https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Thursday, 9 April 2026

پاکی کی مدت پندرہ دن ہے

 واضح رہے کہ شرعاً دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کا فاصلہ ہونا  ضروری ہے،پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون شرعاً استحاضہ شمار ہوگا،اور  عورت کی عادت کے مطابق ہی حیض اور طہر کے ایام مقرر کیے جائیں گے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ خاتون کے حیض  کی عادت چوں کہ  ایک ہفتہ کی ہے اس لیے  ایک  ہفتہ مذکورہ خاتون کو جو خون آرہا ہے وہ  حیض  شمار ہوگا اور  آٹھویں دن حیض سے پاک ہوکر مذکورہ خاتون کوپندرہویں   دن سے پہلے جو خون آرہاہے  وہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اور استحاضہ کے دنوں کا حکم یہ ہے کہ اس میں نماز ،روزہ ،تلاوت ،قربت غرض یہ کہ پاکی والے تمام اعمال کیے جائیں گے، اور  عادت کے مطابق جب تک پاکی کے 15دن مکمل نہ ہوجائیں اس وقت تک مذکورہ خاتون پاک شمار ہوگی،اور  جب   مذکورہ خاتون کے پاکی کے دن عادت کے مطابق  مکمل ہوجائیں تو  حیض کے ایام  اس پاکی کے بعد سے شمارکیے جائیں گے۔

  نیز استحاضہ کے ایام  میں  اگر  مذکورہ خاتون کو خون اتنے وقفے سے آتاہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو ہوکر   وقتی فرض نماز  ادا کرسکتی ہو تو ایسی صورت میں پاکی کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے نماز ادا کرنی ہوگی ، اور اگر استحاضہ  کا خون مسلسل جاری  ہو   اور اتنا وقت بھی نہ مل رہا ہو کہ پاک صاف ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکے ،تو ایسی صورت میں  ہرنماز کے وقت میں نیا وضو کرناہوگا، پھر اس وضو سے  اگلی نماز کے وقت تک جتنے فرائض و نوافل  چاہےپڑھ سکتی ہے، نیز روزے  بھی رکھ سکتی ہے اور قرآنِ کریم کی تلاوت بھی کرسکتی ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"فالأصل عند أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة الآخر على ما في المبسوط أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لا يصير فاصلا بل يجعل كالدم المتوالي؛ لأنه لا يصلح للفصل بين الحيضتين فلا يصلح للفصل بين الدمين."

( كتاب الطهارة،باب الحيض،216/1،ط:دار الکتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودم الإستحاضة حکمه کرعاف دائم وقتًا کاملاً لایمنع صومًا وصلاةً ولو نفلاً وجماعَا؛ لحدیث: توضئي وصلي وإن قطر الدم علی الحصیر".

(کتاب الطهارۃ،باب الحیض،298/1،ط: سعید )

No comments:

Post a Comment