نہ ہوں گے
یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگر اُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑسے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے ۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے ۔ وہ اس (قرآن) پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں ۔ اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۱)
بنی اسرائیل کو عطا کردہ نعمت
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی۔ اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۳)
حضرت ابراہیم ؑ کی آزمائش
یاد کرو کہ جب ابراہیم ؑکو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اترگیا۔ تو اس نے کہا: ’’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ‘‘۔ ابراہیم ؑنے عرض کیا: ’’اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ‘‘؟اس نے جواب دیا: ’’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے ‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۴)
کعبہ امن کی جگہ ہے
اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے ) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اورلوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیم ؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو، اور ابراہیم ؑاور اسماعیل ؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۵)
سامانِ زندگی توکافروں کو بھی ملے گا
اور یہ کہ ابراہیم ؑنے دُعا کی: ’’اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ‘‘۔ جواب میں اس کے رب نے فرمایا: ’’اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا، مگر آخرکار اسے عذابِ جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بدترین ٹھکانا ہے ‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۶)
تعمیر کعبہ اور ابراہیمؑ و اسمٰعیل ؑ کی دعا
اور یاد کرو، ابراہیم ؑاور اسمٰعیل ؑجب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے : ’’اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ۔ تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے ‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۹)
دینِ
ابراہیم ؑسے نفرت کرنے والے
اب کون ہے جو ابراہیم ؑ کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو اس کے سوا کون یہ حرکت کر سکتا ہے ؟ ابراہیم ؑ تو وہ شخص ہے جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہو گا۔ اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: ’’مسلم ہو جا‘‘، تو اس نے فوراً کہا: ’’میں مالکِ کائنات کا ’’مسلم‘‘ ہو گیا۔ ‘‘ اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۳۱)
حضرت یعقوبؑ کی وصیت
اور اسی کی وصیت ابراہیمؑ اور یعقوبؑ اپنی اولاد کو کر گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ ’’میرے بچّو، اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے ۔ لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا‘‘۔ پھر کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہورہا تھا؟ اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا:’’بچّو، میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟‘‘ ان سب نے جواب دیا: ’’ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ نے خدا مانا ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں ‘‘۔ وہ کچھ لوگ تھے، جوگزر گئے ۔ جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے ۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۳۴)
یہودی عیسائی راہِراست پر نہیں
یہودی کہتے ہیں : یہودی ہو، تو راہ راست پاؤ گے ۔ عیسائی کہتے ہیں : عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو: ’’نہیں، بلکہ سب کو چھوڑکر ابراہیم ؑکا طریقہ۔ اور ابراہیم ؑ مشرکوں میں سے نہ تھا‘‘۔ مسلمانو! کہو کہ: ’’ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولادِ یعقوب ؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسٰی ؑ اور عیسٰی ؑاور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں ‘‘۔ پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم ایمان لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگر اس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں، لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے ۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۳۷)
اللہ کا رنگ سب سے بہتر ہے
کہو: ’’اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں ‘‘۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو: ’’کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۳۹)
انبیاؑیہودی یا نصرانی نہ تھے
یا پھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم ؑ، اسمٰعیل ؑ، اسحاق ؑ، یعقوب ؑ اور اولادِ یعقوب ؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہو: ’’تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے __ وہ کچھ لوگ تھے جو گزر چکے ان کی کمائی ان کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے ۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہو گا‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۴۱)
قبلہ کی تبدیلی کا حکم
نادان لوگ ضرور کہیں گے : انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پِھر گئے ؟ اے نبیﷺ، ان سے کہو: ’’مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے ‘‘۔ اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’اُمتِ وسط‘‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو۔ پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسولﷺ کی پیروی کرتا ہے اورکون الٹا پِھر جاتا ہے ۔ یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر ان لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے ۔ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگزضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے ۔
اے نبیﷺ، یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رُخ پھیر دو۔ اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔ یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی، خوب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے، مگر اس کے باجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔ تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، اور اگر تم نے اس علم کے بعد، جوتمہارے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہو گا۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے ) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں، مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چُھپا رہا ہے ۔ یہ قطعی ایک امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو۔
ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔ جہاں بھی تم ہو گے، اللہ تمہیں پالے گا۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو، وہیں سے اپنا رُخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔ اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو، اپنا رُخ مسجد حرام ہی کی طرف پھیرا کرو، اور جہاں بھی تم ہو، اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حُجت نہ ملے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۵۰)
فلاح کا راستہ، اللہ کے حکم کی پیروی
ہاں ان میں سے جو ظالم ہیں، ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہو گی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو__ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اُسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے جس طرح (تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا، جو تمہیں ہماری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے ۔ لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو، کُفران نعمت نہ کرو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۵۲)
شہید زندہ ہیں
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو۔ ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۵۴)
جان و مال کا خسارہ آزمائش ہے
اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے ‘‘، انہیں خوشخبری دے دو۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۵۷)
حج و عمرہ میں صفا اور مروہ کی سعی کرنا
یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عُمرہ کرے، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے اور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۵۸)
ہدایت کو چھپانے والے پر اللہ کی لعنت
_جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چُھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پرلعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ البتہ جو اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے، اُسے بیان کرنے لگیں، ان کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۶۰)
حالتِکفر میں جان دینے والے
جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن کی سزا میں تخفیف ہو گی اور نہ انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۶۲)
عقلمندوں کے لئے نشانیاں
تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے، اُس رحمن اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے (اس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کِشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اُوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کوزندگی بخشتا ہے اور (اپنے اسی انتظام کی بدولت) زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۶۴)
غیر اللہ کی پیروی کرنے والے
(مگر وحدتِ خداوندی پر دلالت کرنے والے ان کُھلے کُھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اُس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے __ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں __ کاش، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سُوجھنے والا ہے وہ آج ہی ان ظالموں کو سُوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے ۔ جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہو گی کہ وہی پیشوا اور رہنما جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی، اپنے پیروؤں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے، مگر سزا پا کر رہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا۔ اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں، ہم ان سے بیزار ہو کر دکھا دیتے ۔ یوں اللہ ان لوگوں کے وہ اعمال، جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں، ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۶۷)
شیطا ن بد ی اور فحاشی کا حکم دیتا ہے
لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے، تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۶۹)
باپ دادا کی بے ہدایت تقلید
ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے ؟ یہ لوگ جنہوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے ۔ یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۷۱)
خون،سور اور غیر اللہ کے نام کا کھانا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مُردار نہ کھاؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۷۳)
مجبوراً حرام شئے کھانا
ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۷۳)
دُنیوی فائدوں پر اللہ کے احکام چھپانا
حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چُھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دُنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۔ قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا، اور ان کے لیے دردناک سزا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا۔ کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں ! یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۷۶)
نیکی کیا ہے ؟
نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے ۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں ۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۷۷)
قتل کے قصاص اور خوں بہا کا حکم
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے ۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے، اور عورت اِس جرم کی مرتکب ہو تو اُس عورت ہی سے قصاص لیا جائے ۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اُس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو، تو معروف طریقے کے مطابق خُوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے ۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے، اس کے لیے دردناک سزا ہے ۔ عقل و خِرَد رکھنے والو، تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے ۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۷۹)
وصیت میں تبدیلی گناہ ہے
تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑرہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا، تو اس کا گناہ اُن بدلنے والوں پر ہو گا۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۸۲)
روزے کی فرضیت اور دیگر ا حکامات
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔ چند مقرر دنوں کے روزے ہیں ۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے ۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں ) تو وہ فدیہ دیں ۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے، اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے، تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے ۔ لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو۔
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے ۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۸۵)
اللہ سنتا اور جواب دیتا ہے
اور اے نبی، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں ۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اس کی پکار سُنتا اور جواب دیتا ہوں ۔ لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں ۔ (یہ بات تم انہیں سُنا دو) شاید کہ وہ راہ راست پا لیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۸۶)
روزہ واعتکاف میں حدود اللہ
تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے ۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے ۔ اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کر دیا ہے، اُسے حاصل کرو۔ نیز راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آ جائے ۔ تب یہ سب کام چھوڑکر رات تک اپنا روزہ پورا کرو۔ اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۸۷)
ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقہ سے کھانے کا موقع مل جائے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۸۸)
چاند کا گھٹنا بڑھنا اور تاریخیں
اے نبی، لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ کہو: یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں ۔ نیز ان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو۔ نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے ۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۸۹)
لڑنے والوں سے بھی زیادتی نہ کرو
اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ بُرا ہے، مگر فتنہ اُس سے بھی زیادہ بُرا ہے ۔ اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے ۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۹۲)
ظالموں سے لڑنا تا کہ فتنہ باقی نہ رہے
تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں ، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۹۳)
ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے
ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حُرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہو گا۔ لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حُدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۹۴)
فی سبیل اللہ خرچ اور احسان کا طریقہ
اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۱۹۵)
حج و عمرے کے مسائل
اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عُمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو، اور اگر کہیں گِھر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے ۔ مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے، تو اَسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکّے پہنچ جاؤ) تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عُمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اس طرح پُورے دس روزے رکھ لے ۔ یہ رعایت اُن لوگوں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں ۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔
حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں ۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہو گا۔ سفر حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔ اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعرِ حرام (مُزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چا ہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اُس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ۔ ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چُکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہے یں ۔ پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہوں __ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۰۳)
دنیا داروں کی بھلی باتوں کی حقیقت
_انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے، مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمنِ حق ہوتا ہے ۔ جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑدھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے،کھیتوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے __ حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا__ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے ۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے ۔ دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۰۷)
شیطان کی پیروی نہ کرو
اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے ۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آ چکی ہیں، اگر ان کو پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے ۔ (ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں، تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پَرے ساتھ لیے خود سامنے آموجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے ؟ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۰)
کافروں کے لئے دنیا پسند یدہ ہے
بنی اسرائیل سے پوچھو: کیسی کُھلی کُھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اُسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے ۔ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے ۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی اُن کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے ۔ رہا دُنیا کا رزق، تو اللہ کو اختیار ہے، جسے چاہے بے حساب دے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۲)
پہلے سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے
ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے ۔ (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رُونما ہوئے ) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اور اُن کے ساتھ کتابِ برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے، ان کا فیصلہ کرے ۔ (اور ان اختلافا ت کے رُونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں،) اختلاف ان لوگوں نے کیا، جنہیں حق کا علم دیا جا چکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑکر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے __ پس جو لوگ انبیاؑ پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھا دیتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۳)
آزمائشیں جنت کا ٹکٹ ہیں
پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے ؟ اُن پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہلِ ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟__ (اس وقت اُنہیں تسلی دی گئی کہ) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۴)
یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ
لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہو گا۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۵)
پسندیدہ شئے بری بھی ہو سکتی ہے
تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بُری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۶)
فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے
لوگ پوچھتے ہیں ماہِ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو: اُس میں لڑنا بہت بُرا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ بُرا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے ۔ وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیر لے جائیں ۔ (اور یہ خوب سمجھ لو کہ) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے ۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۷)
مجاہد اور مہاجر کی فضیلت
بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے، وہ رحمت الٰہی کے جائز امیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۸)
شراب اور جوئے میں گناہ زیادہ ہے
پوچھتے ہیں : شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ کہو : ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے ۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۱۹)
راہِ خدا میں کتنا خرچ کریں
پوچھتے ہیں : ہم راہِ خدا میں کیا خرچ کریں ؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۰)
یتیموں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ
)پوچھتے ہیں : یتیموں کے ساتھکیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو: جس طرزِ عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو، وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور اُن کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔ بُرائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے ۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا، مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۰)
مشرکوں سے نکاح کی ممانعت
تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بُلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے ۔ توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۱)
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں
پوچھتے ہیں : حیض کا کیا حکم ہے ؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے ۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں ۔ پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو اُن کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے ۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں ۔ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔ تمہیں اختیار ہے، جس طرح چا ہو، اپنی کھیتی میں جاؤ، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے ۔ اور اے نبیﷺ، جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں (فلاح و سعادت کی) خوشخبری دے دو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۳)
غلط باتوں پر اللہ کی قسم نہ کھاؤ
اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگانِ خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔ اللہ تمہاری ساری باتیں سُن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی بازپرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۵)
بیوی سے تعلق نہ رکھنے کی قسم
جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے ۔ اگر انہوں نے رجوع کر لیا تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۷)
طلاق کی عدت اور حمل کا چھپانا
جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایامِ ما ہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں، اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں ۔ انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں ۔ اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اس عدت کے دوران میں انہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حقدار ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۸)
مرد کو ایک بلند درجہ حاصل ہے
عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں ۔ البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے ۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۸)
بعد از طلاق لین دین میں احسان کرنا
طلاق دو بار ہے ۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے ۔ اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم اُنہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو۔ البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حُدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہرکو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے ۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۲۹)
تین طلاق
پھر اگر (دو بارطلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی، تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہو گی، الاّ یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے ۔ تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنہیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام) جانتے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۰)
مطلقہ عورت پر ظلم نہ کرو
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بَھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمتِ عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے ۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۱)
مطلقہ عورت کی شادی رکاوٹ نہ ڈالو
جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں ۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو، تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ ا للہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۲)
مطلقہ کا بچہ کو دودھ پلانا
جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدتِ رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں ۔ اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اُس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے ۔ نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اُس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے __ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا کہ بچے کے باپ پر ہے، ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے ۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کرو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۳)
بیوہ کی عدت اور دوران عدت منگنی
تم میں سے جو لوگ مر جائیں، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے، دس دن روکے رکھیں ۔ پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں، کریں ۔ تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے ۔ زمانۂ عدت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ دل میں چُھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو، خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے، تو معروف طریقے سے کرو۔ اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے ۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے ۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بُردبار ہے (چھوٹی چھوٹی باتوں سے ) درگزر فرماتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۵)
رخصتی سے قبل طلاق
تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے ۔ خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے ۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو، تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہو گا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے ) یا وہ مرد جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دیدے )، اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۷)
نمازوں کی نگہداشت کا طریقہ
اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسنِ صلوٰۃ کی جامع ہو۔ اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں ۔ بدامنی کی حالت ہو، تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو۔ اور جب امن میسر آ جائے، تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو، جو اس نے تمہیں سکھا دیا ہے ۔ جس سے تم پہلے ناواقف تھے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۳۹)
بیوہ کے لئے سال بھر کا نان و نفقہ
تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑرہے ہوں، ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں ۔ پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے ۔ اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۲)
موت کے ڈر سے
تم نے ان لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑکر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے ؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مرجاؤ۔ پھر اس نے اُن کو دوبارہ زندگی بخشی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۳)
اللہ کی راہ میں جنگ کرو
مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ تم میں کون ہے جو اللہ کو قرضِ حَسَن دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے ؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۵)
بنی اسرائیل کا جنگ سے گریز
پھر تم نے اُس معاملے پر بھی غور کیا جو موسٰی ؑ کے بعد سردارانِ بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔ نبی نے پوچھا: کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو؟ وہ کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں ۔ مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا، تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑگئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۶)
طالوت کو بادشاہ ماننے سے گریز
ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ یہ سُن کر وہ بولے : ’’ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں ۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے ‘‘۔ نبی نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اُس کے علم میں ہے ‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۷)
آلِ موسٰی ؑ اورآلِ ہارونؑ کے تبرکات
اس کے ساتھ اُن کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ ’’خدا کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے سکونِ قلب کا سامان ہے، جس میں آلِ موسٰی ؑ اورآلِ ہارون ؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں ۔ اگر تم مومن ہو تو یہ تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے ‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۸)
طالوت کی لشکر کشی اور اللہ کی آزمائش
پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اس نے کہا: ’’ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے ۔ ہاں ایک آدھ چُلّو کوئی پی لے ‘‘۔ مگر ایک گروہِ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۹)
لشکر طالوت کا جنگ سے انکار
پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کر کے آگے بڑھے، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۴۹)
قلیل گروہ کا استقامت دکھانا
لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے، انہوں نے کہا: ’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آ گیا ہے ۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ‘‘۔ اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے، تو انہوں نے دعا کی: ’’اے ہمارے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۰)
داؤد علیہ السلام کی سلطنت کا قیام
آخرکار اللہ کے اذن سے انہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اُسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا، اس کو علم دیا __ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑجاتا، لیکن دُنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اس طرح دفعِ فساد کا انتظام کرتا رہتا
ہے )۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۱)
رسولوں پراختلاف اور اللہ کی مشیّت
یہ اللہ کی آیات ہیں، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور اے محمدﷺ تم یقیناً اُن لوگوں میں سے ہو جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔ یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے ) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے ۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسیٰ ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور رُوح پاک سے اُس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے وہ آپس میں لڑتے ۔ مگر (اللہ کی مشیّت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے ) اُنہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی۔ ہاں، اللہ چاہتا، تو وہ ہرگز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔
( البقرۃ۔ ۲۵۳)
کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی۔ اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۴)
اللہ تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے
اللہ، وہ زندۂ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اُونگھ لگتی ہے ۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے ۔ کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے ؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفتِ ادراک میں نہیں آ سکتی۔ الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے ۔ اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے ۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۵)
ایمان یا کفر اختیار کرنے میں آزادی
دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اُس نے لیا ہے ) سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے ۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۷
ابراہیم ؑ کا رب کون ہے
کیا تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم ؑ کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اُس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ‘‘ تو اُس نے جواب دیا: ’’زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ‘‘۔ ابراہیم ؑ نے کہا : ’’اچھا، اللہ سُورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا‘‘۔ یہ سُن کر وہ منکرِ حق ششدر رہ گیا، مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔
( البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۸)
سو برس کے بعددوبارہ زندہ ہو گیا
یا پھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔ اس نے کہا: ’’یہ آبادی جو ہلاک ہو چکی ہے، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا‘‘؟ اس پر اللہ نے اس کی رُوح قبض کر لی اور وہ سو برس تک مُردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: ’’بتاؤ، کتنی مدت پڑے رہے ہو؟‘‘ اُس نے کہا: ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا‘‘۔ فرمایا: ’’تم پر سو برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں ۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے ۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو (کہ اسکا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے )۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں ۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اُٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں ‘‘۔ اس طرح جب حقیقت اُس کے سامنے بالکل نمایاں ہو گئی، تو اس نے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ‘‘۔
( البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۵۹)
ابرا ہیم ؑ : ذبح شدہ پرندوں کا زندہ ہونا
اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابرا ہیم ؑ نے کہا تھا کہ ’’میرے مالک، مجھے دکھا دے، تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ‘‘۔ فرمایا: ’’کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟‘‘ اس نے عرض کیا ’’ایمان تو رکھتا ہوں، مگر دل کا اطمینان درکار ہے ‘‘۔ فرمایا: ’’اچھا، تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے ۔ پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ایک ایک پہاڑپر رکھ دے ۔ پھر ان کو پکار، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے ۔ خوب جان لے کہ اللہ نہایت با اقتدار اور حکیم ہے ‘‘۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۰
ایک کے بدلہ سات سوملے گا
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں ۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے ۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۱
صدقہ خیرات دینے کا صحیح طریقہ
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کر کے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دُکھ دیتے ہیں، ان کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں ۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دُکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اس کی صفت ہے ۔
( البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۳)
احسان جتلا کر صدقہ دینا
اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۴)
اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرنا
بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسی کسی سطح مُرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پُھوار ہی اُس کے لیے کافی ہو جائے ۔ تم جو کچھ کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے ۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۵)
عمل ضائع ہونے کی مثال
کیا تم میں سے کوئی یہ پسندکرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آ کر جُھلس جائے جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں ؟ اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور و فکر کرو۔
(البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۶)
شیطان مفلسی سے ڈراتا ہے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسانہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے ۔ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمید دلاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔ ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۶۹
حاجت مندوں کی خفیہ امداد افضل ہے
تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔ اگر اپنے صدقات عَلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چُھپا کر حاجت مندوں کو دو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ۔ تمہاری بہت سی بُرائیاں اس طرز عمل سے محو ہو جاتی ہیں ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہرحال اُس کی خبر ہے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۷۱
ہدایت تو اللہ ہی دیتا ہے
اے نبیﷺ، لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے ۔ اور راہِ خیر میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے ۔ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم راہِ خیر میں خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہو گی۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۷۲
دینی کام والے مدد کے زیادہ مستحق ہیں
خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑدھوپ نہیں کر سکتے ۔ اُن کی خودداری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں ۔ تم اُن کے چہروں سے اُن کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑکر کچھ مانگیں ۔ اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۷۳
سود حرام ہے اور سود خور جہنمی
جو لوگ اپنے مال شب و روز کُھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں ۔ مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چُھو کر باؤلا کر دیا ہو۔ اور اس حالت میں اُن کے مُبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی ہے ‘‘، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خوری سے باز آ جائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، سو کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سُود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو ونما دیتا ہے ۔ اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔ ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑدو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے ۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سُود چھوڑدو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۷۹
تنگدست قرض دار کو مہلت دو
تمہارا قرض دار تنگدست ہو، تو ہاتھ کُھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔ اُس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہو گا۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۱
قرض کو گوا ہوں کے سامنے لکھنا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لیا کرو۔ فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے ۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے ۔ وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے (یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ، اپنے رب سے ڈرنا چاہیے کہ جو معاملہ طے ہوا ہو اُس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے ۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو، یا املا نہ کرا سکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۲
دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر
پھر اپنے مَردوں میں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بُھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے ۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہے یں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔ گوا ہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے ۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہُل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی برانصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، اور تمہارے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ۔ البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۲
بغیر لکھے تجارت میں بھی گواہ رہے
ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے ۔ ایسا کرو گے، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے ۔ اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۲
رہن بالقبض پر معاملہ کرنا
اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کے لیے کوئی کاتب نہ ملے، تو رہن بالقبض پر معاملہ کرو۔ اگر تم سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کر کے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے، اسے چاہیے کہ امانت ادا کرے اور اللہ، اپنے رب سے ڈرے ۔ اور شہادت ہرگز نہ چھپاؤ۔ جو شہادت چھپاتا ہے، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۳
اللہ سے کچھ بھی چھپانا ممکن نہیں
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے ۔ تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو، خواہ چُھپاؤ، اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا۔ پھر اسے اختیار ہے، جسے چاہے، معاف کر دے اور جسے چاہے، سزا دے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۴
حکم سُنا اور اطاعت قبول کی
رسول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اُس پر نازل ہوئی ہے ۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے ۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ’’ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ‘‘۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۵
اللہ طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا
اللہ کسی متنفِس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اُسی پر ہے ۔
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۶
اللہ سے دعا کیسے مانگی جائے
(ایمان لانے والو! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب، ہم سے بُھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر۔ مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار، جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ ز
البقرۃ۔ ۔ ۔ ۲۸۶
قرآن سے پہلے تورات اور انجیل
سُورۃ اٰل عمران : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ا، ل، م۔ اللہ، وہ زندۂ جاوید ہستی، جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ اے نبیؐ، اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جو حق لے کر آئی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں ۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے، اور اس نے کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے )۔ اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی۔ اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور بُرائی کا بدلہ دینے والا ہے ۔
( آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۴)
کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں
زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں ۔ وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے ۔ اس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۶)
آیات متشابہات: اللہ ہی جانتا ہے
ا ے نبیﷺ، وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں : ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پُختہ کار ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں ‘‘۔ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں ۔ وہ اللہ سے دُعا کرتے رہتے ہیں کہ ’’پروردگار، جب تو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کر دیجیو۔ ہمیں اپنے خزانۂ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے ۔ پرورددگار، تو یقیناً سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ تو ہرگز اپنے وعدہ سے ٹلنے والا نہیں ہے ‘‘۔
(آلِ عمران۔ ۹)
کافروں کو مال و اولادکچھ کام نہ دے گا
جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، انہیں اللہ کے مقابلے میں اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے ۔ ان کا انجام ویسا ہی ہو گا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے کے نافرمانوں کا ہو چکا ہے کہ انہوں نے آیاتِ الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گنا ہوں پر انہیں پکڑلیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۱)
نبیﷺ کا انکار کرنے والے جہنمی ہیں
پس اے نبیﷺ، جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، ان سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے ۔ تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو (بدر میں ) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔ مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کو چاہتا ہے، مدد دیتا ہے ۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۳)
مال و اولادچند روزہ سامان ہیں
لوگوں کے لیے مرغوبات نفس_ عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں __ بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۴)
بہتر ٹھکانا تو اللہ کے پاس ہے
حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے ۔ کہو: میں تمہیں بتاؤں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے ؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہو گی، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۵)
اللہ بندوں پرگہری نظر رکھتا ہے
اللہ اپنے بندوں کے رویے پرگہری نظر رکھتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ ’’مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچا لے ‘‘۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں، فرماں بردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۷)
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے
'اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے ۔ وہ انصاف پر قائم ہے ۔ اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے ‘‘۔ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اس طرزِ عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا اور جو کوئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ اب اگر اے نبیﷺ، یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، تو ان سے کہو: ’’میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اللہ کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا ہے ‘‘۔ پھر اہلِ کتاب اور غیر اہلِ کتاب دونوں سے پوچھو: ’’کیا تم نے بھی اُس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟‘‘ اگر کی تو وہ راہِ راست پا گئے، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۲۰)
قتلِ ناحق کی دردناک سزا ہے
جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں جو خلقِ خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو دردناک سزا کی خوشخبری سنا دو۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو گئے، اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے ۔
(آلِ عمران:۲۲)
دینی معاملات میں غلط فہمیاں
تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے، ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتابِ الٰہی کی طرف بُلایا جاتا ہے تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے، تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیر جاتا ہے ۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’آتشِ دوزخ تو ہمیں مَس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز‘‘۔ ان کے خود ساختہ عقیدوں نے ان کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر کیا بنے گی اُن پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے ؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہو گا۔ کہو، خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے ۔ جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے ۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے ۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ۔ بے جان میں سے جان دار کو نکالتا ہے اور جان دار میں سے بے جان کو۔ اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۲۷)
کافروں کو اپنا مددگار ہرگز نہ بنائیں
مومنین اہلِ ایمان کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق اور یار و مددگار ہرگز نہ بنائیں ۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جاؤ۔ مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اُسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۲۸)
ہر نفس اپنے کیے کا پھل پائے گا
اے نبیﷺ! لوگوں کو خبردار کر دو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اُسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ بہرحال اسے جانتا ہے، زمین اور آسمانوں کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے ۔ وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا بُرائی۔ اُس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۳۰)
اللہ سے محبت کی نشانی، نبیﷺ کی پیروی
اے نبیﷺ! لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے ‘‘۔ ان سے کہو کہ ’’اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کرلو‘‘۔ پھر ا گر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔
(اآلِ عمران۔ ۔ ۔ ۳۲)
حضرت مریم ؑکی پیدائش
اللہ نے آدم ؑ اور نوح ؑ اور آلِ ابراہیم ؑ اور آلِ عمران کو تمام دنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے ) منتخب کیا تھا۔ یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے ۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ (وہ اس وقت سن رہا تھا) جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ ’’میرے پروردگار! میرے اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہو گا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرما۔ تو سننے اور جاننے والا ہے ‘‘۔ پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ’’مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے __ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی__ اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردُود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ‘‘۔ آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا، اسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اٹھایا، اور زکریا کو اس کا سرپرست بنا دیا۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۳۷)
حضرت زکریا ؑ کو اللہ کی خوشخبری
زکریا جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔ یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا ’’پروردگار، اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔ تو ہی دعا سننے والا ہے ‘‘۔ جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جبکہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، کہ ’’اللہ تجھے یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے ۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا۔ اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہو گی۔ کمال درجہ کا ضابط ہو گا۔ نبوت سے سرفراز ہو گا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا‘‘۔ زکریا نے کہا ’’پروردگار! بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہو گا؟ میں تو بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ‘‘۔ جواب ملا ’’ایسا ہی ہو گا، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘‘۔ عرض کیا ’’مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے ‘‘۔ کہا ’’نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے (یا نہ کر سکو گے ) اس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہنا‘‘۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۴۱)
حضرت مریم ؑکو خوشخبری
پھر وہ وقت آیا جب مریم ؑسے فرشتوں نے آ کرکہا ’’اے مریم ؑ، اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چُن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی تابعِ فرماں بن کر رہ، اس کے آگے سربسجود ہو، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا‘‘۔
اے نبیﷺ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعے سے بتا رہے ہیں ورنہ تم اس وقت وہاں موجود نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سرپرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے، اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب ان کے درمیان جھگڑا برپا تھا۔
اور جب فرشتوں نے کہا ’’اے مریم! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا، دنیا اور آخرت میں معزز ہو گا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا، لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہو گا‘‘۔ یہ سن کر مریم ؑبولی ’’پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہو گا، مجھے تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا‘‘۔ جواب ملا ’’ایسا ہی ہو گا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے ‘‘۔ (فرشتوں نے پھر اپنے سلسلۂ کلام میں کہا) ’’اور اللہ اسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا‘‘۔
(آلِ عمران:۴۹)
عیسیٰ ؑ کا مردے کو زندہ کرنا
(اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) ’’میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پُھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور اس کے اِذن سے مُردے کو زندہ کرتا ہوں ۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔ اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تورات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے ۔ اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں ۔ دیکھو، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ میرا رب بھی ہے اورتمہارا رب بھی، لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے ‘‘۔
جب عیسٰی ؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ’’کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے ؟‘‘ حواریوں نے جواب دیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے، آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلم (اللہ کے آگے سرِاطاعت جھکا دینے والے ) ہیں ۔ مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ‘‘
(آلِ عمران:۵۳)
اللہ کا عیسیٰ ؑ کو واپس اٹھالینے کا اعلان
پھر بنی اسرائیل (مسیح کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے ۔ جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے ۔ (وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اس نے کہا کہ ’’اے عیسٰی ؑ اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھالوں گا اور جنہوں نے تیرا انکا ر کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے ) تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا جنہوں نے تیرا انکار کیا ہے ۔ پھر تم سب کو آخرکار میرے پاس آنا ہے، اس وقت میں ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے ۔ جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے، اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے انہیں ان کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے اور (خوب جان لے کہ) ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا‘‘۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۵۷)
عیسیٰ ؑ کی مثال آدم ؑ کی سی ہے
اے نبیﷺ! یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ۔ اللہ کے نزدیک عیسٰی ؑ کی مثال آدم ؑ کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا۔ یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رب کی طرف سے بتائی جا رہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو اس میں شک کرتے ہیں ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۶۰)
جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت
یہ علم آ جانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے نبیﷺ! اس سے کہو کہ ’’آؤ ہم اور تم خود بھی آ جائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خدا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو‘‘۔ یہ بالکل صحیح واقعات ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خداوند نہیں ہے، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام عالم میں کارفرما ہے ۔ پس اگر یہ لوگ (اس شرط پر مقابلہ میں آنے سے ) منہ موڑیں تو (ان کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مُفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۶۳)
اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں
اے نبیﷺ کہو، ’’اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنالے ‘‘__ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے ) ہیں
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۶۴)
ابراہیم ؑ یہودی عیسائی نہیں مسلم تھے
اے اہلِ کتاب! تم ابراہیم ؑ کے (دین کے ) بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیمؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں ۔ پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے __ تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب ان معاملات میں کیوں بحث کرنے چلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ۔ ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا نہ عیسائی، بلکہ وہ تو ایک مسلمِ یکسُو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔ ابراہیم ؑسے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبیﷺ اور اس کے ماننے والے اس نسبت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۶۸)
وہ مومنوں کی گمراہی چاہتے ہیں
(اے ایمان لانے والو) اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ اے اہلِ کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو؟ اے اہلِ کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟
اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کر دو، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پِھر جائیں ۔ نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے نبیﷺ! ان سے کہہ دو کہ ’’اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجّت مل جائے ‘‘۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ ’’فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے ۔ وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے، اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے ‘‘۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۷۴)
اہلِ کتاب میں اچھے اور برے لوگ
اہلِ کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کر دے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الاّ یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالات کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’امیوں (غیر یہودی لوگوں ) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ‘‘۔ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے ۔ آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہو گی؟
(آلِ عمران:۷۵)
عہد کو پورا کرنے والے اللہ کو پسند ہیں
جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا، کیونکہ پرہیزگار لوگ اللہ کو پسند ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۷۷)
اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا
ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۷۸)
۵۴۔ نبی لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے
کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو یہی کہے گا کہ سچے ربانی بنو جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔ وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جبکہ تم مسلم ہو؟
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۸۰)
دیگر رسولوں کو ماننے کا عہد
یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ ’’آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پرایمان لانا ہو گا اور اس کی مدد کرنی ہو گی‘‘۔ یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا ’’کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ہاں ہم اقرار کرتے ہیں ‘‘۔ اللہ نے فرمایا ’’اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں، اس کے بعد جو اپنے عہد سے پِھر جائے وہی فاسق ہے ‘‘۔
اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ) چھوڑکر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار و ناچار اللہ ہی کی تابع فرمان (مسلم) ہیں اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے ؟ اے نبیﷺ! کہو کہ ’’ہم اللہ کو مانتے ہیں، اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، اُن تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑ، اسحاق ؑ، یعقوبؑ اور اولادِ یعقوبؑ پر نازل ہوئی تھیں، اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسٰی ؑ اور عیسٰی ؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں ۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابعِ فرمان (مسلم) ہیں ‘‘۔ اس فرماں برداری (اسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۸۵)
نعمت ایمان پالینے کے بعد کفر اختیار کرنے والے کو ہدایت نہیں ملتی
کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمتِ ایمان پا لینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی آ چکی ہیں ۔ اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پِھٹکار ہے، اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہو گی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔ البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اِس کے بعد توبہ کر کے اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں ۔ یقین رکھو، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اُسے قبول نہ کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے ۔
(آلِ عمران۔ 91۔)
۱۔ خدا کی راہ میں عزیز شئے خرچ کرو
تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں ) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہو گا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۹۲)
۲۔ ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کرو
کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدیﷺ میں حلال ہیں ) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل (حضرت یعقوبؑ) نے خود اپنے اُوپر حرام کر لیا تھا۔ ان سے کہو، اگر تم (اپنے اعتراض میں ) سچے ہو تو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت__ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنی جُھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں وہی درحقیقت ظالم ہیں ۔ کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے، تم کو یکسُو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے، اور ابراہیم ؑشرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۹۵)
۳۔ پہلی عبادت گاہ،کعبہ کا حج کرو
بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ۔ اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا تھا۔ اس میں کُھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیم ؑ کا مقامِعبادت ہے، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہو گیا۔ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۹۷)
۴۔ اہل کتاب کا اللہ کے راستہ سے روکنا
کہو، اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔ کہو، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اُسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر) گواہ ہو۔ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم نے ان اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے ۔ تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے ؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پا لے گا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۰۱)
۵۔ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اُس نے تم پر کیا ہے ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑدیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آ جائے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۰۳)
۶۔ نیکی کی طرف بلانا اور برائیوں سے روکنا
تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہے ئے جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں ۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۰۴)
۷۔ فرقوں میں نہ بٹ جانا
کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔ جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روز سخت سزا پائیں گے جبکہ کچھ لوگ سرخرو ہوں گے اورکچھ لوگوں کا منہ کالا ہو گا۔ جن کا منہ کالا ہو گا (ان سے کہا جائے گا کہ) نعمتِ ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اس کفرانِ نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو۔ رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامنِ رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے ۔ یہ اللہ کے ارشادات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں، کیونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضور پیش ہوتے ہیں (آلِ عمران:۱۰۹)
۸۔ بیشتراہل کتاب نافرمان ہیں
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہلِ کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں ۔ یہ تمہارا کچھ بگاڑنہیں سکتے، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستا سکتے ہیں ۔ اگر یہ تم سے لڑیں گے تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے اِن کو مدد نہ ملے گی۔ یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے ۔ یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کر دی گئی ہے، اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۱۲)
۹۔ سارے اہلِ کتاب یکساں نہیں
مگر سارے اہلِ کتاب یکساں نہیں ہیں ۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہِ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اللہ اور روزِ آخرت پرایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں ۔ یہ صالح لوگ ہیں اور جو نیکی بھی یہ کریں گے ا س کی ناقدری نہ کی جائے گی، اللہ پرہیزگار لوگوں کو خوب جانتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے ۔ جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ اُن لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے ۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، درحقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۱۷)
۱۰۔ مومن غیر مومن کو رازدار نہ بنائے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے ۔ تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے )(آلِ عمران:۱۱۸)
۱۱۔ مسلم کی مصیبت پر کافر خوش ہوتے ہیں
تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کتبِ آسمانی کو مانتے ہو۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں __ ان سے کہہ دو کہ اپنے غصہ میں آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے __ تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں ۔ مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس پر حاوی ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۲۰)
۱۲۔ جنگ اُحُدمیں بزدلی کا مظاہرہ
(اے پیغمبرﷺ، مسلمانوں کے سامنے اس موقع کا ذکر کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور (اُحُد کے میدان میں ) مسلمانوں کو جنگ کے لیے جابجا مامور کر رہے تھے ۔ اللہ ساری باتیں سنتا ہے اور وہ نہایت باخبر ہے ۔ یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بُزدلی دکھانے پر آمادہ ہو گئے تھے، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۲۲)
۱۳۔ جنگِ بدر میں تین ہزار فرشتوں سے مدد
آخر اس سے پہلے جنگِ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے ۔ لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے ۔ اے نبیﷺ، یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے ’’کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟‘‘ بے شک، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اُوپر چڑھ کر آئیں گے اسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں ) پانچ ہزار صاحبِ نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں ۔ فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے ۔ (اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفرکی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں (آلِ عمران:۱۲۷)
۱۴۔ فیصلہ کا اختیار پیغمبرکو نہیں اللہ کو ہے
(اے پیغمبرﷺ!) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں ۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۲۹)
۱۵۔ سود کھانا چھوڑدو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑدو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔ اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے ۔ اللہ اور رسولﷺ کا حکم مان لو، توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۳۲)
۱۶۔ غصے کو پی جانا اور قصور معاف کر دینا
دوڑکر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ (آلِ عمران:۱۳۴)
۱۷۔ گناہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے
اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سر زد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہو اور وہ کبھی دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے ۔ تم سے پہلے بہت سے دَور گزر چکے ہیں ۔ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام و ہدایات کو) جھٹلایا۔ یہ لوگوں کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۳۸)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۸۔ نشیب و فرازمسلمان کے لئے آزمائش
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں، اور اُن لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے ) گواہ ہوں __ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں __ اور وہ اس آزمائش کے ذریعے سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کر دینا چاہتا تھا۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔ تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے ! مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی، لو اب وہ تمہارے سامنے آ گئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۴۳)
۱۹۔ محمدﷺ بس ایک رسول ہیں
محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ یاد رکھو! جو اُلٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۴۴)
۲۰۔ موت کا اک دن معین ہے
کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۴۵)
۲۱۔ ثوابِ دنیا اور ثوابِ آخرت
جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثوابِ آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطا کریں گے ۔ اِس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی، وہ (باطل کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے ۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے ۔ اُن کی دعا بس یہ تھی کہ ’’اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر‘‘۔ آخرکار اللہ نے اُن کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۴۸)
۲۲۔ کافروں کے اشاروں پر چلنے کا نتیجہ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اُن لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہو جاؤ گے ۔ (اُن کی باتیں غلط ہیں ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرینِ حق کے دلوں میں رُعب بٹھا دیں گے، ا س لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اُن کو خدائی میں شریک ٹھیرایا ہے جن کے شریک ہونے پراللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بُری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہو گی۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۵۱)
۲۳۔ کافروں سے پسپا ئی آزمائش ہے
اللہ نے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پورا کر دیا۔ ابتدا میں اُس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کر رہے تھے ۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مالِ غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے __ اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے __ تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے ۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظرِ عنایت رکھتا ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۵۲)
۲۴۔ نقصان و مصیبت پر ملول نہ ہو
یاد کرو جب تم بھاگے چلے جا رہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا، اور رسول تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔ اُس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے ۔ اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے ۔ مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنی ذات ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلافِ حق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ’’اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ؟‘‘ ان سے کہو ’’(کسی کا کوئی حصہ نہیں ) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ‘‘۔ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ’’اگر (قیادت کے ) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ‘‘۔ ان سے کہہ دو کہ ’’اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گا ہوں کی طرف نکل آتے ‘‘۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھے کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اُسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اُسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے ۔ تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے (آلِ عمران:۱۵۵)
۲۵۔ مارنے اور جِلانے والا تو اللہ ہی ہے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دوچار ہو جاتے ہیں ) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے ۔ اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت و اندوہ کا سبب بنا دیتا ہے ۔ ورنہ دراصل مارنے اور جِلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ اُن ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں ۔ اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۵۸)
۲۶۔ اللہ پر بھروسہ کرو
(اے پیغمبرﷺ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تُندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چَھٹ جاتے ۔ اِن کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دُعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں ۔ اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑدے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۶۰)
۲۷۔ روز قیامت ہر ایک کو پورا بدلہ ملے گا
کسی نبی کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ خیانت کر جائے __ اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہو گا__ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گِھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانا جہنم ہو جو بدترین ٹھکانا ہے ؟
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۶۲)
۲۸۔ اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے
اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سُناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۶۴)
۲۹۔ مومن کی پہچان مصیبت میں ہوتی ہے
اور یہ تمہارا کیاحال ہے کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟ حالانکہ (جنگ بدر میں ) اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (فریقِ مخالف پر) پڑچکی ہے ۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں اور منافق کون۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا ’’آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم (اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو‘‘، تو کہنے لگے ’’اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے ‘‘۔ یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ۔
(آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۶۷)
۳۰۔ موت کو ٹالا نہیں جا سکتا
وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں، اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور ان کے جو بھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ۔ ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اسے ٹال کر دکھا دینا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۶۸)
۳۱۔ شہیدزندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں
جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُس پر خوش و خرم ہیں، اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں اور فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۷۱)
۳۲۔ مومن صرف اللہ سے ڈرتا ہے
(ایسے مومنوں کے اجر کو) جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسُول کی پکار پر لبیک کہا، اُن میں جو اشخاص نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لیے بڑا اجر ہے ۔ جن سے لوگوں نے کہا کہ ’’تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو‘‘، تو یہ سُن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ‘‘۔ آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کا ضر ر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہو گیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا رہا تھا۔ لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۷۵)
۳۳۔ کافروں کو ڈھیل دینا اللہ کی سنت ہے
(اے پیغمبرﷺ) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دَوڑدُھوپ کر رہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑسکیں گے ۔ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، اور بالآخر اُن کو سخت سزا ملنے والی ہے ۔ جو لوگ ایمان کو چھوڑکر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقینا اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر رہے ہیں، اُن کے لیے دردناک عذاب تیار ہے ۔ یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۷۸)
۳۴۔ اللہ مومنوں کی حالت ضرور بدلے گا
اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم لوگ اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کر کے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کر دے ۔ غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے ۔ لہٰذا (اُمورِ غیب کے بارے میں ) اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔ اگر ایمان اور خدا ترسی کی روش پر چلو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۷۹)
۳۵۔ کنجوس کا مال روز حشرگلے کا طوق ہو گا
جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بُخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے ۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بُری ہے ۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کر رہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہیں اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے باخبر ہے ۔ اللہ نے اُن لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامۂ اعمال میں ثبت ہے ۔ (جب فیصلہ کا وقت آئے گا اُس وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذابِ جہنم کا مزا چکھو، یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۸۲)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۳۶۔ دنیا محض ایک ظاہر فریب چیز ہے ۔
جو لوگ کہتے ہیں ’’اللہ نے ہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آ کر) آگ کھا لے ‘‘، ان سے کہو ’’تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آ چکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتے ہو، پھر اگر (ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں ) تم سچے ہو تو اُن رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟‘‘ اب اے نبیﷺ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جا چکے ہیں جو کُھلی کُھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے ۔ آخرکار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے ۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۸۵)
۳۷۔ جان و مال کی آزمائشیں لازمی ہیں
مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی، اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خداترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے ۔ ان اہلِ کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہو گا، انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہو گا۔ مگر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا۔ کتنا بُرا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں ۔ تم اُن لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انہیں حاصل ہو جو فی الواقع انہوں نے نہیں کیے ہیں ۔ حقیقت میں ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے ۔ زمین اور آسمانوں کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے (آلِ عمران:۱۸۹)
۳۸۔ عقلمند لوگوں کا طریقہ
زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن ہوشمند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اُٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں ۔ (وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں ) ’’پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے ۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے، تُو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔ مالک، ہم نے ایک پکارنے والے کو سُنا جو ایمان کی طرف بُلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی، پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ خداوندا! جو وعدے تونے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے ‘‘۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۹۴
۳۹۔ اللہ کسی کا عمل ضائع نہیں کرتا
جواب میں اُن کے رب نے فرمایا ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں ۔ خواہ مرد ہو یاعورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کر دوں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ اُن کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ ہی کے پاس ہے ‘‘۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۹۵)
۴۰۔ کافروں کالطفِ زندگی چند روزہ ہے
اے نبیﷺ! دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چَلَت پِھرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے ۔ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۱۹۷)
۴۱۔ مومنوں کے لئے ابدی نعمتیں ہیں
برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اُن باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ کی طرف سے یہ سامانِ ضیافت ہے اُن کے لیے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے ۔ اہلِ کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جُھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ا للہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔ (آلِ عمران۔ ۔ ۔ ۲۰۰)
۴۲۔ رشتہ داری نہ بگاڑو، اللہ دیکھ رہا ہے
سورۃ النساء :اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے ۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو۔ اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱)
۴۳۔ یتیموں کا مال کھانا بڑا گناہ ہے
یتیموں کے مال ان کو واپس دو، اچھے مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاؤ، یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۲)
۴۴۔ چار شادیوں کی اجازت
اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لاؤ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرینِ صواب ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳)
۴۵۔ عورتوں کے مہر کی ادائیگی اور معافی
اور عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے ) ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کر دیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو۔ اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہنّے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۵)
۴۶۔ یتیموں اور ان کے مال کی دیکھ بھال
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں ۔ پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو ان کے مال اُن کے حوالے کر دو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدّ انصاف سے تجاوز کر کے اس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاؤ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے ۔ یتیم کا جو سرپرست مالدار ہو وہ پرہیزگاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے ۔ پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پرگواہ بنا لو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۶)
۴۷۔ ترکہ میں مردوں اور عورتوں کا حصہ
مَردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے ۔ اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۸)
۴۸۔ یتیموں کا خیال اپنی اولاد کی طرح کرنا
لوگوں کو اس بات کا خیال کر کے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے ۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں ۔ جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۰)
۴۹۔ عورتوں کا میراث میں نصف حصہ
تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے ۔ اگر (میت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے ۔ اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے ۔ اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے ۔ اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے ۔ اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہو گی۔ (یہ سب حصے اُس وقت نکالے جائیں گے )جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کر دیا جائے ۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۱)
اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے ۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا۔ بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۲)
اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہو) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشرطیکہ وہ ضر ررساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کُن سزا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۴)
۵۰۔ بعد از تصدیق بدکار عورتوں کی سزا
تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے ۔ اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑدو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۶)
۵۱۔ مرتے وقت کی توبہ قبول نہیں
ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی بُرا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظرِ عنایت سے پھر متوجہ ہو جاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے ۔ مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو بُرے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی۔ اور اسی طرح توبہ ان لوگوں کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کار فرما رہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۸)
۵۲۔ بیویوں کے ساتھ بھلائی سے بسر کرو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔ اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مَہر کا کچھ حصہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے )۔ ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔ اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے ؟ اور آخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جبکہ تم ایک دوسرے سے لُطف اندوز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ؟(النساء۔ ۔ ۔ ۲۱)
۵۳۔ کن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا۔ درحقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ اور بُرا چلن ہے ۔ تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔ اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شَو ہو چکا ہو۔ ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شَو نہ ہوا ہو تو (انہیں چھوڑکر اُن کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں ) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صُلب سے ہوں ۔ اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۲۳)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔ 5 کے مضامین
۱۔ ہاتھ آنے والی لونڈیاں
اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (محصَنات)، البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں ) تمہارے ہاتھ آئیں ۔ یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کر دی گئی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۲۴)
ان کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کر دیا گیا ہے، بشرطیکہ حصارِ نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ پھر جو ازدواجی زندگی کا لُطف تم ان سے اُٹھاؤ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو، البتہ مَہر کی قرارداد ہو جانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے ۔ اور جو شخص تم میں سے اتنی مقتدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (مُحصَنات) سے نکاح کر سکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں ۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو، لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کر لو اور معروف طریقہ سے اُن کے مَہر ادا کر دو، تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (مُحصَنات) ہو کر رہیں ۔ آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چُھپے آشنائیاں کریں ۔ پھر جب وہ حصارِ نکاح میں محفوظ ہو جائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (مُحصَنات) کے لیے مقرر ہے ۔ یہ سہولت تم میں سے ان لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔ اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۲۵)
۲۔ اللہ پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے
اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صُلَحا کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی۔ ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دُور نکل جاؤ۔ اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۲۸)
۳۔ ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے ۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے ۔ جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اگر تم اُن بڑے بڑے گنا ہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی بُرائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳۱)
۴۔ دوسروں کو حاصل مال کی حرص نہ کرو
اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ۔ ہاں، اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑیں ۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ اُنہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳۳)
۵۔ مرد عورتوں پر قوّام ہیں
مرد عورتوں پر قوّام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دُوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳۴)
۶۔ سرکش بیویوں کو مارنے کی اجازت
اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گا ہوں میں اُن سے علیٰحدہ رہو اور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اُوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳۴)
۷۔ میاں بیوی کے درمیان ثالث کا کردار
اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑجانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صُورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳۵)
۸۔ حسن سلوک کن لوگوں سے کی جائے
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، (النساء۔ ۔ ۔ ۳۶)
۹۔ غرور، کنجوسی اور دکھاوا پسند نہیں
یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔ اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دُوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُسے چھپاتے ہیں ۔ ایسے کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کُن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر۔ سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اُسے بہت ہی بُری رفاقت میسر آئی۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۳۸)
۱۰۔ اللہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے
آخر اِن لوگوں پر کیا آفت آ جاتی اگر یہ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ۔ اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چُھپا نہ رہ جاتا۔ اللہ کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اُسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔ پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔ اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۴۲)
۱۱۔ بیماری، سفریا پانی نہ ملنے پر تیمم کرو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اور اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غُسل نہ کر لو، الّا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو۔ اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفعِ حاجت کر کے آئے، یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو، اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو، بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۴۳)
۱۲۔ ضلالت کے خریدار بنے ہوئے
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت و مددگاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔ جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیر دیتے ہیں، اور دینِ حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑموڑکر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا اور اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا۔ حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعْنَا وَ اطَعْنَا، اور اِسْمَعْ اور اُنظُرنَا تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا۔ مگر اُن پر تو اُن کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پِھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۴۶)
۱۳۔ شرک ناقابل معافی گناہ ہے
اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی! مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی۔ اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑکر پیچھے پھیر دیں یا اُن کو اسی طرح لعنت زدہ کر دیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا، اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے ۔ اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جُھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۴۸)
۱۴۔ اپنی پاکیزگی کا دم بھرنے والے
۳م نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو بہت اپنی پاکیزگیٔ نفس کا دم بھرتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو درحقیقت) ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا۔ دیکھو تو سہی، یہ اللہ پر بھی جُھوٹے افترا گھڑنے سے نہیں چُوکتے اور ان کے صریحاً گناہ گار ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۵۰)
۱۵۔ ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اُس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ کیا حکومت میں اُن کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ دُوسروں کو ایک پُھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟ (النساء۔ ۔ ۔ ۵۴)
۱۶۔ جنت و جہنم میں جانے والے
اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیم ؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور مُلکِ عظیم بخش دیا، مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑگیا، اور منہ موڑنے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے ۔ جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزا چکھیں، اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۵۷)
۱۷۔ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو
مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سُنتا اور دیکھتا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۵۸)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۸۔ باہمی تنازعات کا فیصلہ کیسے ؟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسولﷺ کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔ اے نبیﷺ، تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں، مگر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رُجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا، شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۶۰)
۱۹۔ اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔ پھر اُس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے ؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بَھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہو جائے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۶۲)
۲۰۔ اللہ دلوں کا حال جانتا ہے
اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، ان سے تعرُّض مت کرو، انہیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اُتر جائے ۔ (انہیں بتاؤ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے ۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۶۴)
۲۱۔ باہمی اختلافات میں مومن کی نشانی
نہیں، اے محمدﷺ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں ۔ اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے ۔ حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ جو لوگ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاؑ اور صدّیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔ یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۷۰)
۲۲۔ اللہ کی راہ میں لڑنا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر۔ ہاں، تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چُراتا ہے، اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا، اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے __ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔ (ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کر دیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے ۔ جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۷۷)
۲۳۔ دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے
تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو اُنہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بڑھ کر۔ کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مُہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایۂ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمّہ برابر بھی نہ کیا جائے گا۔ رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آ کر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۷۸)
۲۴۔ نفع نقصان سب اللہ کی طرف سے ہے
اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی، یہ آپ کی بدولت ہے ۔ کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۷۹)
۲۵۔ رسول کی اطاعت، اللہ کی اطاعت ہے
اے محمدﷺ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ اور جو منہ موڑگیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں اُن لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۸۰)
۲۶۔ اللہ بھروسہ کے لئے کافی ہے
وہ مُنہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیعِ فرمان ہیں ۔ مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ۔ اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ۔ تم ان کی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے ۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۸۲)
۲۷۔ خبر پہلے ذمہ داران تک پہنچائی جائے
یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سُن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر اُسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں ۔ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۸۳)
۲۸۔ اللہ کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے
پس اے نبیﷺ! تم اللہ کی راہ میں لڑو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو۔ البتہ اہلِ ایمان کو لڑنے کے لیے اُکساؤ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑدے، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو بُرائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے و الا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۸۵)
۲۹۔ سلام کا بہتر طریقہ سے جواب دو
اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہو سکتی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۸۷)
۳۰۔ منافقین کو دوست نہ بناؤ
پھر یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دو رائیں پائی جاتی ہیں، حالانکہ جو بُرائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں اُلٹا پھیر چکا ہے ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اسے تم ہدایت بخش دو؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستہ سے بھٹکا دیا اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے ۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہو جائیں لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کر کے نہ آ جائیں، اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے ۔ اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے ۔ اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کر دیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے ۔ لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے اُن پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔ ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کُود پڑیں گے ۔ ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اُٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کُھلی حُجتّ دے دی ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۹۱)
۳۱۔ قتل کا کفارہ اور خوں بہا
_کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے،ا لّا یہ کہ اُس سے چُوک ہو جائے ۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے، الاّ یہ کہ وہ خون بہا معاف کر دیں ۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دُشمنی ہو تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی غیر مسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خُوں بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہو گا۔ پھر جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے ۔ یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و دانا ہے ۔ رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بُوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اُس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۹۳)
۳۲۔ دوست دشمن میں تمیز کرو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اُسے فوراً نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے ۔ اگر تم دُنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموالِ غنیمت ہیں ۔ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا۔ لہٰذا تحقیق سے کام لو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۹۴)
۳۳۔ مجاہدین کا درجہ بلند ہے
مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے، اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے ۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۹۶)
۳۴۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنا
جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے اُن کی رُوحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے جو بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے ۔ ہاں جو مرد، عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے، بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے ۔ جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے، پھر راستہ ہی میں اُسے موت آ جائے اُس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہو گیا،اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۰۰)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۳۵۔ سفر میں قصر نماز پڑھنا
اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کر دو (خصوصاً) جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دشمنی پر تُلے ہوئے ہیں ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۰۱)
۳۶۔ میدان جنگ میں نماز کا طریقہ
اور اے نبیؐ! جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالتِ جنگ میں ) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لیے رہے، پھر جب وہ سجدہ کر لے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آ کر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنّا رہے اور اپنے اسلحہ لیے رہے کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں ۔ البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں، مگر پھر بھی چوکنّے رہو۔ یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رُسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ پھر جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو۔ اور جب اطمینان نصیب ہو جائے تو پوری نماز پڑھو۔ نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیٔ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے ۔ اِس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں ۔ اور تم اللہ سے اُس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں ۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکیم و دانا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۰۴)
۳۷۔ فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کرو
اے نبیﷺ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہِ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو، اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو، وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں تم ان کی حمایت نہ کرو۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔ یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ۔ وہ تو اُس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اُس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ۔ ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے ۔ ہاں ! تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کر لیا، مگر قیامت کے روز ان کے لیے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہو گا؟ اگر کوئی شخص بُرا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا۔ مگر جو بُرائی کما لے تو اس کی کمائی اُسی کے لیے وبال ہو گی، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم و دانا ہے ۔ پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بے گناہ پر تھوپ دیا اُس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۱۲)
۳۸۔ نبیﷺ پر اللہ کا فضل
اے نبیﷺ! اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شاملِ حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا، حالانکہ درحقیقت وہ خود اپنے سوا کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں کر رہے تھے اور تمہارا کوئی نقصان نہ کر سکتے تھے ۔ اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا، اور اس کا فضل تم پر بہت ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۱۳)
۳۹۔ خفیہ سرگوشیاں :بھلائی سے عاری ہیں
لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے ۔ مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمربستہ ہو اور اہلِ ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالے کہ اس پر راہِ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۱۵)
۴۰۔ شرک ناقابل معافی ہے
اللہ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے ۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دُور نکل گیا۔ وہ اللہ کو چھوڑکر دیویوں کو معبُود بناتے ہیں ۔ وہ اُس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اُس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں ) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ’’میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔ میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں اُلجھاؤں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں اُنہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ‘‘۔ اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا۔ وہ اِن لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں اُمیدیں دلاتا ہے، مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے ۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، تو انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہو گا۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۲۲)
۴۱۔ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے
انجامِ کار نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی بُرائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلہ میں اپنے لیے کوئی حامی و مددگار نہ پا سکے گا۔ اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔ اُس شخص سے بہتر اور کس کا طریقِ زندگی ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقے کی پیروی کی، اُس ابراہیمؑ کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۲۶)
۴۲۔ یتیم لڑکیوں سے متعلق ہدایت
لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پُوچھتے ہیں ۔ کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سُنائے جا رہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو اُن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، اور وہ احکام جو اُن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چُھپی نہ رہ جائے گی۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۲۷)
۴۳۔ میاں اور بیوی آپس میں صلح کر لیں
اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کر لیں ۔ صلح بہرحال بہتر ہے ۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرزِ عمل سے بے خبر نہ ہو گا۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۲۸)
۴۴۔ بیویوں کے درمیان عدل کرنا
بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ تم چا ہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ لہٰذا (قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جُھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑدو۔ اگر تم اپنا طرزِ عمل درست رکھو اور ا للہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۲۹)
۴۵۔ اگر زوجین الگ ہو جائیں
لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کر دے گا۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے ۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو، آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا ملک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے، ہر تعریف کا مستحق۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۳۱)
۴۶۔ ثوابِ دُنیا اور ثوابِ آخرت
ہاں !اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کاجو آسمانوں اور جو زمین میں ہیں، اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے، اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ جو شخص محض ثوابِ دنیا کا طالب ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے پاس ثوابِ دُنیا بھی ہے اور ثوابِ آخرت بھی، اور اللہ سمیع و بصیر ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۳۴)
۴۷۔ خدا واسطے کے گواہ بنو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۳۵)
۴۸۔ کافروں کو رفیق بنانے والوں کا حشر
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے رسول پر اور اُس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہے اور ہر اُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے ۔ جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دُور نکل گیا۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی اُن کو راہِ راست دکھائے گا۔ اور جو منافق اہلِ ایمان کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں انہیں یہ مژدہ سُنا دو کہ ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں اُن کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۳۹)
۴۹۔ کفر یہ محفلوں سے دور رہو
اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور اُن کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۴۰)
۵۰۔ منافقین کی پالیسی اور ان کا رویہ
یہ منافق تمہارے معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے )۔ اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آ کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلّہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا؟ بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلہ میں ) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔ یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اُٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پُورے اِس طرف ہیں نہ پُورے اُس طرف۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۴۳)
۵۱۔ کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مومنوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو؟ یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مددگار نہ پاؤ گے ۔ البتہ جو ان میں سے تائب ہو جائیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دیں، ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں کو ضرور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے ۔ (النساء۔ ۔ ۔ ۱۴۷)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔ 6 کے مضامین
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۔ اللہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا
اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الاّ یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے ۔ (مظلوم ہونے کی صورت میں اگر چہ تم کو بدگوئی کا حق ہے ) لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ، یا کم از کم بُرائی سے درگزر کرو، تو اللہ (کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ) بڑا معاف کرنے والا ہے، حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۴۹)
۲۔ منکرین حدیث پکے کافر ہیں
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے، اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہو گی ۔ بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں، اور اُن کے درمیان تفریق نہ کریں، اُن کو ہم ضرور اُن کے اجر عطا کریں گے، اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۵۲)
۳۔ کافروں کا خدا کو دکھانے کا مطالبہ
اے نبیﷺ! یہ اہلِ کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسٰی ؑسے کر چکے ہیں ۔ اُس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی۔ پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے ۔ اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ہم نے موسٰی ؑکو صریح فرمان عطا کیا اور ان لوگوں پر طُورکو اٹھا کر ان سے (اُس فرمان کی اطاعت کا) عہد لیا۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو۔ ہم نے ان سے کہا کہ سبت کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا۔ آخرکار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں __ حالانکہ درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۵۵)
۴۔ عیسٰی ؑ نہ قتل ہوئے نہ صلیب چڑھے
پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا، اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اُس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیحؑ کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے ۔ اور اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اُس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا ۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویہ کی بنا پر اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں، اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اے نبیﷺ، تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی۔ اس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روزِ آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجرِ عظیم عطا کریں گے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۶۱)
۵۔ اللہ نے موسٰی ؑسے گفتگو کی
اے نبیﷺ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوحؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ ہم نے ابراہیم ؑ، اسماعیل ؑ، اسحاق ؑ، یعقوبؑ اور اولادِ یعقوبؑ، عیسیٰ ؑ، ایوبؑ، یونس ؑ، ہارونؑ اور سُلیمانؑ کی طرف وحی بھیجی۔ ہم نے داؤد ؑ کو زبور دی۔ ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔ ہم نے موسٰی ؑسے اس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۶۴)
۶۔ رسول خوش خبری دینے اور ڈرانے والے
یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجتّ نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے ۔ (لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں ) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اے نبیﷺ جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں، اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے ۔ جو لوگ اس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے روکتے ہیں وہ یقیناً گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۶۹)
۷۔ زمیں و آسمان میں سب کچھ اللہ کا ہے
لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آ گیا ہے، ایمان لے آؤ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور اگر انکار کرتے ہو تو جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۷۰)
۸۔ مسیحؑ عیسیٰ ابن مریم ؑاللہ کے بیٹے نہ تھے
اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسُوب نہ کرو۔ مسیحؑ عیسیٰ ابن مریم ؑاس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم ؑکے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ ’’تین‘‘ ہیں ۔ باز آ جاؤ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے ۔ اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۷۱)
۹۔ تکبُّر کر نے والوں کے لئے سزا
مسیحؑ نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں ۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور تکبُّر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا۔ اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرزِ عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پُورے پُورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبُّر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۷۳)
۱۰۔ رب کی طرف سے روشن دلیل
لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیلِ روشن آ گئی ہے ۔ اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے، اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ دکھا دے گا۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۷۵)
۱۱۔ بے اولاد مرنے والے کا ترکہ
اے نبیﷺ! لوگ تم سے کلالہ کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں ۔ کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے ۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی، اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہو گا۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی، اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہو گا۔ اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرواور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ (النسآء۔ ۔ ۔ ۱۷۶)
۱۲۔ حالت احرام میں شکار حلال نہیں
سورۃ المائدۃ : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو۔ تمہارے لیے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کیے گئے، سوائے اُن کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے ۔ لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کرلو، بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱)
۱۳۔ نیکی میں تعاون کرو، گناہ میں نہیں
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو ۔ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال نہ کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ ان جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذرِ خداوندی کی علامت کے طور پر پٹّے پڑے ہوئے ہوں، نہ ان لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکانِ محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں ۔ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار تم کر سکتے ہو ۔ اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ نہیں، جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۲)
۱۴۔ حرام جانوروں کا ذکر
تم پر حرام کیا گیا مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گُھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو،سوائے اُس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کر لیا ۔ اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۳)
۱۵۔ قسمت کا حال معلوم کرنا حرام ہے
نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب افعال فسق ہیں ۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی پوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کر دی گئی ہیں ان کی پابندی کرو)۔ البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۳)
۱۶۔ شکاری جانوروں سے شکار کرنا جائز ہے
لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں ۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھایا ہو __ جن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکاری کی تعلیم دیا کرتے ہو __ وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑرکھیں اس کو بھی تم کھا سکتے ہو، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۴)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۷۔ اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے
آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں ۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال اور تمہارا کھانا ان کے لیے ۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی، بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہو گا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۵)
۱۸۔ وضو، غسل اور تیمم کا ذکر
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔ اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۶)
۱۹۔ ہم نے سُنا اور اطاعت قبول کی
اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے اُس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بُھولو جو اس نے تم سے لیا ہے، یعنی تمہارا یہ قول کہ ’’ہم نے سُنا اور اطاعت قبول کی‘‘۔ اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا۔ رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں، تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۰)
۲۰۔ مومن کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اس نے (ابھی حال میں ) تم پر کیا ہے، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیے ۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۱)
۲۱۔ بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد
اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کر دی۔ پھر یہ اُن کا اپنے عہدکو توڑڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے اُن کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے ۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں ۔ (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں ) لہٰذا انہیں معاف کرو اور اُن کی حرکات سے چشم
پوشی کرتے رہو، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۳)
۲۲۔ نصاریٰ سے اللہ کا عہد
اسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ’’نصاریٰ‘‘ ہیں، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا بڑا حصہ انہوں نے فراموش کر دیا، آخرکار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بُغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۴)
۲۳۔ اہل کتاب کا حق کو چھپانے کا ذکر
اے اہل کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتابِ الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے ۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اُس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۶)
۲۴۔ مسیحؑ کو خدا ماننے والے کافر ہیں
یقیناً کفرکیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہاکہ مسیحؑ ابن مریم ہی خدا ہے ۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیحؑ ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۷)
۲۵۔ یہود و نصاریٰ اللہ کے چہیتے نہیں
یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ۔ ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گنا ہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں ۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے، زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۸)
۲۶۔ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا ہے
اے اہل کتاب! ہمارا یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سو دیکھو، اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا__ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۹)
۲۷۔ موسٰی ؑکا اپنی قوم سے مکالمہ
یاد کرو جب موسٰی ؑنے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تم کو فرماں روا بنایا، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔ اے برادران قوم! اس مقدس سر زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے ‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’اے موسٰی ؑ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں ‘‘۔ ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اِن جباروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے، اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو‘‘۔ لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ’’اے موسٰی ؑ! ہم تو وہاں
کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘۔ اس پر موسٰی ؑنے کہا ’’اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ‘‘۔ اللہ نے جواب دیا ’’اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک اِن پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاؤ‘‘۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۲۶)
۲۸۔ حضرت آدمؑ کے بیٹے کابھائی کو قتل کرنا
اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سُنا دو۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا ’’میں تجھے مار ڈالوں گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’اللہ تومتقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے ۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العٰلمین سے ڈرتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ‘‘۔ آخرکار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ’’افسوس مجھ پر! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا‘‘۔ اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۳۱)
۲۹۔ ایک قتل ناحق، پوری انسانیت کا قتل ہے
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔ مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے درپے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۳۲)
۳۰۔ رسول سے لڑنے والوں کی سزا
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلاوطن کر دیے جائیں ۔ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے ۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۳۴)
۳۱۔ دولت کافروں کو عذاب سے نہیں بچاسکتی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو جائے ۔ خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، اگر ان کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روزِ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۳۷)
۳۲۔ چور مرد و عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم
اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا و بینا ہے ۔ پھر یہ ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہو جائے گی، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحمت فرمانے والا ہے ۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے ؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۴۰)
اگست 1, 2011
۳۳۔ کتاب اللہ کے معنی تبدیل کرنیوالے
اے پیغمبرﷺ! تمہارے لیے باعثِ رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیزگامی د کھا رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے، یا ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں، اور دوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں، کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کر سکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا، ان کے لیے دُنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۴۱)
۳۴۔ یہودی توراۃ سے منہ موڑنے والے ہیں
یہ جھوٹ سُننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں، لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چا ہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑنہیں سکتے، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑرہے ہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے ۔
ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مسلم تھے، اسی کے مطابق اِن یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے ) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے ۔ پس (اے گروہِ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑدو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۴۴)
۳۵۔ جان کے بدلے جان اور قصاص کا کفارہ
توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے ۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۴۵)
۳۶۔ انجیل توراۃ کی تصدیق کرتی ہے
پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم ؑ کے بیٹے عیسیٰ ؑ کو بھیجا۔ توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۴۷)
۳۷۔ اللہ نے ہی شریعت مقرر کی
پھر اے نبیﷺ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے ۔ لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑکر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو __ ہم نے تم (انسانوں ) میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخرکار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو __ پس اے نبیؐ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرّہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے، پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گنا ہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کر لیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں ۔ (اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں ) تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ؟ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۵۰)
۳۸۔ یہود و نصاریٰ کو رفیق بنانے والا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۵۱)
۳۹۔ دلوں میں نفاق کی بیماری
تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑدھوپ کرتے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں ‘‘۔ مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے ۔ اور اس وقت اہلِ ایمان کہیں گے ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘؟ ان کے سب اعمال ضائع ہو گئے اورآخرکار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۵۳)
۴۰۔ اپنے دین سے پھرنے والے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے ) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہو گا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسولﷺ اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ اور جو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اہلِ ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۵۶)
۴۱۔ کون لوگ بندر اور سور بنائے گئے ؟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رو اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے ۔ ان سے کہو، ’’اے اہلِ کتاب! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اُس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘؟ پھر کہو ’’کیا میں ان لوگوں کی نشان دہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ اُن کا درجہ اور بھی زیادہ بُرا ہے اور وہ سواء السبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ‘‘۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۶۰)
۴۲۔ ظلم کرنے اور حرام مال کھانے والے
جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں ۔ تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑدھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں ۔ بہت بُری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔ کیوں ان کے علماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے ؟ یقیناً بہت ہی بُرا کارنامۂ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۶۳)
۴۳۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے
یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، باندھے گئے ان کے ہاتھ اور لعنت پڑی ان پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ، اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں اُلٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے، اور (اس کی پاداش میں ) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے ۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے ۔ یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ اگر (اس سرکشی کے بجائے ) یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے تو ہم اِن کی برائیاں اِن سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے ۔ کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں ۔ ایسا کرتے تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رو بھی ہیں، لیکن ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے ۔ (المآئدۃ:۶۶)
۴۴۔ اللہ کافروں کو کامیابی کی راہ نہ دکھائے گا
اے پیغمبرﷺ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں ) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔ صاف کہہ دو کہ ’’اے اہلِ کتاب، تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ‘‘۔ ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔ (یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے ) مسلمان ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۶۹)
۴۵۔ بنی اسرائیل نے نبیوں کو قتل کیا
ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہشاتِ نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو انہوں نے جُھٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا، اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہو گا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو اُن میں اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے ۔ اللہ ان کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۷۱)
۴۶۔ خدائی میں تثلیث کی تردید
یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے ۔ حالانکہ مسیحؑ نے کہا تھا کہ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی‘‘۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔ یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو دردناک سزا دی جائے گی۔ پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۷۳)
۴۷۔ حضرت عیسیٰ ؑمحض ایک رسول تھے
مسیحؑ ابن مریم ؑ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھویہ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں ۔ ان سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑکر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ کہو، اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سواء اسبیل‘‘ سے بھٹک گئے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۷۷)
۴۸۔ یہودیوں کامسلمانوں سے جذبہ عداوت
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤدؑ اور عیسیٰ ؑابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑدیا تھا، بُرا طرزِ عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔ آج تم ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں ) کفار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں ۔ یقیناً بہت بُرا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کے لیے کی ہے، اللہ ان پر غضب ناک ہو گیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔ اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبرﷺ اور اس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہلِ ایمان کے مقابلے میں ) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے ۔ مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔ تم اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدُنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرورِ نفس نہیں ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۸۲)
اگست 1, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔ 7 کے مضامین
۱۔ قرآن کو نہ ماننے والے جہنمی ہیں
جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں ۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ ’’پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ‘‘۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ’’آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ‘‘؟ اُن کے اِس قول کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۸۶)
۲۔ حلال کو حرام نہ کر لو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال و طیّب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھاؤ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۸۸)
۳۔ قسم کا کفارہ تین روزے رکھنا
تم لوگ جو مُہمل قسمیں کھا لیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بُوجھ کر کھاتے ہو اُن پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجہ کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچّوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہناؤ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑدو۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۸۹)
۴۔ شراب اور جُوا شیطانی کام ہیں
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ۔ ان سے پرہیز کرو، اُمید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدُولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسولﷺ پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۹۲)
۵۔ دورِ جہالت کے اعمال پر گرفت نہیں
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہو گی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسندکرتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۹۳)
۶۔ احرام میں شکار اور اس کا کفارہ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہو گا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اس کے لیے دردناک سزا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو، اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کرگزرے گا تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہو گا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا، یا اُس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے، تاکہ وہ اپنے کیے کا مزا چکھے ۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۹۵)
۷۔ احرام میں سمندر کا شکار حلال ہے
تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا، جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِراہ بھی بنا سکتے ہو، البتہ خشکی کا شکار، جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے ۔ پس بچو اس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۹۶)
۸۔ کعبہ، ماہِ حرام اور قربانی
اللہ نے مکانِ محترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے ) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہِ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قَلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنا دیا) تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہو جاؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، آگے تمہارے کُھلے اور چُھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے ۔ اے پیغمبرﷺ! ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بُہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو، اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔ (المآئدۃ:۱۰۰)
۹۔ ناگوار باتیں نہ پو چھا کرو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جبکہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کر دیا، وہ درگزر کرنے والا اور بُردبار ہے ۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مُبتلا ہو گئے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۰۲)
۱۰۔ قانونِ الٰہی کے خلاف باپ دادا کی تقلید
اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وَصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں )۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۰۵)
۱۱۔ وصیت کرتے وقت دو گواہ بنانے کا حکم
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں ۔ پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گوا ہوں کو (مسجد میں )
روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں )، اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے ‘‘۔ لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ مبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو اُن کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے ‘‘۔ اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے ۔ اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۰۸)
۱۲۔ عیسٰی ؑکا گہوارے میں بات کرنا
جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کر کے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا، تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں، آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ پھر تصور کرو اُس موقع کا جب اللہ فرمائے گا کہ ’’اے مریمؑ کے بیٹے عیسٰی ؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی۔ میں نے رُوح پاک سے تیری مدد کی، تو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۰)
۱۳۔ عیسٰی ؑکا مردے کو زندہ، کوڑھی کواچھا کرنا
میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تُو میرے حکم سے مٹی کا پُتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا، تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا۔ پھر جب تُو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکر حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۰)
۱۴۔ عیسٰی ؑ کے حواری:کھانے کا خوان اترنا
اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ’’ہم ایمان لائے اور گواہ ہو کہ ہم مسلم ہیں ‘‘۔ (حواریوں کے سلسلہ میں ) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ’’اے عیسٰیؑ ابن مریم! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ‘‘؟ تو عیسٰی ؑنے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ انہوں نے کہا ’’ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اُس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اُس پر گواہ ہوں ‘‘۔ اس پر عیسٰی ؑابن مریم نے دعا کی ’’خدایا! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو، ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تُو بہترین رازق ہے ‘‘۔ اللہ نے جواب دیا ’’میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں، مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو میں نے کسی کو نہ دی ہو گی‘‘۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۱۵)
۱۵۔ عیسٰی ؑنے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا
غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ ’’اے عیسٰی ؑبن مریم، کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟‘‘ تو وہ جواب میں عرض کرے گا کہ ’’سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالِم ہیں ۔ میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بُلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں ۔ اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ‘‘۔ تب اللہ فرمائے گا ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘۔ زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ (المآئدۃ۔ ۔ ۔ ۱۲۰)
اگست 21, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۶۔ زندگی کی ایک دوسری مدت کا بیان
سورۃ الانعام : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں ۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کر دیا ہے دُوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھیرا رہے ہیں ۔ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدت مقرر کر دی، اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے ۔ مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔ وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کُھلے اور چُھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اُس سے خوب واقف ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۳)
۱۷۔ رب کی نشانیوں کا مذاق اڑانے والے
لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑلیا ہو۔ چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دَورہ رہا ہے ؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انہوں نے کفرانِ نعمت کیا تو) آخرکار ہم نے ان کے گنا ہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دوسرے دَور کی قوموں کو اُٹھایا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۶)
۱۸۔ حق کو جھٹلانے والوں کا انجام
اے پیغمبرﷺ! اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چُھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادُو ہے ۔ کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا؟ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی۔ اور اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مُبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مُبتلا ہیں ۔ اے نبیﷺ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اُڑانے والوں پر آخرکار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ۔ ان سے کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ __کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے، اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے (اسی لیے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑلیتا)، قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے، مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مُبتلا کر لیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ (الانعام:۱۲)
۱۹۔ اللہ رازق کے سامنے جھکنے کا حکم
رات کے اندھیرے اور دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہوا ہے، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے ۔ کہو، اللہ کو چھوڑکر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اُس خدا کو چھوڑکر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے ؟ کہو، مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے ) تُو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۸)
۲۰۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے
ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا۔ کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے اُن کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔ مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جُھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جُھٹلائے ؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۲۱)
۲۱۔ روز حشر مشرکوں کا جھوٹ گھڑنا
جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پُوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اُٹھا سکیں گے کہ (یہ جُھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ کو جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہو جائیں گے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۲۴)
۲۲۔ اپنی تباہی کا سامان پیدا کرنے والے
ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے )۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سوا کچھ نہیں ۔ وہ اس امرِ حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں ۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑرہے ہیں ) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ کاش تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے ۔ اس وقت وہ کہیں گے کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دُنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اُس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہو گی، ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جُھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جُھوٹ ہی سے کام لیں گے )۔ آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے ۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا ’’کیا یہ حقیقت نہیں ہے ‘‘؟ یہ کہیں گے ’’ہاں اے ہمارے رب! یہ حقیقت ہی ہے ‘‘۔ وہ فرمائے گا ’’اچھا، تو اب اپنے انکارِ حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو‘‘۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۳۰)
۲۳۔ اللہ سے ملاقات کا انکار کرنے والے
نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا۔ جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’’افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی‘‘۔ اور ان کا حال یہ ہو گا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گنا ہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے ۔ دیکھو! کیسا بُرا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں ۔ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے ۔ حقیقت میں آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے ؟(الانعام۔ ۔ ۔ ۳۲)
۲۴۔ نبیﷺ کو جھٹلانا اللہ کی آیات کو جھٹلانا ہے
اے نبیﷺ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں ۔ تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر سکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو۔ دعوتِ حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سُننے والے ہیں ۔ رہے مُردے، تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ) واپس لائے جائیں گے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۳۶)
۲۵۔ مصیبت میں انسان اللہ ہی کو یاد کرتا ہے
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پُوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مُبتلا ہیں ۔ زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ۔ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچے ہو۔ اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۴۱)
۲۶۔ اللہ نافرمان قوموں کو بھی خوشحالی دیتا ہے ۔
تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جُھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر اُن کے دل تو اور سخت ہو گئے اور شیطان نے اُن کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔ پھر جب انہوں نے اُس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی، بُھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہو گئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑلیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے ۔ اس طرح اُن لوگوں کی جڑکاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظُلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العٰلمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑکاٹ دی)۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۴۵)
۲۷۔ بینائی و سماعت اللہ ہی عطا کرتا ہے
اے نبیﷺ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مُہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون سا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلا سکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چُرا جاتے ہیں ۔ کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا عَلانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہو گا؟ ہم جو رسول بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والے اور بدکرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں ۔ پھر جو لوگ اُن کی بات مان لیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بُھگت کر رہیں گے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۴۹)
۲۸۔ نبیﷺ غیب کا علم نہیں رکھتے
اے نبیﷺ! ان سے کہو، ’’میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘۔ پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ (الانعام۔ ۔ ۔ ۵۰)
۲۹۔ ایک کے ذریعہ دوسرے کی آزمائش
اور اے نبیﷺ! تم اس (علمِ وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہو گا جو ان کا حامی و مددگار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں ۔ اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو۔ اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دُور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔ دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ’’کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ‘‘؟ ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ (الانعام۔ ۔ ۔ ۵۳)
۳۰۔ توبہ و اصلاح سے معافی مل جاتی ہے
جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ’’تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے ‘‘۔ اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۵۵)
اگست 21, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۳۱۔ فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے
اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔ کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے، وہی امرِ حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۵۷)
۳۲۔ زندگی کی مقررہ مدت پوری ہو گی
کہو، اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے ۔ اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے ۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک و تر سب کچھ ایک کُھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔ وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ آخرکار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ اپنے بندوں پر وہ پُوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے، پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں ۔ خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۶۲)
۳۳۔ خطرات سے اللہ ہی بچاتا ہے ۔
اے نبیﷺ! ان سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گِڑگڑا گِڑگڑا کر اور چُپکے چُپکے دُعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تُو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ __ کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھیراتے ہو۔ کہو، وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ۔ دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔ تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے ۔ ان سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں، ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۶۷)
۳۴۔ قرآن پر نکتہ چینی کرنے والوں کی محفل
اور اے نبیﷺ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑکر دوسری باتوں میں لگ جائیں ۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بُھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیزگار لوگوں پر نہیں ہے، البتہ نصیحت کرنا ان کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں ۔ چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ۔ ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مددگار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چُھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکارِ حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۷۰)
۳۵۔ صور پھونکنے پر حشر برپا ہو گا
اے نبیﷺ! ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑکر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جب کہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھِر جائیں ؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھِر رہا ہو دراں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آ، یہ سیدھی راہ موجود ہے ؟ کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالکِ کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دو، نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔ وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے ۔ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اس دن وہ ہو جائے گا۔ اس کا ارشاد عین حق ہے ۔ اور جس روز صُور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اُسی کی ہو گی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالِم ہے اور دانا اور باخبر ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۷۳)
۳۶۔ ابراہیم ؑ کاقصہ ۔ : حقیقی رب کی تلاش
ابراہیم ؑکا واقعہ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ’’کیا تُو بتوں کو خدا بناتا ہے ؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں ‘‘۔ ابراہیم ؑ کو ہم اسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے ۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں ۔ پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں ھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے ب۔ ڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم ؑپکار اٹھا۔ ’’اے برادرانِ قوم! میں اُن سب سے بے زار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو۔ میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رُخ اس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ‘‘۔ اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ’’کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھا دی ہے ۔ اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ اور چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے، میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پرکوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے ؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ حقیقت میں تو امن اُنہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا‘‘یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم ؑکو اُس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں ۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۸۳)
۳۷۔ آلِ ابراہیم ؑ کا ذکر
پھر ہم نے ابراہیم ؑکو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی (وہی راہِ راست جو) اُس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی۔ اور اسی کی نسل سے ہم نے داؤد ؑ، سلیمان ؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسٰی ؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی)۔ اس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں ۔ (اُسی کی اولاد سے ) زکریاؑ، یحییٰ ؑ، عیسٰی ؑ اور الیاس ؑ کو (راہ یاب کیا)۔ ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔ (اسی کے خاندان سے ) اسماعیل ؑ، الیسعؑ اور یونسؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا)۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دُنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ نیز ان کے آباء و اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا، انہیں اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۸۷)
۳۸۔ د ینِ ابراہیم ؑکواختیار کرو
یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں ) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ اے نبیﷺ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ و ہدایت کے ) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۹۰)
۳۹۔ مکہ، مرکز دنیا ہے
ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے ۔ ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسٰی ؑ لایا تھا، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟__ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑدو۔ (اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی۔ اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ (الانعام:۹۲)
۴۰۔ اللہ کے سامنے تن تنہا پیش ہونا ہے
اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جواللہ پرجُھوٹا بہتان گھڑے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالے کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کر کے دکھا دوں گا؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈُبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’’لاؤ، نکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے ‘‘۔ (اور اللہ فرمائے گا) ’’لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑآئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تہمارے کام بنانے میں ان کا کبھی کچھ حصہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہو گئے جن کا تم زَعم رکھتے تھے ‘‘۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۹۴)
۴۱۔ اللہ ہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے
دانے اور گُٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے ۔ وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے ۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟ پردۂ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے ۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے ۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے ۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں ۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۹۷)
۴۲۔ اللہ ہی نے پانی برسایا اور نباتات اگائی
اور وہی ہے جس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اُس کے سونپے جانے کی جگہ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے ۔ پھر ان سے تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گُچھّے کے گُچھّے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جُھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جُلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی ہیں ۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں ۔ اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا، حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے، اور بے جانے بُوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کر دیں، حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۰۰)
۴۳۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ کوئی شریکِ زندگی
وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریکِ زندگی ہی نہیں ہے ۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ۔ اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیزکا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیزکا کفیل ہے ۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگا ہوں کو پا لیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے ۔ دیکھو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۰۴)
۴۴۔ جھوٹے خداؤں کو گالیاں نہ دو
اس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں ’’تم کسی سے پڑھ آئے ہو‘‘، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کر دیں ۔ اے نبیﷺ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو۔ اگر اللہ کی مشیّت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کر سکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالدار ہو۔ اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ۔ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے، پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ۔
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگرکوئی نشانی (یعنی معجزہ) ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے ۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ ’’نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں ‘‘ اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگا ہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس (کتاب) پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۱۰)
اگست 21, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ - 8 کے مضامین
۱۔ شیطان انسان اور شیطان جن
اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الّا یہ کہ مشیتِ الٰہی یہی ہو (کہ یہ ایمان لائیں ) مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں ۔ اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں ۔ اگر تمہارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے ۔ پس تم انہیں ان کے حال پر چھوڑدو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں ۔ (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اس (خوشنما دھوکے ) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں __ پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے ؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے ) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔ تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۱۵)
۲۔ اکثریت کا اللہ کے ر استہ سے بھٹکانا
اور اے نبیﷺ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے ۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں ۔ درحقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۱۷)
۳۔ ذبیحہ صرف اللہ کے نام کا حلال ہے
پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو؟ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کر دیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ تم کُھلے گنا ہوں سے بھی بچو اور چھپے گنا ہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پا کر رہیں گے ۔ اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے، شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۲۱)
۴۔ کافروں کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں
کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اُجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اِسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں، اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں ۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ’’ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے ‘‘۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۲۴)
۵۔ جب اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے
پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اُس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی اُن لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے، حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کے لیے واضح کر دیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں ۔ ان کے رب کے پاس اُن کے لیے سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا سرپرست ہے اس صحیح طرزِ عمل کی وجہ سے جو اُنہوں نے اختیار کیا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۲۷)
۶۔ روزِ حشرشیاطین کا جواب
جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جِنوں (یعنی شیاطین جن) سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ ’’اے گروہِ جن! تم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا‘‘۔ انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ’’پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے، اور اب ہم اُس وقت پر آ پہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا‘‘ اللہ فرمائے گا ’’اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے ‘‘۔ اس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بے شک تمہارا رب دانا اور علیم ہے ۔ دیکھو، اس طرح ہم (آخرت میں ) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے اس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر) کرتے تھے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۲۹)
۷۔ روزِ حشر کافر وں کا اپنے خلاف گواہی دینا
(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ)’’اے گروہِ جن و انس، کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ‘‘؟ وہ کہیں گے ’’ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ‘‘۔ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ (یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہو جائے کہ) تمہارا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جبکہ ان کے باشندے حقیقت سے ناواقف ہوں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۳۱)
۸۔ انسان کا درجہ اس کے عمل پر منحصر ہے
ہر شخص کا درجہ اس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔ تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے ۔ اگر وہ اہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے ۔ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقینا آنے والی ہے اور تم خدا کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اے نبیﷺ! کہہ دو کہ لوگو! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجامِ کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۳۵)
۹۔ مشرکین کا غیر اللہ کے لئے حصہ مقرر کرنا
اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعمِ خود، اور یہ ہمارے ھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ۔ پھر جو حصہ اُن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے ۔ کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ! (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۳۶)
۱۰۔ مشرکانہ جہالت والے کام
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مُبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑدو کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خودساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر یہ اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افتراپردازیوں کا بدلہ دے گا۔ اورکہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑلی ہیں ان کا بدلہ اللہ
انہیں دے کر رہے گا۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کر کے حرام ٹھیرا لیا۔ یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہرگز وہ راہِ راست پانے والوں میں سے نہ تھے (الانعام:۱۴۰)
۱۱۔ بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے حلال ہیں
وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صُورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں ۔ کھاؤ اور ان کی پیداوار جبکہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و باربرداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ کھاؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ یہ آٹھ نر و مادہ ہیں، دو بھیڑکی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے ۔ اے نبیﷺ! ان سے پوچھو کہ اللہ نے ان کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں ؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے ۔ پوچھو، ان کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں ؟ کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط رہنمائی کرے ۔ یقینا اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۴۴)
۱۲۔ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ حرام ہے
اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، الاّ یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں (کوئی چیز ان میں سے کھا لے ) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حدِ ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقینا تمہارا رب درگزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۴۵)
۱۳۔ یہودی شریعت :ناخن والے جانور حرام
اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو ان کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔ اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامنِ رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جا سکتا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۴۷)
۱۴۔ مشرکوں کی حجت پر اللہ کا جواب
یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں ) ضرور کہیں گے کہ ’’اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے ‘‘۔ ایسی ہی باتیں بنا بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخرکار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ’’کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو‘‘۔ پھر کہو (تمہاری اس حجت کے مقابلہ میں ) ’’حقیقت رس حجت تو اللہ کے
پاس ہے، بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا‘‘۔ ان سے کہو کہ ’’لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ‘‘۔ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا، اور ہرگز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے ۔ اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۵۰)
۱۵۔ اللہ کی عائد کردہ دس پابندیاں
اے نبیﷺ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں : (۱) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، (۲) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، (۳) اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے، (۴) اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چُھپی، (۵) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ (۶) اور یہ کہ مالِ یتیم کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے ۔ (۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔ (۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔ (۹) اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ (۱۰) نیز اُس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۵۳)
اگست 21, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 2
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۶۔ قرآن دلیلِ روشن، ہدایت اور رحمت ہے
پھر ہم نے موسٰی ؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت و رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائی کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ۔ اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ایک برکت والی کتاب۔ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کر سکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اُن سے زیادہ راست رَو ثابت ہوتے ۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیلِ روشن اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے، اب اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور اُن سے منہ موڑے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۵۷)
۱۷۔ قرآن سے منہ موڑنے کی سزا
جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں، یا تمہارا رب خود آ جائے، یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہو جائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں نمودار ہو جائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔ اے نبیﷺ! ان سے کہہ دو کہ اچھا، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۵۸)
۱۸۔ نیکی کا اجر دس گنا، بدی کا بدلہ اتنا ہی ہے
جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی اُن کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۶۰)
۱۹۔ جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لئے
اے نبیﷺ! کہو، میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم ؑکا طریقہ جسے یکسُو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۶۳)
۲۰۔ جوکچھ ملا ہے اسی میں آزمائش ہے
کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا، پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ۔ بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ (الانعام۔ ۔ ۔ ۱۶۵)
۲۱۔ قرآن کافروں کو وعید اور مومنوں کو نصیحت
سورہ اعراف : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ ا، ل، م، ص۔ یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے نبیﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو۔ لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑکر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو __ مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا۔ اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دِن دہاڑے ایسے وقت آیا جب کہ وہ آرام کر رہے تھے ۔ اور جب ہمارا عذاب اُن پر آ گیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۵)
۲۲۔ روز حشر اعمال کا وزن ہو گا
پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے بازپرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں (کہ انہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا) پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کر دیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے ۔ اور وزن اس روز عین حق ہو گا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامانِ زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔ (الاعراف:۱۰)
۲۳۔ ابلیس کا آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار
ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدم ؑ کو سجدہ کرو۔ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ پوچھا، ’’تجھے کس چیزنے سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا‘‘؟ بولا، ’’میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے ‘‘۔ فرمایا، ’’اچھا، تو یہاں سے نیچے اُتر۔ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو اُن لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ‘‘۔ ۔ ۔ بولا، ’’مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے ‘‘۔ فرمایا، ’’تجھے مہلت ہے ‘‘۔ بولا، ’’اچھا تو جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تُو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘۔ فرمایا، ’’نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا۔ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت اُن سب سے جہنم کو بھر دوں گا (الاعراف:۱۸)
۲۴۔ جنت میں آدم ؑ و حواؑ کاشجر ممنوعہ کو چکھنا
اور اے آدم ؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ‘‘۔ پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دُوسرے سے چھپائی گئی تھیں، ان کے سامنے کھول دے ۔ اس نے اُن سے کہا ’’تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے ‘‘۔ اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ اس طرح دھوکا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا۔ آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستَر ایک دوسرے کے سامنے کُھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے ۔ تب ان کے رب نے انہیں پکارا ’’کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘؟ دونوں بول اٹھے ’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تُو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے ‘‘۔ فرمایا، ’’اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامانِ زیست ہے ‘‘۔ اور فرمایا ’’وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۲۵)
۲۵۔ بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے
اے اولادِ آدم،ؑ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکنے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں ۔ اے بنی آدم ؑ، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مُبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور اُن کے لباس اُن پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۲۷)
۲۶۔ کھاؤ پیو مگر حد سے تجاوز نہ کرو
یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ان سے کہو، اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ اے نبیﷺ، ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے، اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص رکھ کر جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے ۔ اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ اے بنی آدمؑ، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۳۱)
۲۷۔ مہلت کی ایک مدت مقرر ہے
اے نبیﷺ! ان سے کہو، کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں ؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتہً انہی کے لیے ہوں گی۔ اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ اے نبیﷺ، ان سے کہو، کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بے شرمی کے کام __ خواہ کھلے ہوں یا چھپے __ اورگناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے سند نازل نہیں کی، اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اُسی نے فرمائی ہے ۔ ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۳۴)
۲۸۔ جہنمی ایک دوسرے کو الزام دیں گے ۔
(اور یہ بات اللہ نے آغازِ تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ) اے بنی آدم ؑیاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سُنا رہے ہوں، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کرے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے، اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہلِ دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ آخر اُس سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو بالکل جُھوٹی باتیں گھڑکر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جُھٹلائے ؟ ایسے لوگ اپنے نوشتۂ تقدیر کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی رُوحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے ۔ اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ ’’بتاؤ، اب کہاں ہیں تمہارے معبُود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ‘‘؟ وہ کہیں گے کہ ’’سب ہم سے گُم ہو گئے ‘‘۔ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکرِ حق تھے ۔ اللہ فرمائے گا جاؤ، تم بھی اُسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہِ جن و انس جا چکے ہیں ۔ ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہو گا، حتیٰ کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ جواب میں ارشاد ہو گا، ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔ اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابلِ الزام تھے ) تو تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۳۹)
۲۹۔ مجرموں کے لئے جہنم کا بچھونا ہو گا
یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے ۔ ان کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا۔ مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے ۔ ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہو گا اور جہنم ہی کا اوڑھنا۔ یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۴۱)
۳۰۔ نیک کام والے جنت میں رہیں گے
بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں __ اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں __ وہ اہلِ جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جوکچھ کدورت ہو گی اسے ہم نکال دیں گے ۔ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ کہیں گے کہ ’’تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے ‘‘۔ اس وقت ندا آئے گی کہ ’’یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۴۳)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۳۱۔ اہلِ جنت کا دوزخ والوں سے مکالمہ
پھر یہ جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پُکار کر کہیں گے، ’’ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پایا جو ہمارے رب نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی اُن وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رب نے کیے تھے ‘‘؟ وہ جواب دیں گے ’’ہاں ‘‘۔ تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ’’خدا کی لعنت ان ظالموں پر جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۴۵)
۳۲۔ جنت کے امیدواروں کا حال
ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہو گی جس کی بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘۔ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے ۔ اور جب اُن کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے، ’’اے رب، ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو‘‘۔ پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ’’دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ اورکیا یہ اہلِ جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج‘‘ (الاعراف:۴۹)
۳۳۔ دوزخیوں کا جنت والوں سے رزق مانگنا
اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اسی میں سے کچھ پھینک دو۔ وہ جواب دیں گے کہ ’’اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرینِ حق پر حرام کر دی ہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بُھلا دیں گے جس طرح وہ اس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکارکرتے رہے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۵۱)
۳۴۔ انجام دیکھ کر دنیا میں واپسی کی تمنا
ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصل بنایا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔ اب کیا یہ لوگ اس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آ جائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے ؟ جس روز وہ انجام سامنے آ گیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے کہ ’’واقعی ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں ؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں ‘‘۔ انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج اُن سے گم ہو گئے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۵۳)
۳۵۔ زمین و آسمانوں کی چھ دنوں میں پیدا ئش
درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے ۔ جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار ہو! اُسی کی خلق ہے اور اُسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۵۴)
۳۶۔ رب کو گڑگڑاتے ہوئے پکارو
اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ، یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۵۶)
۳۷۔ ہوا،بادل، بارش اور فصلیں
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں، تو انہیں کسی مردہ سرزمین کی طرف حرکت دیتا ہے اور وہاں مینہ برسا کر (اسی مری ہوئی زمین سے ) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے ۔ دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالتِ موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو۔ جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں (الاعراف۵۸)
۳۸۔ نوحؑ کے ساتھیوں کی کشتی میں نجات
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ‘‘۔ اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ’’ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو‘‘۔ نوحؑ نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں، تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاددہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ‘‘؟ مگر اُنہوں نے اس کو جھٹلا دیا۔ آخرکار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، یقیناً وہ اندھے لوگ تھے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۶۴)
۳۹۔ قومِ عاد اورہود ؑکا قصہ
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود ؑکو بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے ‘‘؟ اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا ’’ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جُھوٹے ہو‘‘۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں، تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑدیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو سچاہے ‘‘۔ اس نے کہا ’’تمہارے رب کی پِھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘۔ آخرکار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود ؑاور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۷۲)
۴۰۔ قومِ ثمود اور صالحؑ کا قصہ
اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آ گئی ہے ۔ یہ اللہ کی اُونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، لہٰذا اسے چھوڑدو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ۔ اس کو کسی بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آ لے گا۔ یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۷۴)
۴۱۔ اونٹنی کا قتل اورقومِ ثمود کی تباہی
اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقہ کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے، کہا ’’کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کا پیغمبرہے ‘‘؟ انہوں نے جواب دیا’’بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ‘‘۔ اُن بڑائی کے مدعیوں نے کہا ’’جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں ‘‘۔ پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرُّد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اورصالحؑ سے کہہ دیا کہ ’’لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے ‘‘۔ آخرکارایک دَہلا دینے والی آفت نے انہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ اور صالحؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’اے میری قوم، میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۷۹)
۴۲۔ قومِ لوطؑ کی تباہی کا ذکر
اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا ’’کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ تم عورتوں کو چھوڑکر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو‘‘۔ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’’نکالو ان لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ‘‘۔ آخرکار ہم نے لوطؑ اور اس کے گھر والوں کو __ بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی __ بچاکر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۸۴)
۴۳۔ اہلِ مدین کو حضرت شعیبؑ کی تلقین
اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے ۔ لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔ اور (زندگی کے ) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘‘(الاعراف:۸۷)
اگست 21, 2011
۱۔ قومِ شعیبؑ کی تباہی کا احوال
اُس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، اس سے کہا کہ ’’اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہو گا‘‘۔ شعیبؑ نے جواب دیا ’’کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ؟ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملّت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الاّ یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا۔ اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۸۹)
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا ’’اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کر لی تو برباد ہو جاؤ گے ‘‘۔ مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے اُن کو آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ جن لوگوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے ۔ شعیبؑ کے جھٹلانے والے ہی آخرکار برباد ہو کر رہے ۔ اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’اے برادران قوم، میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبولِ حق سے انکار کرتی ہے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۹۳)
۲۔ اچانک عذابِ الٰہی کا سبب
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مُبتلا نہ کیا ہو، اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اُتر آئیں ۔ پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پُھولے اور کہنے لگے کہ ’’ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور بُرے دن آتے ہی رہے ہیں ‘‘۔ آخرکار ہم نے اُنہیں اچانک پکڑلیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر انہوں نے تو جُھٹلایا، لہٰذا ہم نے اس بُری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑلیا جو وہ سمیٹ رہے تھے ۔ پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں ؟ یا انہیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جبکہ وہ کھیل رہے ہوں ؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں ؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۹۹)
۳۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والے
اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہلِ زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑسکتے ہیں ؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافُل برتتے ہیں ) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سُنتے ۔ یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں ) اُن کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اسے وہ ماننے والے نہ تھے ۔ دیکھو اس طرح ہم منکرینِ حق کے دلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں ۔ ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاسِ عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۰۲)
۴۔ دربارِ فرعون میں عصائِ موسیٰ کا اژدہا بننا
پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسٰی ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا۔ مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔ موسٰی ؑنے کہا ’’اے فرعون، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں، میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے ‘‘۔ فرعون نے کہا ’’اگر تُو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچاہے تو اسے پیش کر‘‘۔ موسٰی ؑنے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا۔ اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۰۸)
۵۔ جادوگروں کا حضرت موسیٰ سے شکست کھانا
اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ ’’یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے، تمہیں تمہاری زمین سے بیدخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتے ہو‘‘؟ پھر ان سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے کہ ہر ماہرِ فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں ۔ چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے ۔ انہوں نے کہا ’’اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا‘‘؟ فرعون نے جواب دیا ’’ہاں، اور تم مقرب بارگاہ ہو گے ‘‘۔ پھر انہوں نے موسٰی ؑسے کہا۔ ’’تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں ‘‘؟ موسٰی ؑنے جواب دیا ’’تم ہی پھینکو‘‘۔ انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگا ہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے ۔ ہم نے موسٰی ؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۱۷)
۶۔ دربارِ فرعون میں جادوگروں کا قبولِ اسلام
اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدانِ مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے ) اُلٹے ذلیل ہو گئے ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ’’ہم نے مان لیا رب العالمین کو، اُس رب کو جسے موسٰی ؑ اور ہارون ؑ مانتے ہیں ‘‘۔ فرعون نے کہا ’’تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے ۔ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے ۔ تُو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۲۶)
۷۔ زمین کا وار ث اللہ اپنی مرضی سے بناتا ہے
فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا ’’کیا تُو موسٰی ؑاور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑدے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑبیٹھیں ؟‘‘ فرعون نے جواب دیا ’’میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے ‘‘۔ موسٰی ؑنے اپنی قوم سے کہا ’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی اُن ہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں ‘‘۔ اس کی قوم کے لوگوں نے کہا ’’تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں ‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۲۹)
۸۔ فرعون کا قحط اور خوشحالی پر ردِّ عمل
ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں، اور جب بُرا زمانہ آتا تو موسٰی ؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھیراتے، حالانکہ درحقیقت اُن کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے ۔ انہوں نے موسٰی ؑسے کہا کہ ’’تُو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۳۲)
۹۔ طوفان، ٹڈّی دَل، مینڈک اور خو ن کی بارش
آخرکار ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ٹڈّی دَل چھوڑے، سُرسُریاں پھیلائیں، مینڈک نکالے اور خون برسایا۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں ۔ مگر وہ سرکشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے ۔ جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے ’’اے موسٰی، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تُو ہم پر سے یہ بلاٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے ‘‘۔ مگر جب ہم اُن پر سے اپنا عذاب ایک وقتِ مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے ۔ تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جُھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہو گئے تھے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۳۶)
۱۰۔ طاقتور کی جگہ کمزوروں کوحکمراں بنادیا
اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدۂ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۳۷)
۱۱۔ بنی اسرائیل کی بت پرستی کی خواہش
بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے ’’اے موسٰی ؑ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ‘‘۔ موسٰی ؑنے کہا ’’تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے ‘‘۔ پھر موسٰی ؑنے کہا ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے ۔ اور (اللہ فرماتا ہے ) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۴۱)
۱۲۔ موسٰی ؑکا اللہ سے ہم کلا می، دیدار کی خواہش
ہم نے موسٰی ؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اس طرح اس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی۔ موسٰی ؑنے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون ؑسے کہا کہ ’’میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑپیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا‘‘۔ جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ’’اے رب! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں ‘‘۔ فرمایا تُو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑکی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تُو مجھے دیکھ سکے گا‘‘۔ چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑپر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی ؑغش کھا کر گر پڑا۔ جب ہوش آیا تو بولا ’’پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں ‘‘۔ فرمایا ’’اے موسٰی، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو۔ پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجا لا‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۴۴)
۱۳۔ شریعتِ موسوی ؑ اوراللہ کی ہدایت
اس کے بعد ہم نے موسٰی ؑکو ہر شعبۂ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: ’’ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں، عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا۔ میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے ۔ ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے ۔ کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں ‘‘؟ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۴۷)
۱۴۔ قومِ موسٰی ؑ کا بچھڑے کے پتلے کو پوجنا
موسٰی ؑکے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے ۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ ’’اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے ‘‘۔ اُدھر سے موسٰی ؑغصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ آتے ہی اس نے کہا ’’بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے ‘‘؟ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون ؑ) کے سر کے بال پکڑکر اسے کھینچا۔ ہارون ؑ نے کہا ’’اے میری ماں کے بیٹے، ان لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے ۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر‘‘۔ تب موسٰی ؑنے کہا ’’اے رب، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۵۱)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۱۵۔ برے عمل کے بعد توبہ و ایمان
(جواب میں ارشاد ہوا کہ) ’’جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے ۔ جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔ اور جو لوگ بُرے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۵۳)
۱۶۔ موسیٰؑ کا قوم کی طرف سے معافی مانگنا
پھر جب موسٰی ؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں ۔ جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسٰی ؑ نے عرض کیا ’’اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کر سکتے تھے ۔ کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے ؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں ۔ پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں ۔ اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا‘‘۔ جواب میں ارشاد ہوا ’’سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۵۶)
۱۷۔ آخری پیغمبرﷺ کی پیروی میں فلاح ہے
)(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے ) جو اِس پیغمبر، بنی اُمی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے ۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، اُن کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے ۔ لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۵۷)
۱۸۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں کے لئے نبی ہیں
اے محمدﷺ، کہو کہ ’’اے انسانو! میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے بنی اُمیّ پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اس کی،امید ہے کہ تم راہِ راست پا لو گے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۵۸)
۱۹۔ قومِ موسٰی ؑ : بارہ چشمے اور من و سلویٰ
موسٰی ؑکی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا۔ اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کر کے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی۔ اور جب موسٰی ؑسے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چنانچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پُھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی۔ ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلویٰ اُتارا __ ’’کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں ‘‘۔ مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۶۰)
۲۰۔ آسمان سے عذابِ الٰہی کا نزول
یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ ’’اس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسبِ منشا روزی حاصل کرو اور حِطّۃ حِطّۃ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے ‘‘۔ مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اُس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۶۲)
۲۱۔ برائی سے روکنے والے بچا لئے گئے
اور ذرا ان سے اُس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سَبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سَبت ہی کے دن اُبھر اُبھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سَبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں ۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے ۔ اور انہیں یہ بھی یاد دلاؤ کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ’’تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے ‘‘۔ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں ‘‘۔ آخرکار جب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے، اورباقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑلیا۔ پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ، ذلیل اور خوار۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۶۶)
۲۲۔ بنی اسرائیل پر قیامت تک عذاب ہو گا
اور یاد کرو جبکہ تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ ’’وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے ‘‘۔ یقیناً تمہارا رب سزا دینے میں تیزدست ہے اور یقیناً وہ درگزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے ۔ ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بہت سی قوموں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور بُرے حالات سے آزمائش میں مُبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں ۔ پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دَنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاعِ دنیا سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں ۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے ۔ آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ؟ جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کر رکھی ہے، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اَجر ہم ضائع نہیں کریں گے ۔ انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑکو ہلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آپڑے گا اور اُس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۷۱)
۲۳۔ اللہ کی ربوبیت اور اولادِ آدمؑ کی گواہی
اور اے نبیﷺ، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا ’’کیا میں تمہارارب نہیں ہوں ‘‘؟ انہوں نے کہا ’’ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں ‘‘۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ’’ہم تو اس بات سے بے خبر تھے ‘‘ یا یہ نہ کہنے لگو کہ ’’شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا‘‘؟ دیکھو، اس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں ۔ اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۷۴)
۲۴۔ آیاتِ ربّانی کو جھٹلانے والے کی مثال
اور اے نبیﷺ، ان کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا۔ آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جُھک کر رہ گیا اور اپنی خواہشِ نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کُتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑدو تب بھی زبان لٹکائے رہے ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ۔ تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو، شاید کہ کچھ غوروفکر کریں (الاعراف۱۷۶)
۲۵۔ غفلت میں کھوئے گئے جانوروں جیسے ہیں
بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جُھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں ۔ جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہِ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام و نامراد ہو کر رہتا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۷۹)
۲۶۔ اللہ کو اچھے ناموں سے پکارو
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑدو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں ۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا بدلہ وہ پا کر رہیں گے ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہو گی۔ میں اُن کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑنہیں ہے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۸۳)
۲۷۔ اللہ رہنمائی نہ دے تو پھر کوئی رہنما نہیں
اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جُنون کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے جو (برا انجام سامنے آنے سے پہلے ) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے ۔ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پرکبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبرﷺ کی اس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟__ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑدیتا ہے ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۸۶)
۲۸۔ اللہ جانتا ہے ،قیامت کب نازل ہو گی
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہو گی؟ کہو’’اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے ۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہو گا۔ وہ تم پر اچانک آ جائے گا‘‘۔ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پُوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو۔ کہو ’’اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں ‘‘۔ اے نبیﷺ، ان سے کہو کہ ’’میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے ۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۸۸)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۲۹۔ اللہ ہی نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے ۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تُو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے ۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے ۔ اللہ بہت بلند و برتر ہے اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۹۲)
۳۰۔ خدا کے بندوں کو خدا ماننے والے
اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں ۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے ۔ تم لوگ خدا کو چھوڑکر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں ۔ کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سُنیں ؟ اے نبیﷺ، ان سے کہو کہ ’’بلا لو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو، میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑکر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں، بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سُن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے ‘‘۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۱۹۸)
۳۱۔ شیطان اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو
اے نبیﷺ نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریقِ کار کیا ہے ۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے ) بھائی بند، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے چلے جاتے ہیں اور اُنہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے (الاعراف۲۰۲)
۳۲۔ جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنو
اے نبیﷺ، جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟ ان سے کہو ’’میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے ۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں ۔ جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہو جائے ‘‘۔ اے نبیﷺ! اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے، اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں ۔ (الاعراف۔ ۔ ۔ ۲۰۶)
۳۳۔ اللہ کا ذکر اور مومنین کے د ل کی حالت
سورۃ الانفال :اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ کہو ’’یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے ہیں پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو‘‘۔ سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں ۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں ۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے ۔ (اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جب کہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑرہے تھے دراں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہو چکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۶)
۳۴۔ مدد اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے
یاد کرو وہ موقع جبکہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے ۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑکاٹ دے تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اور وہ موقع جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے ۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں ۔ یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے ۔ یقیناً اللہ زبردست اور دانا ہے ۔ (الانفال:۱۰)
۳۵۔ جو اللہ اوراس کے رسول کا مقابلہ کرے
اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے ۔ اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑجوڑپر چوٹ لگاؤ‘‘۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اوراس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اُس کے لیے نہایت سخت گیر ہے __ یہ ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزا چکھو، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۱۴)
۳۶۔ چال کے طور پرمیدانِ جنگ سے فرار
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری __ الاّ یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے __ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے ۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور اے نبیﷺ تُو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کا م میں استعمال کیے گئے ) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سننے اور جاننے والا ہے ۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے ۔ (ان کافروں سے کہہ دو) ’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا۔ اب باز آ جاؤ تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۱۹)
۳۷۔ جولوگ عقل سے کام نہیں لیتے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے ۔ یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۲۳)
۳۸۔ فتنہ گناہ گاروں تک محدود نہیں رہتا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ا للہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔ اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں ۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکرگزار بنو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۲۸)
۳۹۔ اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا اور تمہارے قصور معاف کرے گا۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یاقتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں ۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چال رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے ۔ (الانفال:۳۰)
۴۰۔ اصلی دیوالیے کون لوگ ہیں
جب اُن کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ’’ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں ‘‘۔ اور وہ بات بھی یاد ہے جو انہوں نے کہی تھی کہ ’’خدایا، اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ‘‘ اُس وقت تو اللہ اُن پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تُو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفارکر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے ۔ لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولی نہیں ہیں ۔ اس کے جائز متولی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ۔ بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے ؟ بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں ۔ پس اب لو، اِس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکارِ حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔ جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے، مگر آخرکار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پُلندے کو جہنم میں جھونک دے ۔ یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۳۷)
۴۱۔ اللہ بہترین مددگار ہے
اے نبیﷺ، ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اُسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گذشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے، اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مددگار ہے ۔ (الانفال۔ ۔ ۔ ۴۰)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ 10 کے مضامین
۱۔ مالِ غنیمت کی تقسیم
اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اُس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اُس چیز پر جو فیصلے کے روز، یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو)۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(الانفال....۱۴)
۲۔ جس بات کا فیصلہ اللہ کرلے
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑا ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلوتہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے اور جاننے والا ہے۔(الانفال....۲۴)
اور یاد کرو وہ وقت جب کہ اے نبی، خدا ان کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا۔ اگر کہیں وہ تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کر دیتے، لیکن اللہ ہی نے اس سے تمہیں بچایا، یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے۔اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور اُن کی نگاہوں میں تمہیںکم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اسے اللہ ظہور میں لے آئے، اور آخرکار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ (الانفال....۴۴)
۳۔مقابلہ میں ثابت قدم رہو
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ ذرا خیال کرو اُس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ الٹے پا¶ں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے،
میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے، مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا بڑی سخت سزا دینے والا ہے۔(الانفال....۸۴)
۴۔نعمت کی تبدیلی اور اللہ کی سنت
جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ اِن لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مُبتلا کر رکھا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے۔ وہ ان کے چہروں، اور ان کے کولہوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ”لو اب جلنے کی سزا بھگتو، یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے“۔ یہ معاملہ ان کے ساتھ اُسی طرح پیش آیا جس طرح آلِ فرعون اور ان سے پہلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا۔ اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم
کو عطا کی ہو اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی۔ اللہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔ آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اِسی ضابطہ کے مطابق تھا۔ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ا نہیں ہلاک کیا اور آلِ فرعون کو غرق کردیا۔یہ سب ظالم لوگ تھے۔ (الانفال....۴۵)
۵۔سب سے بد تر مخلوق
یقینا اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ (خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تُو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔ پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں اُن کے حواس باختہ ہوجائیں۔ توقع ہے بدعہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے۔ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو عَلانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الانفال....۸۵)
۶۔مقابلہ کی تیاری اور طاقت کا حصول
منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقیناً وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے۔اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعداءکو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہر گز ظلم نہ ہوگا۔ (الانفال....۰۶)
۷۔اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو
اور اے نبیﷺ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جا¶ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمہاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ اے نبیﷺ تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے۔(الانفال....۴۶)
۸۔ کم مومنین زیادہ کافروں پر بھاری ہیں
اے نبیﷺ، مومنوں کو جنگ پر اُبھارو۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تومنکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ ا چھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے، اور اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔(الانفال....۶۶)
۹۔جنگی قیدیوں سے سلوک
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوںکو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ ا گر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھا¶ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی، تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں اُن سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میںکچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ لیکن اگر وہ تیرے ساتھ خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں، چنانچہ اسی کی سزا اللہ نے انہیں دی کہ وہ تیرے قابو میں آگئے، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ہے۔ (الانفال....۱۷)
۰۱۔ انصار و مہاجرین کا باہمی تعلق
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیںاور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آنہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو اُن کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ (الانفال....۳۷)
جولوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطا¶ں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے، اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الانفال....۵۷)
۱۱۔مشرکین سے معاہدہ
سُورة التوبة : اعلان برا¿ت ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے اُن مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔ پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے۔اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسولﷺ بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کرلو تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور اے نبیﷺ، انکار کرنے والوںکو سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو، بجز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کیے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدتِ معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے۔ (التوبہ....۴)
۲۱۔ پناہ کے طلب گار مشرکین کی حفاظت
پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پا¶ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو انہیں چھوڑ دو۔ اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سُن لے۔ پھر اُسے اس کے ضامن تک پہنچا دو۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ (التوبہ....۶)
۳۱۔عہد شکن کافروں سے جنگ کرو
ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے؟ __بجز اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے ۔مگر اُن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہدکیسے ہو سکتا ہے جبکہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کر لی پھر اللہ کے راستے میں سدراہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادتی ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ پس اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔ اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کر دیں تو کفر کے علم برداروں سے جنگ کرو کیونکہ اُن کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے۔ (التوبہ....۲۱)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۴۱۔مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جا¶ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اُس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسولﷺ اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ (التوبہ....۶۱)
۵۱۔مشرکین اور مومنین برابر نہیں ہیں
مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مُجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ ان کے تو سارے اعمال ضائع ہوگئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ اللہ کی مسجدوں کے آبادکار (مُجاور و خادم) تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخر کو مانیں، اور نماز قائم کریں، زکوٰة دیں، اور ا للہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ان ہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے۔ کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھیرا لیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روزِ آخر پر اور جس نے جاں فشانی کی اللہ کی راہ میں؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ اللہ کے ہاں تو اُنہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا، وہی کامیاب ہیں۔ اُن کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے۔ (التوبہ....۲۲)
۶۱۔کافر عزیزوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنا¶
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنا¶ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو اُن کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے۔ اے نبیﷺ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں، اور تمہارے عزیز و اقارب، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ (التوبہ....۴۲)
۷۱۔ غزوہ¿ حنین میں اللہ کے نادیدہ لشکر
اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ¿ حنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو)۔ اُس روز تمہیں اپنی کثرتِ تعداد کا غرّہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرین کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں۔ پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ (التوبہ....۷۲)
۸۱۔ مسجدِ حرام میں مشرکین داخل نہ ہوں
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مشرکین ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجدِ حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے۔ (التوبہ....۸۲)
۹۱۔ اہلِ کتاب سے جنگ اور جزیہ
جنگ کرو اہلِ کتاب میں سے اُن لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (اُن سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (التوبہ....۹۲)
۰۲۔سونا چاندی جمع کرنے والے
یہودی کہتے ہیں کہ عُزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں اُن لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے۔ خدا کی مار اِن پر، یہ کہاں سے دھوکا کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے علماءاور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے۔ خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولﷺ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان اہلِ کتاب کے اکثر علماءاور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دردناک سزا کی خوشخبری دو اُن کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلو¶ں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔__ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ (التوبہ....۵۳)
۱۲۔ماہِ حرام کو حلال ٹھہرانے والے
حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے۔ َنسیِ تو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔ کسی سال ایک مہینے کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کر دیتے ہیں، تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کر دیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کر لیں __ ان کے بُرے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں اور اللہ منکرینِ حق کو ہدایت نہیں فرماتا۔(التوبہ....۷۳)
۲۲۔ جہاد کرو اپنے جان و مال کے ساتھ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔ تم نہ اٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا، اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ تم نے اگر نبی کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں، اللہ اُس کی مدد اُس وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دُوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ ”غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے“۔ اس وقت اللہ نے اُس پر اپنی طرف سے سکونِ قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کردیا۔ اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے،
اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے __ نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ (التوبہ....۱۴)
۳۲۔جہاد سے رخصت چاہنے والے
اے نبیﷺ، اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہو جاتے، مگر اُن پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا۔ اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔اے نبیﷺ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ (تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔ جو لوگ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں رکھتے، جن کے دلوں میںشک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں۔ (التوبہ....۵۴)
اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے۔ لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لیے انہیں سُست کر دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُن میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آگیا اور اللہ کا کام ہو کر رہا۔ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ ”مجھے رخصت دے دیجےے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے“ سُن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے۔ (التوبہ....۹۴)
۴۲۔فاسق لوگوں کا راہِ خدا خرچ کرنا
تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ ان سے کہو ”ہمیں ہرگز کوئی (بُرائی یا بھلائی) نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے۔ اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہلِ ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے“۔ان سے کہو، ”تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں“۔ (التوبہ....۲۵)
ان سے کہو ”تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت، بہرحال وہ قبول نہ کیے جائیں گے۔ کیونکہ تم فاسق لوگ ہو“۔ ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ سے کفر کیا ہے، نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں اور راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کے مال و دولت اور ان کی کثرتِ اولاد کو دیکھ کر دھوکا نہ کھا¶، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے اور یہ جان بھی دیں تو انکار حق ہی کی حالت میں دیں۔ (التوبہ....۵۵)
۵۲۔اللہ اور رسول کی عطا پر راضی رہنا
وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ وہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوفزدہ ہیں۔ اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی کھوہ یا گُھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اس میں جا چُھپیں۔اے نبیﷺ، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں، اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسولﷺ نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ ”اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسولﷺ بھی ہم پر عنایت فرمائے گا، ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں“۔ (التوبہ....۹۵)
۶۲۔زکوٰة کے حقیقی مصارف
یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرضداروں کی مدد کرنے میں اور راہِ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔ (التوبہ....۰۶)
۷۲۔ اللہ کے رسولﷺ کو دکھ دینے والے
ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دُکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو، ”وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہلِ ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسولﷺ کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے“۔یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ اُن کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کا مقابلہ کرتا ہے، اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا؟ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ (التوبہ....۳۶)
یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سُورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبیﷺ، ان سے کہو، ”اور مذاق اُڑا¶، اللہ اُس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو“۔ اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو ”کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اس کے رسولﷺ ہی کے ساتھ تھی؟ اب عُذرات نہ تراشو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دُوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے“۔ (التوبہ....۶۶)
۸۲۔منافق مرد اور منافق عورتیں
منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔ برائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بُھلا دیا۔ یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں۔ ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتشِ دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی ان کے لیے موزوں ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے __ تم لوگوں کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں جو تمہارے پیش رو¶ں کے تھے۔ وہ تم سے زیادہ زور آور اور تم سے بڑھ کر مال اور اولاد والے تھے۔ پھر اُنہوں نے دنیا میں اپنے حصے کے مزے لُوٹے تھے اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے اُسی طرح لُوٹے جیسے انہوں نے لُوٹے تھے، اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے، سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میںاُن کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں __ کیا ان
لوگوں کو اپنے پیش رو¶ں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوحؑ کی قوم، عاد، ثمود، ابراہیمؑ کی قوم، مَدیَن کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں الٹ دیا گیا۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔ (التوبہ....۰۷)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۹۲۔مومن مرد اور مومن عورتیں
مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکےم و دانا ہے۔ ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان سدا بہار باغوں میں ان کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی، اور سب سے بڑھ کر یہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوگی۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ (التوبہ....۲۷)
۰۳۔کفار اور منافقین کا مقابلہ
اے نبیﷺ، کفار اور منافقین دونوںکا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آ¶۔ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔ یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔ یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے نا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا ہے! اب اگر یہ اپنی روش سے باز آئیں تو انہی کے لیے بہتر ہے، اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو۔ (التوبہ....۴۷)
۱۳۔ دولت ملنے پر بخیلی کرنے والے
ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے۔ مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پروا تک نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بدعہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اُس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا جو اُس کے حضور اُن کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں۔ اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے؟ (وہ خوب جانتا ہے اُن کنجوس دولت مندوں کو) جو برضا و رغبت دینے والے اہلِ ایمان کی مالی قربانیوں پر باتیں چھانٹتے ہیں اور اُن لوگوںکا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہِ خدا میں دینے کے لیے) اُس کے سوا کچھ نہیں
ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کر کے دیتے ہیں۔ اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اُڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ اے نبیﷺ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کر دینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہِ نجات نہیں دکھاتا۔ (التوبہ....۰۸)
۲۳۔فاسقوں کو مال و اولاد کے ذریعہ سزا
جن لوگوںکو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسولﷺ کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیںگوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ”اس سخت گرمی میں نہ نکلو“۔ ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔ اب چاہیے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ، اس لیے کہ جو بدی یہ کماتے رہے ہیں اس کی جزا ایسی ہی ہے (کہ انہیں اس پر رونا چاہیے)۔ اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا ”اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑسکتے ہو، تم نے پہلے بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو“۔(التوبہ....۳۸)
اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے۔ ان کی مالداری اور ان کی کثرتِ اولاد تم کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ اللہ نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ اس مال و اولاد کے ذریعہ سے ان کو اِسی دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ (التوبہ....۵۸)
۳۳۔جان و مال سے جہاد کرنے والے
جب کبھی کوئی سُورة اس مضمون کی نازل ہوئی کہ اللہ کو مانو اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو تم نے دیکھا کہ جو لوگ ان میں سے صاحبِ مقدرت تھے وہی تم سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوڑ دیجےے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں۔ ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور ان کے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیا گیا، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا۔ بخلاف اس کے رسولﷺ نے اور ان لوگوں نے جو رسولﷺ کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے عظیم الشان کامیابی۔ (التوبہ....۹۸)
۴۳۔ ضعیف اور بیمار لوگ جہاد سے مثتثنی ہیں
بدوی عربوں میں سے بھی بہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تاکہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ سے ایمان کا جھوٹا عہد کیا تھا۔ ان بدویوں میں جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے عنقریب وہ دردناک سزا سے دوچار ہوں گے۔ (التوبہ....۰۹)
ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکتِ جہاد کے لیے زادِ راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے وفادار ہوں۔ ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آ کر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر سکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔ البتہ اعتراض اُن لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواست کرتے ہیں کہ اُنہیں شرکتِ جہاد سے معاف رکھا جائے۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے)۔ (التوبہ....۳۹)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔11 کے مضامین
۱۔اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا
تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے۔ مگر تم صاف کہہ دینا کہ ”بہانے نہ کرو، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتادیئے ہیں۔ اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرزِ عمل کو دیکھے گا، پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جا¶ گے جو کھلے اور چُِھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔“ تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صَرفِ نظر کرو۔ تو بے شک تم ان سے صَرفِ نظر ہی کرلو، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔ یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجا¶۔ حالانکہ اگر تم اِن سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہرگز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔(سورة التوبة....۶۹)
۲۔اللہ کی قربت کے لیے خرچ کرنا
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔ ان بدویوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو راہِ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کررہے ہیں (کہ تم کسی چکر میں پھنسو تو وہ اپنی گردن سے اس نظام کی اطاعت کا قلاوہ اتار پھینکیں جس میں تم نے انہیں کس دیا ہے)۔ حالانکہ بدی کا چکر خود انہی پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔ اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسولﷺ کی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ہاں! وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔(التوبة....۹۹)
۳۔جونفاق میںطاق ہوگئے
وہ مہاجر و انصار جنہوںنے سب سے پہلے دعوتِ ایمان پرلبیک کہنے میں سبقت کی،نیز وہ جو بعد میںراست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میںہمیشہ رہیںگے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ تمہارے گردوپیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اِسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جونفاق میںطاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیںجانتے، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ (التوبة....۱۰۱)
۴۔اپنے قصوروں کا اعتراف کرنے والے
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیںکہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزرکرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی ﷺ، تم ان کے اموال میںسے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھا¶ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو، کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہِ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے(سورة التوبة....۴۰۱)
۵۔اللہ کُھلے اورچُھپے سب کو جانتا ہے
اور اے نبی ﷺ،ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسولﷺ اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرزِعمل اب کیا رہتا ہے، پھر تم اس کی طرف پلٹائے جا¶ گے جو کُھلے اور چُِھپے سب کو جانتا ہے،اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھیرا ہوا ہے، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے ان پر ازسرِنو مہربان ہوجائے۔اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔(سورة التوبة....۶۰۱)
۶۔ خوفِ خدا اور اللہ کی رضا
کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پُھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عباد ت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اِس سے پہلے خدا اور اس کے رسولﷺ کے خلاف برسرِپیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھاکر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو، اُس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کوپاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جاگری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہوجائیں۔ اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے( التوبة:۰۱۱)
۷۔ اللہ نے مومنوں کے مال و نفس خریدلیے
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراة اور انجیل اور قرآن میں۔ اورکون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں منا¶ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چُکالیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اس کی بندگی بجا لانے والے،اس کی تعریف کے گُن گانے والے، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے بیع کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیﷺ ان مومنوں کو خوشخبری دے دو۔ (سورة التوبة....۲۱۱)
۸ ۔ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا نہ کرو
نبی ﷺ کو اور ان لوگوںکو جو ایمان لائے ہیں،زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ ابراہیمؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کادشمن ہے تو وہ اس سے بے زار ہوگیا، حق یہ ہے کہ ابراہیمؑ بڑا رقیق القلب و خداترس اور بردبار آدمی تھا۔(سورة التوبة....۴۱۱)
۹۔ زندگی و موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے
اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کردے جب تک کہ اُنہیں صاف صاف بتا نہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے۔ درحقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ ہی کے قبضہ میں زمین اور آسمانوں کی سلطنت ہے، اسی کے اختیار میں زندگی و موت ہے، اور تمہارا کوئی حامی و مددگار ایسا نہیں ہے جو تمہیںاس سے بچاسکے۔اللہ نے معاف کردیا نبی ﷺ کو اور اُن مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی ﷺ کا ساتھ دیا۔ اگرچہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچلے تھے، (مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی ﷺ کا ساتھ دیا تو) اللہ نے انہیں معاف کردیا، بے شک اس کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کردیا گیا تھا۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامنِ رحمت کے سوا نہیں ہے تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ (سورة التوبة....۸۱۱)
۰۱۔ محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیںجاتا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔ مدینے کے باشندوں اور گردونواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسولﷺ کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہوکر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرینِ حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کوئی انتقام وہ لیں،اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عملِ صالح نہ لکھا جائے ۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیںجاتا ہے۔اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ وہ (راہ خدا میں) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطاکرے۔(سورة التوبة....۱۲۱)
۱۱۔ دین کی سمجھ کے حصول کے لیے نکلنا
اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہلِ ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کوخبردار کرتے تاکہ وہ (غیرمسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔( التوبة:۲۲۱)
۲۱۔ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تمہارے پاس ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ جب کوئی نئی سُورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے) پوچھتے ہیں کہ ”کہو، تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا؟“ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میںتو فی الواقع (ہر نازل ہونے والی سورت نے) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دلشاد ہیں، البتہ جن لوگوںکے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا تھا ان کی سابق نجاست پر (ہر نئی سورت نے) ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا اور وہ مرتے دم تک کفرہی میں مبتلا رہے۔ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔ جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے،پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیئے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔(سورة التوبة....۷۲۱)
۳۱۔ رسولِ خدا ہماری فلاح چاہتے ہیں
دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میںپڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوںکے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبیﷺ، ان سے کہہ دو کہ ”میرے لیے اللہ بس کرتا ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پرمیں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرشِ عظیم کا“۔ ( التوبة....۹۲۱)
۴۱۔ آسمانوں اور زمین کی چھ دنوں میں تخلیق
سورة یونس :اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ا ل ر، یہ اس کتاب کی آیات ہیںجو حکمت و دانش سے لبریز ہے۔کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے رب کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟ (اس پر) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کُھلا جادوگر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت ِسلطنت پر جلوہ گر ہوکر کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔ کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں ہے الّایہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو۔ پھر کیا تم ہوش میں نہ آ¶ گے؟ (ونس....۳)
۵۱۔ اللہ ہمیں دوبارہ پیدا کرے گا
اُسی کی طرف سے تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو انصاف کے ساتھ جزا دے،اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا تھا وہ کھولتا ہوا پانی پئیںاور دردناک سزا بھگتیں اُس انکارِ حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے( یونس:۴)
۶۱۔ سورج کو روشنی اور چاند کو چمک دی گئی
وہی ہے جس نے سورج کو اُجیالا بنایا اور چاند کوچمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کردیں تاکہ تم اس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ برحق ہی پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کررہا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ یقینا رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں اور ہر اس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غلط بینی و غلط روی سے) بچنا چاہتے ہیں۔(سورة یونس....۶)
۷۱۔ دنیا کی زندگی پر مطمئن رہنے والے لوگ
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا ان برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرزعمل کی وجہ سے) کرتے رہے۔(سورة یونس....۸)
۸۱۔ نیک لوگوں کے لیے نعمت بھری جنت
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کرلیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی، وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ ”پاک ہے تو اے خدا“، ان کی دعا یہ ہوگی کہ ”سلامتی ہو“ اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ”ساری تعریف اللہ رب العٰلمین ہی کے لیے ہے“۔ (سورة یونس....۰۱)
۹۱۔ اللہ سرکش لوگوں کو چھوٹ دیتا ہے
اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ بُرا معاملہ کرنے میں بھی اُتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مُہلتِ عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میںبھٹکنے کے لیے چھوٹ دے دیتے ہیں۔انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔ لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور ان کے رسول اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لاکر ہی نہ دیا۔ اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اب اُن کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے، تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔(سورة یونس....۴۱)
۰۲۔ اللہ کی آیات کو جُھوٹاکہنے والے
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ ”اس کے بجائے کوئی اور قرآن لا¶ یا اس میں کچھ ترمیم کرو“۔ اے نبی ﷺ، ان سے کہو ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدل کرلوں۔ میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوںجو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے“۔ اورکہو ”اگر اللہ کی مشیت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سُناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جُھوٹا قرار دے۔ یقینا مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے“۔(سورة یونس....۷۱)
۱۲۔ مختلف عقیدے اور مسلک بعد میں بنے
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کررہے ہیںجو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے نبیﷺ، ان سے کہو ”کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں“؟ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ابتدائًً سارے انسان ایک ہی امت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنالیے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کرلی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کررہے ہیں اُس کا فیصلہ کردیا جاتا۔اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اس نبی ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی، تو ان سے کہو ”غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے، اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں“۔(سورة یونس....۰۲)
۲۲۔ دنیا کی زندگی کے مزے چند روزہ ہیں
لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم اُن کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چالبازیاں شروع کردیتے ہیں۔ان سے کہو ”اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اُس کے فرشتے تمہاری سب مکاریوں کو قلم بند کررہے ہیں“۔ وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوکر باد ِموافق پر فرحاں و شاداں سفر کررہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِمخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میںگھرگئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کرکے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ”اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکرگزار بندے بنیں گے“۔ مگر جب وہ ان کو بچالیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہوکر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو، تمہاری یہ بغاوت تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے۔ دنیا کی زندگی کے چند روزہ مزے ہیں (لوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اس وقت ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ (سورة یونس....۳۲)
۳۲۔ زمین کی پیداوار، قادرِ مطلق کون؟
دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہوکر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہوگئی، پھر عین اس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پرقادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کرکے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں۔ (تم اس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہورہے ہو) اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ (ہدایت اس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔(سورة یونس....۵۲)
۴۲۔ مشرکین ،ان کے معبود اور قیامت
جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔ ان کے چہروں پرروسیاہی اور ذلت نہ چھائے گی۔ وہ جنت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اُن کی برائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے، ذلت ان پر مسلط ہوگی، کوئی اللہ سے اُن کو بچانے والا نہ ہوگا، اُن کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہوگی جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جا¶ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم اُن کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹادیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ ”تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے“۔ اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیر دیئے جائیںگے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوںنے گھڑ رکھے تھے گُم ہوجائیں گے۔(سورة یونس....۰۳)
۵۲۔ سماعت اور بینائی کی قوتوں کا مالک
ان سے پوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندارمیں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اس نظم عالم کی تدبیر کررہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ۔کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟ تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے۔ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا آخریہ تم کدھر پھرائے جارہے ہو؟ (اے نبی ﷺ دیکھو)اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پرتمہارے رب کی بات صادق آگئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے۔ (سورة یونس....۳۳)
۶۲۔ تخلیق کی ابتدا اور پھر اس کا اعادہ
ان سے پوچھو، تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟.... کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی، پھر تم یہ کس الٹی راہ پر چلائے جارہے ہو؟ان سے پوچھو تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔پھر بھلا بتا¶، جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا الاّیہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے، کیسے الٹے الٹے فیصلے کرتے ہو؟حقیقت یہ ہے کہ ان میںسے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں،حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔(سورة یونس....۶۳)
۷۲۔ قرآن پیغمبر ﷺکی تصنیف نہیں
اور یہ قرآن وہ چیز نہیںہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کرلیا جائے۔ بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آچکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے۔کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اسے خود تصنیف کرلیا ہے؟” اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو ایک سُورة اس جیسی تصنیف کرلا¶ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بلاسکتے ہو مدد کے لیے بلالو“۔اصل یہ ہے کہ جو چیز ان کے علم کی گرفت میںنہیں آئی اور جس کا مال بھی ان کے سامنے نہیں آیا، اس کو انہوںنے (خواہ مخواہ اٹکل پچّو) جُھٹلادیا۔ اسی طرح تو اس سے پہلے کے لوگ بھی جُھٹلاچکے ہیں، پھر دیکھ لو اُن ظالموں کا کیا انجام ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیںلائیں گے اور تیرا رب ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔(یونس....۰۴)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۸۲۔ ہر ایک کا عمل اسی کے لیے ہے
اگر یہ تجھے جھٹلاتے ہیں تو کہہ دے کہ ”میرا عمل میرے لیے ہے اورتمہارا عمل تمہارے لیے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری ہو اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں“۔ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں، مگر کیا تو بہروںکو سنائے گا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟ ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں، مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ اُنہیں کچھ نہ سُوجھتا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوںپر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ (آج یہ دنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ ان کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دنیا کی زندگی انہیں ایسی محسوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے۔ (اس وقت تحقیق ہوجائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوںنے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہرگز وہ راہ راست پر نہ تھے۔جن بُرے نتائج سے ہم انہیںڈرارہے ہیں اُن کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھادیں یا اُس سے پہلے ہی تجھے اٹھالیں، بہرحال انہیں آنا ہماری طرف ہی ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔(سورة یونس....۶۴)
۹۲۔ ہر اُمت کے لیے مہلت کی ایک مدت ہے
ہر اُمت کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب کسی اُمت کے پاس اُس کا رسول آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پورے انصاف کے ساتھ چکا دیاجاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیاجاتا۔کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہوگی؟ کہو ”میرے اختیار میں تو خود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیت پرموقوف ہے۔ ہر اُمت کے لیے مہلت کی ایک مدت ہے، جب یہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی“ ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچاکہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آجائے(تو تم کیا کرسکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کو ن سی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟ کیا جب وہ تم پر آپڑے اسی وقت تم اسے مانوگے؟.... اب بچنا چاہتے ہو؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کررہے تھے! پھر ظالموں سے کہاجائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جاسکتا ہے؟ پھر پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو ”میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے، اور تم اتنا بل بُوتا نہیںرکھتے کہ اسے ظُہور میںآنے سے روک دو“۔ (سورة یونس....۳۵)
۰۳۔ ظالم عذاب دیکھ کر پچھتائیں گے
اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، روئے زمین کی دولت بھی ہو تو اس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے گا۔ جب یہ لوگ اُس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میںپچھتائیں گے۔ مگر ان کے درمیان پورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا، کوئی ظلم ان پر نہ ہوگا۔ سنو! آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ کا ہے۔ سُن رکھو! اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔(یونس....۶۵)
۱۳۔ دلوں کے امراض کی شفا کس چیز میں ہے
لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبی ﷺ، کہو کہ ”یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں“۔ اے نبیﷺ، ان سے کہو ”تم لوگوںنے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھیرالیا“! ان سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو؟ جولوگ اللہ پر یہ جھوٹا افتراءباندھتے ہیں ان کا کیاگمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہوگا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے۔ (سورة یونس....۰۶)
۲۳۔ اللہ کے دفتر میں سب کچھ درج ہے
اے نبی ﷺ، تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سناتے ہو، اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اُس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی ذرّہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے،نہ چھوٹی نہ بڑی،جوتیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔ سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں،جو ایمان لائے اور جنہوںنے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اوررنج کا موقع نہیں ہے۔ دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں اُن کے لیے بشارت ہی بشارت ہے۔اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ اے نبیﷺ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ (سورة یونس....۵۶)
۳۳۔ اللہ نے رات کو آرام کے لیے بنایا
آگا ہ رہو!آسمانوں کے بسنے والے ہو یا زمین کے سب کے سب اللہ کے مملوک ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ (اپنے خودساختہ) شریکوںکو پکاررہے ہیں وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اورمحض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (کُھلے کانوں سے پیغبر کی دعوت کو) سُنتے ہیں۔(سورة یونس....۷۶)
۴۳۔ اللہ پر جھوٹے افتراءباندھنے والے
لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔سبحان اللہ!وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میںجو کچھ ہے سب اس کی مِلک ہے۔ تمہارے پاس اس قول کے لیے آخر دلیل کیاہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟ اے نبی ﷺ،کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراءباندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پاسکتے۔ دنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کرلیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے، پھر ہم اس کفرکے بدلے جس کا ارتکاب وہ کررہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔(سورة یونس....۰۷)
۵۳۔ نوح ؑ کی کشتی میںسوارلوگ بچالیے گئے
ان کو نوح ؑ کا قصہ سنا¶، اُس وقت کا قصہ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ”اے برادرانِ قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اوراللہ کی آیات سنا سناکر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہوگیا ہے تو میرابھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کرلو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اُس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کوئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اُس کو عمل میں لے آ¶ اور مجھے ہرگزمہلت نہ دو۔ تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ اورمجھے حکم دیاگیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں“....انہوںنے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور ان لوگوںکو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچالیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایا اور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوںنے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی انہوںنے مان کر نہ دیا) ان کا کیا انجام ہوا۔پھر نوح ؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوںنے پہلے جھٹلادیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا۔ اس طرح ہم حد سے گزرجانے والوںکے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیتے ہیں۔ ( یونس....۴۷)
۶۳۔ جادوگر فلاح نہیں پایا کرتے
پھر ان کے بعد ہم نے موسٰی ؑ اور ہارونؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوںنے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوںنے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔موسٰی ؑنے کہا”تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادو ہے؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیںپایا کرتے“۔ انہوںنے جواب میں کہا ”کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہوجائے؟ تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں“۔ اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے) کہاکہ ”ہر ماہر فن جادوگر کومیرے پاس حاضر کرو“۔.... جب جادوگر آگئے توموسٰی ؑنے ان سے کہا ”جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو“۔پھر جب انہوںنے اپنے آنچھر پھینک دیئے تو موسٰی ؑنے کہا ”یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادو ہے، اللہ ابھی اسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سدھرنے نہیں دیتا، اوراللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کردکھاتا ہے، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو“۔(سورة یونس....۲۸)
۷۳۔قومِ موسٰی ؑ کامصر میں قیام
(پھر دیکھو کہ) موسٰی ؑکو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا،فرعون کے ڈر سے اورخود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون اُن کو عذاب میںمبتلا کرے گا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میںغلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھاجو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں۔موسٰی ؑنے اپنی قوم سے کہاکہ ”لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو“۔ انہوںنے جواب دیا ”ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے“۔اور ہم نے موسٰی ؑاور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ”مصرمیںچند مکان اپنی قوم کے لیے مہیا کرو اوراپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرالو اور نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو بشارت دے دو“۔( یونس....۷۸)
۸۳۔ فرعون کے خلاف موسٰی ؑ کی دعا کی قبولیت
موسٰی ؑنے دعا کی ”اے ہمارے رب تونے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے۔ اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوںکو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کردے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں“۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ”تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے“۔(سورة یونس....۹۸)
۹۳۔ فرعون کی لاش برائے عبرت محفوظ کی گئی
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے۔ پھر فرعون اور اُس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے اُن کے پیچھے چلے۔حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا ”میں نے مان لیا کہ خداوندِ حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سرِاطاعت جھکادینے والوں میں سے ہوں“۔ (جواب دیاگیا) ”اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوںمیں سے تھا۔ اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشانِ عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیںجو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں“۔ ( یونس....۲۹)
۰۴۔بنی اسرائیل کو عمدہ وسائلِ زندگی ملی
ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائلِ زندگی کی انہیں عطا کیے۔ پھر انہوںنے باہم اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا تھا۔ یقینا تیرا رب قیامت کے رو ز ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ اب اگر تجھے اس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پرنازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوںمیں سے نہ ہو، اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوںنے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے، ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔(سورة یونس....۵۹)
۱۴۔جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے رب کا قول راست آگیا ہے ان کے سامنے خواہ کوئی نشانی آجائے وہ کبھی ایمان لاکر نہیں دیتے جب تک کہ دردناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔پھرکیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونس ؑکی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں)۔ وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میںرسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا۔اگرتیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میںسب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں؟ کوئی متنفس اللہ کے اِذن کے بغیر ایمان نہیںلاسکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ اُن پر گندگی ڈال دیتا ہے۔ (سورة یونس....۰۰۱)
۲۴۔جو لوگ ایمان لانا ہی نہیںچاہتے
ان سے کہو ”زمین اور آسمان میںجو کچھ ہے اُسے آنکھیں کھول کر دیکھو“۔ اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیںچاہتے ان کے لیے نشانیاں اورتنبیہیںآخر کیا مفید ہوسکتی ہیں؟اب یہ لوگ اس کے سوا اور کسی چیز کے منتظر ہیں کہ وہی بُرے دن دیکھیں جو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں؟ ان سے کہو”اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں“۔ پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوںکو اور ان لوگوں کو بچالیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں۔ ہمارا یہی طریقہ ہے۔ ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچالیں۔( یونس....۳۰۱)
۳۴۔ مصیبت و فضل سب مِن جانب اللہ ہے
اے نبی ﷺ، کہہ دو کہ ”لوگو، اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سُن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اُسی خدا کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے۔ مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔ اورمجھے سے فرمایاگیا ہے کہ یکسو ہوکر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کردے، اور ہرگز ہرگزمشرکوں میں سے نہ ہو۔ اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان، اگر تو ایسا کرے گاتو ظالموں میں سے ہوگا۔اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیںجو اس مصیبت کو ٹال دے،اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اوروہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“۔(سورة یونس....۷۰۱)
۴۴۔ اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
اے محمد ﷺ،کہہ دو کہ ”لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے۔اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے،اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اُسی کے لیے تباہ کن ہے۔اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں “۔ اور اے نبیﷺ ، تم اُس ہدایت کی پیروی کیے جا¶ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جارہی ہے،اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس....۹۰۱)
۵۴۔ اللہ سینوں میں چھپے بھید بھی جانتا ہے
سورة ہود : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے ولا ہے۔ ا ل ر۔ فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اورمفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آ¶ تووہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اُس کا فضل عطا کرے گا۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ دیکھو، یہ لوگ اپنے سینوں کوموڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔خبردار، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چُھپے کو بھی جانتا ہے اورکھلے کو بھی،وہ تو اُن بھیدوںسے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔(سورة ھود....۵)
اگست 21, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ 12 ومآمن دآبة کے مضامین
۱۔ ہر جاندارکا رزق اللہ کے ذمہ ہے
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسانہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے، اور کہاں وہ سونپاجاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفترمیں درج ہے۔اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میںپیداکیا .... جبکہ اس سے پہلے اُس کا عرش پانی پر تھا.... تاکہ تم کو آزماکردیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔اب اگر اے نبی ﷺ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جا¶ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔ اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے؟ سنو! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گااور وہی چیز ان کو آگھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑاہے ہیں۔(سورة ھود....۸)
۲۔اللہ کی رحمت سے محرومی پر ناشکری نیکی نہیں
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اُس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ہم اُسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پارہوگئے، پھر وہ پھولا نہیںسماتا اوراکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکوکار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔(سورة ھود....۱۱)
۳۔قرآن جیسی سورتیں کوئی نہیں بنا سکتا
تو اے پیغمبر ﷺ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کرنے سے) چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جارہی ہیں اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے ”اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا؟“ یا یہ کہ ”اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوںنہ آیا؟“، تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ داراللہ ہے۔کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبرﷺ نے یہ کتاب خود گھڑلی ہے؟ کہو، ”اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لا¶ اوراللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بُلاسکتے ہو توبُلالو اگر تم (اُنہیں معبود سمجھنے میں)سچے ہو۔ اب اگر وہ (تمہارے معبود) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا تم (اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کرتے ہو؟“ (سورة ھود....۴۱)
۴۔ طالبِ دنیا کو صرف دنیا ملتی ہے آخرت نہیں
جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (وہاں معلوم ہوجائے گاکہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے۔(سورة ھود....۶۱)
۵۔ اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اُس شہادت کی تائید میں) آگیا، اور پہلے موسٰی ؑکی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پرایمان ہی لائیں گے۔ اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبرﷺ، تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔(سورة ھود....۸۱)
۶۔ اندھا، بہرا اور دیکھنے ،سُننے والابرابر نہیں
سنو! خدا کی لعنت ہے ظالموںپر .... اُن ظالموںپر جو خدا کے راستے سے لوگوںکو روکتے ہیں،اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں، اور آخرت سے انکار کرتے ہیں .... وہ زمین میںاللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا۔ انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ وہ نہ کسی کی سُن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیںجنہوںنے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویاگیا جو انہوںنے گھڑ رکھا تھا۔ ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہوکر رہے، تو یقینا وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا، بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سُننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں؟ کیا تم (اس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟ (سورة ھود....۴۲)
۷۔ اللہ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا، نوح ؑ
(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) ”میں تم لوگوںکو صاف صاف خبردار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا“۔ جواب میں اس کی قوم کے سردار، جنہوںنے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے ”ہماری نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذِل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کرلی ہے۔ اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں“۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھے کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپک دیں؟ اور اے برادرانِ قوم، میں اس کام میں تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوںنے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔ اور اے قوم، اگرمیں ان لوگوںکو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟ اورمیں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔ا ور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایساکہوں تو ظالم ہوں گا“۔(سورة ھود....۱۳)
آخرکار اُن لوگوں نے کہاکہ ”اے نوحؑ،تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کرلیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آ¶ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو“۔ نوحؑ نے جواب دیا ”وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو۔ اب اگر میں تمہاری کچھ خیرخواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیرخواہی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا ہو، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے“۔اے نبیﷺ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو ”اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جُرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جُرم تم کررہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں“۔ (ھود....۵۳)
۸ ۔ نوح ؑ کو کشتی بنانے کا حکم
نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔ نوح ؑکشتی بنارہا تھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا۔ اس نے کہا ”اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں، عنقریب تمہیںخود معلوم ہوجائے گا کہ کس پروہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی“۔(ھود....۹۳)
۹۔ نوح ؑ کی کشتی میںہر قسم کے جانوررکھے گئے
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا ”ہر قسم کے جانوروںکا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھروالوں کو بھی .... سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جاچکی ہے.... اس میں سوار کرا دو اور اُن لوگوں کو بھی بٹھالو جو ایمان لائے ہیں“۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ نوح نے کہا ”سوار ہوجا¶ اس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے“۔(ھود....۱۴)
۰۱۔ نوح ؑ کابیٹا کشتی میں سوارنہیں ہوا
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جارہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوحؑ نے پکار کر کہا ”بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا، کافروں کے ساتھ نہ رہ“۔ اس نے پلٹ کر جواب دیا ”میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچالے گا“۔ نوح نے کہا ”آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے“۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔(سورة ھود....۳۴)
۱۱۔ بیٹے کے لئے نوح ؑ کی دعا رَد ہو گئی
حکم ہوا ”اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان رُک جا“۔ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیاگیا، کشتی جُودی پر ٹِک گئی،اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قوم!نوح ؑ نے اپنے رب کو پکارا۔ کہا ”اے رب، میرا بیٹا گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے“۔ جواب میں ارشاد ہوا”اے نوح ؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنالے“۔ نوحؑ نے فوراً عرض کیا ”اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجا¶ں گا“۔(سورة ھود....۷۴)
حکم ہوا ”اے نوح ؑ اترجا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور اُن گروہوں پرجو تیرے ساتھ ہیں،اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیںجن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا“۔اے نبیﷺ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔(سورة ھود....۹۴)
۲۱۔ اللہ نے عاد کی طرف ہود ؑ کو بھیجا
اور عاد کی طرف ہم نے اُن کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، تمہارا کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے۔ تم نے محض جھوٹ گھڑرکھے ہیں۔ اے برادران ِقوم، اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا اجر تو اُس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے؟ اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اُس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ مجرم بن کر (بندگی سے) منہ نہ پھیرو“۔انہوں نے جواب دیا ”اے ہودؑ، تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے،اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے“۔(سورة ھود....۴۵)
۳۱۔ ہر جاندار اللہ کے کنٹرول میں ہے،ہود ؑ
ہودؑ نے کہا ”میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں۔اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میںبیزار ہوں۔ تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھا رکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو، میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔ اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو۔ جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں۔ اب میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھائے گا اور تم اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔یقینا میرا رب ہر چیز پرنگراں ہے“۔ (سورة ھود....۷۵)
۴۱۔ قومِ عاد دور پھینک دئےے گئے
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود ؑ کو اور ان لوگوں کوجو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیںبچالیا....یہ ہیںعاد، اپنے رب کی آیات سے انہوں نے انکارکیا، اس کے رسولوں کی بات نہ مانی اور ہرجبار دشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے۔ آخرکار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی۔سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔سنو! دور پھینک دیئے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ۔ (سورة ھود....۰۶)
۵۱۔ اللہ نے قومِ ثمود کی طرف صالح ؑ کو بھیجا
اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیںہے۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔ لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آ¶، یقینا میرا رب قریب ہے اور وہ دعا¶ں کا جواب دینے والا ہے“۔انہوں نے کہا ”اے صالح ؑ، اس سے پہلے تُو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بُلارہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے“۔(سورة ھود....۲۶)
۶۱۔ اہلِ ثمود نے اللہ کی اونٹنی کو مار ڈالا
صالحؑ نے کہا ”اے میرے برادران ِقوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اُس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو۔ اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو۔ اس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے گا۔مگر انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا۔ اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کردیا کہ ”بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو۔ یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی“۔(سورة ھود....۵۶)
۷۱۔کفر کے حامل اہلِ ثمود دور پھینک دئےے گئے
آخرکار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح ؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا۔ بے شک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے اُن کو دھرلیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔سُنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سُنو! دور پھینک دیئے گئے ثمود!(سورة ھود....۸۶)
۸۱۔ ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ و یعقوب ؑ کی خوشخبری
اور دیکھو، ابراہیم ؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے۔ کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم ؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلامتی ہو۔پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیم ؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا۔ مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا۔ انہوں نے کہا ”ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف سے بھیجے گئے ہیں، ابراہیم ؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ یہ سن کر ہنس دی۔ پھر ہم نے اس کو اسحاق ؑ کی اور اسحاق ؑ کے بعد یعقوب ؑ کی خوشخبری دی۔ وہ بولی ”ہائے میری کم بختی! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہوگئی اور میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے“۔ فرشتوںنے کہا ”اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیم ؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں، اور یقینا اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے“۔ (سورة ھود....۳۷)
۹۱۔قومِ لوط ؑ پر عذاب،ابراہیم ؑ کی سفارش رَد
پھر جب ابراہیم ؑکی گھبراہٹ دور ہوگئی اور (اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہوگیا تو اُس نے قومِ لوط ؑ کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا۔ حقیقت میں ابراہیم ؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا۔ (آخرکار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا) ”اے ابراہیم ؑ ، اس سے باز آجا¶، تمہارے رب کا حکم ہوچکا ہے اور اب ان لوگوں پر وہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیںپھر سکتا“۔(سورة ھود....۶۷)
۰۲۔ فرشتوں کا لوط ؑ کے گھر مہمان بن کر آنا
اور جب ہمارے فرشتے لوط ؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن ہے۔ (ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ پہلے سے وہ ایسی ہی بدکاریوں کے خوگر تھے۔ لوط ؑ نے ان سے کہا ”بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔ کچھ خداکا خوف کرو اورمیرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟“ انہوں نے جواب دیا ”تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں“۔ لوط ؑنے کہا ”کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کردیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا“۔ (سورة ھود....۰۸)
۱۲۔ قومِ لوط ؑ پر پتھروں کی بارش کا عذاب
تب فرشتوں نے اس سے کہاکہ ”اے لوط ؑ، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جا۔ اور دیکھو تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ مگر تیری بیوی (ساتھ نہیں جائے گی)کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو ان لوگوںپر گزرنا ہے۔ ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے .... صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے“! پھر جب ہمارے فیصلہ کا وقت آپہنچا تو ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کردیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں۔ (سورة ھود....۳۸)
اگست 22, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 1
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
22۔ اللہ نے اہلِ مدین کی طرف شعیب ؑ کو بھیجا
اور مدین والوں کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔اس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا۔ اور اے برادرانِ قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فسادنہ پھیلاتے پھرو۔ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگرانِ کار نہیں ہوں“۔(سورة ھود....۶۸)
۳۲۔ شعیب ؑ کی نصیحت، قوم کی ہٹ دھرمی
انہوںنے جواب دیا ”اے شعیب ؑ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے بابا دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے“! شعیبؑ نے کہا ”بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟) اورمیں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رُجوع کرتا ہوں۔ اور اے برادرانِ قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچادے کہ آخرکار تم پر بھی وہی عذاب آکر رہے جو نوح ؑ یا ہود ؑ یا صالح ؑکی قوم پر آیا تھا۔ اورلوط ؑکی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے۔دیکھو! اپنے رب سے معافی مانگو اور اُس کی طرف پلٹ آ¶، بے شک میرا رب رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے“۔(سورة ھود....۰۹)
۴۲۔ مدین کی بستیاں سخت دھماکے سے تباہ
انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو“۔شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، کیا میری برادری تم پراللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پسِ پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کررہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جا¶ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گاکہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اورمیں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں“۔آخرکار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب ؑ اور اس کے ساتھی مومنوںکو بچالیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے۔سنو! مدین والے بھی دور پھینک دیئے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے۔(سورة ھود....۵۹)
۵۲۔ فرعون اور اس کے پیروکار دوزخی ہیں
اور موسٰی ؑکو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی سندِ ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا، مگر انہوںنے فرعون کے حکم کی پیروی کی، حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔ قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگااور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا۔ کیسی بدتر جائے ورُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے! اور اُن لوگوں پردنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی۔ کیسا بُرا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!( ھود....۹۹)
۶۲۔ ظالم بستیوں پر اللہ کی پکڑسخت ہوتی ہے
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنارہے ہیں۔ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا، انہوںنے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا اُنہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہواکرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اوردردناک ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو عذابِ آخرت کا خوف کرے۔(سورة ھود....۳۰۱)
۷۲۔ قیامت کے آنے میںدیر نہیں
وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کررہے ہیں، بس ایک گنی چُنی مدت اُس کے لیے مقرر ہے۔جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی،الاّیہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوں گے اورکچھ نیک بخت۔ جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پُھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، الاّیہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، الاّیہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ایسی بخشش ان کوملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ پس اے نبی ﷺ، تو اُن معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کررہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیرکے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پُوجا پاٹ کیے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے، اور ہم ان کا حصہ انہیںبھرپور دیں گے بغیراس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔(ھود:۹۰۱)
۸۲۔ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں
ہم اس سے پہلے موسٰی ؑکو بھی کتاب دے چکے ہیں اوراس کے بارے میں بھی اختلاف کیاگیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیاجارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے)۔ اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو اُن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیاگیا ہوتا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں۔اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ پس اے نبیﷺ، تم، اورتمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیساکہ تمہیں حکم دیاگیا ہے۔ اور بندگی کی حد سے تجاوزنہ کرو۔ جو کچھ تم کررہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجا¶ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی وسرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچاسکے اورکہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں،یہ ایک یاددہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ (سورة ھود....۵۱۱)
۹۲۔ اللہ جہنم کونافرمان جن و انس سے بھردےگا
پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہلِ خیرموجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم ، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیئے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔ بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان) کے لیے تو اس نے انہیںپیدا کیا تھا۔اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا۔(ھود....۹۱۱)
۰۳۔ پیغمبروں کے قصے، نصیحت کے لےے ہیں
اور اے نبی ﷺیہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں، انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیاجاتا ہے۔ پس اے نبیﷺ ، تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ، جو کچھ تم لوگ کررہے ہو تیرا رب اس سے بے خبر نہیں ہے(ھود:۳۲۱)
۱۳۔ قرآن میں واقعات و حقائق کا بیان ہے
سورہ¿ یُوسُف ؑ:اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ا َ، لَ، رَ۔ یہ اُس کتاب کی آیات ہیںجو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتی ہے۔ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بناکر عربی زبان میں تاکہ تم (اہل عرب) اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔ اے نبیﷺ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کرکے بہترین پیرایہ میںواقعات اورحقائق تم سے بیان کرتے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے) تم بالکل ہی بے خبر تھے۔
(سورة یوسف....۳)
۲۳۔ خوابِ یوسف ؑ:چاند ستاروں کا سجدہ کرنا
یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسف ؑ نے اپنے باپ سے کہا ”اباجان، میںنے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیںاور سورج اور چاند ہیں اوروہ مجھے سجدہ کررہے ہیں“۔ جواب میں اس کے باپ نے کہا، ”بیٹا اپنا یہ خواب اپنے بھائیوںکو نہ سُنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہوجائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔ اورایسا ہی ہوگا (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے کہ) تیرا رب تجھے (اپنے کام کے لیے) منتخب کرے گا اور تجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھائے گا اورتیرے اوپر اورآلِ یعقوبؑ پر اپنی نعمت اُسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ابراہیمؑ، اور اسحاق ؑ پر کرچکا ہے، یقینا تیرا رب علیم اور حکیم ہے“۔( یوسف....۶)
۳۳۔ یوسف ؑ کے خلاف بھائیوں کی سازش
حقیقت یہ ہے کہ یُوسف ؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں ان پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اُس کے بھائیوں نے آپس میں کہا ”یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی، دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں، حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں، سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔چلو یُوسف کو قتل کردو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے۔ یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا“۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ”یوسف ؑ کوقتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو، کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا“۔ اس قرارداد پر انہوںنے جاکر اپنے باپ سے کہا ”اباجان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیرخواہ ہیں؟ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے، کچھ چرچُگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں“۔باپ نے کہا، ”تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اورمجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو“۔ انہوں نے جواب دیا ”اگر ہمارے ہوتے اسے بھیڑیے نے کھالیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں، تب تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے“۔(سورة یوسف....۴۱)
۴۳۔ یوسف ؑ کو کنویں میں پھینک کر واویلا مچانا
اس طرح اصرار کرکے جب وہ اسے لے گئے اور انہوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنوئیں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یوسف ؑ کو وحی کی کہ ”ایک وقت آئے گا جب تو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں“۔ شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے اورکہا، ”ابا جان ، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میںلگ گئے تھے اور یوسف ؑکو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھاگیا۔ آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں“۔ اور وہ یوسف ؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگاکر لے آئے تھے۔ یہ سُن کر ان کے باپ نے کہا ”بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنادیا۔ اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی صبر کروں گا،جو بات تم بتارہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے“۔(سورة یوسف....۸۱)
۵۳۔ یوسف ؑ کا بِکا جانا
اُدھر ایک قافلہ آیا اور اس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیجا۔سقے نے جو کنوئیں میں ڈول ڈالا تو (یوسف ؑ ؑکو دیکھ کر) پکار اٹھا ”مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے“۔ ان لوگوں نے اُس کو مال تجارت سمجھ کر چُھپالیا، حالانکہ جو کچھ وہ کررہے تھے خدا اس سے باخبر تھا۔ آخرکار انہوںنے تھوڑی سی قیمت پر چند درہموںکے عوض اُسے بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔(سورة یوسف....۰۲)
۶۳۔ یوسف ؑ کی عزیزِ مصرکے گھرپرورش
مصرکے جس شخص نے اسے خریدااس نے اپنی بیوی سے کہا ”اس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹابنالیں“۔ اس طرح ہم نے یوسف ؑکے لیے اس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا، اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں۔ (سورة یوسف....۲۲)
۷۳۔ دامنِ یوسف ؑ تارتار کرنے کی سازش
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی ”آجا“۔ یوسف ؑ ؑنے کہا، ”خدا کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں!) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے“۔ وہ اس کی طرف بڑھی اوریوسف ؑبھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی بُرہان نہ دیکھ لیتا۔ ایسا ہوا، تاکہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کردیں، درحقیقت وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔ آخرکار یوسف ؑاور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسف ؑ کا قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دیا۔ دروازے پر دونوں نے اُس کے شوہر کو موجود پایا۔اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، ”کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے؟ اس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیاجائے؟“یوسف ؑ نے کہا ”یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کررہی تھی“۔ اُس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی)شہادت پیش کی کہ ”اگر یوسف ؑکا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا، اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا“۔ جب شوہرنے دیکھا کہ یوسف ؑکا قمیص پیچھے سے پھٹاہے تو اس نے کہا ”یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ یوسف ؑاس معاملے سے درگزر کر۔ اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطاکار تھی“۔ (سورة یوسف....۹۲)
۸۳۔ حسنِ یوسف ؑ، عورتوں کا ہاتھ کاٹ لینا
شہرکی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ ”عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کررکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کررہی ہے“۔ اس نے جو ان کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اُن کو بُلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چُھری رکھ دی، (پھر عین اس وقت جبکہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھارہی تھیں) اُس نے یُوسف ؑ کواشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب اُن عورتوں کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پکار اٹھیں ”حاشا وللہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے“۔ عزیز کی بیوی نے کہا ”دیکھ لیا، یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں۔ بے شک میں نے اسے رِجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا،اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیاجائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا“۔ یوسف ؑ ؑنے کہا ”اے میرے رب! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تومیں ان کے دام میں پھنس جا¶ں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا“۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیںاس سے دفع کردیں۔ بے شک وہی ہے جو سب کی سُنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔پھر اُن لوگوں کو یہ سُوجھی کہ ایک مدت کے لیے اُسے قید کردیں حالانکہ وہ (اس کی پاک دامنی اور خود اپنی عورتوں کے بُرے اطوار کی) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے (سورة یوسف....۵۳)
۹۳۔ قیدی یوسف ؑ کا خواب کی تعبیربتلانا
قیدخانے میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے۔ ایک روز ان میں سے ایک نے کہا ”میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشیدکررہا ہوں“۔ دوسرے نے کہا ”میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھارہے ہیں“۔دونوں نے کہا ”ہمیں اس کی تعبیر بتایئے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں“۔یوسف ؑنے کہا ”یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیربتادوں گا۔ یہ اُن علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں۔(سورة یوسف....۷۳)
۰۴۔ زنداں میںیوسف ؑ کی وعظ و نصیحت
واقعہ یہ ہے کہ میںنے اُن لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں، اپنے بزرگوں،ابراہیم ؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں۔درحقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پراور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اے زنداں کے ساتھیو! تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کررہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبا¶اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے اُن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھایا جائے گا اورپرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔فیصلہ ہوگیا اس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے“۔پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اُس سے یوسف ؑنے کہا ”اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا“۔ مگر شیطان نے اُسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہِ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف ؑکئی سال قیدخانے میں پڑا رہا۔ (سورة یوسف....۲۴)
۱۴۔ یوسف ؑ کابادشاہ کے خواب کی تعبیر بتلانا
ایک روز بادشاہ نے کہا ”میںنے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں، اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی۔ اے اہلِ دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتا¶ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو“۔ لوگوںنے کہا ”یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوںکا مطلب نہیں جانتے“۔اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اسے ایک مدتِ دراز کے بعد اب بات یاد آئی،اس نے کہا ”میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قیدخانے میںیوسف ؑکے پاس) بھیج دیجئے“۔(سورة یوسف....۵۴)
اُس نے جاکر کہا ”یوسف ؑ، اے سراپا راستی، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی ، شاید کہ میں ان لوگوں کے پاس واپس جا¶ں اور شاید کہ وہ جان لیں“۔ یوسف ؑنے کہا سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے۔ اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا حصہ،جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو۔ پھر سات برس بہت سخت آئیں گے۔ اس زمانے میں وہ سب غلہ کھالیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے۔ اگر کچھ بچے گا تو بس وہی تم نے محفوظ کررکھا ہو۔ اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میںبارانِ رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے“۔(سورة یوسف....۹۴)
۲۴۔عورتوں کاکردارِیوسف ؑ کی گواہی دینا
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لا¶۔ مگر جب شاہی فرستادہ یوسف ؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا ”اپنے رب کے پاس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے“۔ اس پر بادشاہ نے عورتوں سے دریافت کیا ”تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف ؑکو رجھانے کی کوشش کی تھی؟“سب نے یک زبان ہوکر کہا”حاشاوللہ، ہم نے تو اس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا“۔عزیز کی بیوی بول اٹھی ”اب حق کھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے“۔(یوسف ؑنے کہا) ”اس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز) یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اُس کی خیانت نہیں کی تھی، اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا۔ (سورة یوسف....۲۵)
اگست 22, 2011
پسندیدہ پسندیدہ × 1
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔13 ومآابرّی کے مضامین
۱۔ بادشاہ کا یوسف ؑپر بھروسہ کرنا
میں کچھ اپنے نفس کی برا¿ت نہیں کررہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الاّیہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے“۔بادشاہ نے کہا ”انہیں میرے پاس لا¶ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں“۔جب یوسف ؑنے اس سے گفتگو کی تواس نے کہا ”اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے“۔ یوسف ؑنے کہا، ”ملک کے خزانے میرے سپرد کیجئے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں“(سورة یوسف....۵۵)
اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف ؑکے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں،نیک لوگوں کا اجرہمارے ہاں مارا نہیں جاتا،اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ (سورة یوسف....۷۵)
۲۔ یوسف ؑکے بھائی مصر آئے
یوسف ؑکے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے۔اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے ناآشنا تھے۔ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا ”اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لا¶ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا“۔ انہوںنے کہا ”ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے“۔ یوسف ؑنے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ ”ان لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو“۔ یہ یوسف ؑنے اس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں۔ (سورة یوسف....۲۶)
۳۔ زیادہ غلہ کے لئے یوسف ؑ کی شرط
جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا ”ابا جان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں۔اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں“۔ باپ نے جواب دیا ”کیا میںاس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ کرچکا ہوں؟ اللہ ہی بہترمحافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے“۔ پھر جب انہوںنے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ اُن کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے۔ ”ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیاگیا ہے۔ بس اب ہم جائیں گے اوراپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے کر آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریںگے اورایک بار شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلّہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا“۔ ان کے باپ نے کہا ”میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آ¶ گے الاّیہ کہ تم گھیر ہی لیے جا¶“۔ جب انہوںنے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیئے تو اس نے کہا ”دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے“۔ پھراس نے کہا ”میرے بچو، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔ مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پرکرے“۔ اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق
شہر میں (متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدابیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں بس یعقوبؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کرلی۔ بیشک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔(سورة یوسف....۸۶)
۴۔ اپنے سگے بھائی کو پکڑوانے کی ترکیب
یہ لوگ یوسف ؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلالیااور اسے بتادیا کہ ”میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو ان باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں“۔جب یوسف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تواس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکارکر کہا ”اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو“۔ انہوں نے پلٹ کر پوچھا ”تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟“ سرکاری ملازموںنے کہا ”بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا“۔ (اور اُن کے جمعدار نے کہا) ”جو شخص لاکر دے گا اس کے لیے ایک بار شتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں“ ان بھائیوںنے کہا ”خداکی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں“انہوںنے کہا ”اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟“ انہوں نے کہا ”اس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیزنکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے“۔ تب یوسف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی.... اس طرح ہم نے یوسف ؑکی تائید اپنی تدبیر سے کی۔ اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میںاپنے بھائی کو پکڑتا الاّیہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں، اورایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب ِعلم سے بالاتر ہے۔(سورة یوسف....۶۷)
ان بھائیوں نے کہا ”یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف ؑ) بھی چوری کرچکا ہے“۔یوسف ؑان کی یہ بات سُن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی، بس (زیرلب) اتنا کہہ کر رہ گیاکہ ”بڑے ہی بُرے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگارہے ہو اس کی حقیقت خُدا خوب جانتا ہے“۔ انہوں نے کہا ”اے سردارِ ذی اقتدار (عزیز)اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں“۔یوسف ؑ نے کہا ”پناہ بخدا، دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں؟جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے“۔ ( یوسف....۹۷)
۵۔ برادرانِ یوسف ؑکی پریشانی
جب وہ یوسف ؑسے مایوس ہوگئے تو ایک گوشے میں جاکر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا ”تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر عہد و پیمان لے چکے ہیں؟ اور اس سے پہلے یوسف ؑ کے معاملہ میں جو تم کرچکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جا¶ں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم جاکر اپنے والد سے کہو کہ اباجان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کررہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے۔ آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم تھے۔ اُس قافلے سے دریافت کیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں“۔ (سورة یوسف....۲۸)
۶۔ بیٹوں کے غم میں یعقوب ؑ کی افسردگی
باپ نے یہ داستان سن کر کہا ”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنادیا۔ اچھا اس پر بھی صبرو کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لاملائے،وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں“۔ پھروہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اورکہنے لگاکہ ”ہائے یوسف ؑ!“.... وہ دل ہی دل میں غم سے گُھٹا جارہا تھا اوراس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں .... بیٹوں نے کہا ”خدارا! آپ تو بس یوسف ؑہی کو یادکیے جاتے ہیں۔نوبت یہ آگئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گُھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کرڈالیں گے“۔ اُس نے کہا ”میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔میرے بچو، جاکر یوسف ؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگا¶، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں“۔ (سورة یوسف....۷۸)
۷۔ یوسف ؑ کا بھائیوں کو اپنی حقیقت بتلانا
جب یہ لوگ مصر جاکر یوسف ؑکی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوںنے عرض کیا کہ ”اے سردارِ بااقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں، اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں، اللہ خیرات دینے والوں کو جزا دیتا ہے“۔ (یہ سن کر یوسف ؑ سے نہ رہاگیا) اس نے کہا ”تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف ؑاورا س کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے؟“وہ چونک کر بولے، ”ہائیں! کیا تم یوسف ؑ ہو؟“ اس نے کہا ”ہاں، میں یوسف ؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجرمارا نہیںجاتا“۔ انہوںنے کہا ”بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطاکار تھے“۔ اُس نے جواب دیا، ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ جا¶ ، میرا یہ قمیص لے جا¶ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، ان کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آ¶“۔ (یوسف....۳۹)
۸۔ یعقوب ؑ کی بینائی لوٹ آئی
جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا ”میں یوسف ؑکی خوشبومحسوس کررہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیاگیا ہوں“۔ گھر کے لوگ بولے”خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اُسی پُرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں“۔پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تواس نے یوسف ؑکا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی۔ تب اس نے کہا ”میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے“۔ سب بول اٹھے ”ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطاکار تھے“۔ اس نے کہا، ”میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے“۔ ( یوسف....۸۹)
۹۔ بھائیوںکا یوسف ؑ کے آگے سجدہ ریزہونا
پھر جب یہ لوگ یوسف ؑکے پاس پہنچے توا س نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھالیا اور (اپنے سب کُنبے والوں سے) کہا ”چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے“۔ (شہرمیں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھاکر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اورسب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے۔ یوسف ؑنے کہا، اباجان، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنادیا۔ اُس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوںکو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا، حالانکہ شیطان میرے اورمیرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیرمحسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے۔ اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ
اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا“۔ ( یوسف....۱۰۱)
اے نبیﷺ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کررہے ہیں، ورنہ تم اس وقت موجود نہ تھے جب یوسف ؑکے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کرکے سازش کی تھی۔ مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں۔ حالانکہ تم اس خدمت پران سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔ (سورة یوسف....۴۰۱)
۰۱۔ زمین اور آسمانوں میںاللہ کی نشانیاں
زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے۔ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہیں۔ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟ تم ان سے صاف کہہ دو کہ ”میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بُلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں“۔(یوسف....۸۰۱)
۱۱۔ سارے پیغمبر ؑ انسان ہی تھے
اے نبی ﷺ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے اور انہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے، اورا ُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموںکا انجام انہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقینا آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر) تقویٰ کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟ (پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوںنے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچالیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جاسکتا۔ اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جارہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔ (سورة یوسف....۱۱۱)
۲۱۔ آفتاب و ماہتاب ایک قانون کا پابند ہیں
سورة رعد: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اَ۔لَ۔مَ۔رَ۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں، اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیاگیا ہے وہ عین حق ہے، مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں، پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا۔ اس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقت مقرر تک کے لیے چل رہی ہے اور اللہ ہی اس سارے کام کی تدبیر فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاںکھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔ (سورة الرعد....۲)
۳۱۔ پہاڑ زمین کے کھونٹے ہیں
اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہا دیئے ہیں۔ اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتا ہے۔ ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔ (الرعد....۳)
۴۱۔ایک ہی پانی سے الگ الگ مزے
اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیںجو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں۔ انگور کے باغ ہیں، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنادیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔( الرعد....۴)
اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ ”جب ہم مرکر مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟“ یہ وہ لوگ ہیں جنہوںنے اپنے رب سے کفرکیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ لوگ بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (جو لوگ اس روش پرچلے ہیں ان پر خدا کے عذاب کی) عبرتناک مثالیں گزر چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رب سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ لوگ جنہوںنے تمہاری بات ماننے سے انکار کردیا ہے، کہتے ہیں کہ ”اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتری؟“ تم تو محض خبردار کردینے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے (الرعد....۷)
۵۱۔ اللہ حمل کی تفصیلات تک سے واقف ہے
اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے۔ وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہر چیز کا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے۔ (الرعد:۹)
۶۱۔اللہ کسی قوم کی حالت کب تک نہیں بدلتا ؟
تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ،اور کوئی رات کی تاریکی میں چُھپا ہوا ہو یا دن کی روشنی میں چل رہا ہو، اس کے لیے سب یکساں ہیں، ہر شخص کے آگے اور پیچھے اس کے مقرر کیے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہوسکتا ہے۔(سورة الرعد....۱۱)
۷۱۔ پانی سے لدے بادل اور کڑکتی بجلیاں
وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے۔ بادلوں کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے۔ اور (بسا اوقات) انہیں جس پر چاہتا ہے عین اُس حالت میں گرادیتا ہے جبکہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ فی الواقع اُس کی چال بڑی زبردست ہے۔ (سورة الرعد....۳۱)
۸۱۔ غیر اللہ کو پکارنے والے کی مثال
اُسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ ان کی دعا¶ں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ انہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلاکر اس سے درخواست کرے کہ تومیرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرِ بے ہدف! وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعًا و کرھًا سجدہ کررہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اُس کے آگے جُھکتے ہیں۔(سورة الرعد....۵۱)
۹۱۔اللہ کے علاوہ دیگر معبودوں کو کارساز بنانا
ان سے پوچھو، آسمان و زمین کا رب کون ہے؟ کہو، اللہ۔ پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرالیا جوخود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟کہو، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہواکرتا ہے؟ کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں تو کیا ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اس کی وجہ سے ان پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہوگیا؟ کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے،سب پر غالب! (سورة الرعد....۶۱)
۰۲۔ پانی کا برسنا اور ندی نالہ کا بہنا
اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔ پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے۔ اور ایسے ہی جھاگ ان دھاتوں پربھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔ اسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیرجاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔(سورة الرعد....۷۱)
۱۲۔ رب کی دعوت قبول نہ کرنے کی سزا
جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی ان کے لیے بھلائی ہے، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اُتنی ہی اور فراہم کرلیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیار ہوجائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیںجن سے بُری طرح حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، بہت ہی بُرا ٹھکانا۔ (سورة الرعد....۸۱)
اگست 23, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۲۲۔ نصیحت دانشمند لوگ قبول کرتے ہیں
بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہوجائیں؟ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔ اور ان کا طرزِعمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں،اسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے۔ ان کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے عَلانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں، اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔(سورة الرعد....۲۲)
۳۲۔ جنت میں فرشتے استقبال کریں گے
آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے۔ یعنی ایسے باغ جو ان کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور اُن کے آبا¶ اجداد اور اُن کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو صالح ہیں وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے ان کے استقبال کے لیے آئیں گے اور ان سے کہیں گے ”تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو“۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر! رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اورجو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت بُرا ٹھکانا ہے۔اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا رزق دیتا ہے۔ یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں، حالانکہ دنیاکی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاعِ قلیل کے سوا کچھ
بھی نہیں۔ (سورة الرعد....۶۲)
۴۲۔دلوں کا اطمینان اللہ کی یاد میں ہے
یہ لوگ جنہوں نے (رسالتِ محمدی ﷺ کو ماننے سے) انکار کردیا ہے، کہتے ہیں، اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری“....کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوںنے (اس نبی ﷺکی دعوت کو) مان لیا ہے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ پھر جن لوگوں نے دعوتِ حق کو مانا اور نیک عمل کیے وہ خوش نصیب ہیں اور ان کے لیے اچھا انجام ہے۔(سورة الرعد....۹۲)
۵۲۔مصیبت کرتوتوں کی وجہ سے آتی رہتی ہے
اے نبی ﷺ، اسی شان سے ہم نے تم کو رسول بناکر بھیجا ہے ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزرچکی ہیں، تاکہ تم ان لوگوں کو وہ پیغام سنا¶ جو ہم نے تم پرنازل کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان خداکے کافر بنے ہوئے ہیں۔ ان سے کہو کہ وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میراملجا و ماویٰ ہے۔ اورکیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیاجاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہوجاتی، یا مردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پھرکیا اہلِ ایمان (ابھی تک کفارکی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ جن لوگوںنے خدا کے ساتھ کفرکا رویہ اختیار کر رکھا ہے ان پر اُن کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیںنازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقینا اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جاچکا ہے، مگر میںنے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخرکار ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔(سورة الرعد....۲۳)
۶۲۔ خدا کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا
پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے (اس کے مقابلے میں یہ جسارتیںکی جارہی ہیں کہ) لوگوںنے اس کے کچھ شریک ٹھیرا رکھے ہیں؟ اے نبیﷺ، ان سے کہو (اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو) ذرا ان کے نام لو کہ وہ کون ہیں؟.... کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میںآتا ہے کہہ ڈالتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کے لیے ان کی مکاریاں خوشنما بنادی گئی ہیں اور وہ راہ راست سے روک دیئے گئے ہیں، پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو انہیں خدا سے بچانے والا ہو۔ خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیاگیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں
بہہ رہی ہیں،اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا۔اورمنکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔(سورة الرعد....۵۳)
۷۲۔ رسول از خود کوئی نشانی نہیں دکھا سکتا
اے نبی ﷺ، جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، خوش ہیں اورمختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیںجو اس کی بعض باتوںکو نہیں مانتے۔ تم صاف کہہ دو کہ ”مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیاگیا ہے اور اس سے منع کیاگیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھیرا¶ں، لہٰذا میں اُسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرارجوع ہے“۔ اسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمانِ عربی تم پر نازل کیا ہے۔اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچاسکتا ہے۔ تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا اورکسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی خود لادکھاتا۔ ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے۔ اللہ جو کچھ چاہتاہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔ (سورة الرعد....۹۳)
۸۲۔ اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی
اور اے نبی ﷺ، جس بُرے انجام کی دھمکی ہم ان لوگوںکو دے رہے ہیں اس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھادیں یا اس کے ظہورمیں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں،بہرحال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف
سے تنگ کرتے چلے آتے ہیں؟ اللہ حکومت کررہا ہے، کوئی اس کے فیصلوںپر نظرثانی کرنے والا نہیں ہے اور اسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ان سے پہلے جو لوگ ہوگزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں، مگر اصل فیصلہ کُن چال تو پوری کی پوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کررہا ہے، اور عنقریب یہ منکرینِ حق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے۔ یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہو، ”میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر اس شخص کی گواہی جو کتابِ آسمانی کا علم رکھتا ہے۔“۔(سورة الرعد....۳۴)
۹۲۔دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا
سورة ابراہیم :اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ اَ۔لَ۔رَ۔ اے محمد ﷺ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا¶، ان کے رب کی توفیق سے، اس خداکے راستے پر جو زبردست اوراپنی ذات میں آپ محمود ہے اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے۔ اور سخت تباہ کُن سزا ہے قبولِ حق سے انکار کرنے والوں کے لیے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (اُن کی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا ہوجائے۔ یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے ،وہ بالادست اورحکیم ہے۔ (سورة ابراہیم....۴)
۰۳۔ تاریخِ الٰہی کے واقعات سبق آموز ہیں
ہم اس سے پہلے موسٰی ؑکو بھی اپنی نشانیوںکے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخِ الٰہی کے سبق آموز واقعات سناکر نصیحت کر۔ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ یاد کرو جب موسٰی ؑنے اپنی قوم سے کہا ”اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔اس نے تم کو فرعون والوں سے چھُڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کرڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچا رکھتے تھے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔(سورة ابراہیم....۶)
۱۳۔ کُفرانِ نعمت کی سزا بہت سخت ہے
اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکرگزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے“۔ اورموسٰی ؑنے کہاکہ ”اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے“۔ (سورة ابراہیم....۸)
۲۳۔ اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے
کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں؟ قومِ نوحؑ،عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیںجن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ ان کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اورکھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوںنے اپنے منہ میں ہاتھ دبالیے اور کہاکہ ”جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیںدعوت دیتے ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں“۔ ان کے رسولوںنے کہا ”کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے“۔ انہوںنے جواب دیا ”تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔ تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لا¶ کوئی صریح سند“۔ ان کے رسولوں نے ان سے کہا ”واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے، اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لادیں۔سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے۔اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو ان پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہوناچاہیے“۔ (سورة ابراہیم....۲۱)
۳۳۔ جہنم میں کچ لہو کا سا پانی پینے کو ملے گا
آخرکار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ”یا تو تمہیں ہماری ملت میںواپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے“۔ تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ”ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو“۔ انہوںنے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبا ر دشمنِ حق نے منہ کی کھائی، پھراس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے۔وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا۔ (سورة ابراہیم....۷۱)
۴۳۔ کافروں کے اعمال راکھ جیسی ہے
جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑادیا ہو۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پاسکیں گے۔ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے۔کیا تم دیکھتے نہیںہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟ وہ چاہے تم لوگوںکو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ایسا کرنا اس پرکچھ بھی دشوار نہیں ہے۔ (سورة ابراہیم....۰۲)
۵۳۔ عذابِ الٰہی سے بڑے بھی نہیں بچا سکتے
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے ”دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو“؟ وہ جواب دیں گے ” اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں“۔(سورة ابراہیم....۱۲)
۶۳۔شیطان بہکا سکتا ہے، مجبور نہیں کرسکتا
اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میںسے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پرلبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کوملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اِس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے“۔ (سورة ابراہیم....۲۲)
۷۳۔ کلمہ¿ طیبہ اور کلمہ¿ خبیثہ کی مثالیں
بخلاف اس کے جو لوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارک باد سے ہوگا۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ¿ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں، ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں اور کلمہ¿ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔ ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔(ابراہیم....۷۲)
۸۳۔ نعمت کو کفرانِ نعمت میں بدلنے والے
تم نے دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میںجھونک دیا، یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے ، اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں؟ ان سے کہو، اچھا مزے کرلو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے۔ (سورة ابراہیم....۰۳)
۹۳۔ دنیا میں طلب کے مطابق سب کچھ ملتاہے
اے نبی ﷺ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں ان سے کہہ دوکہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کھلے اور چُھپے (راہِ خیر میں) خرچ کریں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی۔اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریا¶ں کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگا تار چلے جارہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشُکرا ہے۔ (سورة ابراہیم....۴۳)
۰۴۔ ابراہیم ؑ کو اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ کب ملے
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑنے دُعا کی تھی کہ”پروردگار، اس شہر (یعنی مکہ) کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا، پروردگار، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولادکو بھی یہ گمراہ کردیں، لہٰذا ان میں سے) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقینا تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔ پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکرگزار بنیں۔ پروردگار، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں“۔ اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چُھپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں .... ”شُکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ جیسے بیٹے دیئے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دُعا سُنتا ہے۔ اے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں)۔ پروردگار، میری دعا قبول کر۔ پروردگار، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کردیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا“۔ (سورة ابراہیم....۱۴)
۱۴۔اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں
اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کررہے ہیں، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں،سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اُڑے جاتے ہیں۔ اے نبی ﷺ، اس دن سے تم انہیں ڈرا دو جبکہ عذاب انہیں آلے گا۔ اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ”اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مُہلت اور دےدے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے“۔ (مگر انہیں صاف جواب دیا جائے گا کہ) ”کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا
اگرچہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھی کہ پہاڑ ان سے ٹل جائیں“۔ (سورة ابراہیم....۶۴)
۲۴۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
پس اے نبی ﷺ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے۔ ڈراﺅ انہیں اس دن سے جبکہ زمین اورآسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہوجائیں گے۔ اس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پا¶ں جکڑے ہوئے ہوں گے، تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پر چھائے جارہے ہوں گے۔ یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجاگیا ہے اس لیے کہ ان کو اس کے ذریعہ سے خبردار کردیا جائے اور وہ جان لیںکہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آجائیں۔ (سورة ابراہیم....۲۵) سورہ حجر:اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔اَ۔لَ۔رَ۔یہ آیات ہیں کتابِ الٰہی اور قرآن مبین کی۔(سورة الحِجر....۱)
اگست 23, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔ 14 ربما کے مضامین
۱۔ ہر قوم کے لےے مہلتِ عمل لکھی جاچکی ہے
بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کردیا ہے، پچھتا پچھتاکر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کردیا ہوتا۔چھوڑوانہیں۔ کھائیںپئیں، مزے کریں، اور بُھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جُھوٹی امید۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے۔(سورة الحِجر....۵)
۲۔ جب فرشتے اترتے ہیں تو مہلت نہیں ملتی
یہ لوگ کہتے ہیں ”اے وہ شخص جس پر یہ ذکر نازل ہوا ہے، تو یقینا دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا“؟ .... ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اُتار دیا کرتے۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اُترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔ رہا یہ ذکر، تواس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔(سورة الحِجر....۹)
۳۔اگر اللہ آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتا
اے نبی ﷺ، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں۔ وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے۔ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہورہا ہے، بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا۔ (سورة الحِجر....۵۱)
۴۔آسمانی قلعے شیطان کی پہنچ سے محفوظ ہیں
یہ ہماری کارفرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، ان کو دیکھنے والوں کے لیے (ستاروں سے) آراستہ کیا، اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کردیا۔ کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پاسکتا، الاّیہ کہ کچھ سُن گُن لے لے۔ اور جب وہ سُن گُن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ¿ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے۔ (سورة الحِجر....۸۱)
۵۔ قدرتی خزانوں کا مالک انسان نہیں
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تُلی مقدار کے ساتھ اگائی، اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو۔ کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اورجس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں۔ بارآور ہوا¶ں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں،ا ور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں۔ا س دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو۔ زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں۔ پہلے جو لوگ تم میں سے ہوگزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں۔ یقینا تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ (سورة الحِجر....۵۲)
۶۔انسان مٹی اور جن آگ سے پیدا کےے گئے
ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سُوکھے گارے سے بنایا۔ اور اس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپَٹ سے پیدا کرچکے تھے۔ پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہاکہ ”میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کررہا ہوں۔ جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دُوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گِرجانا“۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ رب نے پوچھا ”اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تُو نے سجدہ کرنے والوںکا ساتھ نہ دیا؟“ اس نے کہا ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اُس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے“۔(سورة الحِجر....۳۳)
۷۔شیطان کی پیروی اور جہنم کی وعید
رب نے فرمایا ”اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے، اور اب روزِ جزا تک تجھ پر لعنت ہے“۔ اس نے عرض کیا ”میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے“۔ فرمایا، ”اچھا، تجھے مُہلت ہے اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے“۔وہ بولا ”میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں ان کے لیے دل فریبیاں پیدا کرکے ان سب کو بہکا دوں گا، سوائے یرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کرلیا ہو“۔ فرمایا ”یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے۔ بیشک جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا۔ تیرا بس تو صرف ان بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں، اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے“۔یہ جہنم (جس کی وعید پیروَانِ ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص کردیا گیا ہے۔(سورة الحِجر....۴۴)
۸۔متقی کے دل کی تھوڑی بہت کھوٹ کا خاتمہ
بخلاف اس کے متقی لوگ باغوں اور چشموں میںہوں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجاﺅ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر۔ ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کھپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے۔ انہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔اے نبیﷺ، میرے بندوں کو خبر دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں۔ مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے۔ (سورة الحِجر....۰۵)
۹۔ابراہیم ؑ کو بڑھاپے میں اولاد کی بشارت
اور انہیں ذرا ابراہیم ؑ کے مہمانوںکا قصہ سنا¶۔ جب وہ آئے اُس کے ہاں اور کہا ”سلام ہو تم پر“، تو اس نے کہا ”ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے“۔ انہوں نے جواب دیا ”ڈرو نہیں، ہم تمیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں“۔ ابراہیم ؑ نے کہا ”کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولادکی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو“؟ انہوں نے جواب دیا، ”ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو“۔ ابراہیم ؑنے کہا ”اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں“۔ (سورة الحِجر....۶۵)
۰۱۔ قومِ لوط ؑ پر عذاب کے فرشتوں کا نزول پھر ابراہیم ؑ نے پُوچھا ”اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں“؟ وہ بولے ”ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔صرف لوط ؑ کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، اُن سب کو ہم بچالیں گے، سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میںشامل رہے گی“۔ پھر جب یہ فرستادے لوط ؑ کے ہاں پہنچے تو اس نے کہا ”آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں“۔ انہوں نے جواب دیا ”نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیںجس کے آنے میں یہ لوگ شک کررہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں۔ لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جا¶ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جا¶ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے“۔ اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ (سورة الحِجر....۶۶)
۱۱۔ قومِ لوط ؑکی بستی پر پتھروں کی بارش
اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بیتاب ہوکر لوط ؑ کے گھر چڑھ آئے۔ لوط ؑ نے کہا ”بھائیو،یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو، اللہ سے ڈرو، مجھے رُسوا نہ کرو“۔ وہ بولے ”کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کرچکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکے دار نہ بنو“؟ لوط ؑ نے (عاجز ہوکر) کہا ”اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں“! تیری جان کی قسم اے نبیﷺ، اس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے۔ آخرکار پَو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا اور ہم نے اُس بستی کو تَل پَٹ کرکے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسادی۔اس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں۔اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے، اس میں سامان عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں۔اور اَیکہ والے ظالم تھے، تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا،اور ان دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں۔ (الحِجر:۹۷)
۲۱۔ پہاڑ تراش کربنے مکانات کا حشر
حِجر کے لوگ بھی رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں۔ ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں، اپنی نشانیاں ان کو دکھائیں، مگر وہ سب کو نظرانداز ہی کرتے رہے۔ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے۔ آخرکار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آلیا اور ان کی کمائی کے کچھ کام نہ آئی۔(سورة الحِجر....۴۸)
۳۱۔ قرآنی آیتیں دہراتے رہنے کے لےے ہیں ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقینا آنے والی ہے، پس اے نبی ﷺ، تم (ان لوگوں کی بیہودگیوں) پر شریفانہ درگزر سے کام لو۔یقینا تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ہم نے تم کو ساتھ ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن عظیم عطاکیا ہے۔ تم اُس متاعِ دنیا کی طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ ان کے حال پر اپنا دل کُڑھا¶۔انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جُھکو اور (نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ ”میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں“۔ یہ اُسی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا ہے۔ تو قسم ہے تیرے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ (سورة الحِجر....۳۹)
۴۱۔مشرکوں کی باتوں کا علاج اللہ کی حمد ہے
پس اے نبی ﷺ، جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اُسے ہانکے پکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اُڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے۔ (اس کا علاج یہ ہے کہ) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لا¶ اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے( الحِجر:۹۹)
۵۱۔اللہ کے فیصلہ کے لےے جلدی نہ مچاﺅ
سورہ¿ نحل : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اورر حم فرمانے والا ہے۔آگیا اللہ کا فیصلہ، اب اس کے لیے جلدی نہ مچا¶۔ پاک ہے وہ اور بالاو برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں۔وہ اس روح کو اپنے جس بندے پرچاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے (اس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوںکو)”آگاہ کردو، میرے سوا کوئی تمہارامعبود نہیں ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو“۔ اس نے آسمان وزمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالاوبرتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بُوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالو ہستی بن گیا( النحل۴)
۶۱۔ خوراک، پوشاک اور سواری کے جانور
اس نے جانور پیداکیے جن میںتمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی۔اُن میں تمہارے لیے جمال ہے جبکہ صبح تم انہیں چَرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جبکہ شام انہیں واپس لاتے ہو۔ وہ تمہارے لیے بوجھ ڈھوکر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔ اس نے گھوڑے اور خچرّ اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوارہو اوروہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں۔وہ اور بہت سی چیزیں (تمہارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے۔ اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ (سورة النحل....۹)
۷۱۔ بارش میں عقلمندوں کے لےے نشانی ہے
وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے۔وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے۔اس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔(سورة النحل....۱۱)
۸۱۔ سورج چاند تارے اللہ کے حکم سے مسخر ہیں
اس نے تمہاری بھلائی کے لیے رات اور دن اور سورج اورچاند کو مسخرکررکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کررکھی ہیں، ان میںبھی ضرور نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں(سورة النحل....۳۱)
۹۱۔ سمندر انسانوں کے لےے مسخر کئے گئے
وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندرکو مسخر کررکھا ہے تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت لے کر کھا ئو اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو۔تم دیکھتے ہوکہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکرگزار بنو۔(سورة النحل....۴۱)
۰۲۔ زمین میں پہاڑوں کی میخیں ہیں
اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈُھلک نہ جائے۔ اس نے دریاجاری کیے اور قدرتی راستے بنائے تاکہ تم ہدایت پا¶۔اس نے زمین میںراستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں،ا و رتاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں۔پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، دونوںیکساں ہیں؟ کیا تم ہوش میں نہیں آتے ؟ اگر تُم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے، حالانکہ وہ تمہارے کُھلے سے بھی واقف ہے اور چُھپے سے بھی۔اوروہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہےں۔مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اوران کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کرکے) اٹھایا جائے گا۔(سورة النحل....۱۲)
۱۲۔قرآن اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں نہیں
تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے دلوں میں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑگئے ہیں۔ اللہ یقینا ان کے سب کرتوت جانتا ہے، چھپے ہوئے بھی اور کُھلے ہوئے بھی۔ وہ اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میںمبتلا ہوں۔اور جب کوئی اُن سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں ”اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں“۔ یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں،ا ورساتھ ساتھ کچھ ان لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بربنائے جہالت گمراہ کررہے ہیں۔دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں۔(سورة النحل....۴۲)
۲۲۔ عذاب ایسے آیاجدھر سے گمان نہ تھا
ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے) ایسی ہی مکاریاں کرچکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اوراُس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی اور ایسے رُخ سے ا ن پر عذاب آیا۔جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا۔ پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا۔ اور ان سے کہے گا ”بتا¶ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تم (اہلِ حق سے) جھگڑے کیا کرتے تھے“؟.... جن لوگوںکو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ”آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے“۔ ہاں، انہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں تو (سرکشی چھوڑ کر) فوراً ڈَگیں ڈال دیے ہیں اور کہتے ہیں ”ہم تو کوئی قصور نہیں کررہے تھے“۔ ملائکہ جواب دیتے ہیں ”کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے۔اب جائو، جہنم کے دروازوں میں گُھس جائو ۔وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے“۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے متکبروں کے لیے۔(النحل:۹۲)
۳۲۔ متقیوں کی رُوح کیسے قبض ہوتی ہے
دوسری طرف جب خداترس لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ”بہترین چیز اُتری ہے“۔ اس طرح کے نیکوکار لوگوں کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا، دائمی قیام کی جنتیں،جن میں وہ داخل ہوں گے،نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ یہ جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو۔اُن متقیوں کو جن کی رُوحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں ”سلام ہو تم پر ، جا¶ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے“۔( النحل....۲۳)
۴۲۔ کافروںکے کرتوتوں کی خرابیاں
اے نبی ﷺ، اب جو یہ لوگ انتظارکررہے ہیں تو اس کے سوا اب اور کیا باقی رہ گیا ہے کہ ملائکہ ہی آپہنچیں، یا تیرے رب کا فیصلہ صادر ہوجائے؟ اسی طرح کی ڈھٹائی ان سے پہلے بہت سے لوگ کرچکے ہیں۔ پھر جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوںنے خود اپنے اوپر کیا۔ اُن کے کرتوتوں کی خرابیاں آخرکار ان کی دامنگیر ہوگئیں اوروہی چیز ان پر مسلط ہوکر رہی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (النحل:۴۳)
۵۲۔ رسولوں کی ذمہ داری پیغام پہنچادیناہے
یہ مشرکین کہتے ہیں ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھیراتے“۔ ایسے ہی بہانے ان سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں۔ توکیا رسولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اوراس کے ذریعے سے سب کو خبردار کردیا کہ ”اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو“۔ اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی۔ پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔.... اے نبی ﷺ، تم چاہے ان کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کرسکتا۔(سورة النحل....۷۳)
۶۲۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے
یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکرکہتے ہیں کہ ”اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کرکے نہ اٹھائے گا“....اٹھائے گا کیوں نہیں؟ یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنااس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کررہے ہیں،اورمنکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے (رہا اُس کا امکان، تو) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں ”ہوجا“ اور بس وہ ہوجاتی ہے۔( النحل....۰۴)
۷۲۔اللہ کی خاطر ہجرت کرنے والوں کا ٹھکانہ
جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطرہجرت کرگئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر توبہت بڑا ہے۔ کاش جان لیں وہ مظلوم جنہوںنے صبر کیا ہے اورجو اپنے رب کے بھروسے پر کام کررہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام ان کا منتظر ہے) (سورة النحل....۲۴)
۸۲۔سارے رسول آدمی ہی تھے
اے نبی ﷺ ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے، اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔ پچھلے رسولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا، اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاو¿ جو ان کے لیے اتاری گئی ہے، اور تاکہ لوگ (خود بھی) غور و فکر کریں۔(سورة النحل....۴۴)
۹۲۔ عذابِ الٰہی سے بے خوف لوگوں کی چالیں
پھر کیا وہ لوگ جو (دعوت پیغمبر کی مخالفت میں) بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے، یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم و گمان تک نہ ہو، یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑے، یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جبکہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنے ہوں؟ وہ کچھ بھی کرنا چاہے یہ لوگ اس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی نرم خُو اور رحیم ہے۔(سورة النحل:۷۴)
۰۳۔سایہ اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے
اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے؟سب کے سب اس طرح اظہار عجز کررہے ہیں۔ زمین اور آسمان میںجس قدر جان دار مخلوقات اور جتنے ملائکہ، سب اللہ کے آگے سربسجود ہیں۔ وہ ہرگز سرکشی نہیں کرتے، اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ (سورة النحل....۰۵)
۱۳۔ سار ی نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں
اللہ کا فرمان ہے کہ”دو خدا نہ بنالو،خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو“۔ اسی کا ہے وہ کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور خالصاً اُسی کا دین (ساری کائنات میں) چل رہا ہے۔ پھر کیااللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کروگے؟ تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو (اس مہربانی کے کریے میں) شریک کرنے لگتا ہے، تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے۔اچھا، مزے کرلو، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں ان کے حصے ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں۔ خدا کی قسم، ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھوٹ تم نے کیسے گھڑ لیے تھے؟( النحل۶۵)
۲۳۔ خدا کے لےے بیٹیاں اپنے لےے بیٹے؟
یہ خدا کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ سبحان اللہ! اور ان کے لیے وہ جو یہ خود چاہیں؟ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیداہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کررہ جاتا ہے۔ لوگوں چُھپتا پھرتا ہے کہ اس بُری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبادے؟.... دیکھو کیسے بُرے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگاتے ہیں۔ بُری صفات سے متصف کیے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے۔ رہا اللہ تو اس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے۔ اگر کہیں اللہ لوگوں کو ان کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کرتا تو روئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے، پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کررہے ہیں جو خود اپنے لیے انہیں ناپسند ہیں، اور جھوٹ کہتی ہیں ان کی زبانیںکہ ان کے لیے بھلا ہی بھلا ہے۔ ان کے لیے تو ایک ہی چیز ہے،ا ور وہ ہے دوزخ کی آگ۔ ضرور یہ سب سے پہلے اس میں پہنچائے جائیں گے( النحل۲۶)
۳۳۔شیطان بُرے کام خوشنما بناکر دکھاتا ہے
خدا کی قسم، اے نبی ﷺ، تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں (اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ) شیطان نے اُن کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بناکر دکھائے (اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی)۔ وہی شیطان آج ان لوگوں کا بھی سرپرست بنا ہوا ہے اور یہ دردناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں۔ ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم ان اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دو جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب رہنمائی اور رحمت بن کر اُتری ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے مان لیں۔ (سورة النحل....۴۶)
۴۳۔مردہ زمیں بارش سے زندہ ہوجاتی ہے
(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکایک مردہ پڑی ہوئی زمین میں اس کی بدولت جان ڈال دی۔ یقینا اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لیے۔(سورة النحل....۵۶)
۵۳۔دودھ گوبر اور خون کے درمیان بنتا ہے
اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے۔ اُن کے پیٹ سے گوبر اورخُون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔ ( النحل....۶۶)
۶۳۔ پاک کھجورو انگورکو نشہ آوربنالینا
(اسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنالیتے ہو اور پاک رزق بھی۔ یقینا اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے۔ (سورة النحل....۷۶)
۷۳۔ شہد میںلوگوں کے لےے شفا ہے
اور دیکھو، تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کردی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں، اور ٹٹّیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں، اپنے چھتّے بنا، اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس، اوراپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوںپر چلتی رہ۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔ یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ (سورة النحل....۹۶)
۸۳۔بد ترین عمر کو پہنچنے والے
اور دیکھو، اللہ نے تم کو پیدا کیا، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ حق یہ ہے کہ اللہ ہی علم میں بھی کامل ہے اور قدرت میں بھی۔ (النحل:۰۷)
۹۳۔اللہ ہی نے رزق میں فضیلت عطا کی ہے
اور دیکھو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے۔ پھر جن لوگوںکو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموںکی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں۔ تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے؟ (سورة النحل....۱۷)
۰۴۔اللہ ہی نے ہم جنس بیویاں بنائیں
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اُسی نے ان بیویوں میں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں۔پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کرہی سکتے ہیں؟ پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔( النحل....۴۷)
۱۴۔ غلام اور مالک برابر نہیں
اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے۔ بتا¶، کیا یہ دونوںبرابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے۔ (سورة النحل....۵۷)
۲۴۔گونگے بہرے آدمی کی مثال
اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں۔ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیںکرسکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے،جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے بن نہ آئے۔دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے۔ بتا¶ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟ (سورة النحل....۶۷)
۳۴۔اللہ نے سوچنے والے دل کیوں دیئے؟
اور زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے،بلکہ اسے بھی کچھ کم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔اللہ نے تم کو تمہاری ما¶ں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان دیئے، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے، اس لیے کہ تم شکرگزار بنو۔ (سورة النحل....۸۷)
۴۴۔ پرندوں کو فضا میں کس نے تھام رکھا ہے؟
کیا ان لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخّر ہیں؟ اللہ کے سوا کس نے ان کو تھام رکھا ہے؟ اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوںکے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ (سورة النحل....۹۷)
۵۴۔اللہ نے گھروں کو جائے سکون بنایا
اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لیے ایسے امکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس کے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لیے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لیے سائے کا انتظام کیا،پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیںگرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرمانبردار بنو۔ اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبیﷺ، تم پر صاف صاف پیغامِ حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکارکرتے ہیں۔اور ان میں بیشتر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ (سورة النحل....۳۸)
۶۴۔ عذاب دیکھنے کے بعد مہلت نہیں ملے گی
(انہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جب کہ ہم ہر امت میںسے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیاجائے گا نہ اُن سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی۔ اور جب وہ لوگ جنہوںنے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوںکو دیکھیں گے تو کہیں گے ”اے پروردگار، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے“۔ اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب دیں گے کہ ”تم جھوٹے ہو“۔ اس وقت یہ سب اللہ کے آگے جھک جائیں گے اور ان کی وہ ساری افتراپردازیاں رفوچکر ہوجائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے اُس فساد کے بدلے جو وہ دنیا میں برپا
کرتے رہے۔ (سورة النحل....۸۸)
۷۴۔ ہرامت کے اندر سے ایک گواہ ہوگا
(اے نبی ﷺ، انہیں اُس دن سے خبردار کردو) جبکہ ہم ہرامت میں خود اسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اس کے مقابلہ میں شہادت دے گا، اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے۔ اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ) ہم نے یہ کتاب تم پرنازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اورہدایت و رحمت اور بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوںنے سرِتسلیم خم کردیا ہے۔ (سورة النحل....۹۸)
۸۴۔سوت کات کر خود ہی ٹکڑے کرنے والی
اللہ عدل اور احسان اور صلہ¿ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپرگواہ بنا چکے ہو۔اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔ تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سُوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکروفریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعے سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا ، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے
چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی بازپُرس ہوکر رہے گی۔ (سورة النحل....۳۹)
۹۴۔ قسموں کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بناﺅ
(اور اے مسلمانو،) تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنالینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، بُرا نتیجہ دیکھو اور سزا بھگتو۔ اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبرسے کام لینے والوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے ۔ جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہووہ مومن،اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے( النحل....۷۹)
۰۵۔ شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو
پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔اُسے اُن لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اوراپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ اس کا زور تو اُنہی لوگوںپر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں۔جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں .... اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیانازل کرے....تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خودگھڑتے ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔ ان سے کہوکہ اسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پُختہ کرے اور فرمانبرداروں کو زندگی کے معاملات میںسیدھی راہ بتائے اورا نہیں فلاح و سعادت کی خوشخبری دے۔ (سورة النحل....۲۰۱)
۱۵۔ اللہ کی آیات کو نہ ماننے والے جھوٹے ہیں
ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑرہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔ (سورة النحل....۵۰۱)
۲۵۔مجبوراََ کفر اختیار کرنا قابلِ معافی ہے
جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیاگیاہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر) مگر جس نے دل کی رضامندی سے کفر کو قبول کرلیا اس پراللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا، اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا جو اس کی نعمت کا کفران کریں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اورآنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے، یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں۔ ضرور ہے کہ آخرت میںیہی خسارے میں رہیں۔ بخلاف اس کے جن لوگوںکا حال یہ ہے کہ جب (ایمان لانے کی وجہ سے) وہ ستائے گئے تو انہوں نے گھر بار چھوڑدیئے، ہجرت کی، راہ خدا میں سختیاں جھیلیں اور صبر سے کام لیا، ان کے لیے یقینا تیرا رب غفور و رحیم ہے۔ (ان سب کا فیصلہ اس دن ہوگا) جبکہ ہر متنفس اپنے ہی بچا¶ کی فکر میں لگا ہوا ہوگا اور وہ ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ پورا پورا دیاجائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا۔ (سورة النحل....۱۱۱)
۳۵۔کفرانِ نعمت پر بھوک اور خوف کی مصیبتیں
اللہ ایک بستی کی مثال دیتاہے۔وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کررہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کردیا۔تب اللہ نے اس کے باشندوں کو ان کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھاگئیں۔ان کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا۔ مگر انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخرکار عذاب نے ان کو آلیا جبکہ وہ ظالم ہوچکے تھے۔ (النحل....۳۱۱)
۴۵۔بھوک سے بے قرار ہوکر حرام کھانا
پس اے لوگو، اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اسے کھا¶ اورا للہ کے احسان کا شکر ادا کرو اگر تم واقعی اُسی کی بندگی کرنے والے ہو۔اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے ،وہ ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیاگیا ہو۔البتہ بھوک سے مجبور اور بیقرار ہوکر اگر کوئی ان چیزوں کو کھالے، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگاکر اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیںپایا کرتے۔دنیاکا عیش چند روزہ ہے۔ آخرکار ان کے لیے دردناک سزا ہے۔وہ چیزیں ہم نے خاص طور پر یہودیوں کے لیے حرام کی تھیں جن کا ذکر اس سے پہلے ہم تم سے کرچکے ہیں اور
یہ ان پرہمارا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ہی ظلم تھا جو وہ اپنے اوپر کررہے تھے۔ البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کرکے اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو یقینا توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رب ان کے لیے غفور اور رحیم ہے۔(سورة النحل....۹۱۱)
۵۵۔ سبت کا قانون اللہ نے مسلط کیا تھا
واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم ؑاپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سُو۔وہ کبھی مشرک نہ تھا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا۔ اللہ نے اس کو منتخب کرلیا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ دنیا میںاس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقینا صالحین میں سے ہوگا۔ پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سُو ہوکر ابراہیم ؑکے طریقے پرچلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ رہا سبت، تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مسلط کیا تھا جنہوںنے اس کے احکام میں اختلاف کیا اور یقینا تیرا رب قیامت کے روز اُن سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ (سورة النحل....۴۲۱)
۶۵۔ حکمت کے ساتھ دعوت اور مباحثہ کرو
اے نبی ﷺ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پرجو بہترین ہو۔تمہارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پر ہے۔اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اُسی قدر لے لو جس قدر تم پرزیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے۔ اے نبیﷺ، صبر سے کام کیے جاﺅ .... اور تمہارا یہ صبراللہ ہی کی توفیق سے ہے .... ان لوگوں کی حرکات پررنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو۔ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں۔ (سورة النحل....۸۲۱)
اگست 23, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
پارہ ۔ 15 کے مضامین
۱۔ بنی اسرائیل کادو تین مرتبہ فسادِ عظیم برپا کرنا
سورہ بنی اسرائیل: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔ہم نے اس سے پہلے موسٰی ؑکو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ¿ ہدایت بنایا تھا اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوح ؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوح ؑ ایک شکرگزار بندہ تھا۔ پھر ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کروگے اور بڑی سرکشی دکھا¶ گے۔ آخرکار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گُھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہوکر ہی رہنا تھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میںاسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں.... ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اورکافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے ( بنی اسرائیل:۰۱)
۲۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے
انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیرمانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلدباز واقع ہوا ہے۔ دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہرچیزکو الگ الگ ممیزکرکے رکھا ہے۔ ( بنی اسرائیل....۲۱)
۳۔ ہر انسان کا شگون اس کے گلے میں لٹکا ہے
ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا۔ پڑھ اپنا نامہ¿ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔ جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے۔کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور ہم عذاب دینے والے نہیںہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے) ایک پیغام بر نہ بھیج دیں۔ (سورة بنی اسرائیل....۵۱)
۴۔ امراءکی نافرمانیاں، بستی کی ہلاکت کا سبب
جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اُس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے۔ اورہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔ دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیںجو نوح ؑکے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ (سورة بنی اسرائیل....۷۱)
۵۔ دنیا ہی میں فائدے کے خواہشمند لوگ
جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوںکا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہوکر۔ اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔ اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامانِ زیست دیے جارہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والاکوئی نہیں ہے۔ مگردیکھ لو، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پرکیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میںاُس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی۔تُو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یارومددگار بیٹھا رہ جائے گا۔( بنی اسرائیل:۲۲)
۶۔ بوڑھے والدین کو اُف تک نہ کہو
تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اس کی۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیںجھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو، اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جُھک کر رہو، اور دعا کیاکرو کہ ”پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح انہوںنے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا“۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہوکر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں(سورة بنی اسرائیل....۵۲)
۷۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں
رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق۔ فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ اگران سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کررہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو۔ نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جا¶۔ تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے ( بنی اسرائیل۰۳)
۸ ۔ رب کے نزدیک ناپسندیدہ چندبرے امور
اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرا فعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ۔ قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ اورجو شخص مظلومانہ قتل کیاگیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اس کی مدد کی جائے گی۔ مالِ یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔ عہدکی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو، اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو۔ یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظِ انجام بھی یہی بہتر ہے۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیںعلم نہ ہو۔ یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی بازپرس ہونی ہے۔ زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ان امور سے بھی ہر ایک کا بُرا پہلو تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیںجو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں۔ اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیاجائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہوکر۔ کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنالیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو۔ (سورة بنی اسرائیل....۰۴)
۹۔ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے
ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جارہے ہیں۔ ا ے نبیﷺ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے جیساکہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالک عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے۔ پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔ اس کی پاکی تو ساتوں آسمانوں اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بُردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔ (سورة بنی اسرائیل....۴۴)
۰۱۔ جب تم قرآن پڑھتے ہو
جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پرایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں، اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگاکرتمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحرزدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو۔ دیکھو،کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں، یہ بھٹک گئے ہیں، انہیں راستہ نہیں ملتا۔ ( سورة بنی اسرائیل....۸۴)
۱۱۔ ہم خاک ہوکر دوبارہ اٹھا ئے جائیں گے
وہ کہتے ہیں ”جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہوکر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے“؟.... ان سے کہو ”تم پتھر یا لوہا بھی ہوجا¶،یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز تمہارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو“ (پھر بھی تم اٹھ کررہوگے)۔ وہ ضرور پوچھیں گے ”کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا“؟ جواب میں کہو ”وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا“۔ وہ سر ہلا ہلاکر پوچھیں گے ”اچھا، تو یہ ہوگا کب“؟ تم کہو ”کیاعجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو۔ جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آ¶ گے اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں“۔(سورة بنی اسرائیل....۲۵)
۲۱۔ فساد ڈلوانے کی کوشش شیطان کرتا ہے
اور اے نبی ﷺ، میرے بندوں (یعنی مومن بندوں) سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو۔ دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ تمہارا رب تمہارے حال سے خوب واقف ہے۔ وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دےدے۔ اور اے نبی ﷺ، ہم نے تم کو لوگوںپر حوالہ دار بناکرنہیں بھیجا ہے۔تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے۔ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیئے، اور ہم نے ہی دائود ؑکو زبور دی تھی۔ (سورة بنی اسرائیل....۵۵)
۳۱۔ جھوٹے معبودکسی تکلیف کو ہٹانہیںسکتے
ان سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوںکو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹاسکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کررہے ہیں کہ کون اس سے قریب تر ہوجائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق۔اور کوئی بستی ایسی نہیںہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں، یہ نوشتہ¿ الٰہی میں لکھا ہوا ہے۔ (سورة بنی اسرائیل....۸۵)
۴۱۔ تنبیہ پر نافرمانوں کی سرکشی میں اضافہ
اور ہم کو نشانیاںبھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ان سے پہلے کے لوگ ان کو جھٹلاچکے ہیں۔ (چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے عَلانیہ اونٹنی لاکر دی اور انہوںنے اس پرظلم کیا۔ ہم نشانیاںاسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں۔ یاد کرو اے نبی ﷺ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے ان لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔ اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے،اس کو اور اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے ان لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بناکر رکھ دیا۔ ہم انہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جارہے ہیں، مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔ (سورة بنی اسرائیل....۰۶)
۵۱۔ شیطان کا وعدہ ایک دھوکہ ہے
اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہاکہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا ”کیا میںاس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟“ پھر وہ بولا ” دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مُہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کرڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ”اچھا تو جا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں، تجھ سمیت ان سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزا ہے۔ تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلاسکتا ہے پھسلا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالا، مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا، اور ان کو وعدوں کے جال میںپھانس.... اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں.... یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا، اور توکل کے لیے تیرا رب کافی ہے“۔ (سورة بنی اسرائیل....۵۶)
۶۱۔ خشکی و تری میں سواریاںعطا ہوئیں
تمہارا (حقیقی) رب تو وہ ہے جو سمندرمیں تمہاری کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے۔ جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہوجاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچاکرخشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے۔ اچھا، تو کیا تم اس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میںدھنسا دے، یا تم پر پتھرا¶ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پا¶؟ اور کیا تمہیں اس کا اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے اور تم کو ایساکوئی نہ ملے جو اس سے تمہارے اس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟ .... یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیںخشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔ (سورة بنی اسرائیل....۰۷)
۷۱۔ لوگوں کو ان کے پیشوا کے ہمراہ بلایا جائے گا
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہ¿ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیاگیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ اور جو اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔ (سورة بنی اسرائیل....۲۷)
۸۱ ۔ رسولوں کے معاملے میں اللہ کا طریقہ
اے نبی ﷺ، ان لوگوں نے اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میںڈال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیںاپنا دوست بنالیتے۔ اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جُھک جاتے۔ لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دُوہرے عذاب کا مزا چکھاتے اور آخرت میں بھی دُوہرے عذاب کا۔ پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے۔اور یہ لوگ اس بات پر بھی تُلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اس سرزمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہرکریں۔ لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے۔یہ ہمارا مستقل طریقِ کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا۔ اور ہماے طریقِ کار میں تم کوئی تغیرنہ پا¶ گے( بسورة بنی اسرائیل....۷۷)
۹۱۔ فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو
نماز قائم کرو زوالِ آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآنِ فجر مشہود ہوتا ہے۔ اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقامِ محمود پر فائز کردے۔اور دُعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے۔اور اعلان کردو کہ ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے“۔ (سورة بنی اسرائیل....۱۸)
۰۲۔ قرآن ماننے والوں کے لےے رحمت ہے
ہم اس قرآن کے سلسلہ¿ تنزیل میں وہ کچھ نازل کررہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا ہے اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔ اے نبیﷺ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ ”ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کررہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پرکون ہے“۔ (بنی اسرائیل....۴۸)
۱۲۔ روح اللہ کے حکم سے آتی ہے
یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔کہو ”یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے“۔ اور اے نبی ﷺ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطاکیا ہے۔ پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پا¶ گے جو اسے واپس دلاسکے۔ یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔ (سورة بنی اسرائیل....۷۸)
۲۲۔ جن و انس مل کر بھی قرآن نہیں بنا سکتے
کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔ہم نے اس قرآن میں لوگوںکو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے اور انہوں نے کہا ”ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تُوہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کردے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے۔ یا تُو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے۔ یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے۔ یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے۔ یا تُو آسمان پر چڑھ جائے، اورتیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں“ اے نبیﷺ، ان سے کہو ”پاک ہے میرا پرورردگار!کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اوربھی کچھ ہوں“؟(سورة بنی اسرائیل....۳۹)
اگست 24, 2011
یوسف-2
یوسف-2
محفلین
۳۲۔انسانوں کے بیچ انسان ہی پیغمبر بھیجا گیا
لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اسی قول نے کہ ”کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بناکر بھیج دیا؟“ ان سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بناکر بھیجتے۔اے نبی ﷺ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پاسکتا۔ ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گونگے اور بہرے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا ”کیا جب ہم صرف ہڈیاں اورخاک ہوکر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھاکھڑا کیا جائے گا؟“ کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اورآسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اُس نے ان کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے۔اے نبی ﷺ، ان سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔ (سورة بنی اسرائیل....۰۰۱)
۴۲۔ فرعون کو ساتھیوں سمیت غرق کیا گیا
ہم نے موسٰی ؑکو نو نشانیاںعطا کی تھیں جو صریح طور پردکھائی دے رہی تھیں۔ اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب موسٰی ؑان کے ہاں آئے تو فرعون نے یہی کہا تھا نا کہ ”اے موسٰی ؑ، میںسمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سِحرزدہ آدمی ہے“۔ موسٰی ؑنے ا س کے جواب میں کہا ”تُو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون، تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے“۔ آخرکارفرعون نے ارادہ کیا کہ موسٰی ؑاور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے۔ (سورة بنی اسرائیل....۴۰۱)
۵۲۔ قرآن کو بتد ریج نازل کیا گیا
اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے نبیﷺ، تمہیں ہم نے اس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کردو۔ اوراس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سنا¶، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے۔ اے نبیﷺ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیاگیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں ”پاک ہے ہمارا رب، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا“۔ اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور اسے سُن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے۔ ( بنی اسرائیل:۹۰۱)
۶۲۔اللہ کو اچھے ناموں سے پکارو
اے نبی ﷺ، ان سے کہو، ”اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں“۔ اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔اور کہو تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پُشتیبان ہو“۔ اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی۔ (بنی اسرائیل:۱۱۱)
۷۲۔ پوری زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی
سورہ¿ کہف:اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے، اور ایمان لاکر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اس بات کا نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، وہ محض جُھوٹ بکتے ہیں۔اچھا، تو اے نبی ﷺ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخرکار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ (سورة الکھف....۸)
۸۲۔ اصحابِ کہف غار میں لمبی نیند سُلادیے گئے
کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہماری کوئی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟ جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہاکہ ”اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کردے“، تو ہم نے انہیںاسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلادیا، پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں ان کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔ (سورة الکھف....۲۱)
۹۲۔ اصحابِ کہف کا اصل قصہ
ہم ان کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کردیئے جب وہ اٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کردیا کہ ”ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے“۔ (پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) ”یہ ہماری قوم تو ربّ کائنات کو چھوڑ کر دوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخر اس شخص سے بڑا ظ©الم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟ اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیراللہ سے بے تعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سروسامان مہیا کردے گا“۔ (سورة الکھف....۶۱)
۰۳۔ سورج غار کو چھوڑ کر طلوع و غروب ہوتا رہا
تم انہیںغار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سُورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیںجانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولی مرشد نہیں پاسکتے۔ (الکھف:۷۱)
۱۳۔ کتا غار کے دہانے پر بیٹھا رہا
تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سورہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کُتاّ غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر انہیں دیکھتے تو اُلٹے پا¶ں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔ (الکھف....۸۱)
۲۳۔ اصحابِ کہف کا طویل نیند سے بیدار ہونا
اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا، ”کہو، کتنی دیر اس حالت میں رہے؟“ دوسروں نے کہا ”شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے“۔ پھر وہ بولے ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا۔ چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے کچھ کھانے کے لیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ اگر کہیں ان لوگوںکا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سنگسار ہی کرڈالیں گے، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے“....اس طرح ہم نے اہل شہرکو اُن کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آکر رہے گی۔ (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ان (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا ”ان پر ایک دیوار چُن دو، ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے“۔ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا ”ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے“۔ (سورة الکھف....۱۲)
۳۳۔ اصحابِ کہف: صحیح تعداد اللہ ہی جانتا ہے
کچھ لوگ کہیںگے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتاّ تھا۔ اور کچھ دوسرے کہہ دیںگے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتاّ تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتاّ تھا۔ کہو، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو۔(سورة الکھف....۲۲)
۴۳۔ وہ غار میں تین سو سال تک سوتے رہے
اوردیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کردوں گا۔ (تم کچھ نہیں کرسکتے) الاّیہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو ”امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرمادے گا“۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ مدت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں۔ تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدت زیادہ جانتا ہے،آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا! (زمین و آسمان کی مخلوقات کا) کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (سورة الکھف....۶۲)
۵۳۔ افراط و تفریط پر مبنی طریقِ کار والے
اے نبی ﷺ، تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیاگیا ہے اسے (جوں کا توں) سُنا دو،کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردوبدل کروگے تو) اس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پا¶ گے۔ اور اپنے دل کوان لوگوں کی معیت پرمطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کرصبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔ صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے۔ ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میںلے چکی ہیں۔ وہاں اگروہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور اُن کے منہ بھون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ! (سورة الکھف....۹۲)
۶۳۔ جنتی ،سونے کے کنگن، اورریشمی لباس
رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں،تو یقینا ہم نیکوکار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔ان کے لیے سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے، باریک ریشم اوراطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیںگے، اور اُونچی مسندوں پر تکیے لگاکر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!(سورة الکھف....۱۳)
۷۳۔انگور کے باغ پر گھمنڈ کرنے والے کا حشر
اے نبی ﷺ، ان کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔ دو شخص تھے۔ ان میں سے کو ہم نے انگور کے دو باغ دیئے اور ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔ دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بارآور ہونے میں انہوںنے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی۔ ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کردی اور اُسے خوب نفع حاصل ہوا۔ یہ کچھ پاکر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا ”میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں“۔ پھر وہ اپنی جنت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا ”میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوجائے گی، اورمجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پا¶ں گا“۔ اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا ”کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بناکھڑا کیا؟ رہا میں، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہورہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاءاللہ، لاقوة الاباللہ؟ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرمادے اورتیری جنت پرآسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے، یا اس کا پانی زمین میں اترجائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے“ آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ ماراگیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیّوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ”کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا“ نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھاّ کہ اس کی مدد کرتا ، اور نہ کرسکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ اس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔ (سورة الکھف....۴۴)
۸۳۔ مال و اولاد محض دنیوی ہنگامی آرائش ہےں
اور اے نبی ﷺ، انہیں حیاتِ دنیا کی حقیقت اس مثال سے سمجھا¶ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسادیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی، اور کل وہی نباتات بُھس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ فکر اس دن کی ہونی چاہیے جبکہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے ، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چُھوٹے گا، اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کیے جائیں گے ....لو دیکھ لو، آگئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کوپہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے....اور نامہ¿ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اورکہہ رہے ہوں گے کہ ”ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو“۔ جو جو کچھ انہوںنے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔ (سورة الکھف....۹۴)
۹۳۔ ابلیس انسان کا دشمن ہے
یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم ؑکو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا۔ اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی ذُریت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ بڑا ہی بُرا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کررہے ہیں۔ میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت ان کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ میراکام یہ نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنایا کروں۔ پھرکیاکریں گے یہ لوگ اس روز جبکہ ان کا رب ان سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ ان کو پکاریں گے، مگر وہ ان کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کردیں گے۔ سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ (الکھف....۳۵)
۰۴۔انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے
ہم نے اس قرآن میں لوگوںکو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ ان کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر ان کو کس چیز نے روک دیا؟ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے،یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! (سورة الکھف....۵۵)
۱۴۔ رسولوں کا کام بشارت و تنبیہ دینا ہے
رسولوںکو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں۔ مگر کافروں کا یہ حال ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور ان تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنالیا ہے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سُناکرنصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیئے ہیںجو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے اور ان کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کردی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلا¶، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔ یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ انہوںنے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اوران میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کررکھا تھا۔(سورة الکھف....۹۵)
۲۴۔ سفرِ موسٰی ؑ اور مچھلی کا دریا میں گرنا
(ذرا ان کو وہ قصہ سنا¶ جو موسٰی ؑکو پیش آیا تھا) جبکہ موسٰی ؑنے اپنے خادم سے کہا تھا کہ ”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریا¶ں کے سنگم پر نہ پہنچ جا¶ں، ورنہ میں ایک زمانہ¿ دراز تک چلتا ہی رہوں گا“۔ پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔ آگے جاکر موسٰی ؑنے اپنے خادم سے کہا ” لا¶ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں“۔ خادم نے کہا ”آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی“۔ موسٰی ؑنے کہا، ”اسی کی توہمیں تلاش تھی“۔ (سورة الکھف....۴۶)
۳۴۔ صاحب ِدانش سے موسٰی ؑ کی ملاقات
چنانچہ و ہ دونوں اپنے نقش قدم پر پھر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔موسٰی ؑنے اس سے کہا ”کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے؟“ اس نے جواب دیا، ”آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے، اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟“ موسٰی ؑ نے کہا ”انشاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا“۔ اس نے کہا ”اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں۔(سورة الکھف....۰۷)
۴۴۔ کشتی میں شگاف اور لڑکے کا قتل
اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو اُس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسٰی ؑنے کہا ”آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبودیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کرڈالی“۔ اس نے کہا ”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے؟“ موسٰی ؑنے کہا ”بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے۔ میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں“۔پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اُس شخص نے اسے قتل کردیا۔ موسٰی ؑنے کہا ”آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا“۔ (سورة الکھف....۴۷)
موسیٰؑ کوخضر کی وضاحت
اس نے کہا’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تُم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے‘‘؟ موسٰیؑ نے کہا ’’اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ۔ لیجئے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا‘‘۔پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگامگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کردیا۔ موسٰیؑ نے کہا ’’اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے‘‘۔ اس نے کہا ’’بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں ، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہواکہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔ اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں ۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیاگیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا ہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکے‘‘۔ (سورۃ الکھف…۸۲)
۲۔ ذوالقرنین کاکالے پانی تک پہنچنا
اور اے نبی ﷺ، یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں ۔ہم نے اُس کو زمین میں اقتدار عطا کررکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے۔ اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سروسامان کیا۔ حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اوروہاں اسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا، ’’اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے‘‘۔ اس نے کہا، ’’جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، اس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اُس کو نرم احکام دیں گے‘‘۔ (سورۃ الکھف…۸۸)
۳۔یاجوج ماجوج سے بچاؤ کے لیے آہنی بند
پھر اُس نے (ایک دوسری مہم کی) تیاری کی یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جاپہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جس کے لیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے۔پھر اُس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ’’اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کا م کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کردے؟‘‘اس نے کہا، ’’جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔تم بس محنت سے میری مدد کرو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں ۔ مجھے لوہے کی چادریں لادو‘‘۔ آخر جب دونوں کے درمیان خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا اب آگ دہکاؤ۔ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سرخ کردی تواس نے کہا’’لاؤ اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا‘‘۔ (یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آسکتے تھے اوراس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔ ذوالقرنین نے کہا ’’یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوندِ خاک کردے گا، اورمیرے رب کا وعدہ برحق ہے‘‘۔ (سورۃ الکھف…۹۸)
۴۔جب صور پھونکا جائے گا
اور اس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پُھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اورکچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ (سورۃ الکھف…۱۰۱)
۵۔ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟
توکیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں ؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کررکھی ہے۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُ س کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کی جزا جہنم ہے اس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اورمیرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے۔ البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔ (سورۃ الکھف…۱۰۸)
پسند Reactions:کلیم حیدر and یوسف ثانی
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#5
۶۔سمندر بھر روشنائی بھی ناکافی ہے
اے نبی ﷺ، کہوکہ اگر سمندرمیرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہوجائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں ، بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔ اے نبی ﷺ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ (سورۃ الکھف…۱۱۰)
۷۔زکریاؑ کوبڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری
سورۂ مریم : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ ک، ہ، ی، ع، ص۔ ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی،جبکہ اس نے اپنے رب کو چُپکے چُپکے پکارا۔اُس نے عرض کیا ’’اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے۔ اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی بُرائیوں کا خوف ہے، اورمیری بیوی بانجھ ہے۔ تومجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کردے جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا‘‘۔ (جواب دیاگیا) ’’اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ہم نے اس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا‘‘۔ عرض کیا، ’’پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اورمیں بوڑھا ہوکر سوکھ چکا ہوں ؟‘‘ جواب ملا ’’ایسا ہی ہوگا۔تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخراس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جبکہ تو کوئی چیز نہ تھا، زکریا نے کہا، ’’پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘۔ فرمایا ’’تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے‘‘۔ چنانچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔’’اے یحییٰ، کتاب ِالٰہی کو مضبوط تھام لے‘‘۔ہم نے اُسے بچپن ہی میں ’’حکم‘‘ سے نوازا، اورا پنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی، اور وہ بڑا پرہیزگار اوراپنے والدین کا حق شناس تھا۔ وہ جبارنہ تھا اور نہ نافرمان۔ سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے۔(سورۃ مریم…۱۵)
۸۔کنواری مریم کو بیٹے کی بشارت
اور اے نبی ﷺ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہوکر شرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی۔ اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہوگیا۔مریم یکایک بول اٹھی کہ ’’اگر تو کوئی خداترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ‘‘۔ اس نے کہا ’’میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اوراس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دُوں ‘‘۔ مریم نے کہا ’’میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چُھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں ‘‘۔ فرشتے نے کہا ’’ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ اور یہ کام ہوکر رہنا ہے‘‘۔ (سورۃ مریم…۲۱)
۹۔ حوصلہ دینا فرشتے کا،غمزدہ مریمؑ کو
مریمؑ کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی ’’کاش میں اس سے مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا‘‘۔ فرشتے نے پائینتی سے اس کو پکارکر کہا ’’غم نہ کر۔ تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے اور تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تروتازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اسے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی‘‘۔ (سورۃ مریم…۲۶)
۱۰۔گہوارے میں عیسیٰؑ کا لوگوں سے بات کرنا
پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے ’’اے مریمؑ ، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی‘‘۔ مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا ’’ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟‘‘بچہ بول اٹھا ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔ اس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا، اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں ، اور نماز اورزکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں ، اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، اورمجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کرکے اٹھایاجاؤں ‘‘۔ (سورۃ مریم…۳۳)
پسند Reactions:کلیم حیدر and یوسف ثانی
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#6
۱۱۔ عیسٰیؑ ابنِ مریم اللہ کے بیٹے نہیں
یہ ہے عیسٰیؑ ابنِ مریم اور یہ ہے اس کے بارے میں سچی بات جس میں لوگ شک کررہے ہیں ۔ اللہ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔وہ پاک ذات ہے۔وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا،اور بس وہ ہوجاتی ہے۔(اور عیسٰیؑ نے کہا تھا کہ) ’’اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو،یہی سیدھی راہ ہے‘‘۔ مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے۔سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے۔جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اس روز تو ان کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔اے نبی ﷺ، اس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لارہے ہیں ، انہیں اُس دن سے ڈرادو جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔ آخرکار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہمارے طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔(سورۃ مریم…۴۰)
۱۲۔ابراہیمؑ کا اپنے مشرک باپ سے مکالمہ
اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔(انہیں ذرا، اس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہاکہ ’’اباجان، آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بناسکتی ہیں ؟ اباجان، میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں ، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اباجان، آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ، شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ اباجان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مُبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں ‘‘۔ باپ نے کہا، ’’ابراہیمؑ ، کیا تومیرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسارکردوں گا۔ بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوجا‘‘۔ ابراہیمؑ نے کہا ’’سلام ہے آپ کو۔ میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں ۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مرادنہ رہوں گا‘‘۔ پس جب وہ ان لوگوں سے اور ان کے معبودانِ غیراللہ سے جدا ہوگیا تو ہم نے اس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔ (سورۃ مریم…۵۰)
۱۳۔ذکرِ موسٰیؑ ، ہارو نؑ ، اسماعیلؑ اور ادریسؑ
اور ذکر کرو اس کتاب میں موسٰیؑ کا۔وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا۔ ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا، اوراپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بناکر اسے (مددگار کے طور پر) دیا۔اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول نبی تھا۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو۔ وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔ اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا۔یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پرسوار کیا تھا، اور ابراہیم کی نسل سے اور اسرائیل کی نسل سے۔اور یہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔ (سورۃ مریم…۵۸)
۱۴۔ توبہ کر کے ایمان لانا اورنیک عمل کرنا
پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں ۔البتہ جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اورنیک عملی اختیار کرلیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔ ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کررکھا ہے اور یقینا یہ وعدہ پورا ہوکر رہنا ہے۔وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے، جو کچھ بھی سنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے۔ اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا۔ یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہاہے۔ (سورۃ مریم…۶۳)
۱۵۔اللہ بھولنے والا نہیں ہے
اے نبی ﷺ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے۔جو کچھ ہمارے آگے ہے اورجو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہرچیزکا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے۔وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پس تم اس کی بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟ (سورۃ مریم…۶۵)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#7
۱۶۔حیات بعدموت سے انکار کرنے والے
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچکوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جاؤں گا؟ کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ا ن کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لاکر انہیں گھٹنوں کے بل گرادیں گے، پھر وہ ہرگروہ میں سے ہر اس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا، پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے۔تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو (دنیا میں ) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (سورۃ مریم…۷۲)
۱۷۔ منکرینِ حق کی شاندار مجلسوں کی حقیقت
ان لوگوں کو جب ہماری کھلی کھلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں ’’بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں ؟‘‘ حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے زیادہ سروسامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں ان سے بڑھی ہوئی تھیں ۔ ان سے کہو، جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اسے رحمن ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیزدیکھ لیتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیاگیاہے ، خواہ وہ عذابِ الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی … تب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کاجتھا کمزور! اس کے برعکس جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ اُن کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں ۔ (سورۃ مریم…۷۶)
۱۸۔ سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا
پھر تو نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گے؟ کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ … ہر گز نہیں ، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے۔ جس سروسامان اور لاؤ لشکرکا یہ ذکر کررہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے پشتیبان ہوں گے۔ کوئی پشتیبان نہ ہوگا۔ وہ سب ان کی عبادت کا انکارکریں گے اور الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے۔ (سورۃ مریم…۸۲)
۱۹۔منکرینِ حق کو شیاطین اکساتے ہیں
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے منکرینِ حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں خوب خوب (مخالفتِ حق پر) اکسارہے ہیں ؟ اچھا، تو اب ان پرنُزولِ عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو۔ ہم ان کے دن گن رہے ہیں ۔وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمن کے حضور پیش کریں گے، اورمجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔اس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اس کے جس نے رحمن کے حضور سے پروا نہ حاصل کرلیاہو (مریم…۸۷)
۲۰۔رحمن نے بیٹا بنایا کہنا سخت لغو بات ہے
وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے کسی کو بیٹا بنایا ہے … سخت بے ہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں ، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں ، اس بات پر کہ لوگوں نے رحمن کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا! رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جوبھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں ۔ سب پروہ محیط ہے اور اُس نے اُن کو شمار کررکھا ہے۔ سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (سورۃ مریم…۹۵)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#8
۲۱۔ قرآن کو آسان زبان میں نازل کیا گیا
یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کررہے ہیں عنقریب رحمن ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔ پس اے نبی ﷺ، اس کلام کو ہم نے آسان کرکے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو۔ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں ، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بِھَنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟(مریم۹۸)
۲۲۔ متقی لوگوں کے لیے قرآن یاد دہانی ہے
سورۂ طٰہٰ :اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔طٰہٰ، ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کی ہے کہ تم مصیبت میں پڑجاؤ۔ یہ تو ایک یاددہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے۔ نازل کیاگیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں ۔ تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اُس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے۔ وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ، اس کے لیے بہترین نام ہیں ۔(سورۃ طٰہٰ…۸)
۲۳۔ موسیٰؑ آگ لینے گئے، نبوت مل گئی
اور تمہیں کچھ موسٰیؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟ جبکہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہاکہ ’’ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں ، یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے‘‘۔وہاں پہنچا تو پکاراگیا ’’اے موسٰیؑ ! میں ہی تیرا رب ہوں ، جُوتیاں اتار دے۔ تو وادی مقدسِ طُویٰ میں ہے اورمیں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اورمیری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں ، تاکہ ہرمتنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اورا پنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کواس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا۔ (سورۃ طٰہٰ…۱۶)
۲۴۔ عصائے موسیٰؑ کا سانپ بننے کا معجزہ
اور اے موسیٰؑ ،یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘موسٰیؑ نے جواب دیا ’’یہ میری لاٹھی ہے، اس پرٹیک لگاکر چلتا ہوں ، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں ‘‘۔ فرمایا ’’پھینک دے اس کو موسٰیؑ ‘‘ ۔ اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑ رہا تھا۔ فرمایا ’’پکڑلے اس کو اور ڈر نہیں ، ہم اسے پھر ویسا ہی کردیں گے جیسی یہ تھی۔ اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ دوسری نشانی ہے اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں ۔ اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہوگیا ہے‘‘۔(سورۃ طٰہٰ…۲۴)
۲۵۔ کارِ نبوت :بھائی کی شرکت کی درخواست
موسٰیؑ نے عرض کیا ’’پروردگار، میرا سینہ کھول دے، اور میرے کام کو میرے لیے آسان کردے اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے لیے میرے اپنے کُنبے سے ایک وزیر مقرر کردے۔ ہارون،ؑ جو میرا بھائی ہے، اس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبوط کر اور اس کو میرے کام میں شریک کردے، تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں اور خوب تیرا چرچا کریں ۔ تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگراں رہا ہے‘‘۔(سورۃ طٰہٰ…۳۵)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#9
۲۶۔صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈالا جانا
فرمایا ’’دیاگیا جو تو نے مانگا، اے موسٰیؑ ، ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا، ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیاجاتا ہے کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے۔ دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھالے گا‘‘۔’’میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے۔یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھرجاکر کہتی ہے، میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟ اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو۔ (سورۃ طٰہٰ…۴۰)
۲۷۔سرکش فرعون کے پاس موسیٰؑ کو بھیجا جانا
اور (یہ بھی یاد کرکہ) تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تُو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا۔ پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آگیا ہے اے موسٰیؑ ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنالیا ہے۔ جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔اور دیکھو تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈرجائے‘‘۔ دونوں نے عرض کیا ’’پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا‘‘۔ فرمایا ’’ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں ، سب کچھ سُن رہا ہوں اوردیکھ رہا ہوں ۔ جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایاگیا ہے کہ عذاب ہے، اس کے لیے جو جھٹلائے اور منہ موڑے‘‘۔ (طٰہٰ…۴۸)
۲۸۔ موسیٰؑ کا فرعون سے مکالمہ
فرعون نے کہا ’’اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ ؟‘‘ موسٰیؑ نے جواب دیا ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا‘‘۔ فرعون بولا ’’اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیاحالت تھی‘‘؟موسٰیؑ نے کہا ’’اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے‘‘۔…وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوارنکالی۔ کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔ اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیاہے، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ (سورۃ طٰہٰ…۵۵)
۲۹۔ فرعون کا حق کو جھٹلانا اور مقابلہ پر آنا
ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلاگیا اور نہ مانا کہنے لگا ’’اے موسٰیؑ ، کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟ اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں ۔ طے کرلے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے۔نہ ہم اس قرار داد سے پھریں گے نہ تو پھریو۔ کھلے میدان میں سامنے آجا‘‘۔ موسٰیؑ نے کہا ’’جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں ‘‘۔ فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آگیا۔ موسٰیؑ نے (عین موقع پر گروہِ مقابل کو مخاطب کرکے) کہا ’’شامت کے مارو، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کردے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا‘‘۔ (طٰہٰ:۶۱)
۳۰۔عصائے موسیٰؑ نے جادوگروں کو ہرا دیا
یہ سُن کر ان کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔ آخرکار کچھ لوگوں نے کہاکہ ’’یہ دونوں تومحض جادوگر ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کردیں اور تمہارے مثالی طریقِ زندگی کا خاتمہ کردیں ۔ اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کرلو اور ایکا کرکے میدان میں آؤ۔ بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہاوہی جیت گیا‘‘۔ جادوگربولے، ’’موسٰیؑ ،تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں ؟‘‘موسٰیؑ نے کہا، ’’نہیں ، تم ہی پھینکو‘‘۔یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں ، اور موسٰیؑ اپنے دل میں ڈرگیا۔ ہم نے کہا ’’مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا۔ پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے۔ یہ جوکچھ بناکر لائے ہیں ، یہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ خواہ کسی شان سے وہ آئے‘‘۔(سورۃ طٰہٰ…۶۹)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#10
۳۱۔جادوگروں کا موسٰیؑ کے رب پر ایمان لانا
آخر کو یہ ہوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرادیئے گئے اور پُکار اٹھے ’’مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسٰیؑ کے رب کو‘‘۔ فرعون نے کہا ’’تم اس پرایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی۔اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں ۔ پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اوردیرپا ہے‘‘ (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسٰیؑ )۔ جادوگروں نے جواب دیا ’’قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے ہمیں پیداکیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں ۔تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے، تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کردے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے۔ اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلنددرجے ہیں ،سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی،ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے اس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ (طٰہٰ:۷۶)
۳۲۔ فرعون کا سمندر میں غرق ہونا
ہم نے موسٰیؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور ان کے لیے سمندر میں سوکھی سڑک بنالے، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے۔پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا، اور پھر سمندر ان پر چھاگیا جیسا کہ چھاجانے کا حق تھا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طُورکے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا۔ کھاؤ ہمارا دیا ہوا ۔پاک رزق اور اسے کھاکر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا۔ اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گرکر ہی رہا۔البتہ جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے اس کے لیے میں بہت درگزرکرنے والا ہوں ۔ (سورۃ طٰہٰ…۸۲)
۳۳۔قومِ موسیٰؑ کا بچھڑے کو خدا بنا لینا
اورکیاچیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسٰیؑ ؟ اس نے عرض کیا ’’وہ بس میرے پیچھے آہی رہے ہیں ۔میں جلدی کرکے تیرے حضور آگیا ہوں ، اے میرے رب،تاکہ تو مجھ سے خوش ہوجائے، فرمایا ’’اچھا، تو سنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کرڈالا‘‘۔موسٰیؑ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جاکر اس نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں ؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟‘‘انہوں نے جواب دیا ’’ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا‘‘۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا اوران کے لیے ایک بچھڑے کی مُورت بناکرنکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکار اٹھے ’’یہی ہے تمہارا خدا اور موسٰیؑ کاخدا، موسٰیؑ اسے بُھول گیا‘‘۔کیاوہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ (طٰہٰ۸۹)
۳۴۔ موسیٰؑ کا سامری جادوگر کو اللہ سے ڈرانا
ہارونؑ (موسٰیؑ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ ’’لوگوتم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو، تمہارا رب تو رحمن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو‘‘۔ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ’’ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسٰیؑ ہمارے پاس واپس نہ آجائے‘‘۔موسٰیؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارون کی طرف پلٹا اور) بولا ’’ہارون، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہورہے ہیں تو کس چیزنے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟‘‘ہارونؑ نے جواب دیا ’’اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پُھوٹ ڈال دی اورمیری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔موسٰیؑ نے کہا ’’اور سامری، تیرا کیامعاملہ ہے؟‘‘اس نے جواب دیا ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی اٹھالی اور اس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا‘‘۔ موسٰیؑ نے کہا ’’اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا۔ اور تیرے لیے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا۔ اوردیکھ اپنے اس خدا کو جس پر تو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلاڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہاد یں گے۔ لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اس کا علم حاوی ہے‘‘۔ (طٰہٰ…۹۸)
۳۵۔روزِ حشر دنیوی زندگی ایک روزہ لگے گی
اے نبی ﷺ، اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ’’ذکر‘‘ (درس نصیحت) عطا کیا ہے۔جو کوئی اس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بارِ گناہ اٹھائے گا، اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن ان کے لیے (اس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا۔ اس دن جبکہ صُور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیرلائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) پتھرائی ہوئی ہوں گی، آپس میں چُپکے چپکے کہیں گے کہ ’’دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے‘‘۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کررہے ہوں گے۔ (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اس وقت ان میں سے جو زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں ، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی۔ (سورۃ طٰہٰ…۱۰۴)
محدث فورم [Mohaddis Forum]
لاگ ان
تفسیر قرآن
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
پیغام قرآن: سولہویں پارے کے مضامین
موضوع کا آغاز کرنے والاشاکر تاریخ آغازنومبر 09، 2011
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#1
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پیغام قرآن
سولہویں پارہ کے مضامین
مؤلف : یوسف ثانی، مدیر اعلیٰ پیغام قرآن ڈاٹ کام
تبصرہ کے لئے اس دھاگے میں تشریف لائیں
یوسف ثانی بھائی کے شکریہ کے ساتھ کہ انہوں نے کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پیج فائلز مہیا کیں۔
احباب سے درخواست ہے کہ کہیں ٹائپنگ یا گرامر کی کوئی غلطی پائیں تو ضرور بتائیں۔ علمائے کرام سے گزارش ہے کہ ترجمے کی کسی کوتاہی پر مطلع ہوں تو ضرور یہاں نشاندہی کریں تاکہ یوسف ثانی بھائی کے ذریعے آئندہ ایڈیشن میں اصلاح کی جا سکے۔
پی ڈی ایف فائلز کے حصول کے لئے ، وزٹ کریں:
Please select from ::: Piagham-e-Quran ::: Paigham-e-Hadees
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#2
دیگر پاروں کے لنکس کے لئے مختص پوسٹ
پیغام قرآن: پہلے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: دوسرے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: تیسرے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چوتھے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: پانچویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چھٹے پارے کے مضامین
پیغام قرآن: ساتویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: آٹھویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: نویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: دسویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: گیارہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: بارہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: تیرہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: چودہویں پارے کے مضامین
پیغام قرآن: پندرہویں پارے کے مضامین
پسند Reactions:کلیم حیدر and یوسف ثانی
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#3
قال الم کے مضامین
۱۔ موسیٰؑ کوخضر کی وضاحت
۲۔ ذوالقرنین کاکالے پانی تک پہنچنا
۳۔یاجوج ماجوج سے بچاؤ کے لیے آہنی بند
۴۔جب صور پھونکا جائے گا
۵۔ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟
۶۔سمندر بھر روشنائی بھی ناکافی ہے
۷۔زکریاؑ کوبڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری
۸۔کنواری مریم کو بیٹے کی بشارت
۹۔ حوصلہ دینا فرشتے کا،غمزدہ مریم کو
۱۰۔گہوارے میں عیسیٰؑ کا لوگوں سے بات کرنا
۱۱۔ عیسٰیؑ ابنِ مریم اللہ کے بیٹے نہیں
۱۲۔ابراہیمؑ کا اپنے مشرک باپ سے مکالمہ
۱۳۔ذکرِ موسٰیؑ ، ہارو نؑ ، اسماعیلؑ اور ادریسؑ
۱۴۔ توبہ کر کے ایمان لانا اورنیک عمل کرنا
۱۵۔اللہ بھولنے والا نہیں ہے
۱۶۔حیات بعدموت سے انکار کرنے والے
۱۷۔ منکرینِ حق کی شاندار مجلسوں کی حقیقت
۱۸۔ سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا
۱۹۔منکرینِ حق کو شیاطین اکساتے ہیں
۲۰۔رحمن نے بیٹا بنایا کہنا سخت لغو بات ہے
۲۱۔ قرآن کو آسان زبان میں نازل کیا گیا
۲۲۔ متقی لوگوں کے لیے قرآن یاد دہانی ہے
۲۳۔ موسیٰؑ آگ لینے گئے، نبوت مل گئی
۲۴۔ عصائے موسیٰؑ کا سانپ بننے کا معجزہ
۲۵۔ کارِ نبوت :بھائی کی شرکت کی درخواست
۲۶۔صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈالا جانا
۲۷۔سرکش فرعون کے پاس موسیٰؑ کو بھیجا جانا
۲۸۔ موسیٰؑ کا فرعون سے مکالمہ
۲۹۔ فرعون کا حق کو جھٹلانا اور مقابلہ پر آنا
۳۰۔عصائے موسیٰؑ نے جادوگروں کو ہرا دیا
۳۱۔جادوگروں کا موسٰیؑ کے رب پر ایمان لانا
۳۲۔ فرعون کا سمندر میں غرق ہونا
۳۳۔قومِ موسیٰؑ کا بچھڑے کو خدا بنا لینا
۳۴۔ موسیٰؑ کا سامری جادوگر کو اللہ سے ڈرانا
۳۵۔روزِ حشر دنیوی زندگی ایک روزہ لگے گی
۳۶۔پہاڑ دھول بن کر اڑ جائیں گے
۳۷۔قرآن میں طرح طرح کی تنبیہات ہیں
۳۸۔قیامت میں گمراہوں کو اندھا اٹھا یا جائیگا
۳۹۔دنیا کی شان و شوکت آزمائش ہے
۴۰۔ ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے
پسند Reactions:کلیم حیدر and یوسف ثانی
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#4
۱۔ موسیٰؑ کوخضر کی وضاحت
اس نے کہا’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تُم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے‘‘؟ موسٰیؑ نے کہا ’’اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ۔ لیجئے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا‘‘۔پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگامگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کردیا۔ موسٰیؑ نے کہا ’’اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے‘‘۔ اس نے کہا ’’بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں ، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہواکہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔ اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں ۔ اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں ۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیاگیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا ہے۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکے‘‘۔ (سورۃ الکھف…۸۲)
۲۔ ذوالقرنین کاکالے پانی تک پہنچنا
اور اے نبی ﷺ، یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں ۔ہم نے اُس کو زمین میں اقتدار عطا کررکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے۔ اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سروسامان کیا۔ حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اوروہاں اسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا، ’’اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے‘‘۔ اس نے کہا، ’’جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، اس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اُس کو نرم احکام دیں گے‘‘۔ (سورۃ الکھف…۸۸)
۳۔یاجوج ماجوج سے بچاؤ کے لیے آہنی بند
پھر اُس نے (ایک دوسری مہم کی) تیاری کی یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جاپہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جس کے لیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے۔پھر اُس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ’’اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کا م کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کردے؟‘‘اس نے کہا، ’’جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔تم بس محنت سے میری مدد کرو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں ۔ مجھے لوہے کی چادریں لادو‘‘۔ آخر جب دونوں کے درمیان خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا اب آگ دہکاؤ۔ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سرخ کردی تواس نے کہا’’لاؤ اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا‘‘۔ (یہ بند ایسا تھا کہ) یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آسکتے تھے اوراس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔ ذوالقرنین نے کہا ’’یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوندِ خاک کردے گا، اورمیرے رب کا وعدہ برحق ہے‘‘۔ (سورۃ الکھف…۹۸)
۴۔جب صور پھونکا جائے گا
اور اس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پُھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اورکچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ (سورۃ الکھف…۱۰۱)
۵۔ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟
توکیا یہ لوگ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں ؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کررکھی ہے۔ اے نبیﷺ! ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُ س کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کی جزا جہنم ہے اس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اورمیرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے۔ البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔ (سورۃ الکھف…۱۰۸)
پسند Reactions:کلیم حیدر and یوسف ثانی
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#5
۶۔سمندر بھر روشنائی بھی ناکافی ہے
اے نبی ﷺ، کہوکہ اگر سمندرمیرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہوجائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں ، بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔ اے نبی ﷺ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ (سورۃ الکھف…۱۱۰)
۷۔زکریاؑ کوبڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری
سورۂ مریم : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ ک، ہ، ی، ع، ص۔ ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی،جبکہ اس نے اپنے رب کو چُپکے چُپکے پکارا۔اُس نے عرض کیا ’’اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے۔ اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی بُرائیوں کا خوف ہے، اورمیری بیوی بانجھ ہے۔ تومجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کردے جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا‘‘۔ (جواب دیاگیا) ’’اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ہم نے اس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا‘‘۔ عرض کیا، ’’پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اورمیں بوڑھا ہوکر سوکھ چکا ہوں ؟‘‘ جواب ملا ’’ایسا ہی ہوگا۔تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخراس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جبکہ تو کوئی چیز نہ تھا، زکریا نے کہا، ’’پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کردے‘‘۔ فرمایا ’’تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے‘‘۔ چنانچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔’’اے یحییٰ، کتاب ِالٰہی کو مضبوط تھام لے‘‘۔ہم نے اُسے بچپن ہی میں ’’حکم‘‘ سے نوازا، اورا پنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی، اور وہ بڑا پرہیزگار اوراپنے والدین کا حق شناس تھا۔ وہ جبارنہ تھا اور نہ نافرمان۔ سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے۔(سورۃ مریم…۱۵)
۸۔کنواری مریم کو بیٹے کی بشارت
اور اے نبی ﷺ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہوکر شرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی۔ اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہوگیا۔مریم یکایک بول اٹھی کہ ’’اگر تو کوئی خداترس آدمی ہے تو میں تجھ سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ‘‘۔ اس نے کہا ’’میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اوراس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دُوں ‘‘۔ مریم نے کہا ’’میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چُھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں ‘‘۔ فرشتے نے کہا ’’ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ اور یہ کام ہوکر رہنا ہے‘‘۔ (سورۃ مریم…۲۱)
۹۔ حوصلہ دینا فرشتے کا،غمزدہ مریمؑ کو
مریمؑ کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی ’’کاش میں اس سے مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا‘‘۔ فرشتے نے پائینتی سے اس کو پکارکر کہا ’’غم نہ کر۔ تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے اور تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تروتازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اسے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی‘‘۔ (سورۃ مریم…۲۶)
۱۰۔گہوارے میں عیسیٰؑ کا لوگوں سے بات کرنا
پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے ’’اے مریمؑ ، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی‘‘۔ مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا ’’ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟‘‘بچہ بول اٹھا ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔ اس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا، اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں ، اور نماز اورزکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں ، اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، اورمجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کرکے اٹھایاجاؤں ‘‘۔ (سورۃ مریم…۳۳)
پسند Reactions:کلیم حیدر and یوسف ثانی
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#6
۱۱۔ عیسٰیؑ ابنِ مریم اللہ کے بیٹے نہیں
یہ ہے عیسٰیؑ ابنِ مریم اور یہ ہے اس کے بارے میں سچی بات جس میں لوگ شک کررہے ہیں ۔ اللہ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔وہ پاک ذات ہے۔وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا،اور بس وہ ہوجاتی ہے۔(اور عیسٰیؑ نے کہا تھا کہ) ’’اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو،یہی سیدھی راہ ہے‘‘۔ مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے۔سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے۔جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اس روز تو ان کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔اے نبی ﷺ، اس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لارہے ہیں ، انہیں اُس دن سے ڈرادو جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔ آخرکار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہمارے طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔(سورۃ مریم…۴۰)
۱۲۔ابراہیمؑ کا اپنے مشرک باپ سے مکالمہ
اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔(انہیں ذرا، اس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہاکہ ’’اباجان، آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بناسکتی ہیں ؟ اباجان، میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں ، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اباجان، آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ، شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ اباجان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مُبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں ‘‘۔ باپ نے کہا، ’’ابراہیمؑ ، کیا تومیرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسارکردوں گا۔ بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوجا‘‘۔ ابراہیمؑ نے کہا ’’سلام ہے آپ کو۔ میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں ۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مرادنہ رہوں گا‘‘۔ پس جب وہ ان لوگوں سے اور ان کے معبودانِ غیراللہ سے جدا ہوگیا تو ہم نے اس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔ (سورۃ مریم…۵۰)
۱۳۔ذکرِ موسٰیؑ ، ہارو نؑ ، اسماعیلؑ اور ادریسؑ
اور ذکر کرو اس کتاب میں موسٰیؑ کا۔وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا۔ ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا، اوراپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بناکر اسے (مددگار کے طور پر) دیا۔اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول نبی تھا۔ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو۔ وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔ اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا۔یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پرسوار کیا تھا، اور ابراہیم کی نسل سے اور اسرائیل کی نسل سے۔اور یہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے۔ (سورۃ مریم…۵۸)
۱۴۔ توبہ کر کے ایمان لانا اورنیک عمل کرنا
پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں ۔البتہ جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اورنیک عملی اختیار کرلیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔ ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کررکھا ہے اور یقینا یہ وعدہ پورا ہوکر رہنا ہے۔وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے، جو کچھ بھی سنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے۔ اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا۔ یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہاہے۔ (سورۃ مریم…۶۳)
۱۵۔اللہ بھولنے والا نہیں ہے
اے نبی ﷺ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے۔جو کچھ ہمارے آگے ہے اورجو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہرچیزکا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے۔وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پس تم اس کی بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟ (سورۃ مریم…۶۵)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#7
۱۶۔حیات بعدموت سے انکار کرنے والے
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچکوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جاؤں گا؟ کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ا ن کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لاکر انہیں گھٹنوں کے بل گرادیں گے، پھر وہ ہرگروہ میں سے ہر اس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا، پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے۔تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو (دنیا میں ) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (سورۃ مریم…۷۲)
۱۷۔ منکرینِ حق کی شاندار مجلسوں کی حقیقت
ان لوگوں کو جب ہماری کھلی کھلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں ’’بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں ؟‘‘ حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو ان سے زیادہ سروسامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں ان سے بڑھی ہوئی تھیں ۔ ان سے کہو، جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اسے رحمن ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیزدیکھ لیتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیاگیاہے ، خواہ وہ عذابِ الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی … تب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کاجتھا کمزور! اس کے برعکس جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ اُن کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں ۔ (سورۃ مریم…۷۶)
۱۸۔ سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا
پھر تو نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گے؟ کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ … ہر گز نہیں ، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے۔ جس سروسامان اور لاؤ لشکرکا یہ ذکر کررہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے پشتیبان ہوں گے۔ کوئی پشتیبان نہ ہوگا۔ وہ سب ان کی عبادت کا انکارکریں گے اور الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے۔ (سورۃ مریم…۸۲)
۱۹۔منکرینِ حق کو شیاطین اکساتے ہیں
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے منکرینِ حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں خوب خوب (مخالفتِ حق پر) اکسارہے ہیں ؟ اچھا، تو اب ان پرنُزولِ عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو۔ ہم ان کے دن گن رہے ہیں ۔وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمن کے حضور پیش کریں گے، اورمجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔اس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اس کے جس نے رحمن کے حضور سے پروا نہ حاصل کرلیاہو (مریم…۸۷)
۲۰۔رحمن نے بیٹا بنایا کہنا سخت لغو بات ہے
وہ کہتے ہیں کہ رحمن نے کسی کو بیٹا بنایا ہے … سخت بے ہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں ، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں ، اس بات پر کہ لوگوں نے رحمن کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا! رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جوبھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں ۔ سب پروہ محیط ہے اور اُس نے اُن کو شمار کررکھا ہے۔ سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (سورۃ مریم…۹۵)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#8
۲۱۔ قرآن کو آسان زبان میں نازل کیا گیا
یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کررہے ہیں عنقریب رحمن ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔ پس اے نبی ﷺ، اس کلام کو ہم نے آسان کرکے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو۔ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں ، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بِھَنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟(مریم۹۸)
۲۲۔ متقی لوگوں کے لیے قرآن یاد دہانی ہے
سورۂ طٰہٰ :اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔طٰہٰ، ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کی ہے کہ تم مصیبت میں پڑجاؤ۔ یہ تو ایک یاددہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے۔ نازل کیاگیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں ۔ تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اُس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے۔ وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ، اس کے لیے بہترین نام ہیں ۔(سورۃ طٰہٰ…۸)
۲۳۔ موسیٰؑ آگ لینے گئے، نبوت مل گئی
اور تمہیں کچھ موسٰیؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟ جبکہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہاکہ ’’ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں ، یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے‘‘۔وہاں پہنچا تو پکاراگیا ’’اے موسٰیؑ ! میں ہی تیرا رب ہوں ، جُوتیاں اتار دے۔ تو وادی مقدسِ طُویٰ میں ہے اورمیں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اورمیری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں ، تاکہ ہرمتنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اورا پنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کواس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا۔ (سورۃ طٰہٰ…۱۶)
۲۴۔ عصائے موسیٰؑ کا سانپ بننے کا معجزہ
اور اے موسیٰؑ ،یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘موسٰیؑ نے جواب دیا ’’یہ میری لاٹھی ہے، اس پرٹیک لگاکر چلتا ہوں ، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں ‘‘۔ فرمایا ’’پھینک دے اس کو موسٰیؑ ‘‘ ۔ اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑ رہا تھا۔ فرمایا ’’پکڑلے اس کو اور ڈر نہیں ، ہم اسے پھر ویسا ہی کردیں گے جیسی یہ تھی۔ اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ دوسری نشانی ہے اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں ۔ اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہوگیا ہے‘‘۔(سورۃ طٰہٰ…۲۴)
۲۵۔ کارِ نبوت :بھائی کی شرکت کی درخواست
موسٰیؑ نے عرض کیا ’’پروردگار، میرا سینہ کھول دے، اور میرے کام کو میرے لیے آسان کردے اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے لیے میرے اپنے کُنبے سے ایک وزیر مقرر کردے۔ ہارون،ؑ جو میرا بھائی ہے، اس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبوط کر اور اس کو میرے کام میں شریک کردے، تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں اور خوب تیرا چرچا کریں ۔ تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگراں رہا ہے‘‘۔(سورۃ طٰہٰ…۳۵)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#9
۲۶۔صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈالا جانا
فرمایا ’’دیاگیا جو تو نے مانگا، اے موسٰیؑ ، ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا، ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیاجاتا ہے کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے۔ دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھالے گا‘‘۔’’میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے۔یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھرجاکر کہتی ہے، میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟ اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو۔ (سورۃ طٰہٰ…۴۰)
۲۷۔سرکش فرعون کے پاس موسیٰؑ کو بھیجا جانا
اور (یہ بھی یاد کرکہ) تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تُو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا۔ پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آگیا ہے اے موسٰیؑ ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنالیا ہے۔ جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔اور دیکھو تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈرجائے‘‘۔ دونوں نے عرض کیا ’’پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا‘‘۔ فرمایا ’’ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں ، سب کچھ سُن رہا ہوں اوردیکھ رہا ہوں ۔ جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایاگیا ہے کہ عذاب ہے، اس کے لیے جو جھٹلائے اور منہ موڑے‘‘۔ (طٰہٰ…۴۸)
۲۸۔ موسیٰؑ کا فرعون سے مکالمہ
فرعون نے کہا ’’اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ ؟‘‘ موسٰیؑ نے جواب دیا ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا‘‘۔ فرعون بولا ’’اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیاحالت تھی‘‘؟موسٰیؑ نے کہا ’’اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے‘‘۔…وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوارنکالی۔ کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔ اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیاہے، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ (سورۃ طٰہٰ…۵۵)
۲۹۔ فرعون کا حق کو جھٹلانا اور مقابلہ پر آنا
ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلاگیا اور نہ مانا کہنے لگا ’’اے موسٰیؑ ، کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟ اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں ۔ طے کرلے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے۔نہ ہم اس قرار داد سے پھریں گے نہ تو پھریو۔ کھلے میدان میں سامنے آجا‘‘۔ موسٰیؑ نے کہا ’’جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں ‘‘۔ فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آگیا۔ موسٰیؑ نے (عین موقع پر گروہِ مقابل کو مخاطب کرکے) کہا ’’شامت کے مارو، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیا ناس کردے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا‘‘۔ (طٰہٰ:۶۱)
۳۰۔عصائے موسیٰؑ نے جادوگروں کو ہرا دیا
یہ سُن کر ان کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔ آخرکار کچھ لوگوں نے کہاکہ ’’یہ دونوں تومحض جادوگر ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کردیں اور تمہارے مثالی طریقِ زندگی کا خاتمہ کردیں ۔ اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کرلو اور ایکا کرکے میدان میں آؤ۔ بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہاوہی جیت گیا‘‘۔ جادوگربولے، ’’موسٰیؑ ،تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں ؟‘‘موسٰیؑ نے کہا، ’’نہیں ، تم ہی پھینکو‘‘۔یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں ، اور موسٰیؑ اپنے دل میں ڈرگیا۔ ہم نے کہا ’’مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا۔ پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے۔ یہ جوکچھ بناکر لائے ہیں ، یہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ خواہ کسی شان سے وہ آئے‘‘۔(سورۃ طٰہٰ…۶۹)
پسند Reactions:کلیم حیدر
شاکر
شاکر
تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
نومبر 09، 2011
#10
۳۱۔جادوگروں کا موسٰیؑ کے رب پر ایمان لانا
آخر کو یہ ہوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرادیئے گئے اور پُکار اٹھے ’’مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسٰیؑ کے رب کو‘‘۔ فرعون نے کہا ’’تم اس پرایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی۔اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں ۔ پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اوردیرپا ہے‘‘ (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسٰیؑ )۔ جادوگروں نے جواب دیا ’’قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے ہمیں پیداکیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں ۔تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے، تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کردے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے۔ اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا۔ اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلنددرجے ہیں ،سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی،ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے اس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ (طٰہٰ:۷۶)
۳۲۔ فرعون کا سمندر میں غرق ہونا
ہم نے موسٰیؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور ان کے لیے سمندر میں سوکھی سڑک بنالے، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے۔پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا، اور پھر سمندر ان پر چھاگیا جیسا کہ چھاجانے کا حق تھا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طُورکے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا۔ کھاؤ ہمارا دیا ہوا ۔پاک رزق اور اسے کھاکر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا۔ اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گرکر ہی رہا۔البتہ جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے اس کے لیے میں بہت درگزرکرنے والا ہوں ۔ (سورۃ طٰہٰ…۸۲)
۳۳۔قومِ موسیٰؑ کا بچھڑے کو خدا بنا لینا
اورکیاچیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسٰیؑ ؟ اس نے عرض کیا ’’وہ بس میرے پیچھے آہی رہے ہیں ۔میں جلدی کرکے تیرے حضور آگیا ہوں ، اے میرے رب،تاکہ تو مجھ سے خوش ہوجائے، فرمایا ’’اچھا، تو سنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کرڈالا‘‘۔موسٰیؑ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جاکر اس نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں ؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟‘‘انہوں نے جواب دیا ’’ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا‘‘۔ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا اوران کے لیے ایک بچھڑے کی مُورت بناکرنکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکار اٹھے ’’یہی ہے تمہارا خدا اور موسٰیؑ کاخدا، موسٰیؑ اسے بُھول گیا‘‘۔کیاوہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ (طٰہٰ۸۹)
۳۴۔ موسیٰؑ کا سامری جادوگر کو اللہ سے ڈرانا
ہارونؑ (موسٰیؑ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ ’’لوگوتم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو، تمہارا رب تو رحمن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو‘‘۔ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ’’ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسٰیؑ ہمارے پاس واپس نہ آجائے‘‘۔موسٰیؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارون کی طرف پلٹا اور) بولا ’’ہارون، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہورہے ہیں تو کس چیزنے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟‘‘ہارونؑ نے جواب دیا ’’اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پُھوٹ ڈال دی اورمیری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔موسٰیؑ نے کہا ’’اور سامری، تیرا کیامعاملہ ہے؟‘‘اس نے جواب دیا ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی اٹھالی اور اس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا‘‘۔ موسٰیؑ نے کہا ’’اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا۔ اور تیرے لیے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا۔ اوردیکھ اپنے اس خدا کو جس پر تو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلاڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہاد یں گے۔ لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اس کا علم حاوی ہے‘‘۔ (طٰہٰ…۹۸)
۳۵۔روزِ حشر دنیوی زندگی ایک روزہ لگے گی
اے نبی ﷺ، اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ’’ذکر‘‘ (درس نصیحت) عطا کیا ہے۔جو کوئی اس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بارِ گناہ اٹھائے گا، اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن ان کے لیے (اس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا۔ اس دن جبکہ صُور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیرلائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) پتھرائی ہوئی ہوں گی، آپس میں چُپکے چپکے کہیں گے کہ ’’دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے‘‘۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کررہے ہوں گے۔ (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اس وقت ان میں سے جو زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں ، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی۔
(سورۃ طٰہٰ…۱۰۴)
حساب کا وقت قریب آگیا ہے
سورۂ انبیاء :اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت ، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ان کے پاس جو تازہ نصیحت بھی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے اس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں ، دل ان کے (دوسری ہی فکروں میں ) منہمک ہیں ۔
(الانبیاء…۳)
۔ایمان نہ لانے والی بستیاں ہلاک ہوگئیں
اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ ’’یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھرکیا تم آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنس جاؤ گے؟‘‘رسول ﷺ نے کہا میرا رب ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے، وہ سمیع اور علیم ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں ، بلکہ یہ اس کی من گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے، ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے‘‘۔ حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی، جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہ لائی۔ اب کیایہ ایمان لائیں گے؟
(الانبیاء…۶)
۔کوئی رسول سدا جینے والا نہ تھا
اور اے نبی ﷺ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بناکر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔تم لوگ اگرعلم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پُوچھ لو۔ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں ،اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔ پھر دیکھ لو کہ آخرکار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پورے کیے، اور انہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچالیا،ا ور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کردیا۔لوگوہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔
(الانبیاء…۱۰)
ظالم بستیوں کی تباہی اور دوسری قوم کا ابھرنا
کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کر رکھ دیا اور ان کے بعد دوسری کسی قوم کو اٹھایا۔جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے۔ (کہاگیا) ’’بھاگو نہیں ، جاؤ اپنے انہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے‘‘۔ کہنے لگے ’’ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطاوار تھے‘‘۔ اور وہ یہی پکارتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا۔
(الانبیاء:۱۵)
زمین و آسمان کی تخلیق کوئی کھیل نہیں
ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور جوکچھ ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے۔ مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔
(الانبیاء…۱۸)
۔اگر ایک سے زائد خدا ہوتے
زمین اور آسمانوں میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملُول ہوتے ہیں ۔ شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ، دم نہیں لیتے۔کیا ان لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی خدا ایسے ہیں کہ (بے جان کو )جان بخش کر اُٹھا کھڑا کرتے ہوں ؟ اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو (زمین و آسمان) دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ پس پاک ہے اللہ رب العرش ان باتوں سے جو یہ لوگ بنارہے ہیں ۔ وہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں
(الانبیاء…۲۳)
قرآن کا موازنہ دیگر الہامی کتب سے
کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنالیے ہیں ؟ اے نبی ﷺ، ان سے کہوکہ ’’لاؤ اپنی دلیل، یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دور کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی‘‘۔ مگر ان میں سے اکثر حقیقت سے بے خبر ہیں ، اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔
(الانبیاء…۲۵)
خدائی کے جھوٹے دعویدار کی سزا جہنم ہے
یہ کہتے ہیں ’’رحمن اولاد رکھتا ہے‘‘۔ سُبحان اللہ، وہ (یعنی فرشتے) تو بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی ہے۔ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتاہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں ۔ اور جو ان میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک خدا ہوں ، تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں ، ہمارے ہاں ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔
(الانبیاء…۲۹)
زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے
کیا وہ لوگ جنہوں نے (نبی کی بات ماننے سے) انکار کردیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی؟ کیا وہ (ہماری اس خلاّقی کو) نہیں مانتے؟ اور ہم نے زمین میں پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈُھلک نہ جائے، اور اُس میں کشادہ راہیں بنادیں ، شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کرلیں ۔ اورہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ مگر یہ ہیں کہ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں ۔
(الانبیاء…۳۳)
۔کسی انسان کو ابدی زندگی نہیں ملی
اور اے نبی ﷺ، ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے، اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں ۔ آخرکار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔ یہ منکرینِ حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنالیتے ہیں ۔ کہتے ہیں ’’کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے؟‘‘اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمن کے ذکر سے منکر ہیں ۔
(الانبیاء…۳۶)
۔انسان جلد باز مخلوق ہے
انسان جلد باز مخلوق ہے۔ ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں مجھ سے جلدی نہ مچاؤ… یہ لوگ کہتے ہیں ’’آخر یہ دھمکی پوری کب ہوگی اگر تم سچے ہو؟‘‘کاش ان کافروں کواس وقت کا علم ہوتا جبکہ نہ یہ اپنے منہ آگ سے بچاسکیں گے نہ اپنی پیٹھیں ، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی۔وہ بلا اچانک آئے گی اور انہیں اس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کرسکیں گے اور نہ ان کو لمحہ بھر مہلت ہی مل سکے گی۔مذاق تم سے پہلے بھی رسولوں کا اڑایا جاچکا ہے، مگر ان کا مذاق اڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آکر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
(الانبیاء…۴۱)
۔زمین مختلف سمتوں سے گھٹ رہی ہے
اے نبی ﷺ، ان سے کہو، کون ہے جو را ت کویا دن کو تمہیں رحمن سے بچا سکتا ہو؟‘‘ مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑرہے ہیں ۔ کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں ؟ وہ تو نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید ان کو حاصل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو اوران کے آباؤ اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیئے چلے گئے یہاں تک کہ ان کو دن لگ گئے۔ مگر کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ؟ پھر کیا یہ غالب آجائیں گے؟ ان سے کہہ دو کہ ’’میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کررہا ہوں ‘‘… مگر بہرے پُکار کو نہیں سُنا کرتے جبکہ انہیں خبردار کیاجائے۔ اور اگر تیرے رب کا عذاب ذرا سا انہیں چھو جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطاوار تھے۔ قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ۔جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے۔اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں ۔
(الانبیاء…۴۷)
بن دیکھے رب سے ڈرنے والے
پہلے ہم موسٰیؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ’’ذکر‘‘ عطا کرچکے ہیں ان متقی لوگوں کی بھلائی کے لیے جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو (حساب کی) اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو۔ اور اب یہ بابرکت ’’ذکر‘‘ ہم نے (تمہارے لیے) نازل کیا ہے۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟
(الانبیاء…۵۰)
ابراہیمؑ کاباپ دادا کی بت پرستی سے انکار
اس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اس کی ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اس کو خوب جانتے تھے۔ یاد کرو وہ موقع جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہورہے ہو؟‘‘انہوں نے جواب دیا ’’ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے‘‘۔ اس نے کہا ’’تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کررہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟‘‘۔ اُس نے جواب دیا ’’نہیں ، بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب اور ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں ۔
(الانبیاء…۵۶)
۔ ابراہیمؑ نے بتوں کو توڑ دیا
ا ور خدا کی قسم میں تمہاری غیرموجودگی میں ضرور تمہارے بُتوں کی خبر لوں گا‘‘۔ چنانچہ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں ۔ (انہوں نے آکر بُتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے ’’ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کردیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ‘‘۔(بعض لوگ) بولے ’’ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیمؑ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’تو پکڑ لاؤ اسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)۔‘‘ (ابراہیمؑ کے آنے پر) انہوں نے پوچھا ’’کیوں ابراہیمؑ ، تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے، ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں ‘‘۔یہ سُن کر وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دلوں میں ) کہنے لگے ’’واقعی تم خود ہی ظالم ہو‘‘۔ مگر پھر ان کی مت پلٹ گئی اور بولے ’’تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ‘‘۔ ابراہیمؑ نے کہا ’’پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کو پُوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان۔
(الانبیاء…۶۶)
۔ ابراہیمؑ کے لئے آگ ٹھنڈی ہو گئی
تُف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کررہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟‘‘انہوں نے کہا ’’جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے‘‘۔ ہم نے کہا ’’اے آگ، ٹھنڈی ہوجا اورسلامتی بن جا ابراہیمؑ پر‘‘۔ وہ چاہتے تھے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ برائی کریں ۔ مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کردیا
(الانبیاء:۷۰)
۔ ابراہیمؑ اور لوطؑ کابابرکت خطے کوجانا
اور ہم اُسے اور لوطؑ کو بچاکراس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں ۔اورہم نے اسے اسحاقؑ عطا کیا اور یعقوبؑ اس پرمزید، اور ہر ایک کو صالح بنایا۔ اور ہم نے ان کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔ا ور ہم نے انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔اور لوطؑ کو ہم نے حُکم اور علم بخشا اور اُسے اس بستی سے بچاکر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی ۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بُری، فاسق قوم تھی۔ اور لوطؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔
(الانبیاء…۷۵)
۔نوحؑ کی پکار اور کربِ عظیم سے نجات
اور یہی نعمت ہم نے نوحؑ کو دی۔ یاد کرو جبکہ ان سب سے پہلے اس نے ہمیں پکارا تھا۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کربِ عظیم سے نجات دی اور اُس قوم کے مقابلے میں اُس کی مدد کی جس نے ہماری آیات کو جھٹلادیا تھا۔ وہ بڑے بُرے لوگ تھے، پس ہم نے اُن سب کو غرق کردیا۔
(الانبیاء…۷۷)
۔کھیت کے مقدمہ میں سلیمانؑ کا فیصلہ
اور اِسی نعمت سے ہم نے داؤدؑ و سلیمانؑ کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کررہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں ،ا ور ہم ان کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا، حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔
(الانبیاء…۷۹)
۰۔داؤدؑ کے لئے پہاڑ اور پرندے مسخر تھے
داؤدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے، اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زِرہ بنانے کی صنعت سکھادی تھی، تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے، پھر کیا تم شکرگزار ہو؟
(الانبیاء)
۔ سلیمانؑ کے لیے جن و ہوا مسخر تھے
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ، ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔ اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنادیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے۔ ان سب کے نگران ہم ہی تھے۔
(الانبیاء…۸۲)
۲۲۔ ایوبؑ کی دعا اور بیماری سے نجات
اور یہی (ہوشمندی اور حُکم وعلم کی نعمت) ہم نے ایوبؑ کو دی تھی۔ یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ ’’مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے‘‘۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو تکلیف اسے تھی اس کو دور کردیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیئے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ اور یہی نعمت اسمٰعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے۔ اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے۔
(الانبیاء…۸۶)
یونسؑ :غم سے نجات کی دعا قبول
اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا۔ یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلاگیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ آخر کو اس نے تاریکیوں میں سے پکارا ’’نہیں ہے کوئی خدا مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا‘‘۔ تب ہم نے اس کی دعا قبول کی اور غم سے اس کو نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو بچالیاکرتے ہیں ۔
(الانبیاء…۹۹)
۔ زکریاؑ : بیوی کو شفا اور وارث کا عطا ہونا
اور زکریاؑ کو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکاراکہ ’’اے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے‘‘۔ پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰؑ عطاکیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کردیا۔ یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جُھکے ہوئے تھے۔
(الانبیاء…۹۰)
حضرت مریم کے اندر اللہ نے روح پھونکی
اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح سے پھونکا اور اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنادیا…یہ تمہاری امت حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں ، پس تم میری عبادت کرو۔ مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ) انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔
(الانبیاء…۹۳)
جب یاجُوج و ماجوج نکل پڑیں گے
پھر جو نیک عمل کرے گا، اس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی، اور اسے ہم لکھ رہے ہیں ۔ا ور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو وہ پھر پلٹ سکے۔ یہاں تک کہ جب یاجُوج و ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے اور وعدہ ٔ برحق کے پُورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا تو یکایک ان لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفرکیا تھا۔ کہیں گے ’’ہائے ہماری کم بختی، ہم اس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطاکار تھے‘‘۔
(الانبیاء…۹۷)
۔جھوٹے معبود اور ان کو پوجنے والے
بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں ، وہیں تم کو جانا ہے۔ اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ وہاں وہ پُھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی۔ رہے وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہوگا، تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے، اس کی سرسراہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزوں کے درمیان رہیں گے، وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کران کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ ’’یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا‘‘۔
(الانبیاء…۱۰۳)
۔زمین کے وارث نیک بندے ہونگے
وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طُومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں ۔جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے۔ اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہونگے۔ اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔
(الانبیاء…۱۰۶)
مہلت کافروں کے لئے فتنہ ہے
اے نبی ﷺ، ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ ان سے کہو ’’میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا خدا صرف ایک خدا ہے، پھرکیا تم سرِاطاعت جُھکاتے ہو؟‘‘اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ ’’میں علی الاعلان تم کو خبردار کردیا ہے۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے قریب ہے یا دور۔ اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بآواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپاکر کرتے ہو۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ (دیر) تمہارے لیے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقتِ خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جارہا ہے‘‘۔ (آخرکار) رسول ﷺنے کہاکہ ’’اے میرے رب، حق کے ساتھ فیصلہ کردے ، اور لوگوں ، تم جو باتیں بناتے ہو ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمن ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے۔
(الانبیاء…۱۱۲)
۰۔ حشرمیں ماں بچے سے بھی غافل ہوجا ئے گی
سورۂ حج :اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔لوگو، اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے جس روز تم اسے دیکھو گے،حال یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی، ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔
(سورۃ الحج…۲)
۔ انسانی تخلیق کے مراحل کی تفصیل
بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور ہر شیطانِ سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں ،حالانکہ اس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کرکے چھوڑے گا اور عذاب جہنم کا راستہ دکھائے گا۔ لوگو، اگر تمہیں زندگی بعدِ موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہوکہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جوشکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی۔ (یہ ہم اس لیے بتارہے ہیں ) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں ۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقتِ خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں ) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیاجاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔
(سورۃ الحج…۵)
۔اللہ ہی مردوں کو زندہ کرتا ہے
اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اس پرمینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہ مْردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ (اس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، اور اللہ ضرور ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جاچکے ہیں ۔
(سورۃ الحج…۷)
علم کے بغیر خدا کے بارے میں جھگڑنا
بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم اور ہدایت اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر گردن اکڑائے ہوئے، خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکادیں ۔ ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے روز اس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے … یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
(الحج…۱۰)
۔ذاتی مفادات کے لئے اللہ کی بندگی کرنا
اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگرفائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھرگیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے صریح خسارہ۔ پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ۔ یہ ہے گمراہی کی انتہا۔ وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے، بدترین ہے اس کا مولیٰ اور بدترین ہے اس کا رفیق۔ (اس کے برعکس) اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے،یقینا ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی کوئی مدد نہ کرے گا، اسے چاہیے کہ ایک رسی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے پھر دیکھ لے کہ آیا اس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کرسکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے۔
(سورۃ الحج…۱۵)
۔مومن و مشرک کا فیصلہ قیامت میں ہوگا
ایسی ہی کھلی کھلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے،اور صابئی،اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کردے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، سورج اور چاند اورتارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں ؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔
(سورۃ الحج…۱۸)
جنت الفردوس کے وارث کون ہیں ؟
سورۂ مؤمنون :اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اوررحم فرمانے والا ہے۔ یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں ، لغویات سے دور رہتے ہیں ، زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو اِن کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں ، اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں ۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
(سورۃ المؤمنون…۱۱)
سب سے اچھا کاریگرانسان کا خالق ہے
ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا، پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا، پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنادیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بناکھڑا کیا۔پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقینا تم اٹھائے جاؤ گے۔
(سورۃ المؤمنون…۱۶)
۔آسمان سے پانی اور زمین سے فصلیں
اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے۔ا ور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرادیا، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں ۔ پھرا س پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کردیئے، تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیز پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو۔ اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طورسینا سے نکلتا ہے، تیل بھی لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔
(سورۃ المؤمنون…۲۰)
مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے
اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اس میں سے ایک چیز (یعنی دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ، او ر تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں ۔ ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو۔
(سورۃ المؤمنون…۲۲)
۔نوحؑ کی کشتی :ہر جانور کا ایک جوڑالیا گیا
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟‘‘ اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ ’’ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا۔ اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا۔ یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سنی ہی نہیں (کہ بشر رسول بن کر آئے)۔ کچھ نہیں ، بس اس آدمی کو ذرا جنون لاحق ہوگیا ہے۔ کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہوجائے)‘‘۔ نوحؑ نے کہا ’’پروردگار، ان لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تُو ہی میری نصرت فرما‘‘۔ ہم نے اس پرو حی کی کہ ’’ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے اور وہ تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہوجا، اورا پنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے فیصلہ ہوچکا ہے، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں ۔ پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہوجائے تو کہہ، شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔ اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تو بہترین جگہ دینے والا ہے‘‘۔اس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں ، اور آزمائش تو ہم کرکے ہی رہتے ہیں ۔
(سورۃ المؤمنون…۳۰)
خوش حال سرداروں کا رویہ
ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دور کی قوم اٹھائی۔ پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کررکھا تھا، وہ کہنے لگے’’یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا۔ جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے۔ یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہوجاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟ بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے۔ زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی۔ یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑ رہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں ‘‘۔رسول نے کہا ’’پروردگار، ان لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما‘‘۔ جواب میں ارشاد ہوا ’’قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے‘‘۔ آخرکار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامۂ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بناکر پھینک دیا … دُور ہو ظالم قوم!
(سورۃ المؤمنون…۴۱)
۔ قومیں اپنے مقررہ وقت تک رہتی ہیں
پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں ۔ کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی۔ پھر ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے۔ جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا،اس نے اسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے، حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بناکر چھوڑا ۔ پِھٹکار ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!
(سورۃ المؤمنون…۴۴)
۔فرعون نے تکبر کیا اور ہلاک ہوا
پھر ہم نے موسٰیؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا۔ مگر انہوں نے تکبر کیا اور بڑی سرکشی کی۔ کہنے لگے ’’کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں ؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے‘‘۔ پس انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا اور ہلاک ہونے والوں میں جاملے۔ اور موسٰیؑ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں ۔
(سورۃ المؤمنون…۴۹)
۔اللہ نے ابن مریمؑ کو نشانی بنایا
اور ابن مریمؑ اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا اور ان کو ایک سطح مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔
(المؤمنون…۵۰)
۔ لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کرلیے
اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح،تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں ۔اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں ،پس مجھی سے تم ڈرو۔مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے ، اچھا، تو چھوڑو انہیں ، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک۔
(سورۃ المؤمنون…۵۴)
مال و اولاد کی فراوانی ہی میں بھلائی نہیں
کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اولاد سے مدد دیے جارہے ہیں تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں ؟ نہیں ، اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے۔حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہوتے ہیں ،جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں ، جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، وہی بھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں پالینے والے ہیں ۔
(المؤمنون…۶۱)
انسان کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں ملتی
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، جو (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے، اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا۔ مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں ۔ اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے (جس کا اوپر ذکرکیاگیا ہے) مختلف ہیں ۔ (وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے) یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کردیں گے۔ اب بند کرو اپنی فریاد و فُغان، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی۔ میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم (رسول کی آواز سنتے ہی) الٹے پاؤں بھاگ نکلتے تھے، اپنے گھمنڈ میں اس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اس پر باتیں چھانٹتے اور بکواس کیاکرتے تھے۔
(المؤمنون…۶۷)
حق لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا
تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایاہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟ یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اس سے بِدکتے ہیں ؟ یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں ، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔… اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا… نہیں ، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر ان کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں ۔
( المؤمنون…۷۱)
جوتکلیف میں بھی رب کے آگے نہ جھکے
کیا تو ان سے کچھ مانگ رہاہے؟ تیرے لیے تو تیرے رب کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔ تُو تو ان کے سیدھے راستے کی طرف بلا رہاہے۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں ۔اگر ہم ان پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں ، دُور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا ، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں ۔ا لبتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں ہر خیر سے مایوس ہیں ۔
(المؤمنون…۷۷)
گردش لیلِ و نہار اللہ کے اختیار میں ہے
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیئے۔ مگر تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا،اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی؟ مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پیش رَو کہہ چکے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں ’’کیا جب ہم مرکر مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہم کو پھر زندہ کرکے اٹھایاجائے گا؟ ہم نے بھی یہ وعدے بہت سُنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسانہائے پارینہ ہیں ‘‘۔
(المؤمنون…۸۳)
۔اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہیں
ان سے کہو، بتاؤ، اگر تم جانتے ہو، کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟ یہ ضرور کہیں گے اللہ کی۔ کہو، پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟ ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ یہ ضرور کہیں گے اللہ۔ کہو، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ ان سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟ یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہو، پھر کہاں سے تم کو دھوکہ لگتا ہے؟ جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں ، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں ۔ اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے، اور کوئی دُوسرا خدا س کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہوجاتا اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں ۔ کھلے اور چھپے کا جاننے والا، وہ بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کررہے ہیں ۔
(المؤمنون…۹۲)
۔شیاطین کی اُکساہٹوں سے اللہ کی پناہ
اے نبی ﷺ، دعا کرو کہ ’’پروردگار، جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تُو لائے، تو اے میرے رب، مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو‘‘۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں ۔ اے نبی ﷺ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں ۔اور دعا کرو کہ ’’پروردگار، میں شیاطین کی اُکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، بلکہ اے میرے رب، میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ‘‘۔
(المؤمنون…۹۸)
۔موت اوردوسری زندگی ،بیچ میں برزخ ہے
(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ’’اے میرے رب، مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ، امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا‘‘… ہر گز نہیں یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بَک رہا ہے۔اب ان سب (مرنے والوں ) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔ پھر جونہی کہ صُور پُھونک دیاگیا، ان کے درمیان پھرکوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ اس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ آگ ان کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور ان کے جبڑے باہر نکل آئیں گے… ’’کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے‘‘؟ وہ کہیں گے ’’اے ہمارے رب، ہماری بدبختی ہم پر چھاگئی تھی۔ ہم واقعی گمراہ لوگ تھے۔اے پروردگار، اب ہمیں یہاں سے نکال دے۔ پھر ہم ایسا قصور کریں تو ظالم ہوں گے‘‘۔ اللہ تعالیٰ جواب دے گا ’’دُور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔
(المؤمنون…۱۰۸)
اللہ نے انسان کوفضول پیدا نہیں کیا
تم وہی لوگ تو ہوکہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کردے،ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے، تو تم نے ان کا مذاق بنالیا۔ یہاں تک کہ ان کی ضد نے تمہیں یہ بھی بھلادیا کہ میں بھی کوئی ہوں ، اور تم ان پر ہنستے رہے۔ آج ان کے اس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں ‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھے گا ’’بتاؤ، زمین میں تم کتنے سال رہے‘‘؟وہ کہیں گے ’’ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھیرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے‘‘۔ ارشاد ہوگا ’’تھوڑی ہی دیر ٹھیرے ہونا، کاش تم نے یہ اس وقت جانا ہوتا۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے‘‘؟ پس بالا و برتر ہے اللہ، بادشاہ حقیقی، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ، مالک ہے عرشِ بزرگ کا۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے، جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ، تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔اے نبیﷺ، کہو، میرے رب درگزر فرما اور رحم کر، تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔
(المؤمنون…۱۱۸)
زانی و زانیہ دونوں کو سو کوڑے مارو
سورۂ نُور: اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں شاید کہ تم سبق لو۔زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ۔اور زانیہ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک کے ساتھ۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ایمان پر۔(النور…۳)
۔نیک عورتوں پر تہمت کی سزا اسی کوڑے ہے
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ، پھر چار گواہ لیکر نہ آئیں ، ان کو اسی کوڑے مارواور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں ، سوائے ان لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہوجائیں اوراصلاح کرلیں کہ اللہ ضرور (ان کے حق میں ) غفور و رحیم ہے۔
( النور…۵)
۔ بیویوں پر الزام لگاناجب گواہ نہ ہو
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں ) سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اس پراللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام میں ) جھوٹا ہو۔ا ور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں ) جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں ) سچا ہو۔ تم لوگوں پرا للہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا)
( النور…۱۰)
۔ مومن کوبہتان لگانا زیب نہیں دیتا
جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں ۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا، اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھااسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں ) چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں ، اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں ۔ا گر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم وکرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا۔ (ذرا غورتو کرو، اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جارہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جارہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ’’ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ، یہ توایک بہتانِ عظیم ہے‘‘۔اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔ اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔
( النور…۱۸)
۔مومن گروہ میں فحاشی پھیلانے والے
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں ،ا للہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھیں بدترین نتائج دکھا دیتی)۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ (اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا ۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے، اور اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے۔
( النور…۲۱)
۔اللہ سے معافی چاہئے تو خود بھی معاف کرو
تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور صاحبِ مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اورمہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردیناچاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اوراللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے ۔)
النور:۲۲)
۔ نیک عورتوں پر تہمتیں لگانا لعنت ہے
جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کردکھانے والا۔خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ان کا دامن پاک ہے ان باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں ، ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم۔
(النور…۲۶)
۔بلااجازت دوسرے گھروں میں داخل ہونا
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضانہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔ پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہوجاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہوجائو جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یاکام) کی کوئی چیز ہو۔ تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو، سب کی اللہ کو خبر ہے۔
(النور…۲۹)
مردو زن دونوں نظروں کی حفاظت کریں
اے نبی ﷺ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے،جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتاہے۔اور اے نبی ﷺ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں ، اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ۔
(النور…۳۱)
کن مردوں سے حجاب کرناضروری نہیں
وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ ،شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں ،ا پنے لونڈی غلام، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہو، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔ وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلاکریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔ اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے۔
( النور۳۱)
۔غریب نکاح کرے تو اللہ غنی کر دیتا ہے
تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ، ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔ اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیں کہ عفت مآبی اختیار کریں ، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے۔
(النور…۳۳)
۔ جبراً بْرا کام کرناپڑے تو اللہ غفور و رحیم ہے
اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کرلو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے، اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ، اورجو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے۔ ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں ، اور ان قوموں کی عبرتناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کرچکے ہیں جو تم سے پہلے ہوگزری ہیں اور وہ نصیحتیں ہم نے کردی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں ۔
(النور…۳۴)
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں ) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو۔چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں )۔ اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔ (اس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) ان گھروں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یادکا اللہ نے اِذن دیا ہے۔ ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آجائے گی، (اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں ) تاکہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
(النور۳۸)
۔کافروں کے اعمال سراب کی مانند ہیں
(اس کے برعکس) جنہوں نے کفرکیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسااس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اس پر ایک اورموج، اور اس کے اوپر بادل تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے، جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں ۔
( النور…۴۰)
ساری مخلوق اللہ کی تسبیح کر رہی ہے
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑرہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نمازاور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔
(النور…۴۲)
بادل، بجلی، بارش اور اولے
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے۔ پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں ۔ اور وہ آسمان سے، ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں ، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کوخیرہ کیے دیتی ہے۔ رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کررہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔
(النور…۴۴)
شیطان انسان کے حق میں بڑا بے وفا ہے
جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ’’کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کودیکھیں ‘‘۔ بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں ۔ جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا۔چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا، اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے۔ بس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھیریں گے اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔ ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ’’کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا‘‘۔ اور رسول کہے گا کہ ’’اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنالیا تھا‘‘۔اے نبی ﷺ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مددکو کافی ہے۔
(الفرقان…۳۱)
۔قرآن بتد ریج کیوں نازل کیا گیا
منکرین کہتے ہیں ’’اس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیاگیا؟‘‘؟… ہاں ایسا اس لیے کیاگیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے،اس کا ٹھیک جواب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی … جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت بُرا ہے اور ان کی راہ حد درجہ غلط۔
(الفرقان…۳۴)
۔ہر قوم کو سابقہ تباہ شدہ قو م کی خبر دی گئی
ہم نے موسٰیؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ ان کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا اور ان سے کہا کہ جاؤ اس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلادیا ہے۔ آخرکار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا۔ یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ ہم نے ان کو غرق کردیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیاکررکھا ہے۔ اسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کردیا۔ اور اس بستی پر تو ان کا گزر ہوچکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہوگا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔
(الفرقان…۴۰)
۔ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنالیا
یہ لو گ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنالیتے ہیں ۔ (کہتے ہیں ) ’’کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بناکر بھیجا ہے؟ اس نے تو ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘۔ اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دور کل گیا تھا۔کبھی تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنالیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کوراہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ، بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔
(الفرقان…۴۴)
۔رات کو لباس اور نیند کو سکونِ موت بنایا گیا
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا۔ ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا، پھر (جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں ۔ اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، اورنیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔
(الفرقان…۴۷)
۔بارش کا پانی مردہ علاقہ کو زندگی بخشتا ہے
اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بشارت بناکر بھیجتا ہے۔ پھر آسمان سے پاک پانی نازل کرتا ہے تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں ، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کردیتے ہیں ۔ اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑا کرتے۔ پس اے نبی ﷺ ،کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔
(الفرقان…۵۲)
۔سمندر میں میٹھا اور کھارا پانی ساتھ ساتھ
اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملارکھا ہے۔ ایک لذیز و شیریں ، دوسرا تلخ و شور، اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اورسسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے۔
(الفرقان…۵۴)
۔ کافر اللہ کے ہر باغی کے مددگار ہیں
اس خدا کو چھوڑ کر لوگ ان کو پوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ہر باغی کا مددگار بنا ہوا ہے۔اے نبیﷺ، تم کو تو ہم نے بس ایک بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔ان سے کہہ دو کہ ’’میں اس کام پرتم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے‘‘۔
(الفرقان…۵۷)
آسمانوں اورزمین کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی
اے نبی ﷺ، اس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔ وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو بناکررکھ دیاجو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ’’عرش‘‘ پر جلوہ فرماہوا۔ رحمن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو۔
(الفرقان…۵۹)
۔آسمان میں بْرج اور چمکتا چاندبنا یاگیا
ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں ’’رحمن کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اُسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں ‘‘؟ یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کردیتی ہے۔ بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں بُرج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا۔ وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکرگزار ہونا چاہے۔
(الفرقان…۶۲)
۔جونہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل
رحمن کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ جو اپنے رب کے حضور سجدے اورقیام میں راتیں گزارتے ہیں ۔ جو دعائیں کرتے ہیں کہ ’’اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچالے، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے، وہ تو بڑا ہی بُرا مستقراور مقام ہے‘‘۔ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں … یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا، قیامت کے روز اس کو مکرر عذاب دیاجائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔ الاّیہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کرچکا ہو اور ایمان لاکر عمل صالح کرنے لگا ہو۔ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے
(الفرقان…۷۰)
۔توبہ کرکے نیک عمل کرنے والے
جو شخص توبہ کرکے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے… (اور رحمن کے بندے وہ ہیں ) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پران کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں ۔ جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سناکر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پراندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ ’’اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘… یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزلِ بلند کی شکل میں پائیں گے۔آداب و تسلیمات سے ان کا استقبال ہوگا۔وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام۔اے نبی ﷺ، لوگوں سے کہو ’’میرے رب کو تہاری کیاحاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہوگی‘‘
(الفرقان…۷۷)
۔ نباتات کی کثیر مقدارمیں ایک نشانی ہے
سورۃ الشعراء : اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ط ۔ س ۔ م۔ یہ کتاب مُبین کی آیات ہیں ۔ اے نبیﷺ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں ۔ ان لوگوں کے پاس رحمن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔اب کہ یہ جھٹلاچکے ہیں ، عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہوجائے گا جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں ۔اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں ؟ یقینا اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثرماننے والے نہیں ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۹)
۔فرعون کے پاس جانے سے موسیٰؑ کا گریز
انہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسٰیؑ کو پکارا ’’ظالم قوم کے پاس جا … فرعون کی قوم کے پاس …کیا وہ نہیں ڈرتے‘‘؟ اس نے عرض کیا، ’’اے میرے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں گے۔میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں ۔ اور مجھ پر ان کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے‘‘۔ فرمایا ’’ہرگز نہیں ، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العالمین نے اس لیے بھیجا ہے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے‘‘۔
(الشعراء…۱۷)
۔فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنالیا تھا
فرعون نے کہا ’’کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے،اور اس کے بعد کرگیا جو کچھ کرگیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے‘‘۔موسٰیؑ نے جواب دیا ’’اس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل فرمالیا۔ رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنالیا تھا‘‘۔
(الشعراء…۲۲)
۔فرعون کے دربار میں موسٰیؑ کامعجزہ دکھلانا
فرعون نے کہا ’’اور یہ رب العالمین کیاہوتا ہے؟‘‘ موسٰیؑ نے جواب دیا ’’آسمانوں اور زمین کا رب، اور ان سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں ، اگر تم یقین لانے والے ہو‘‘۔ فرعون نے اپنے گردوپیش کے لوگوں سے کہا ’’سنتے ہو‘‘؟ موسٰیؑ نے کہا ’’تمہارا رب بھی اورتمہارے ان آباؤاجداد کا رب بھی جو گزرچکے ہیں ‘‘۔ فرعون نے (حاضرین سے) کہا ’’تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں ‘‘۔موسٰیؑ نے کہا ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب،اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں ‘‘۔ فرعون نے کہا ’’اگر تو نے میرے سوا کسی اور معبود مانا تو تجھے بھی ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑرہے ہیں ‘‘۔ موسٰیؑ نے کہا ’’اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی‘‘؟ فرعون نے کہا ’’اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے‘‘۔(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسٰیؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا۔ پھراس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔
(الشعراء۳۳)
۔فرعون کا جادوگروں کو اکٹھا کرنا
فرعون اپنے گردوپیش کے سرداروں سے بولا ’’یہ شخص یقینا ایک ماہرجادوگر ہے۔ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو‘‘؟انہوں نے کہا ’’اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے کہ ہرسیانے جادوگرکو آپ کے پاس لے آئیں ‘‘۔ چنانچہ ایک روز مقرر وقت پرجادوگر اکٹھے کرلیے گئے اور لوگوں سے کہاگیا ’تم اجتماع میں چلو گے؟ شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پررہ جائیں اگر وہ غالب رہے‘‘۔
(الشعراء…۴۰)
۔جادو گروں کا موسیٰؑ سے شکست کھانا
جب جادوگر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ’’ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے‘‘؟اس نے کہا ’’ہاں ،اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہوجائو گے‘‘۔موسٰیؑ نے کہا ’’پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے‘‘۔ انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ’’فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے‘‘۔ پھر موسٰیؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جارہا تھا۔ اس پرسارے جادوگربے اختیار سجدے میں گرپڑے اور بول اٹھے کہ ’’مان گئے ہم رب العالمین کو۔موسٰیؑ اور ہارونؑ کے رب کو‘‘
( الشعراء…۴۸)
۔فرعون کا جادوگروں پر ناراض ہونا
فرعون نے کہا ’تم موسٰیؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے،میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھا دوں گا‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’کچھ پروا نہیں ، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے۔ اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا، کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں ‘‘۔
(الشعراء:۵۱)
۔موسیٰؑ کا ساتھیوں سمیت شہر سے نکلنا
ہم نے موسٰیؑ کو وحی بھیجی کہ ’’راتوں رات
میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا‘‘۔ اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیئے (اور کہلا بھیجا) کہ ’’یہ کچھ مُٹھی بھر لوگ ہیں ، اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے، اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے‘‘۔ اس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے۔ یہ تو ہوا ان کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کردیا۔
(الشعراء…۵۹)
۔ لشکرِفرعون کا سمندر میں غرق ہونا
صبح ہوتے یہ لوگ ان کے تعاقب میں چل پڑے۔ جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسٰیؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ’’ہم تو پکڑے گئے‘‘۔ موسٰیؑ نے کہا ’’ہرگز نہیں ۔ میرے ساتھ میرا رب ہے۔وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا‘‘۔ ہم نے موسٰیؑ کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ ’’مار اپنا عصا سمندر پر‘‘۔ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہوگیا۔ اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسٰیؑ اور ان سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچالیا، اور دوسروں کو غرق کردیا۔ اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر ان لوگوں میں سے اکثرماننے والے نہیں ہیں ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۶۸)
۔ابراہیمؑ کا بت پرست قوم سے مکالمہ
اور انہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ ’’یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو‘‘؟ انہوں نے جواب دیا ’’کچھ بُت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں ‘‘۔ اس نے پوچھا ’’کیا یہ تمہاری سُنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟ یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں ‘‘؟ انہوں نے جواب دیا ’’نہیں ، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے‘‘۔ اس پر ابراہیمؑ نے کہا ’’کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) ان چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجالاتے رہے؟
( الشعراء:۷۶)
رب العالمین موت کے بعد زندگی بخشے گا
میرے تو یہ سب دشمن ہیں ،بجز ایک رب العٰلمین کے،جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا اورپلاتا ہے۔ اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ جو مجھے موت دے گا۔ اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزا میں وہ میری خطا معاف فرمادے گا‘‘۔ (اس کے بعدابراہیمؑ نے دعا کی کہ) ’’اے میرے رب، مجھے حکم عطاکر۔ اور مجھ کوصالحوں کے ساتھ ملا۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطاکر۔ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ اورمیرے باپ کو معاف کردے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد، بجز اس کے کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘
(الشعراء…۸۹)
۔ دوزخ گمراہوں کے سامنے کھلی ہوگی
(اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی۔ اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ’’اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے؟ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کررہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ؟‘‘۔ پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ، اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپر تلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے کہ ’’خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العٰلمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔ اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں ‘‘۔یقینا اس میں ایک بڑی نشانی ہے،مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۱۰۴)
۔نوحؑ کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں بچالیاگیا
قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یاد کرو جب کہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا ’’کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے‘‘؟ نوحؑ نے کہا ’’میں کیاجانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں ، ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں ۔میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کردینے والا آدمی ہوں ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اے نوحؑ ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہوکر رہے گا‘‘۔نوحؑ نے دعا کی ’’اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلادیا۔ اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کردے اور مجھے اورجو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے‘‘۔ آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچالیا۔اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا۔یقینا اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ۔اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء:۱۲۲)
۔قومِ عاد کا لاحاصل یادگار عمارات بنانا
عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہودؑنے ان سے کہا تھا ’’کیا تم ڈرتے نہیں ؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں ۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بناڈالتے ہو،اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبار بن کر ڈالتے ہو۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ڈرو اس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔ تمہیں جانور دیئے، اولادیں دیں ، باغ دیئے اور چشمے دیئے۔مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے‘‘۔ انہوں نے جواب دیا ’’تُو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے سب یکساں ہے۔ یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں ۔اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں ‘‘۔ آخرکار انہوں نے اسے جھٹلادیا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔یقینااس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے۔اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۱۴۰)
۔اہلِ ثمود کے لیے اونٹنی کی نشانی
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا ’’کیا تم ڈرتے نہیں ؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں ۔ لہٰذاتم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پرتم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں ، بس یونہی اطمینان سے رہنے دیئے جاؤ گے؟ان باغوں اور چشموں میں ؟ ان کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں ؟ تم پہاڑ کھودکھود کر فخریہ ان میں عمارتیں بناتے ہو۔اللہ سے ڈرو اورمیری اطاعت کرو۔ان بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نے جواب دیا۔ ’’تُو محض ایک سِحرزدہ آدمی ہے۔ تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے؟ لا کوئی نشانی اگر تو سچا ہے‘‘۔ صالحؑ نے کہا ’’یہ اونٹنی ہے۔ ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔ اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آلے گا‘‘۔ مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے۔عذاب نے انہیں آلیا۔یقینا اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۱۵۹)
۔قومِ لوطؑ کے لیے بارش کا عذاب
لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔یاد کرو جب کہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا، ’’کیا تم ڈرتے نہیں ؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں ۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے ۔ کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزرگئے ہو‘‘۔ انہوں نے کہا ’’اے لوطؑ ، اگر تو ان باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں ان میں تو بھی شامل ہوکر رہے گا‘‘۔ اس نے کہا ’’تمہارے کرتوتوں پرجو لوگ کُڑھ رہے ہیں ،میں ان میں شامل ہوں ۔ اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل وعیال کو ان کی بدکرداریوں سے نجات دے‘‘۔ آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچالیا،بجز ایک بوڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کردیا اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو ان ڈرائے جانے والوں پرنازل ہوئی۔یقینا اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرارب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۱۷۵)
۔پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو،
اصحاب الایکہ نے رسولوں کو جھٹلایا۔ یاد کرو جب کہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا ’’کیا تم ڈرتے نہیں ؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں ۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔میرا اجر تو رب العٰلمین کے ذمہ ہے۔ پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گذشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’تو محض ایک سِحرزدہ آدمی ہے،اور تو کچھ نہیں ہے مگر ایک انسان ہم ہی جیسا،اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں ۔اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادے‘‘۔شعیبؑ نے کہا ’’میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو‘‘۔انہوں نے اسے جھٹلادیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پرآگیا،اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔یقینا اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں ۔ا ور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔
(الشعراء…۱۹۱)
۔قرآن کو واضح عربی زبان میں اتارا گیا
یہ رب العٰلمین کی نازل کردہ چیز ہے۔اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے تاکہ تو ان لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلقِ خدا کو) متنبہ کرنے والے ہیں ، صاف صاف عربی زبان میں ۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ کیاان (اہل مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں ؟ (لیکن ان کی ہٹ دھرمی کا حال تو یہ ہے کہ) اگر ہم اسے کسی عجمی پربھی نازل کردیتے تواور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑ ھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے۔اسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں ۔ پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آپڑتا ہے اس وقت وہ کہتے ہیں کہ ’’کیا اب ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے‘‘؟ تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچارہے ہیں ؟ تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں اور پھر وہی چیز ان پر آجائے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے تو وہ سامان زیست جو ان کو ملا ہوا ہے ان کے کس کام آئے گا؟
(الشعراء…۲۰۷)
۔اللہ خبردار کیے بغیر کسی بستی کو ہلاک نہیں
کرتا
(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کواس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اس کے لیے خبردار کرنے والے حق نصیحت ادا کرنے کوموجود تھے۔ اور ہم ظالم نہ تھے۔اس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں ، نہ یہ کام ان کو سجتا ہے،ا ورنہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔وہ تو اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں ۔پس اے نبی ﷺ، اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ، اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ، لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں ۔اور اس زبردست اوررحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو، اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
(الشعراء…۲۲۰)
۔ شیاطین جعل ساز،بدکار پر اترا کرتے ہیں
لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں ؟وہ ہر جعل ساز،بدکار پر اترا کرتے ہیں ۔سنی سنائی باتیں کانوں میں پُھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں ۔
(الشعراء:۲۲۳)
۔ شعراء نہ کرنے والی باتیں کرتے ہیں
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں ۔کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں … بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیاگیا تو صرف بدلہ لے لیا… اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں ۔
(الشعراء…۲۲۷)
۔منکرینِ آخرت کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
سورۃالنمل:اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربا ن اور رحم فرمانے والا ہے۔ط۔س۔یہ آیات ہیں قرآن اور کتاب مبین کی، ہدایت اور بشارت ان ایمان لانے والوں کے لیے جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے ان کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں ۔ اور (اے نبی ﷺ) بلاشبہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پارہے ہو۔
(النمل…۶)
۔ فرعون اور اس کی قوم کی طرف نو نشانیاں
(انہیں اس وقت کا قصہ سناؤ) جب موسٰیؑ نے اپنے گھر والوں سے کہاکہ ’’مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لےب کر آتا ہوں یا کوئی انگاراچُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہوسکو‘‘۔ وہاں جو پہنچا تو ندا آئی کہ ’’مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ماحول میں ہے۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار۔ اے موسٰیؑ ، یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور دانا۔اور پھینک تو ذرا اپنی لاٹھی‘‘۔جونہی کہ موسٰیؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ’’اے موسٰیؑ ، ڈرو نہیں ۔ میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے، الاّیہ کہ کسی نے قصورکیاہو۔ پھر اگر بُرائی کے بعد اس نے بھلائی سے (اپنے فعل کو) بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں ۔اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ (دو نشانیاں ) نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے)، وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں ‘‘۔مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں ان لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلم کھلا جادو ہے۔ انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہوچکے تھے۔اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔
(النمل…۱۴)
اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا
بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اُس کے ذریعہ وہ خوشنما باغ اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (ان کاموں میں شریک) ہے؟(نہیں )، بلکہ یہی لوگ راہ راست سے ہٹ کر چلے جارہے ہیں ۔ اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کردیئے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک) ہے؟ نہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں ۔
(النمل…۶۱)
۔انسان کو زمین کا خلیفہ کس نے بنایا؟
کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے ؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔
(النمل…۶۳)
۔خلق کی ابتدا اور اس کا اعادہ کرنے والا
اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا اور پھر اس کااعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں حصہ دار) ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔ان سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔ بلکہ آخرت کا تو علم ہی ان لوگوں سے گم ہوگیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں ۔
(النمل…۶۶)
۔ کیا عجب کہ عذاب کا ایک حصہ قریب ہی ہو
یہ منکرین کہتے ہیں ’’کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباؤاجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے آرہے ہیں ‘‘۔کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔اے نبی ﷺ، ان کے حال پررنج نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر دل تنگ ہو…وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ دھمکی کب پوری ہوگی اگر تم سچے ہو‘‘؟ کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ بلاشُبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں ۔ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو ۔
(النمل:…۷۵)
۔ جانور لوگوں سے کلام کرے گا
یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔ یقینا (اسی طرح) تیرا رب ان لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ پس اے نبی ﷺ، اللہ پر بھروسہ رکھو، یقینا تم صریح حق پر ہو۔ تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتاکر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں ۔اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پریقین نہیں کرتے تھے۔
(النمل…۸۲)
۔روشن دن اور سکون آور رات نشانیاں ہیں
اور ذرا تصور کرو اس دن کا جب ہم ہر امت میں سے ایک فوج کی فوج ان لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جُھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے، تو (ان کا رب ان سے) پُوچھے گا کہ ’’تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کررہے تھے‘‘؟ اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔ کیاان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اس میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔
(النمل…۸۶)
۔جب پہاڑ بادلوں کی طرح اْڑ یں گے
اورکیاگزرے گی اس روز جبکہ صُور پھونکا جائے گا اور ہَول کھاجائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں … سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا … اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ اُستوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے، اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟
(النمل…۹۰)
۔ ہدایت اختیار کرو، اپنے ہی بھلے کے لیے
(اے نبی ﷺ، ان سے کہو) ’’مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے رب کی بندگی کروں جس نے اسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں اور یہ قرآن پڑھ کر سُناؤں ‘‘۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اس سے کہہ دو کہ ’’میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں ‘‘۔ ان سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لو گے، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے ان اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔
(النمل…۹۳)
۔فرعون و موسیٰؑ کے قصہ میں سبق ہے
سورۃ القصص: اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربا ن اور رحم فرمانے والا ہے۔ ط ۔ س۔ م ۔ یہ کتاب مُبین کی آیات ہیں ۔ ہم موسٰیؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سناتے ہیں ، ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں ۔واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی والواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنادیں اور اُنہی کو وارث بنائیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا۔
(سورۃ القصص…۶)
۔ موسیٰؑ کادریا سے فرعون کے گھر پہنچنا
ہم نے موسٰیؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ’’اس کو دُودھ پلا، پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے‘‘۔ آخرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیر میں ) بڑے غلط کار تھے۔ فرعون کی بیوی نے (اس سے ) کہا ’’یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کو ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیاعجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا ہی بناڈالیں ‘‘۔ اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے۔
(سورۃ القصص…۹)
۔ نومولود موسیٰؑ کا ماں سے دوبارہ ملنا
اُدھر موسٰیؑ کی ماں کا دل اُڑا جارہا تھا۔وہ اُس کا راز فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو۔ اس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو) اس کا پتہ نہ چلا۔اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دُودھ پلانے والوں کی چھاتیاں حرام کررکھی تھیں ۔ (یہ حالت دیکھ کر) اس لڑکی نے اُن سے کہا ’’میں تمہیں ایسے گھرکا پتا بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیرخواہی کے ساتھ اسے رکھیں ‘‘؟ اس طرح ہم موسٰیؑ کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔
(سورۃ القصص…۱۳)
۔جھگڑے میں موسیٰؑ کے ہاتھوں قتل
جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل ہوگیاتو ہم نے اسے حُکم اور علم عطا کیا، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں ۔ (ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہل شہر غفلت میں تھے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑرہے ہیں ۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسٰیؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا، ’’یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کُن ہے‘‘، پھر وہ کہنے لگا ’’اے میرے رب، میں نے اپنے نفس پر ظلم کرڈالا، میری مغفرت فرمادے؟‘‘۔ چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی، وہ غفور رحیم ہے۔موسیٰؑ نے عہد کیا کہ ’’اے میرے رب، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اس کے بعد اب میں کبھی مجرم کا مددگار نہ بنوں گا‘‘۔
(سورۃ القصص…۱۷)
۔ موسیٰؑ کا شہر چھوڑ کر نکل جانا
دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جارہا تھا کہ یکایک کیادیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکا رہاہے۔موسیٰؑ نے کہا ’’تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے‘‘۔ پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا ’’اے موسیٰؑ ، کیاآج تو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے؟ تو اس ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتا ہے،اصلاح کرنا نہیں چاہتا‘‘۔ اس کے بعد ایک آدمی شہرکے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا، ’’موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہورہے ہیں ،یہاں سے نکل جا میں تیرا خیرخواہ ہوں ‘‘۔ یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہما نکل کھڑا ہوا اوراس نے دعا کی کہ ’’اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا‘‘
(سورۃ القصص…۲۱)
۔ مدین میں کنویں پر عورتوں کی مدد کرنا
(مصر سے نکل کر) جب موسٰیؑ نے مدین کا رخ کیا تو اس نے کہا ’’امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا‘‘۔ اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں ۔ موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا ’’تمہیں کیا پریشانی ہے‘‘؟ انہوں نے کہا ’’ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں ، اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں ‘‘۔ یہ سُن کر موسٰیؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلادیا، پھر ایک سائے کی جگہ جابیٹھا اور بولا ’’پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں ‘‘۔
(سورۃ القصص…۲۴)
۔۱۰؍سال تک ملازمت اور شادی کا معاہدہ
(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی ’’میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایاہے اس کا اجر آپ کو دیں ‘‘۔موسٰیؑ جب اس کے پاس پہنچا اوراپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا ’’کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو‘‘۔ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا ’’ابا جان، اس شخص کو نوکر رکھ لیجئے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جومضبوط اور امانت دار ہو‘‘۔ اس کے باپ نے (موسٰیؑ سے) کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پورے کردو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم ان شاء اللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے‘‘۔موسٰیؑ نے جواب دیا ’’یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی پوری کردوں اس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کررہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے‘‘۔
(سورۃ القصص…۲۸)
۔طور کی جانب روانگی اوراللہ سے ہم کلامی
جب موسٰیؑ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ’’ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو‘‘۔ وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکاراگیا کہ ’’اے موسٰیؑ ، میں ہی اللہ ہوں ، سارے جہان والوں کا مالک‘‘۔ اور (حکم دیاگیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی۔ جوں ہی موسٰیؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑکر بھی نہ دیکھا۔ (ارشاد ہوا) ’’موسٰیؑ پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے۔ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازوبھینچ لے۔
(سورۃ القصص…۳۲)
۔موسیٰؑ کی نبوت میں ہارونؑ کا شریک ہونا
یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ‘‘۔ موسٰیؑ نے عرض کیا ’’میرے آقا، میں توان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے، اور میرا بھائی ہارونؑ مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے‘‘ فرمایا ’’ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا‘‘۔
(سورۃ القصص…۳۵)
۔ فرعون نے کہا کہ اونچی عمارت بنا تا کہ خدا کو دیکھ سکوں
پھر جب موسٰیؑ ان لوگوں کے پاس ہماری کُھلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا ’’یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادو۔ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنی ہی نہیں ‘‘۔موسٰیؑ نے جواب دیا’’میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کااچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے‘‘۔اور فرعون نے کہا ’’اے اہل دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ ہامان، ذرا اینٹیں پکواکر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسٰیؑ کے خدا کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ‘‘۔
(سورۃ القصص…۳۸)
۔لشکرِ فرعون کا گھمنڈ اور ان کی تباہی
اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیااور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔ آخرکار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔ اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے۔ہم نے اس دنیا میں اس کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مُبتلا ہوں گے۔
(سورۃ القصص…۴۲)
۔ جب موسیٰؑ کو فرمانِ شریعت عطا ہوا
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسٰیؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بناکر،ہدایت اوررحمت بناکر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں ۔ (اے نبی ﷺ) تم اس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسٰیؑ کو یہ فرمان شرعیت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے، بلکہ اس کے بعد (تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھاچکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے۔ تم اہل مدین کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ ان کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے، مگر (اس وقت کی یہ خبریں ) بھیجنے والے ہم ہیں ۔ اور تم طور کے دامن میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسٰیؑ کو پہلی مرتبہ) پکارا تھا، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں ) تاکہ تم ان لوگوں کو متنبہ کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہوش میں آئیں ۔ (اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کیے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں ’’اے پروردگار، تُونے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اورا ہل ایمان میں سے ہوتے‘‘۔
(القصص…۴۷)
۔خدائی ہدایت کے بغیر خواہشات کی پیروی
مگرجب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ’’کیوں نہ دیا گیااس کو وہی کچھ جو موسٰیؑ کو دیا گیا تھا‘‘؟ کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسٰیؑ کو دیاگیا تھا؟ انہوں نے کہا ’’دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ‘‘۔ اور کہا ’’ہم کسی کو نہیں مانتے‘‘۔ (اے نبی ﷺ) ان سے کہو، ’’اچھا تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا‘‘۔ اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کرکون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں بخشتا۔
(سورۃ القصص…۵۰)
۔جو بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں
اور (نصیحت کی) بات پے درپے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں ۔جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور جب یہ ان کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں ‘‘۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیاجائے گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔ وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے ان میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ اور جب انہوں نے بے ہودہ بات سُنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ’’ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیارکرنا نہیں چاہتے‘‘ اے نبیﷺ، تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں ۔
(سورۃ القصص…۵۶)
۔خوشحالی پراترانے والی بستیاں تباہ ہوگئیں
وہ کہتے ہیں ’’اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے‘‘۔کیایہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُرامن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟مگران میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔ اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِتراگئے تھے۔سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخرکار ہم ہی وارث ہوکر رہے۔
(سورۃ القصص…۵۸)
۔جب بستی والے ظالم ہوجائیں
اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے۔ تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیاگیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے۔ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟
( القصص…۶۰)
۔ صرف حیاتِ دنیا کاسامان پانے والے
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیاتِ دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟اور (بھول نہ جائیں یہ لوگ) اُس دن کو جبکہ وہ ان کو پکارے گا اور پُوچھے گا ’’کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے‘‘؟ یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے ؟’’اے ہمارے رب! بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ انہیں ہم نے اسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے‘‘۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو۔ یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔
(سورۃ القصص…۶۴)
۔اللہ جسے چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے
اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ)وہ دن جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گاکہ ’’جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا‘‘؟ اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے۔ البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے، یہ انتخاب ان لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔ تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اس کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔
(سورۃ القصص…۷۰)
۔ اگر رات یا دن تا قیامت طول پکڑجائیں
اے نبی ﷺ، ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کردے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟ ان سے پوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کردے تو اللہ کے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہیں رات لادے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں ؟ یہ اُسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں ) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکرگزار بنو۔
(سورۃ القصص…۷۳)
۔اللہ ہر امت سے ایک گواہ نکال لائے گا
(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جب کہ وہ انہیں پکارے گا پھر پُوچھے گا ’’کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے‘‘؟اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر کہیں گے کہ ’’لاؤ اب اپنی دلیل‘‘۔ اُس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جُھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔
(سورۃ القصص…۷۵)
۔ قارون کا خزانہ اور اس کی سرکشی
یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسٰیؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔ اور ہم نے اُس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ’’پُھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے ا س سے آخرت کا گھر بنانے کی فکرکر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ تو اس نے کہا ’’یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیاگیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے‘‘… کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اورجمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے
(القصص:۷۸)
۔ قارون کا خزانہ زمین میں دھنسا دیاگیا
ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا۔ جو لوگ حیاتِ دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے ’’کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے‘‘۔ مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ’’افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو‘‘۔آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کرسکا۔ اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کررہے تھے کہنے لگے ’’افسوس، ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپَا تُلا دیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے‘‘۔
(القصص…۸۲)
۔ انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے
وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں ۔ اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔ جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے ، اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔ اے نبی ﷺ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچا نے والا ہے۔ ان لوگوں سے کہہ دو کہ ’’میرا رب خوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کُھلی گمراہی میں کون مُبتلا ہے‘‘۔ تم اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)، پس تم کافروں کے مددگار نہ بنو۔ اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفار تمہیں ان سے باز رکھیں ۔ اپنے رب کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے۔ فرمانروائی اسی کی ہے اوراسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو
(القصص۸۸)
۔کیا لوگوں کو آزمایا نہ جائے گا؟
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون۔اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کررہے ہیں ۔یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟بڑا غلط حکم ہے جووہ لگارہے ہیں ۔ جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔ جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا۔اللہ یقینا دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے۔ اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے ان کی برائیاں ہم ان سے دور کردیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔
(العنکبوت…۷)
۔شرک میں والدین کی اطاعت نہ کرو
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر۔ میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کرآنا ہے، پھر میں تم بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔
(العنکبوت…۹)
۔دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم ہے
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔ مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایاگیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ’’ہم تو تمہارے ساتھ تھے‘‘۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟ اوراللہ کو تو ضروریہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون۔
(سورۃ العنکبوت…۱۱)
۔ کافروں کے طریقے کی پیروی کرنا
یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے۔ حالانکہ ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں ، وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں ۔ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی۔ اور قیامت کے روز یقینا ان سے ان افتراپردازیوں کی بازپرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں ۔
(سورۃ العنکبوت…۱۳)