https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Thursday, 10 September 2026

ایک بیوی،ایک بیٹا اور تین بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

 صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو  40 حصوں میں تقسیم کرکے، 5 حصے بیوہ کو ، 14 حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور 7 حصے ان کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ یعنی سو روپے میں سے ساڑھے بارہ روپے مرحوم کی بیوہ کو ، پینتیس روپے مرحوم کے  اکلوتے بیٹے  کو  اور ساڑھے سترہ روپے ان کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔ 

دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 11- 12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ....الخ
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....الخ

الھندیۃ: (447/6، ط: دار الفکر)
"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط۔۔۔ثم بالدين۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين۔۔۔ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث"

و فیھا ایضاً: (448/6، ط: دار الفکر)
"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في

فقط واللہ اعلم بالصواب 

Wednesday, 9 September 2026

وراثت میں حصہ

 بخدمت جناب

محترم قاضی ء شرعی عدالت

مفتی عامر صاحب دامت برکاتہم


موضوع: زرعی زمین میں شادی شدہ بیٹی کے حقِ وراثت کے متعلق


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


محترم جناب!

نہایت ادب سے عرض ہے کہ ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ والدین کی ملکیت میں موجود زرعی زمین میں شادی شدہ بیٹی کا شرعی حصہ ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز کیا شادی شدہ ہونے کی وجہ سے بیٹی اپنے والد کی زرعی زمین میں حقِ وراثت سے محروم ہو جاتی ہے؟


براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا شرعی حکم عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔


جزاکم اللہ خیراً


درخواست گزار:

اخلاص شیروانی

179/6، بیت القمر، سرائے رحمان، علی گڑھ

موبائل نمبر:25786 97606


الجواب وباللہ التوفیق ومنہ المستعان وعلیہ التکلان ۔


 ترکہ کی زمین خواہ بسنے والی ہو یعنی (آبادی والی) یا غیر آبادی والی ہو یعنی کھیتی و کاشت والی، زرعی ہر طرح کی زمینوں میں بیٹے اور بیٹی کا حصہ ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ زرعی زمین میں یابسنے والی زمین میں بیٹی کا حصہ نہیں ہوتا ہے،شرعاً درست نہیں ہے۔

نیز شادی سے وراثت یاترکہ میں حصہ داری پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

شادی شدہ بیٹیوں کا والدین کی زرعی یا دوسری زمین میں شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے۔ شریعت میں بیٹی کا یہ حق شادی کے بعد ختم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرحوم والدین کی جائیداد میں باقاعدہ وارث بنتی ہے۔

قال اللّٰہ تعالٰی: ”للرجال نصیب مما ترک الوالدٰن والأقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدٰن والأقربون مما قل منہ أو کثر نصیبا مفروضاً“ (سورة النساء، رقم الآیة: ۷)۔

مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".


الدر المختار: (689/5، ط: دار الفکر)

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"


الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)

ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.


فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت."

(کتاب الفرائض،ج۶،ص۴۴۸،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم بالصواب محمد عامر الصمدانی 

٤ربیع الاول ١٤٤٨ھ/١٨اگست٢٠٢٦ء

قاضی ء شریعت دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،علی گڑھ 

باپ سے ان جایداد میں سے حق مانگنا

 الجواب وباللہ التوفیق ومنہ المستعان وعلیہ التکلان ۔

صورت مسئولہ میں  بیٹے کو باپ کی حیات میں ان کی جائیداد میں سے اپنا حصہ مانگنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔نہ شرعاً نہ قانوناً ۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء... وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره... وأطلق في الابن ولم يقيده بالغنى مع أنه مقيد به لما في شرح الطحاوي ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا."(كتاب الطلاق،باب النفقة،نفقة الأبوين والأجداد والجدات،ج:4،ص:349،348،ط:دارالكتب العلمية)

سنن ترمذی میں ہے:  "عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد."

(‌‌أبواب البر والصلة،باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين،ج:4،ص:310،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:  رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے."

وفیه ایضاً:

"قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:الوالد أوسط أبواب الجنة، فإن شئت فأضع ذلك الباب أو احفظه."

(أبواب البر والصلة،باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين،ج:4،ص:311،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ۔"