https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Monday 17 June 2024

اجتماعی ذکر بالجہر

 اصولی اور عمومی طور پر تو تنہائی میں  آہستہ آواز  سے ذکر کرنا بہتر ہے، لیکن  اجتماعی طور پر جہرًا ذکر کرنا بھی شریعتِ  مطہرہ کی رو سے جائز ہے، اس کو  مطلقًا بدعت سمجھنا درست نہیں ہے، کیوں کہ جہرًا  ذکر کرنے کی اصل  حدیث سے ثابت ہے؛ حدیثِ قدسی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

’’ جب میرا بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے یاد کرتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں (یعنی چھپ کر آہستہ سے تنہائی میں) یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں (یعنی تنہائی میں جیسے اس کی شان ہے) یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی مجمع میں یاد کرتا ہے (یعنی لوگوں کے درمیان جہرًا میرا ذکر کرتا ہے) تو میں اس سے بہتر اور افضل مجمع (یعنی فرشتوں کے مجمع) میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں۔‘‘

بلکہ فقہاءِ کرام نے بعض احوال و اشخاص کے اعتبار سے ذکر بالجہر کو  افضل قرار دیا ہے۔

لہٰذا اگر کوئی متبعِ شریعت، شیخِ  کامل اپنے مریدوں کی اصلاح  و تربیت کے  لیے کسی ایسی جگہ پر ذکر کی مجلس منعقد کرے جہاں دیگر عبادت کرنے والوں کی عبادت میں خلل نہ پڑتا ہو  اور اسے لازم و ضروری نہ سمجھا جائے، بلکہ تربیت کا حصہ سمجھا جائے، نیز اسے ہی افضل نہ سمجھا جائے اور ذکر بالجہر نہ کرنے والوں کو برا یا کم تر نہ سمجھا جائے تو اس کی اجازت  ہوگی،   لیکن رسمی طور پر بلاکسی معتبر مربی کے ایسی مجلسیں منعقد کرنا جہاں حدود کی رعایت نہ رکھی جاتی ہو، یا ان مجلسوں میں شرکت کو ایسا لازم سمجھنا کہ شریک نہ ہونے والے کو  حقارت کی نظر سے دیکھا جائے یا ان پر جبر کیا جائے، یا ایسی جگہ پر مجلس منعقد کرنا جس سے دیگر عبادات گزاروں کی عبادت میں خلل پڑے، یہ قطعاً جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے، اسی طرح اگر اسی کو افضل سمجھا جائے تو یہ بھی درست نہیں ہے،  اور  بہر حال بہتر  یہی  ہے کہ ذکر کے معمولات لوگ اپنے اپنے طور پر تنہائی میں پورے کیا کریں۔

اور جہاں ذکر بالجہر میں  مصلحت  ہو تو بھی یہ صورت  نہ اختیار کی جائے کہ پورا مجمع بیک زبان ایک ہی کلمہ دہرائے، بلکہ ہر ایک اپنے اپنے طور پر کلمات پڑھتا رہے، یا  یہ صورت اختیار کی جائے کہ شیخ ایک مرتبہ بلند آواز سے کلمات دہرا لے، اور پھر متوسلین اسے دل دل میں دہرائیں، پھر  دوسرے کلمات پڑھنے ہوں تو  شیخ بلند آواز سے پڑھ دے، تاکہ حاضرین کو پتا چل جائے کہ   اب دوسرا کلمہ پڑھنا ہے۔


الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 660):

’’مطلب في رفع الصوت بالذكر

(قوله: و رفع صوت بذكر إلخ) أقول: اضطرب كلام صاحب البزازية في ذلك؛ فتارةً قال: إنّه حرام، وتارةً قال: إنّه جائز. وفي الفتاوى الخيرية من الكراهية والاستحسان: جاء في الحديث به اقتضى طلب الجهر به نحو: "«وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم» رواه الشيخان. وهناك أحاديث اقتضت طلب الإسرار، والجمع بينهما بأن ذلك يختلف باختلاف الأشخاص و الأحوال كما جمع بذلك بين أحاديث الجهر و الإخفاء بالقراءة و لايعارض ذلك حديث «خير الذكر الخفي»؛ لأنه حيث خيف الرياء أو تأذي المصلين أو النيام، فإن خلا مما ذكر؛ فقال بعض أهل العلم: إن الجهر أفضل؛ لأنه أكثر عملًا و لتعدي فائدته إلى السامعين، و يوقظ قلب الذاكر فيجمع همّه إلى الفكر، و يصرف سمعه إليه، و يطرد النوم، و يزيد النشاط. اهـ. ملخصًا، و تمام الكلام هناك فراجعه. وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفًا و خلفًا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد و غيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ ...إلخ ‘‘

No comments:

Post a Comment