صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے، 5 حصے بیوہ کو ، 14 حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور 7 حصے ان کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ یعنی سو روپے میں سے ساڑھے بارہ روپے مرحوم کی بیوہ کو ، پینتیس روپے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور ساڑھے سترہ روپے ان کی ہر ایک بیٹی کو دیے جائیں گے۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 11- 12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ....الخ
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....الخ
الھندیۃ: (447/6، ط: دار الفکر)
"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط۔۔۔ثم بالدين۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين۔۔۔ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث"
و فیھا ایضاً: (448/6، ط: دار الفکر)
"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في
فقط واللہ اعلم بالصواب