https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Tuesday, 9 June 2026

جانوروں کی خریدوفروخت میں علت

 شریعت مطہرہ میں کسی چیز کی خرید و فروخت کے جائز اور ناجائز  ہونے کا دار و مدار اس چیز سے "انتفاع "(نفع حاصل کرنا)  کے جائز اور ناجائز ہونے پر ہے،یعنی اگر اس چیز سے شرعاً نفع حاصل کرنا جائز ہو تو اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہوگی اور اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہو  تو اس کی خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہو گی، مثلاً شراب، خنزیر، مردار اور خون وغیرہ سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے اس لیےان کی خرید و فروخت بھی ناجائز اور باطل ہے، کیوں کہ ان سے فائدہ حاصل کرنے کو شریعت مطہرہ یعنی قرآن کریم اور حدیث میں صراحت سے ناجائز قرار دیا گیا ہے، تاہم ایسی چیزیں  جن کو کھانے پینے کے استعمال میں لانے سے شریعت نے کسی علت کی بنا پر منع کیا ہے اور ناجائز قرار دیا ہے، اور کھانے پینے کے علاوہ دیگر امور میں انتفاع سے منع نہیں کیا، تو شرعا ان چیزوں کے استعمال کی ان امور میں بہر حال گنجائش ہوگی اور اس کی خرید و و فروخت کی بھی اجازت ہوگی، چنانچہ حلال جانور کے گوبر کو کھانا ناجائز ہے، لیکن دوسرے کاموں میں اس کا استعمال جائز ہے لہذا اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔

أحكام القرآن للجصاص میں ہے :

"قال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على وجه ولا يطعمها الكلاب والجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، وقد حرم الله الميتة تحريما مطلقا معلقا بعينها مؤكدا به حكم الحظر فلا يجوز الانتفاع بشيء منها إلا أن يخص شيء منها بدليل يجب التسليم له".

(باب تحريم الميتة، ج : 1، ص : 130، ط : دار الكتب العلمية)

بلی کی خریدوفروخت کا حکم

 بلی  پالنا جائزہے،نیز  بلی فروخت کرنا بھی جائز ہے، شرط یہ ہےکہ اسے تکلیف نہ دی جائے ،اور اس کےکھاناپانی کاخیال رکھاجائے۔

بلی فروخت کرنے کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم خود استعمال کرنا یا ان پر ہی خرچ کرنا جیسا کہ سوال میں درج ہے دونوں صورتیں جائز ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 68):

’’لكن في الخانية: بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور، وسباع الوحش والطير جائز معلماً أو غير معلم‘‘.

الفتاوى الهندية (3/ 114):

’’بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذلك بيع السنور وسباع الوحش والطير جائز عندنا معلماً كان أو لم يكن، كذا في فتاوى قاضي خان‘‘.

الفتاوى الهندية (3/ 114):

’’وبيع الكلب غير المعلم يجوز إذا كان قابلاً للتعليم وإلا فلا، وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي‘‘.