https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Thursday, 11 June 2026

حاجی کا استقبال اور دعوت

 حاجی حج سے آکر جو دعوت کرتے ہیں تو چونکہ یہ ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے، اس لیے یہ دعوت کرنا بنفسہٖ مباح عمل ہے، اور اس دعوت کا کھانا کھانا بھی درست ہے، بشرطیکہ دعوت اخلاص کے ساتھ ہو، اظہارِ تشکر کے طورپر ہو، ریاکاری نہ ہو، اس دعوت میں خلافِ شرع کسی کام کا ارتکاب نہ ہو اور اس دعوت کو ضروری نہ سمجھا جاتا ہو، اس دعوت میں اِسراف نہ ہو۔

باقی خوشی کے اس موقع پر حاجی کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالنا بھی ایک مباح عمل ہے۔ 
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’والمباح: ما أجیز للمکلفین فعلہٗ وترکہٗ بلااستحقاق ثواب وعقاب۔‘‘(فتاویٰ شامی ، ج:۶، ص:۳۳۶، ط: سعید)
اعلاء السنن میں ہے:
’’وقال بعض الفقہاء من أصحابنا وغیرہم أن الولیمۃ تقع علٰی کل طعام لسرور حادث، إلا أن استعمالھا في طعام العرس أکثر۔۔۔۔فحکم الدعوۃ للختان وسائر الدعوات غیر الولیمۃ إنھا مستحبۃ لما فیھما من إطعام الطعام والإجابۃ إلیھا مستحبۃ غیر واجبۃ۔‘‘(اعلاء السنن ، ج:۱۲، ص:۱۶،۱۷، ط: ادارۃ القرآن)

No comments:

Post a Comment