https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Wednesday, 9 September 2026

وراثت میں حصہ

 بخدمت جناب

محترم قاضی ء شرعی عدالت

مفتی عامر صاحب دامت برکاتہم


موضوع: زرعی زمین میں شادی شدہ بیٹی کے حقِ وراثت کے متعلق


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


محترم جناب!

نہایت ادب سے عرض ہے کہ ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ والدین کی ملکیت میں موجود زرعی زمین میں شادی شدہ بیٹی کا شرعی حصہ ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز کیا شادی شدہ ہونے کی وجہ سے بیٹی اپنے والد کی زرعی زمین میں حقِ وراثت سے محروم ہو جاتی ہے؟


براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا شرعی حکم عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔


جزاکم اللہ خیراً


درخواست گزار:

اخلاص شیروانی

179/6، بیت القمر، سرائے رحمان، علی گڑھ

موبائل نمبر:25786 97606


الجواب وباللہ التوفیق ومنہ المستعان وعلیہ التکلان ۔


 ترکہ کی زمین خواہ بسنے والی ہو یعنی (آبادی والی) یا غیر آبادی والی ہو یعنی کھیتی و کاشت والی، زرعی ہر طرح کی زمینوں میں بیٹے اور بیٹی کا حصہ ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ زرعی زمین میں یابسنے والی زمین میں بیٹی کا حصہ نہیں ہوتا ہے،شرعاً درست نہیں ہے۔

نیز شادی سے وراثت یاترکہ میں حصہ داری پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

شادی شدہ بیٹیوں کا والدین کی زرعی یا دوسری زمین میں شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے۔ شریعت میں بیٹی کا یہ حق شادی کے بعد ختم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرحوم والدین کی جائیداد میں باقاعدہ وارث بنتی ہے۔

قال اللّٰہ تعالٰی: ”للرجال نصیب مما ترک الوالدٰن والأقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدٰن والأقربون مما قل منہ أو کثر نصیبا مفروضاً“ (سورة النساء، رقم الآیة: ۷)۔

مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".


الدر المختار: (689/5، ط: دار الفکر)

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"


الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)

ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.


فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت."

(کتاب الفرائض،ج۶،ص۴۴۸،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم بالصواب محمد عامر الصمدانی 

٤ربیع الاول ١٤٤٨ھ/١٨اگست٢٠٢٦ء

قاضی ء شریعت دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،علی گڑھ 

No comments:

Post a Comment