https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Saturday, 8 February 2025

الوراثة في الايجار القديم

 توفيَ والدي عن عمر 71 عام وله زوجة و 8 أبناء (2 ذكور- 6 إناث) وقد ترك محلاً مؤجراً بإيجار قديم ( مطعم فول وطعمية ) حيث كان يدير المحل ، وهو مصدر رزقه الوحيد وكان الابن الأكبر يساعده في المحل ، بجانب عمله كموظف ، وبمقابل مادي ، وكان قد اشتد عليه مرضه قبل موته بسنة ، فقام الابن الأكبر بتحمل مسئولية المحل كاملة . السؤال هو : ما هي طريقة توزيع هذا المحل على الورثة ( الأم – 2 أبناء ذكور – 6 أبناء إناث ) ؟

الجواب 

إذا كان المقصود من السؤال : أن والدكم قد استأجر ذلك المحل بنظام الإيجار القديم ، وهو نظام قائم على : أن المستأجر ينتفع بالمؤجر ( من بيت أو محل أو نحو ذلك ) مدة غير معلومة ، عادة ما تكون أجرة ذلك النوع من الإيجار أقل من قيمة المثل ، ويبقى ذلك الانتفاع بعد موت المستأجر لورثته من بعده .

فهذا النوع من الإجارة لا يصح ، ويبطل به العقد ؛ لكون المدة غير معلومة ، ومن شرط صحة الإجارة أن تكون مدة العقد فيها معلومة .

قال ابن قدامه رحمه الله في " المغني " (5/261) : " قال ابن المنذر : أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم , على أن استئجار المنازل والدواب جائز ، ولا تجوز إجارتها ، إلا في مدة معينة معلومة " انتهى .

وعليه ، فليس من أملاك والدكم ذلك المحل ، حتى يتم تقسميه بينكم كميراث ، بل الواجب عليكم رد المحل لصاحبه وفسخ عقد الإيجار بالنظام القديم ، ثم إذا أردتم تأجير المحل بعد ذلك ، فلكم أن تتفقوا مع صاحب المحل على تأجير المحل بشرط أن يكون ذلك على مدة محددة معلومة .

وأما ما في المحل من أغراض وأشياء يملكها والدكم ، فهذه هي التي تدخل في التركة ، وتقسم بين الورثة .

وللفائدة ينظر جواب السؤال رقم : (143602) ، وجواب السؤال رقم : (148597) .

دھوکہ دہی سے متعلق چند احادیث

:
1۔صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا''ہر دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا‘ جس کے ذریعہ وہ پہچانا جائے گا۔‘‘
2 ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓفرماتے ہیں: اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبیﷺپر نازل کی ہے‘ وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے‘ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں‘ تم کو جو اللہ نے علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھتے کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل ہوا ہے ‘اس کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہوں۔ 
3۔ صحیح بخاری میں حضرت سعد ؓروایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا تھا کہ اہل مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا ‘وہ اس طرح گھل جائے گا‘ جیسے نمک میں پانی گھل جایا کرتا ہے۔ 
4۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک خاتون نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری سوکن ہے اگر اپنے شوہر کی طرف سے ان چیزوں کے حاصل ہونے کی بھی داستانیں اسے سناؤں ‘جو حقیقت میں میرا شوہر مجھے نہیں دیتا تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ نبی کریم ﷺنے اس پر فرمایا کہ جو چیز حاصل نہ ہو‘ اس پر فخر کرنے والا اس شخص جیسا ہے جو فریب کا جوڑا‘ یعنی ( دوسروں کے کپڑے ) مانگ کر پہنے۔ 
5۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ معاویہ ؓ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور خطبہ دیا۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ نبی کریمﷺنے اسے ''زور‘‘ یعنی فریبی فرمایا‘ یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے ‘جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے۔
6۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا : ''آخری زمانے میں (ایسے ) دجال ( فریب کار ) کذاب ہوں گے‘ جو تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے ‘جو تم نے سنی ہوں گی‘ نہ تمہارے آباء نے ۔ تم ان سے دور رہنا ( کہیں ) وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں ۔ ‘ ‘ 
7۔سنن ابن ماجہ میں اسما بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺکی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ ؐنے ہم سے کھانے کو کہا‘ ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے‘ اس پر آپؐ نے فرمایا: تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ۔ 
8۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓسے روایت ہے کہ بازار میں ایک شخص نے ایک سامان دکھا کر قسم کھائی کہ اس کی اتنی قیمت لگ چکی ہے؛ حالانکہ اس کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی ‘اس قسم سے اس کا مقصد ایک مسلمان کو دھوکہ دینا تھا۔ اس پر یہ آیت اتری ''جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلہ میں بیچتے ہیں‘‘۔
9۔ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ''نجش‘‘ ( فریب‘ دھوکہ ) سے منع فرمایا تھا۔ 

دھوکہ دھی

 واضح رہے کہ  شریعت مطہرہ میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو مسلمان کی شان کے خلاف بتایا ہے، اور فرمایا کہ:"مومن ہر خصلت  پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے"۔ایک اور روایت میں جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

اسی وجہ سے آج ہمارے معاشرہ میں بے برکتی ہے،ہر شخص اپنی اپنی جگہ پریشان ہے،اگر اس دھوکہ بازی اور ملاوٹ سے توبہ نہیں کی گئی تو ہمارا حال اور برا ہوجائے گا،حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غلہ فروخت کرنے والے کے پاس سے گزرے، آپ نے اپنا ہاتھ غلہ کے اندر ڈالا تو ہاتھ میں کچھ تری محسوس ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا یہ تری کیسی ہے؟ غلہ کے مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس پر بارش ہو گئی تھی، آپ نے فرمایا تم نے اس بھیگے ہوئے غلہ کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اس کو دیکھ لیتے،جس شخص نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے معاشرے کو ان چیزوں سے پاک کریں،جو لوگ بھی دھوکہ دہی کرتے ہیں وہ حضور کے ان ارشادت کو سامنے رکھیں اور اس فعل سے اجتناب کی کوشش کریں۔

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

( ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)

مسلم شریف میں ہے:

" (102) وحدثني ‌يحيى بن أيوب، ‌وقتيبة، ‌وابن حجر جميعا، عن ‌إسماعيل بن جعفر . قال ابن أيوب: حدثنا إسماعيل قال: أخبرني ‌العلاء ، عن ‌أبيه ، عن ‌أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ ‌من ‌غش ‌فليس مني."

(ج:1، ص:69، ط: دار المنھاج)

ناجائز اور مخلوط آمدنی سے حج

 بینک کی آمدنی میں غلبہ سود اور ناجائز منافع کا ہے، اس لیے بینک کی ملازمت اور حاصل ہونے والی آمدنی جائز نہیں، اگر بینک ملازم کا ذریعۂ آمدن صرف یہی ہے یا وہ اسی رقم سے تحائف خرید کردیتاہے تو ان تحائف کالینابھی درست نہیں ہے،اگر وصول کرلیں توکسی غریب کو ثواب کی نیت کے بغیر دے دیں۔ اس لیے مذکورہ شخص کے لیے حج جیسی عظیم عبادت کے لیے اپنی حلال رقم کے ساتھ اس حرام رقم کو ملانا درست نہیں ہے، بلکہ خالص حلال کی رقم سے حج کا فریضہ ادا کرنا چاہیے۔تاہم اگر حرام آمدنی سے حج کیاتو حج ادا ہوجائے گا مگر مقبول حج کا ثواب حاصل نہ ہوگا۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر مذکورہ سونے کے سیٹ کے علاوہ اس شخص کے پاس  مالِ حلال سے اتنی رقم یا مال تجارت وغیرہ نہیں ہے جس کی بنا پر اس پرحج فرض ہوتاہو تو اس سیٹ کی موجودگی کی وجہ سے حج لازم نہ ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية، ولايأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع". (5 / 342، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات، ط: رشیدیه)

وفیه أیضاً:

"آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لايقبل، ولايأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط". (5 / 343، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات، ط: رشیدیه) (مجمع الأنهر، (2/529) کتاب الکراهية، ط: دار إحیاء التراث العربي) 

ناجائز کمائی سے حج

 اللہ تعالی طیب (پاک) ہیں اور پاکی ہی کو پسند فرماتے ہیں، اور پاک و حلال آمدن سے دیا گیا صدقہ اور ادا کی گئی مالی عبادت قبول فرماتے ہیں، جب کہ بینک میں ملازمت سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے ،وہ شرعًا ناجائز اور حرام ہوتی ہے ،ایسی کمائی سے کیا گیا حج اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا،اس لیے حج کی ادائیگی کے لیے حلال رقم کا انتظام کرنا ضروری ہے ،تاہم اگر کسی نے   بینک سے کمائی ہوئی رقم سے حج کرلیا تو اس کا فریضہ ادا ہوجائے گا ، لیکن ثواب  سے محرومی ہوگی  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و يجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لايقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها و لاتنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ.

أي لأن عدم الترك يبتنى على الصحة: وهي الإتيان بالشرائط، و الأركان و القبول المترتب عليه الثواب يبتنى على أشياء كحل المال والإخلاص كما لو صلى مرائيا أو صام واغتاب فإن الفعل صحيح لكنه بلا ثواب والله تعالى أعلم

(کتاب الحج، مطلب فيمن حج بمال حرام، ج۲، ص۴۵۶، ط: سعید)


لمافي البحر الرائق:

ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث مع أنه يسقط الفرض عنه معها وإن كانت مغصوبة ولا تنافي بين سقوطه وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول ولا يعاقب في الآخرة عقاب تارك الحج.(كتاب الحج،2/541،رشيدية)

وفي الهندية:

ويجتهد في تحصيل نفقة حلال فإنه لا يقبل الحج بالنفقة الحرام مع أنه يسقط الفرض عنه معها وإن كانت مغصوبة. (كتاب الحج،1/488،رشيدية

 معاملہ ہذا میں مدعی کا اپنے بھائیوں کو اعتماد میں لیے بغیردوکان مذکور اپنی بیوی کے نام خریدنا غلط تھاجوفریقین میں رنجش کی وجہ بنابہرکیف۔عبدالغفارمرحوم کی_کرایہ کی نہیں_سبھی جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ دس حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک حصہ بہنوں کو اور دودو حصّے بھاییوں کو بقاعدہ للذکر مثل حظ الانثیین دیدیاجا یے۔

Friday, 7 February 2025

والدین کی فرمانبرداری

 والدین سے حسنِ سلوک کا حکم

    اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے :
’’وَقَضٰی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوْا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَا أُفٍّ وَّلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا رَبُّکُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ إِنْ تَکُوْنُوْا صَالِحِیْنَ فَإِنَّہٗ کَانَ لِلأَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا ۔‘‘    q
ترجمہ: ’’ اور تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ، اگر وہ تیری زندگی میں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، چاہے ان میں ایک پہنچے یا دونوں (اور ن کی کوئی بات تجھے ناگوار گزرے تو) ان سے کبھی ـ’’ہوں ‘‘ بھی مت کرنا اور نہ ان سے جھڑک کر بولنا اور ان سے خوب ادب سے بات کر نا، اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کر تے رہنا :اے ہمارے پروردگار ! تو اُن پر رحمت فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے (صرف ظاہر داری نہیں، دل سے اُن کا احترام کرنا) تمہارا رب تمہارے دل کی بات خوب جانتا ہے اور اگر تم سعادت مند ہو تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں بکثرت معاف کرنے والا ہے۔‘‘
    اس آیتِ کریمہ میں اللہ جل جلالہٗ نے سب سے پہلے اپنی بندگی و اطاعت کا حکم ارشاد فرمایا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی بندگی ہر گز مت کرنا، اس کے بعد فرمایا کہ: اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئو۔ اولاد کو یہ سوچنا چاہیے کہ والدین نہ صرف میرے وجود کا سبب ہیں، بلکہ آج میں جو کچھ ہوں‘ انہی کی برکت سے ہوں، والدین ہی ہیں جو اولاد کی خاطر نہ صرف ہر طرح کی تکلیف، دکھ اور مشقت کو برداشت کر تے ہیں، بلکہ بسا اوقات اپنا آرام و راحت، اپنی خوشی و خواہش کو بھی اولاد کی خاطر قربان کردیتے ہیں۔
ماں کا مجاہدہ
    سب سے زیا دہ محنت و مشقت اور تکلیف ماں برداشت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وَ وَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَانًا حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ کُرْہًا۔‘‘  w
ترجمہ: ’’اس ماں نے تکلیف جھیل کر اُسے پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اُسے جنا۔‘‘
حمل کے نو [۹] ماہ کی تکلیف اور اس سے بڑھ کر وضع حمل کی تکلیف، یہ سب ماں برداشت کر تی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اب اس کی پرورش کے لیے باپ محنت و مشقت برداشت کرتا ہے، سردی ہو یا گرمی، صحت ہو یا بیماری، وہ اپنی اولاد کی خاطر کسبِ معاش کی صعوبتوں کو برداشت کر تا ہے اور ان کے لیے کما کر لاتا ہے، ان کے اوپر خرچ کرتا ہے، ماں گھر کے اندر بچے کی پرورش کرتی ہے، اس کو دودھ پلاتی ہے، اس کو گرمی و سردی سے بچانے کی خاطر خود گرمی و سردی برداشت کرتی ہے، بچہ بیمار ہوتا ہے تو ماں باپ بے چین ہوجاتے ہیں، ان کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں، اس کے علاج و معالجہ کی خاطر ڈاکٹروں و علاج گاہوں کے چکر لگاتے ہیں۔ غرض والدین اپنی راحت و آرام کو بچوں کی خاطر قربان کرتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنا شکر ادا کر نے کا حکم دیا ہے، وہا ں ساتھ ساتھ والدین کا بھی شکر گزار رہنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، سورۂ لقمان میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ‘‘  e
’’ میرا شکر یہ ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو، میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘
حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنہما  سے کسی نے پو چھا کہ میں نے خراسان سے اپنی والدہ کو اپنے کندھے پر اُٹھایا اور بیت اللہ لایا اور اسی طرح کندھے پر اُٹھا کر حج کے منا سک ادا کروائے، کیا میں نے اپنی والدہ کا حق ادا کردیا؟ تو حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما نے فرما یا: ’’نہیں، ہر گز نہیں، یہ سب تو ماں کے اس ایک چکر کے برابر بھی نہیں جو اس نے تجھے پیٹ میں رکھ کر لگایا تھا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے: ’’وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا‘‘ یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری اور ا کرام و احترام کے ساتھ پیش آئے، بے ادبی نہ کرے، تکبر نہ کرے، ہر حال میں اُن کی اطاعت کرے ، الا یہ کہ وہ اللہ کی نا فرمانی کا حکم دیں تو پھر اُن کی اطا عت جائز نہیں۔ سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
’’وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَإِنْ جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْہُمَا ‘‘  r
’’ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کر نے کا حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر وہ تجھ پر اس با ت کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے، جس کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تیرے پاس نہ ہو تو اُن کا کہنا مت ماننا ۔‘‘
حضرت حسن  رضی اللہ عنہ  سے کسی نے دریافت کیا کہ ماںباپ کے ساتھ حسنِ سلوک کس طرح کیا جائے؟ تو انہوں نے فرمایا: تو اُن پر اپنا مال خرچ کر، اور وہ تجھے جو حکم دیں اس کی تعمیل کر، ہاں! اگر گناہ کا حکم دیں تو مت مان۔ 
حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھا ڑو، کہیں کپڑوں کا غبا ر اور دھول اُن کو نہ لگ جا ئے۔
بڑھاپے میںحسنِ سلوک کا خصوصی حکم
اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے والدین کے پڑھاپے کو ذکر فر ماکر ارشاد فرمایا کہ اگر ان میں کوئی ایک یا وہ دونوں تیری ز ند گی میں پڑھا پے کو پہنچ جا ئیں تو اُن کو ’’اُف ‘‘بھی مت کہنا اور نہ اُن سے جھڑک کر بات کرنا۔ حضرت تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بیان القرآن میں ’’اُف‘‘ کا ترجمہ ’’ہوں‘‘ سے کیا ہے کہ اگر ان کی کوئی بات نا گوار گزرے تو ان کو جواب میں ’’ہوں‘‘ بھی مت کہنا۔ اللہ رب العزت نے بڑھاپے کی حالت کو خا ص طور سے اس لیے ذکر فرمایا کہ: والدین کی جوا نی میں تو اولاد کو نہ ’’ہوں‘‘ کہنے کی ہمت ہوتی اور نہ ہی جھڑکنے کی، جوانی میں بدتمیزی اور گستاخی کا اندیشہ کم ہوتا ہے، البتہ بڑھاپے میں  والدین جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور اولاد کے محتاج ہوتے ہیں تو اس وقت اس کا زیادہ اندیشہ رہتا ہے۔ پھر بڑھاپے میں عا م طور سے ضعف کی وجہ سے مزاج میں چڑچڑاپن اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے، بعض دفعہ معمولی باتوں پر اور بسااوقات درست اور حق بات پر بھی والدین اولاد پر غصہ کر تے ہیں، تو اب یہ اولاد کے امتحان کا وقت ہے کہ وہ اس کو برداشت کر کے حسنِ سلوک کا مظاہرہ کر تے ہیں، یا نا ک بھوں چڑھا کر بات کا جواب دیتے ہیں، اس موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ جواب دینا اور جھڑک کر بات کرنا تو دور کی با ت ہے، ان کو’’ اُف‘‘ بھی مت کہنا اور ان کی بات پر معمولی سی ناخوشگواری کا اظہار بھی مت کرنا۔
حضرت علی  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: اگر والدین کی بے ادبی میں ’’اُف‘‘ سے بھی کوئی کم درجہ ہوتا تو اللہ جلّ شانہ اسے بھی حرام فرمادیتے۔ 
حضرت مجاہد  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا کہ: اگر والدین بوڑھے ہو جا ئیں اور تمہیں ان کا پیشا ب دھو نا پڑجائے تو بھی’’ اُف‘‘ مت کہنا کہ وہ پچپن میں تمہارا پیشا ب پاخانہ دھوتے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی رضا و ناراضگی
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما  فر ما تے ہیں کہ رسول ا للہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : ’’رضا اللہ مع رضا الوالدین و سخط اللہ مع سخط الوالدین۔‘‘1# یعنی ’’اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی ماں باپ کی ناراضگی میں ہے۔‘‘
جنت یا جہنم کے دروازے 
حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما  فر ماتے ہیں کہ حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
’’ من أصبح مطیعا في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنۃ، وإن کان واحدا فواحدا، ومن أمسٰی عاصیا للہ في والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النار، وإن کان واحدا فواحدا، قال الرجل: وإن ظلماہ؟ قال: وإن ظلماہ، وإن ظلماہ،  وإن ظلماہ ۔

یعنی جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں اللہ کا فر ما نبردار رہا تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہو تے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو جنت کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔ اور جس نے اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی میں اللہ کی نا فر ما نی کی، اس کے بتائے ہوئے احکا ما ت کے مطا بق حسنِ سلوک نہ کیا تو اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھلے رہتے ہیں اور اگر والدین میں ایک زندہ ہو اور اس کے ساتھ بد سلوکی کر ے تو جہنم کا ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔ کسی نے پوچھا کہ: اے اللہ کے نبی! اگر چہ ماں باپ نے اس پر ظلم کیا ہو؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تین دفعہ فرمایا: اگرچہ والدین نے ظلم کیا ہو ۔
 حضرت رفاعہ بن ایاس  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ ایاس بن معاویہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ رونے لگے، کسی نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا : ’’کان لي بابان مفتوحان إلی الجنۃ وأغلق أحدھما‘‘ یعنی میرے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے تھے، اب والدہ کی وفات پر ایک بند ہوگیا ہے، اس لیے رو رہا ہوں۔ کسی قدر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے والدین زندہ ہیں اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرتے ہیں اور ان کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوئے ہیں۔

والدین کے لیے دعا کا اہتمام کرنا
اللہ تعالیٰ نے جہاں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، وہیں پر ان کے لیے دعا کرنے کی تعلیم بھی ارشاد فرمائی ہے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: 
’’ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا‘‘  1%
’’اے میرے پروردگار! تو میرے والدین پر ایسے ہی رحم فرما،جیسا کہ انہوں نے بچپن میں رحمت و شفقت کے ساتھ میری پرورش کی ہے۔‘‘
ہر نماز کے بعدوالدین کے لیے دعا کرنے کا معمول بنالیں، دو بہت آسان دعائیں جن کی تعلیم خود اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں دی ہے، ایک ماقبل والی اور دوسری یہ:
’’رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ‘‘  1^
’’اے میرے پروردگار! روزِ حساب تو میری، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی بخشش فرما۔‘‘
حضرت سفیان بن عیینہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا :
’’ من صلی الصلوات الخمس فقد شکر اللہ، ومن دعا للوالدین في أدبار الصلوات الخمس فقد شکر الوالدین۔‘‘  1&
’’جس نے پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی کا اہتمام کیا تو گو یا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور جس نے پانچ نمازوں کے بعد والدین کے لیے دعا ئے خیر کی تو گویا اس نے والدین کا شکر ادا کیا۔ ‘‘
اولاد کی دعا سے والدین کے درجات بلند ہوتے ہیں، حضرت عمرو بن میمونؒ سے روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ  علیہ السلام  اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے گئے تو وہا ں عرش کے سائے تلے ایک شخص کو دیکھا اور اس کی حالت اتنی اچھی تھی کہ خود موسیٰ  علیہ السلام  کو اس آدمی پر رشک آیا تو موسیٰ  علیہ السلام  نے اللہ تعالیٰ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا کہ: اے اللہ! تیرا یہ بندہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
’’کان لا یحسد الناس علی ما آتاہم اللہ من فضلہٖ، وکان لا یعق والدیہ، ولایمشی بالنمیمۃ۔‘‘  1*
’’ (یہ شخص تین کا م کرتا تھا:) ۱:- جو چیزیں میں نے اپنے فضل وکرم سے لوگوں کو نعمتیں عطا کی ہیں ان پر حسد نہیں کر تا تھا ، ۲:-والدین کی نا فر ما نی نہیں کرتا تھا، ۳:- چغل خوری نہیں کر تا تھا ۔ ‘‘
رزق میں اضافہ
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک رزق و عمر میں اضا فہ کا سبب ہے، حضرت انس  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ: حضورِ اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’من أحب أن یمد اللہ في عمرہٖ ویزید في رزقہٖ فلیبر والدیہ، ولیصل رحمہ۔‘‘  1(
’’جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کی عمر دراز کردے اور رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔‘‘
ایک حدیث میںحضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا :
’’ بروا آباء کم تبرکم أبناؤکم۔‘‘  2)
’’تم اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، تمہا ری اولاد تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کرے گی۔‘‘

موت کے بعد والدین سے حسنِ سلوک کا طریقہ
والدین دونوںیا ان میں کوئی ایک فوت ہو گیا ہو اور زندگی میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کیا اور کوتاہی ہوئی تو اب تدارک کیسے کیا جائے؟ حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی بھی تعلیم دی ہے۔ حضرت ابواُسید رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ ہم حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ: ماں باپ کی وفات کے بعد بھی کوئی چیز ایسی ہے جس کے ذریعے ان سے حسنِ سلوک کروں؟ توآپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
’’نعم ، الصلاۃ علیہما ، والاستغفار لہما ، وإنفاذ عہدہما من بعدہما ، وصلۃ الرحم التي لا توصل إلا بہما ،  وإکرام صدیقہما۔‘‘  2!
’’ہاں! ان کے لیے رحمت کی دعا کرنا، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا، ان کے بعد اُن کی وصیت کو نافذکرنا اور اس صلہ رحمی کو نبھانا جو صرف ماں باپ کے تعلق کی وجہ سے ہو، ان کے دوستوں کا اکرام کرنا۔‘‘
 حضرت ابوبردہ  رضی اللہ عنہ  جب مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنہما  ان سے ملنے کے لیے آئے اور پوچھا: تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ انہوں نے کہا کہ: نہیں، تو فرمایا: میں نے حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا ہے: 
’’من أحب أن یصل أباہ في قبرہٖ ، فلیصل إخوانَ أبیہ بعدہ۔‘‘  2@
’’جو یہ چاہتا ہے کہ اپنے باپ کے ساتھ قبر میں صلہ رحمی کرے تو اس کو چاہیے کہ ان کے بعد ان کے دوستو ں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، میرے والد عمر  رضی اللہ عنہ  اور آپ کے والد کے درمیان دوستی تھی، میں نے چاہا کہ میں اُسے نبھاؤں۔ (اس لیے تم سے ملنے آیا ہوں) ۔‘‘
آخر میں گزارش کہ جس کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہے تو ان کو اللہ کی بہت بڑی نعمت سمجھ کر ان کی فرمانبرداری کرے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، جتنا ہوسکے ان کی خدمت کرے اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرے اور جن کے والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اس دنیا سے گئے ہیں تواُن کے ساتھ اب حسنِ سلوک یہ ہے کہ اُن کی وصیت کو نافذ کرے، ان کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو اُسے ادا کرے، شرعی حصص کے مطابق میراث کو تقسیم کرے، خود دینی تعلیم حاصل کرے اور اس پر عمل کرے،ان کے لیے دعا کرے، اللہ سے ان کے لیے رحمت و مغفرت طلب کرے ،ان کی طرف سے صدقہ کرے ، ان کی طرف سے نفلی حج و عمرہ کرے، کہیں کنواں کھدوائے یا لوگوں کے پینے کے پانی کا انتظام کرے، دینی کتابیں خرید کر وقف کرے، مسجد بنوائے، مدرسہ بنوائے یا دینی علم حاصل کرنے والے مہمانانِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون کرے، والدین کے قریبی رشتہ داروں اور تعلق والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، نفلی اعمال کر کے اُن کے لیے ایصالِ ثواب کرے، اپنے علاقہ، ملک اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی حالتِ زار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنے مال کے ساتھ اُن کی خبرگیری کرے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی توفیق سے نوازے، آمین، ثم آمین۔

حوالہ جات
q:-الاسراء : ۲۳-۲۵                w:-الاحقاف:۱۵
e:-لقمان:۴۱                r:-العنکبوت :۸
t:-الدالمنثور،ج: ۵،ص: ۲۲۴            y:-الدالمنثور،ج: ۵،ص: ۲۲۴
u:-حوالہ سابق                i:-المعجم الاوسط، للطبرانی،ج:۴،ص:۲۶۷، رقم الحدیث: ۴۱۶۹
o:-الاسراء:۲۳                1):-الدر المنثور،ج: ۵،ص:۲۲۵
1!:-الدر المنثور،ج: ۵،ص:۲۲۵            1@:-معارف القر آن،ج:۵،ص:۴۶۶
1#:-شعب الایمان،ج: ۶،ص:۱۷۷، رقم الحدیث: ۷۸۲۹،۷۸۳۰    1$:-شعب الایمان،ج: ۶،ص:۲۰۶، رقم الحدیث: ۷۹۱۶
1%:-الاسراء :۲۴                1^:-ابراہیم: ۴۱
1&:-تفسیر الخازن المسمی: لباب التاویل فی معانی التنزیل، ج: ۵،ص:۲۱۶    1*:- مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا، ج: ۱،ص:۸۶، رقم الحدیث: ۲۵۷
1(:-شعب الایمان، ج: ۶، ص:۱۸۵، رقم الحدیث: ۷۸۵۵    2):- المعجم الاوسط، ج:۱،ص:۲۹۹، رقم الحدیث: ۱۰۰۲
2!:-سنن ابی داود: ۵۰۰، رقم الحدیث: ۵۱۴۴        2@:-صحیح ابن حبان، ج:۲، ص:۱۷۵ ، رقم الحدیث: ۴۳۲

Wednesday, 5 February 2025

حضرت یوسف علیہ السلام کی شادی زلیخا سے ہوئی کہ نہیں

 مفتی احمد الرحمٰن صاحب رحمہ اللہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

’’دلائلِ قطعیہ سے زلیخا سے حضرت یوسف علیہ السلام کے نکاح کا ثبوت نہیں ملتا، البتہ بعض مفسرین کی عبارات اور کتبِ تواریخ سے نکاح ثابت ہوتاہے، اور اس کا مدار اسرائیلیات پر ہے؛ اس لیے ایسے مسئلے میں "لانصدق ولانکذب" کو معمول بناکر توقف کرنا چاہیے، اور پھر نکاح کے ثبوت و عدمِ ثبوت کو ماننے یا اس سے انکار کرنے کی وجہ سے دینِ متین میں کوئی خرابی نہیں آتی اور اس پر دین کا کوئی کام موقوف نہیں ہے۔۔۔‘‘ الخ

 لہٰذا نکاحِ زلیخا و حضرت یوسف علیہ السلام کو ایسا مسئلہ نہ سمجھاجائے جیسے قرآن وحدیث سے ثابت شدہ احکام ہیں۔

بحر العلوم ـ موافق للمطبوع (2/ 199):
"وروي في الخبر أن زوج زليخا مات وبقيت إمرأته زليخا فجلست يوماً على الطريق فمر عليها يوسف في حشمه، فقالت زليخا: الحمد لله الذي جعل العبد ملكاً بطاعته، وجعل الملك مملوكاً بمعصيته، وتزوجها يوسف فوجدها عذراء".

تفسير ابن كثير ط العلمية (4/ 339):
"قال: فذكر لي- والله أعلم- أن إطفير هلك في تلك الليالي، وأن الملك الريان بن الوليد زوج يوسف امرأة إطفير راعيل، وأنها حين دخلت عليه قال لها: أليس هذا خيراً مما كنت تريدين؟ قال: فيزعمون أنها قالت: أيها الصديق لاتلمني، فإني كنت امرأةً كما ترى حسناء جميلة ناعمة في ملك ودنيا، وكان صاحبي لايأتي النساء، وكنت كما جعلك الله في حسنك وهيئتك على ما رأيت، فيزعمون أنه وجدها عذراء، فأصابها، فولدت له رجلين: أفرائيم بن يوسف، وميشا بن يوسف".

البداية والنهاية لإسماعيل الدمشقي (2/ 136):
"وحكى الثعلبي أنه عزل قطفير عن وظيفته وولاها يوسف. وقيل: إنه لما مات زوجه إمرأته زليخا فوجدها عذراء؛ لأن زوجها كان لايأتي النساء، فولدت ليوسف عليه السلام رجلين وهما أفرايم ومنشا".

تفسير القرطبي (9/ 213):
"عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رحم الله أخي يوسف لو لم يقل اجعلني على خزائن الأرض لاستعمله من ساعته ولكن أخر ذلك عنه سنة". قال ابن عباس: لما انصرمت السنة من يوم سأل الإمارة دعاه الملك فتوجه ورداه بسيفه، ووضع له سريراً من ذهب، مكللاً بالدر والياقوت، وضرب عليه حلةً من إستبرق، وكان طول السرير ثلاثين ذراعاً وعرضه عشرة أذرع، عليه ثلاثون فراشاً وستون مرفقةً، ثم أمره أن يخرج، فخرج متوجاً، لونه كالثلج، ووجهه كالقمر، يرى الناظر وجهه من صفاء لون وجهه، فجلس على السرير ودانت له الملوك، ودخل الملك بيته مع نسائه، وفوض إليه أمر مصر، وعزل قطفير عما كان عليه، وجعل يوسف مكانه. قال ابن زيد: كان لفرعون ملك مصر خزائن كثيرة غير الطعام، فسلم سلطانه كله إليه، وهلك قطفير تلك الليالي، فزوج الملك يوسف راعيل امرأة العزيز، فلما دخل عليها قال: أليس هذا خيراً مما كنت تريدين؟! فقالت: أيها الصديق لاتلمني، فإني كنت امرأةً حسناء ناعمةً كما ترى، وكان صاحبي لايأتي النساء، وكنت كما جعلك الله من الحسن فغلبتني نفسي. فوجدها يوسف عذراء فأصابها فولدت له رجلين: إفراثيم بن يوسف، ومنشا بن يوسف. وقال وهب بن منبه: إنما كان تزويجه زليخاء امرأة العزيز بين دخلتي الإخوة".

الدين النصيحة:


 

المراد بالنصيحة في حديث النبي عليه السلام «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»

التَّناصُح بين الناس من الأمور المهمَّة التي حرص الإسلامُ على ترسيخها بين أفراد المجتمع، فهو ضرورةٌ اجتماعيةٌ لما فيه من الحرص على الإصلاح، ولا سيما إذا كان نابع من حرصٍ وإخلاصٍ؛ فالنَّاصِح يُخلِص القولَ لمن يَنْصحُه ويسعى في هدايتِه وصلاحِه، جاء عن سيدنا تميم الدَّاريِّ رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قلنا -أي الصحابة-: لِمَنْ؟ قال: «للهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ» أخرجه الإمام مسلم في "صحيحه"، وعن جرير بن عبد الله رضي الله عنهما قال: "بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآله وسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" متفق عليه.

ولعظم شأن النصيحة في الإسلام؛ كانت محل اهتمام العلماء ببيان حقيقتها وسعة مدلولها، فهي تعني إرادة الخير للمنصوح له.

قال الإمام الخطابي في "معالم السنن" (4/ 125-126، ط. المطبعة العلمية): [النصيحة كلمة يعبر بها عن جملةٍ: هي إرادة الخير للمنصوح له، وليس يمكن أن يعبر هذا المعنى بكلمةٍ واحدةٍ تحصرها وتجمع معناها غيرها، وأصل النصح في اللغة: الخلوص، يقال: نصحت العسل إذا خلصته من الشمع] اهـ.

كما أنَّها تعني أيضًا: صحة إخلاص القول والفعل والاجتهاد بتقديم ما فيه الخير والمصلحة للمنصوح له، وذلك بإرشاده لكل صالح، ونَهْيه عن كلِّ طالح.

ولزوم أدائها على المسلم: مقيدٌ بقدر جهده واستطاعته، وذلك لا يكون إلا بأمنه على نفسه من وقوع ما يؤذيه، وتيقنه بالطاعة فيما يقول من نُصْحٍ، وأما إن خشي أن يَجُرَّ عليه ذلك مكروهًا؛ فحينها يُرفع عنه لزومها. يُنظر: "سبل السلام" للصنعاني (2/ 696، ط. دار الحديث).

غدر

   رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے، اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔‘‘[2] (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۲)

غدریعنی بدعہدی کاحکم:

’’عہد کی پاسداری کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے اور غدر یعنی بدعہدی کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔‘‘[3] (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۲)

غدر (بدعہدی) کے چار اسباب وعلاج:

(1)…غدر یعنی بدعہدی کا پہلا سبب قلت خشیت ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ہی نہ ہو تو بندہ کوئی بھی گناہ کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ فکر آخرت کا ذہن بنائے، اپنے آپ کو رب عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی سے ڈرائے، اپنی موت کو یاد کرے، یہ مدنی ذہن بنائے کہ کل بروز قیامت خدانخواستہ اس غدر یعنی بدعہدی کے سبب رب عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوگیا تو میرا کیا بنے گا؟

Sunday, 2 February 2025

خیر خواہی کا مفہوم

 قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ . . .»

. . . انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر  بیعت کی . . . [صحيح البخاري/كِتاب  ایمان الْإِيمَانِ: 57]� لغوی توضیح:
«النَّصَيْحَة» کا لغوی معنی ہے خالص ہونا۔ قرآن میں «تَوْبَةً نَّصُوْحًا» کا بھی یہی معنی ہے خالص توبہ۔‏‏‏‏ نھایہ میں ہے کہ نصیحت ایسا جامع لفظ ہے کہ اس میں جملہ امور خیر شامل ہیں۔ دین کو بھی نصیحت اسی لیے کہا گیا ہے کہ تمام دینی اعمال کا دارومدار خلوص اور کھوٹ سے پاک ہونے پر ہی ہے۔

فہم الحدیث:
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: دین خیرخواہی کا نام ہے۔ صحابہ نے عرض کیا، یہ خیرخواہی کس کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الله کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے آئمہ کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔ [مسلم: كتاب الايمان: باب بيان ان الدين النصيحة: 55، ابوداود: 4944، حميدى: 837]
الله کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ توحید کا راستہ اپنایا جائے اور شرک سے بچا جائے۔ اس کی کتاب کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے، اس کے اوامر پر عمل اور نواہی سے بچا جائے۔ اس کے رسول کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے، اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے۔ حکمرانوں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ تمام امور خیر میں ان کی اطاعت کی جائے اور بلاعذر شرعی ان کے خلاف خروج نہ کیا جائے۔ اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ ان سے محبت کی جائے، ان کی اصلاح و فلاح کی اور ان سے ہر قسم کا ضرر و نقصان دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
   جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 35   

نصیحت کے معنی

 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".

جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 42 (58)، مواقیت الصلاة 3 (524)، الزکاة 2 (1401)، البیوع 68 (2157)، الشروط 1 (2714)، الأحکام 43 (7204)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (56)، (تحفة الأشراف: 3210)، مسند احمد (4/357، 361) (صحیح)»

وضاحت: ۱؎نصیحت کے معنی ہیں: خیر خواہی، کسی کا بھلا چاہنا، یوں تو اسلام کی طبیعت و مزاج میں ہر مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی داخل ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی خاص بات پر بھی خصوصی بیعت لیا کرتے تھے، اسی طرح آپ کے بعد بھی کوئی مسلم حکمراں کسی مسلمان سے کسی خاص بات پر بیعت کر سکتا ہے، مقصود اس بات کی بوقت ضرورت و اہمیت اجاگر کرنی ہوتی ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

خیرخواہی کے متعلق حدیث

 لا يؤْمِنُ أحَدُكم حتى يُحِبَّ لأخيه ما يُحِبُّ لنفْسِه ] تم میں سے کوئی شخص(اس وقت تک) مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔(صحيح البخاري، الإيمان، حديث:13 وصحيح مسلم، الإيمان، حديث:45)

(4) دنیا وآخرت کو کار آمداور قیمتی بنانے ‘نیز ابدی اور لازوال زندگی کو پر سکون اور آرام دہ گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان تمام انسانوں کو خیر خواہ رہے اس اس نصیحت و خیر خواہی کا دامن کسی بھی وقت نہ چھوڑے بلکہ تاحیات اس کو حرز جاں بنائے رکھے۔ وفقنا الله جميعا
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4161

اسلام میں خیرخواہی کا مفہوم

 حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’بایعتُ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علٰی إِقامِ الصلوۃ وایتائِ الزکوۃ والنصحِ لکُلّ مسلم۔‘‘ ( مشکوۃ المصابیح،کتاب الآداب، باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق، ص:۴۲۳، ط؛قدیمی)
ترجمہ: ’’میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پربیعت کی کہ پابندی کے ساتھ نماز پڑھوں گا، زکوٰۃ ادا کروں گا، اور ہر مسلمان کے حق میں خیرخواہی کروں گا۔‘‘ 
نماز اور زکوٰۃ اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ہیں، اُن کاتعلق حقوق اللہ سے ہے، اور ’’خیرخواہی‘‘ کے ضمن میں بندوں کے تمام حقوق آجاتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ ارشاد فرمایا: ’’دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے۔‘‘ (سنن النسائی،کتاب البیعۃ،النصیحۃ للامام، ج:۲،ص:۱۸۵، ط:قدیمی)نیز مسلم شریف میں حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
’’أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال: الدین النصیحۃ ، قلنا لمن؟ قال : لِلّٰہ ولکتابہٖ ولرسولہٖ ولأئمۃ المسلمین وعامتہم۔‘‘ (صحیح مسلم، باب الدین النصیحۃ، ج:۱،ص:۵۴،ط:قدیمی)
ترجمہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی کانام ہے (یعنی نصیحت اور خیر خواہی اعمالِ دین میں سے افضل ترین عمل ہے یا نصیحت اور خیر خواہی دین کا ایک مہتم بالشان نصب العین ہے) ہم نے ( یعنی صحابہؓ نے) پوچھا کہ یہ نصیحت اور خیر خواہی کس کے حق میں کرنی چاہیے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ کے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے۔‘‘
ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہواکہ دینِ اسلام فقط عبادات یا ذکر و اذکار یا وظائف کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے حقوق، ان کے ساتھ خیرخواہی، ان کے لیے خیر اوربھلائی کا چاہنا، یہ بھی دینِ اسلام میں شامل اور اس کا حصہ ہے۔ لوگوں کی تذلیل کرنا یا اُن کے نقصان کے درپے ہونا یا اُن کے ساتھ بدخواہی کامعاملہ رکھنا یہ ایمان کی شان کے خلاف ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت صاحبِ مشکوٰۃ نے ’’کتاب الآداب، باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق‘‘ کے تحت ذکر کی ہے۔ مشکوٰۃ المصابیح کی شرح ’’مظاہرحق‘‘ میں مذکورہ روایت کے تحت علامہ نواب قطب الدین خان دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک عجیب واقعہ لکھاہے،یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرتاہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نصیحت ،کسی حکم کوسنتے توساری عمراس حکم کو مدنظر رکھتے اور ہر موڑ پر اس کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزارتے تھے۔ ساری عمر اپنے دامن سے اس نصیحت کو چمٹائے رکھتے اور ذرہ برابر اس سے اِعراض نہ فرماتے، چنانچہ صاحبِ مظاہرِحق لکھتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا تین سو درہم کے عوض خرید کیا، انہوں نے بیچنے والے سے کہا کہ: تمہارا یہ گھوڑا تو تین سو درہم سے زیادہ قیمت کاہے، تم اس کی قیمت چار سو درہم لو گے؟ اس نے کہا: ابن عبداللہ! تمہاری مرضی پر موقوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ: یہ گھوڑا توچار سو درہم سے بھی زیادہ کا معلوم ہوتا ہے، تم کیا اس کی قیمت پانچ سو درہم لینا پسند کرو گے؟ وہ اسی طرح اس کی قیمت سو سو درہم بڑھاتے گئے اور آخرکار انہوں نے اس گھوڑے کی قیمت میں آٹھ سو درہم ادا کیے۔ جب لوگوں نے ان سے گھوڑے کی قیمت بڑھانے کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ: اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیعت کی تھی کہ ہر مسلمان سے خیر خواہی کروں گا (چنانچہ جب میں نے دیکھا کہ اس گھوڑے کا مالک وہ قیمت طلب نہیں کر رہا جو حقیقت میں ہونی چاہیے تو میں نے اس کی خیر خواہی کے پیش نظر اس کو زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کی)۔‘‘ (مظاہر حق شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج:۴،ص:۵۰۰، ط:دارالاشاعت کراچی)
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کی تشریح علماء نے یہ لکھی ہے کہ: 
’’اللہ تعالیٰ کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر ایمان لائے ، اللہ کی وحدانیت و حاکمیت کا اعتقاد رکھے، اس کی ذات و صفات میں کسی غیر کو شریک نہ کرے، اس کی عبادت اخلاصِ نیت کے ساتھ کرے، اور اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت و فرمانبرداری کرے، اس کی نعمتوں کا اقرار و اعتراف کرے اور اس کا شکر ادا کرے اور اس کے نیک بندوں سے محبت کرے اور بدکار سرکش بندوں سے نفرت کرے۔
اللہ کی کتاب کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ،اس میں جو کچھ لکھا ہے اُسے سمجھے اوراس پر ہر حالت میں عمل کرے، تجوید و ترتیل اور غور و فکر کے ساتھ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعظیم و احترام میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ سچے دل سے یہ گواہی دے کہ وہ اللہ کے رسول اور اس کے پیغمبر ہیں ، ان کی نبوت پر ایمان لائے اور انہیں خاتم الانبیاء مانے،وہ اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچائیں اور جو احکامات دیں ان کو قبول کرے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے، ان کو اپنی جان، اپنی اولاد، اپنے ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز رکھے، ان کے اہل بیتؓ اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت رکھے اور ان کی سنت پر عمل کرے۔
مسلمانوں کے اماموں کے حق میں خیر خواہی کامطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلامی حکومت کی سربراہی کر رہا ہو‘ اس کے ساتھ وفاداری کو قائم رکھے، احکام و قوانین کی بے جا طور پر خلاف ورزی کر کے ان کے نظم حکومت میں خلل و ابتری پیدا نہ کرے، اچھی باتوں میں ان کی پیروی کرے اور بری باتوں میں ان کی اطاعت سے اجتناب کرے، اگر وہ اسلام اور اپنی عوام کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت و کوتاہی کا شکار ہوں تو ان کو مناسب اور جائز طریقوں سے متنبہ کرے اور ان کے خلاف بغاوت کا علم بلند نہ کرے، اگرچہ وہ کوئی ظلم ہی کیوں نہ کریں، نیز علماء کی -جو مسلمانوں کے علمی و دینی رہنما ہوتے ہیں- عزت و احترام کرے، شرعی احکام اور دینی مسائل میں وہ قرآن و سنت کے مطابق جو کچھ کہیں اس کو قبول کرے اور اس پر عمل کرے، ان کی اچھی باتوں اور ان کے نیک اعمال کی پیروی کرے۔ 
اور تمام مسلمانوں کے حق میں خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دینی ،دنیاوی خیر و بھلائی کا طالب رہے، ان کو دین کی تبلیغ کرے، ان کو دنیا کے اس راستہ پر چلانے کی کوشش کرے جس میں ان کی بھلائی ہواور اُن کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانے کی بجائے نفع پہنچانے کی سعی کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی ’’جوامع الکلم‘‘ میں سے ہے، اس کے مختصر الفاظ حقیقت میں دین و دنیا کی تمام بھلائیوں اور سعادتوں پر حاوی ہیں اور تمام علوم اولین و آخرین اس چھوٹی سی حدیث میں مندرج ہیں۔‘‘              (مظاہر حق شرح مشکوۃ المصابیح، ج:۴، ص:۴۹۹، ط:دارالاشاعت کراچی)