اگرکسی کے ورثاء میں دو بھتیجے اور بہت سی بھتیجیاں اوربہت سے بھانجے بھانجیاں ہوں تومرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو دو (2) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے دونوں بھتیجوں میں سے ہر ایک کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں تو دونوں بھتیجوں میں سے ہر ایک بھتیجے کو %50 فیصد حصہ ملے گا۔
دلائل:
الدر المختار: (774/6، ط: سعید)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب.
و فیه ایضاً: (783/6- 784، ط: سعید)
"إن ابن الأخ لایعصب أخته کالعم لایعصب أخته وابن العم لایعصب أخته وابن المعتق لایعصب أخته بل المال للذکر دون الأنثیٰ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبیة: ولیس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب".
السراجی: (باب ذوي الأرحام، ص: 85، ط: مکتبة البشری)
ذو الرحم: هو کل قریب، لیس بذي سهم، ولا عصبة، وکانت عامة الصحابة رضی اللہ عنهم یرون توریث ذوي الأرحام، وبه قال أصحابنا رحمهم اللہ ... والصنف الثالث: ینتمي إلی أبوي المیت، وهم أولاد الأخوات