https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Saturday, 25 July 2026

شرابی اور تارک نماز کی نماز جنازہ

 شراب پینا اور فرض نماز چھوڑناکبیرہ گناہ اور بڑا جرم ہے،  اس پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، لیکن  شراب پینے والا اور نماز چھوڑنےوالاشخص اگر مسلمان ہو اور اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا بھی لازم ہوگا، گناہ گار ہونے کی وجہ سے اس کے جنازے کی نماز کو نہیں روکا جائے گا۔


سنن ابی داؤد میں ہے:


’’عن أبي هریرة قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: الجهاد واجب علیکم مع کلّ أمیر برًّا کان أو فاجرًا، والصلاة واجبة علیکم خلف کلّ مسلم برًّا کان أو فاجرًا وإن عمل الکبائر، والصلاة واجبة علی کلّ مسلم برًّا کان أو فاجرًا وإن عمل الکبائر‘‘.(کتاب الجہاد، باب فی الغزو مع ائمۃ الجور، (1/366) ط: رحمانیہ لاہور)


ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر جہاد واجب ہے ہر امیر کے ساتھ خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار، اور تم پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے ہر مسلمان کی اقتدا میں خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو، اور تم پر ہر مسلمان کی نمازِ جنازہ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا گناہ گار، اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔


بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 311):

"وأما بيان من يصلى عليه فكل مسلم مات بعد الولادة يصلى عليه صغيرًا كان، أو كبيرًا، ذكرًا كان، أو أنثى، حرًا كان، أو عبدًا".