شریعت مطہرہ میں کسی چیز کی خرید و فروخت کے جائز اور ناجائز ہونے کا دار و مدار اس چیز سے "انتفاع "(نفع حاصل کرنا) کے جائز اور ناجائز ہونے پر ہے،یعنی اگر اس چیز سے شرعاً نفع حاصل کرنا جائز ہو تو اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہوگی اور اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہو تو اس کی خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہو گی، مثلاً شراب، خنزیر، مردار اور خون وغیرہ سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے اس لیےان کی خرید و فروخت بھی ناجائز اور باطل ہے، کیوں کہ ان سے فائدہ حاصل کرنے کو شریعت مطہرہ یعنی قرآن کریم اور حدیث میں صراحت سے ناجائز قرار دیا گیا ہے، تاہم ایسی چیزیں جن کو کھانے پینے کے استعمال میں لانے سے شریعت نے کسی علت کی بنا پر منع کیا ہے اور ناجائز قرار دیا ہے، اور کھانے پینے کے علاوہ دیگر امور میں انتفاع سے منع نہیں کیا، تو شرعا ان چیزوں کے استعمال کی ان امور میں بہر حال گنجائش ہوگی اور اس کی خرید و و فروخت کی بھی اجازت ہوگی، چنانچہ حلال جانور کے گوبر کو کھانا ناجائز ہے، لیکن دوسرے کاموں میں اس کا استعمال جائز ہے لہذا اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔
أحكام القرآن للجصاص میں ہے :
"قال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على وجه ولا يطعمها الكلاب والجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، وقد حرم الله الميتة تحريما مطلقا معلقا بعينها مؤكدا به حكم الحظر فلا يجوز الانتفاع بشيء منها إلا أن يخص شيء منها بدليل يجب التسليم له".
(باب تحريم الميتة، ج : 1، ص : 130، ط : دار الكتب العلمية)