https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Tuesday, 1 April 2025

سورہ توبہ درمیان سے پڑھیں تو بسم اللہ پڑھیں کہ نہیں

 اگر سورۂ توبہ کے درمیان یا شروع سے ہی تلاوت کی ابتدا  کی جائے  تو اعوذ باللہ اور بسم اللہ دونوں  پڑھنی چاہیے؛ کیوں کہ یہ تلاوت کے مطلقاً آداب میں سے ہے، اور اگر قاری اوپر سورۂ انفال سے پڑھتا ہوا آرہا ہے اور آگے سورۂ توبہ پڑھنے کا ارادہ ہے تو اب درمیان میں اعوذ باللہ اور بسم اللہ نہیں پڑھی جائے گی۔ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع صاحب، سورہ توبہ)

الفتاوى الهندية (5/ 316):
"وعن محمد بن مقاتل - رحمه الله تعالى - فيمن أراد قراءة سورة أو قراءة آية فعليه أن يستعيذ بالله من الشيطان الرجيم ويتبع ذلك بسم الله الرحمن الرحيم، فإن استعاذ بسورة الأنفال وسمى ومر في قراءته إلى سورة التوبة وقرأها كفاه ما تقدم من الاستعاذة والتسمية، ولا ينبغي له أن يخالف الذين اتفقوا وكتبوا المصاحف التي في أيدي الناس، وإن اقتصر على ختم سورة الأنفال فقطع القراءة، ثم أراد أن يبتدئ سورة التوبة كان كإرادته ابتداء قراءته من الأنفال فيستعيذ ويسمي، وكذلك سائر السور، كذا في المحيط

Monday, 31 March 2025

عیدین میں تکبیر ات زیادہ پڑھنا

 اگر امام نے عید کی نماز میں چھ سے زائد تکبیرات کہہ  دیں تو نماز ہوجائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔  اور مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے  سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔  مقتدی بھی چھ سے زائد تکبیرات میں امام کی اتباع کریں گے، تاہم احناف کے نزدیک تکبیرات زوائد کی تعداد چوں کہ چھ ہے، لہذا بالقصد  چھ سے زائد مرتبہ تکبیرات کہنا درست نہیں ہے۔

تنوير الابصار مع الدر المختار میں ہے:

’’(وَيُصَلِّي الْإِمَامُ بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ مُثْنِيًا قَبْلَ الزَّوَائِدِ، وَهِيَ ثَلَاثُ تَكْبِيرَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ) وَلَوْ زَادَ تَابِعُهُ إلَى سِتَّةَ عَشَرَ؛ لِأَنَّهُ مَأْثُورٌ‘‘.

فتاوی شامیمیں ہے:

’’(قَوْلُهُ: مُثْنِيًا قَبْلَ الزَّوَائِدِ) أَيْ قَارِئًا الْإِمَامُ، وَكَذَا الْمُؤْتَمُّ الثَّنَاءَ قَبْلَهَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ؛ لِأَنَّهُ شَرَعَ فِي أَوَّلِ الصَّلَاةِ، إمْدَادٌ؛ وَسُمِّيَتْ زَوَائِدَ لِزِيَادَتِهَا عَنْ تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ وَالرُّكُوعِ... (قَوْلُهُ: وَلَوْ زَادَ تَابِعُهُ إلَخْ) لِأَنَّهُ تَبَعٌ لِإِمَامِهِ فَتَجِبُ عَلَيْهِ مُتَابَعَتُهُ وَتَرْكُ رَأْيِهِ بِرَأْيِ الْإِمَامِ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «إنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ»، فَمَا لَمْ يَظْهَرْ خَطَؤُهُ بِيَقِينٍ كَانَ اتِّبَاعُهُ وَاجِبًا، وَلَايَظْهَرُ الْخَطَأُ فِي الْمُجْتَهَدَاتِ، فَأَمَّا إذَا خَرَجَ عَنْ أَقْوَالِ الصَّحَابَةِ فَقَدْ ظَهَرَ خَطَؤُهُ بِيَقِينٍ؛ فَلَا يَلْزَمُهُ اتِّبَاعُهُ، وَلِهَذَا لَوْ اقْتَدَى بِمَنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ أَوْ بِمَنْ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ أَوْ بِمَنْ يَرَى تَكْبِيرَاتِ الْجِنَازَةِ خَمْسًا لَايُتَابِعُهُ لِظُهُورِ خَطَئِهِ بِيَقِينٍ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ كُلَّهُ مَنْسُوخٌ بَدَائِعُ..... (قَوْلُهُ: إلَى سِتَّةَ عَشَرَ) كَذَا فِي الْبَحْرِ عَنْ الْمُحِيطِ. وَفِي الْفَتْحِ قِيلَ: يُتَابِعُهُ إلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَقِيلَ: إلَى سِتَّ عَشْرَةَ. اهـ. قُلْت: وَلَعَلَّ وَجْهَ الْقَوْلِ الثَّانِي حَمْلُ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ الْمَرْوِيَّةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى الزَّوَائِدِ كَمَا مَرَّ عَنْ الشَّافِعِيِّ، وَهِيَ مَعَ الثَّلَاثِ الْأَصْلِيَّةِ تَصِيرُ سِتَّ عَشْرَةَ، وَإِلَّا لَمْ أَرَ مَنْ قَالَ بِأَنَّ الزَّوَائِدَ سِتَّ عَشْرَةَ، فَلْيُرَاجَعْ، وَقَدْ رَاجَعْت مَجْمَعَ الْآثَارِ لِلْإِمَامِ الطَّحَاوِيِّ فَلَمْ أَرَ فِيمَا ذَكَرَهُ مِنْ الْأَحَادِيثِ وَالْآثَارِ عَنْ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ أَكْثَرَ مِمَّا مَرَّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَهَذَا يُؤَيِّدُ الْقَوْلَ الْأَوَّلَ، وَلِذَا قَدَّمَهُ فِي الْفَتْحِ، وَنَسَبَهُ فِي الْبَدَائِعِ إلَى عَامَّةِ الْمَشَايِخِ، عَلَى أَنَّ ضَمَّ الثَّلَاثِ الْأَصْلِيَّةِ إلَى الزَّوَائِدِ بَعِيدٌ جِدًّا؛ لِأَنَّ الْقِرَاءَةَ فَاصِلَةٌ بَيْنَهُمْ، فَتَأَمَّلْ‘‘. ( بَابُ الْعِيدَيْنِ، ٢ / ١٧٢ - ١٧٣

Thursday, 27 March 2025

شوال کے چھ روزوں کی اھمیت

 شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، احادیثِ مبارکہ میں  اس کی  فضیلت وارد ہوئی ہے، چناں چہ رسول ﷲصلی ﷲعلیہ وسلم کاارشادِ گرامی صحیح سندکے ساتھ حدیث کی مستندکتابوں میں موجودہے:     

’’عن أبي أیوب عن رسول اﷲﷺ قال: من صام رمضان ثم أتبعه ستًّا من شوال فذاک صیام الدهر‘‘. رواه الجماعة إلا البخاري والنسائي‘‘. ( اعلاء السنن لظفر احمد العثمانی -کتاب الصوم - باب استحباب صیام ستۃ من شوال وصوم عرفۃ -رقم الحدیث ۲۵۴۱- ط: ادارۃ القرآن کراچی )

   ترجمہ:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے  رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے‘‘۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے وعدہ کے مطابق ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے، گویا رمضان المبارک کے ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور شوال کےچھ روزے ساٹھ روزوں کے برابر ہوئے، جو دو ماہ کے مساوی ہیں، اس طرح  رمضان کے ساتھ شوال کے روزے رکھنے والاگویا  پورے سال روزہ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔

شوال کے چھ روزے  یکم شوال یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینہ کے آخر تک الگ الگ کرکے  اور اکٹھے دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں۔ لہذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔  البتہ اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ مستحب روزہ ہے، جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 435):
"(وندب تفريق صوم الست من شوال) ولا يكره التتابع على المختار خلافاً للثاني حاوي. والإتباع المكروه أن يصوم الفطر وخمسة بعده فلو أفطر الفطر لم يكره بل يستحب ويسن ابن كمال" .

(قوله: على المختار) قال صاحب الهداية في كتابه التجنيس: إن صوم الستة بعد الفطر متتابعةً منهم من كرهه، والمختار أنه لا بأس به؛ لأن الكراهة إنما كانت؛ لأنه لايؤمن من أن يعد ذلك من رمضان فيكون تشبهاً بالنصارى والآن زال ذلك المعنى اهـ ومثله في كتاب النوازل لأبي الليث، والواقعات للحسام الشهيد، والمحيط البرهاني، والذخيرة. وفي الغاية عن الحسن بن زياد: أنه كان لايرى بصومها بأس،اً ويقول: كفى بيوم الفطر مفرقاً بينهن وبين رمضان اهـ وفيها أيضاً عامة المتأخرين لم يروا به بأساً.
واختلفوا هل الأفضل التفريق أو التتابع اهـ. وفي الحقائق: صومها متصلاً بيوم الفطر يكره عند مالك، وعندنا لايكره وإن اختلف مشايخنا في الأفضل.
وعن أبي يوسف أنه كرهه متتابعاً والمختار لا بأس به اهـ وفي الوافي والكافي والمصفى يكره عند مالك، وعندنا لايكره، وتمام ذلك في رسالة تحرير الأقوال في صوم الست من شوال للعلامة قاسم، وقد رد فيها على ما في منظومة التباني وشرحها من عزوه الكراهة مطلقاً إلى أبي حنيفة وأنه الأصح بأنه على غير رواية الأصول وأنه صحح ما لم يسبقه أحد إلى تصحيحه وأنه صحح الضعيف وعمد إلى تعطيل ما فيه الثواب الجزيل بدعوى كاذبة بلا دليل، ثم ساق كثيراً من نصوص كتب المذهب، فراجعها، فافهم. (قوله: والإتباع المكروه إلخ) العبارة لصاحب البدائع، وهذا تأويل لما روي عن أبي يوسف على خلاف ما فهمه صاحب الحقائق كما في رسالة العلامة قاسم، لكن ما مر عن الحسن بن زياد يشير إلى أن المكروه عند أبي يوسف تتابعها وإن فصل بيوم الفطر فهو مؤيد لما فهمه في الحقائق، تأمل

Sunday, 23 March 2025

خلع کا جواز

 اگر زوجین میں نبھاؤ کی کوئی شکل نہ رہے اور شوہر بلاعوض طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو ،تو  شریعت نے  اس طرح کی صورت حال میں عورت  کو یہ تجویز دی ہے کہ وہ اپنے شوہر  سے کچھ مال کے عوض  اس کی رضامندی سےخلع   لے لے،لیکن  شرعاً خلع صحیح ہونے کے لیے شوہر کا اسے قبول کرنا ضروری ہے۔یک طرفہ خلع یاشوہر کی رضامندی کے بغیر کسی عدالت کاخلع دیناشرعاً معتبر نہیں ہے۔شوہر کا خلع دینے کی صورت میں عورت کو ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور عورت  پر مال کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔اس کے بعد عورت پر عدت (تین ماہواریاں  اگر حمل نہ ہو،اگر حمل ہے تو بچہ کی پیدائش تک)لازم ہے،البتہ اس کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوگواہوں کی موجودگی میں تجدید مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،اس صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

لیکن اگرشوہر نے تین کی نیت کی یا خلع نامہ میں تین طلاق کا ذکر ہو تو پھر عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگی، البتہ اگر عورت سابقہ شوہر کی عدت پوری کرکے دوسری جگہ نکاح کرلےاور  دوسرے شوہر کے  ساتھ جسمانی تعلق ہوجانے کے بعد دوسرے شوہر کاانتقال ہوجائے یا وہ  خود ہی اسے طلاق دے دے اور اس کی عدت بھی گزر جائے، تو مذکورہ عورت کے لیے پہلے شوہر سے نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا درست ہوگا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"{وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلاَّ اَنْ یَّخَافَا اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ  تِلْك حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلاَ تَعْتَدُوْهَا  وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓـئِكَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ}"( البقرۃ : 229) 
ترجمہ: اور تم کو یہ روا نہیں ہے کہ عورتوں کو دیا ہوا کچھ بھی مال اُن سے واپس لو ، مگر یہ کہ جب میاں بیوی اِس بات سے ڈریں کہ اللہ کے اَحکام پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ پس اگر تم لوگ اِس بات سے ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے تو اُن دونوں پر کچھ گناہ نہیں ہے اِس میں کہ عورت بدلہ دے کر چھوٹ جائے ، یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، سو اُن سے آگے نہ بڑھو ، اور جو کوئی اللہ کی حدود سے آگے بڑھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ 

حدیث مبارکہ میں ہے:

 حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا)پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ثابت کے اخلاق اور اُن کی دین داری کے بارے میں تو کوئی عیب نہیں لگاتی ؛ لیکن مجھے اُن کی ناقدری کا خطرہ ہے ( اِس لیے میں اُن سے علیحدگی چاہتی ہوں ) تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : ’’ اُنہوں نے جو  باغ تمہیں مہر میں دیا ہے وہ تم اُنہیں لوٹادوگی ؟ ‘‘ تو اہلیہ نے اِس پر رضامندی ظاہر کی ، تو پیغمبر علیہ السلام نے حضرت ثابت کو بلاکر فرمایا : ’’ اپنا باغ واپس لے لو اوراِنہیں طلاق دے دو ‘‘ ۔

(سنن ابی داود،باب فی الخلع،ج۳،ص۵۴۵،ط؛دار الرسالۃ العالمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية

(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين. و تصح نية الثلاث فيه. و لو تزوجها مرارًا و خلعها في كل عقد عندنا لايحل له نكاحها بعد الثلاث قبل الزوج الثاني، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان."

(کتاب الطلاق،باب الخلع،ج۱،ص۴۸۸،ط؛دار الفکر)

Thursday, 20 March 2025

 

"وتثبت حرمة المصاهرة بالنكاح الصحيح دون الفاسد، كذا في محيط السرخسي. فلو تزوجها نكاحا فاسدا لا تحرم عليه أمها بمجرد العقد بل بالوطء هكذا في البحر الرائق. وتثبت بالوطء حلالا كان أو عن شبهة أو زنا، كذا في فتاوى قاضي خان. فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير."

(کتاب النکاح ، الباب الثالث فی بیان المحرمات ، القسم الثانی المحرمات بالصهریة  جلد ۱ ص : ۲۷۴ ط : دارالفکر

نومولود کے کان میں اذان کا طریقہ

 ۔نومود کے کان میں اذان دینا سنت ہے، یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس بارے میں قولی وفعلی دونوں طرح کی احادیثِ مبارکہ موجودہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے:

''حضرت عبیداللہ بن ابی رافع اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کی ولادت کے وقت ان کے کان میں اذان دیتے ہوئے دیکھا جس طرح نماز میں اذان دی جاتی ہے''۔

مظاہر حق شرح مشکاۃ المصابیح میں علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

" اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش کے بعد اس کے کان میں اذان دینا سنت ہے ۔ مسند ابویعلی موصلی میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بطریق مرفوع( یعنی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ) نقل کیا ہے کہ  " جس شخص کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان دے اور بائیں کان میں تکبیر کہے، تو اس کو "ام الصبیان" (سوکڑہ کی بیماری)سے ضرر نہیں پہنچے گا'' ۔

2۔ نومولود کے دائیں کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہناسنت ہے۔ اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ بچے کوہاتھوں پراٹھاکرقبلہ رخ کھڑے ہوکردائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے اورحسبِ معمول "حی علی الصلاۃ" کہتے وقت دائیں طرف اور "حی علی الفلاح" کہتے وقت بائیں طرف منہ پھیراجائے۔

شرح السنۃ میں ہے:

"روي أن عمر بن عبد العزيز كان يؤذن في اليمنى ويقيم في اليسرى إذا ولد الصبي". (11/273)

3۔ بچہ اور بچی اس حکم میں یکساں ہیں ۔ یعنی دونوں کے لیے حکم یہ ہے کہ دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی جائے

سورہ انشقاق کا سجدۂ تلاوت

 نماز میں آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کےفوراً بعد  سجدہ واجب ہوجاتا ہے، اور اسی وقت سجدہ کرنا چاہیے، اور آیتِ سجدہ تلات کرنے کے بعد  آگے مزید تین آیات پڑھ لیں اور سجدہ نہیں کیا تو یہ سجدہ قضا شمار ہوگا، اوراس کے لیے پھر نماز کے اندر ہی سجدہ تلاوت بھی کرنا لازم ہوگا، اور  تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو بھی لازم ہوگا۔

آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد  تین آیات سے پہلے اگر رکوع کرلیا تو  رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرنے سے سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا، امام اگر رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرے تو مقتدیوں کو بھی رکوع میں سجدہ تلاوت کرنے کی نیت کرنی ہوگی، ورنہ مقتدیوں کا سجدہ ادا نہیں ہوگا، اس لیے امام کو رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت نہیں کرنی چاہیے، اور اگر آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد آگے  تین آیات  پڑھنے سے پہلے رکوع کیا  اور اس میں نیت نہیں کی تو اس کے بعد نماز کے سجدہ سے امام اور مقتدی دونوں کا سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا۔

 لیکن آیتِ سجدہ تلاوت کرنے کے بعد آگے مزید تین آیات تلاوت کرنے کے بعد رکوع کیا تو اس میں نیت سے بھی سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا اور نہ ہی نماز کے سجدہ سے ادا ہوگا، یعنی  نماز کےرکوع میں نیت کے ساتھ اور سجدہ میں نیت کے بغیر سجدہ تلاوت ادا ہونے کے لیے  "فور" (جلدی) شرط ہے،  اور "فور"  کا مطلب ہے کہ آیتِ سجدہ کے بعد مزید تین آیات نہ پڑھے۔  تاہم اس صورت سے دو سورتیں مستثنیٰ ہیں، (1)سورۂ انشقاق (2) سورۂ بنی اسرائیل، ان دو سورتوں میں اگر سورۃ ختم کرکے بھی رکوع میں نیت کرلی تب بھی سجدہ تلاوت ادا ہوجاتا ہے، اس لیے کہ ان دونوں سورتوں میں سورت ختم ہونے سے چند آیات پہلے ہی آیت سجدہ ہے ، تو یہ "فور" کے حکم میں ہی ہے۔ 

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں مذکورہ امام  کا "سورۃ انشقاق" پڑھ کر سورت ختم کرکے  رکوع میں سجدۂ تلاوت کی نیت کرلینے سے امام کا سجدہ تلاوت تو ادا ہوجائے گا، البتہ مقتدیوں کے سجدہ تلاوت ادا ہونے کے لیے ان کا بھی نیت کرنا ضروری ہے، اس لیے امام کو چاہیے کہ یا مقتدیوں کو بھی بتادے، ورنہ اس طرح کا معمول نہ بنائے؛ تاکہ لوگوں کو تشویش نہ ہو۔

باقی جو سجدہ تلاوت نماز میں پڑھا جائے تو اس کا سجدہ نماز ہی میں ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کے بعد اس کی قضا نہیں ہوتی، اس لیے  مقتدیوں سے جو سجدہ قضا ہوگئے ہیں ان پر توبہ واستغفار کریں اور ان نماز وں کی قضا لازم نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 109، 110، 111):
"(وهي على التراخي) على المختار ويكره تأخيرها تنزيهاً، ويكفيه أن يسجد عدد ما عليه بلا تعيين ويكون مؤدياً وتسقط بالحيض والردة (إن لم تكن صلويةً) فعلى الفور لصيرورتها جزءاً منها ويأثم بتأخيرها ويقضيها ما دام في حرمة الصلاة ولو بعد السلام، فتح  ... (ولو تلاها في الصلاة سجدها فيها لا خارجها)، لما مر. وفي البدائع: وإذا لم يسجد أثم فتلزمه التوبة ... (وتؤدى بركوع وسجود) غير ركوع الصلاة وسجودها (في الصلاة وكذا في خارجها ينوب عنها الركوع) في ظاهر المروي، بزازية (لها) أي للتلاوة (و) تؤدى (بركوع صلاة) إذا كان الركوع (على الفور من قراءة آية) أو آيتين وكذا الثلاث على الظاهر، كما في البحر (إن نواه) أي كون الركوع (لسجود) التلاوة على الراجح (و) تؤدى (بسجودها كذلك) أي على الفور (وإن لم ينو) بالإجماع، ولو نواها في ركوعه ولم ينوها المؤتم لم تجزه ويسجد إذا سلم الإمام ويعيد القعدة.

Sunday, 16 March 2025

سورہ ص کی آیت سجدہ

 مشہور اور رائج تو یہ ہے کہ ’’سورۂ ص‘‘کی اس آیت پر سجدہ کیا جاتا ہے، یعنی اگر کوئی مذکورہ آیت پڑھے یا سنے، تو اس پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔

"قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ."

(سورۃ ص، الاٰیة: 24)

البتہ یہ سجدہ کب کیاجائے گا؟ تو علامہ شامی رحمہ اللہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ ’’سورۂ ص‘‘ کا سجدہ اس سے اگلی آیت پر  کیا جائے گا، یعنی 

"فَغَفَرْنَا لَـه،  ذٰلِكَ ۖ وَاِنَّ لَـه ، عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ."

(سورۃ ص، الاٰیة: 25)

پرسجدہ کیا جائے گا، اور علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اس قول کو راجح اور اصح قرار دیا ہے، اس اختلاف کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ آیتِ سجدہ کا اصل سبب مکمل آیت(مضمون) ہے، یعنی جس آیت پر متعلقہ مضمون مکمل ہوتا ہے،  سجدۂ پر اسی آیت پر کیا جائے گا، یعنی اگر کسی آیت میں سجدۂ تلاوت مذکورہ ہے، لیکن اصل مضمون اس آیت کے دو یا تین آیتوں کے بعد مکمل ہوتا ہے، تو آیتِ سجدہ کی تلاوت کرنے یا سننے کے بعد سجدۂ تلاوت کرنے کے بجائے  جب متعلقہ مضمون اختتام پذیر ہوگا،  تب سجدۂ تلاوت کرنا بہتر ہے، کیوں کہ   آیتِ سجدہ پڑھنے یا سنتے  ہی فی الفور سجدہ کرنا ضروری نہیں ہے، کچھ تاخیر سےسجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور مذکورہ آیتِ سجدہ کا مضمون بعد والی آیت پر ختم ہوتا ہے، اسی وجہ سے علامہ شامی علیہ الرحمہ نے’’سورۂ ص‘‘ میں   ’’آیت نمبر:25 ‘‘ پر سجدہ کرنے کو اولیٰ قرار دیا ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"و (‌ص) عند قوله: {فاستغفر ربه وخر راكعا وأناب}."

(کتاب الصلوٰۃ، الباب الثالث عشر في سجود التلاوة، ج:1، ص:132، ط:رشیدیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي ص عند - ’’وحسن مآب‘‘ (ص: 25)- وهو أولى من قول الزيلعي عند - ’’وأناب‘‘ - لما نذكره .................. والظاهر أن هذا الاختلاف مبني على أن السبب تلاوة آية تامة كما هو ظاهر إطلاق المتون وأن المراد بالآية ما يشمل الآية والآيتين إذا كانت الثانية متعلقة بالآية التي ذكر فيها حرف السجدة، وهذا ينافي ما مر عن السراج من تصحيح وجوب السجود بقراءة حرف السجدة مع كلمة قبله أو بعده لا يقال ما في السراج بيان لموضع أصل الوجوب وما مر عن الإمداد بيان لموضع وجوب الأداء أو بيان لموضع السنة فيه. لأنا نقول إن الأداء لا يجب فور القراءة كما سيأتي وما مر في ترجيح مذهبنا من قولهم لأنها تكون قبل وجود سبب الوجوب ."

(کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوة، ج: 2، ص: 103،104، ط: سعید)

Saturday, 15 March 2025

روزے کی حالت میں مچھر ماراگربتی جلانا

 مچھر مارنے کے لیے اسپرے جلایا  اور اسی طرح اگر بتی خوشبو وغیرہ کے لیے  یامچھر بھگانے کیلئے جلائی اور پھر اپنے اختیار کے بغیر  خود بخود اس کا دھواں  منہ یا نا ک میں چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، اور ان اشیاء کو جلانے کے بعد اپنے قصد واختیار سے ان کا دھواں ناک یا منہ کے ذریعے اپنے جسم میں لے گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا۔

فتاوی شامی  (2/ 395):
'' (أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكراً استحساناً ؛ لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عوداً أو عنبراً له ذاكراً ؛ لإمكان التحرز عنه، فليتنبه له، كما بسطه الشرنبلالي

Monday, 10 March 2025

بیوی کے انتقال کے بعد مھر کی رقم کس کو دی جایے

 اگر شوہر نے بیوی کا حق مہر  (معجل یا مؤجل)  ادا نہ کیا ہو اور اس عورت کا انتقال ہوجائے تو  اس عورت کا  حق ِ مہر  شوہر  کے  ذمہ  واجب الادا  قرضہ ہونے کی وجہ سے اس عورت کے ترکہ میں شامل ہوگا، لہٰذا شوہر مرحومہ بیوی کے دیگر ترکہ کے ساتھ مہر کی رقم کو بھی شامل کردے اور مہر کی رقم میں سے میراث کے ضابطہ شرعی کے مطابق اپنا حصہ اگر مرحومہ کی اولاد نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کو ترکہ میں سے آدھا(50%)حصہ ملتا ہے کاٹنے کے بعد باقی رقم مرحومہ بیوی کے دیگر ورثاء کو ادا کردے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 378):

’’قال: (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرًا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. وقالا: لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول ومهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط  نصيبه من ذلك. وأما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت كما إذا مات أحدهما. ولأبي حنيفة أن موتهما يدل على انقراض أقرانهما فبمهر من يقدر القاضي مهر المثل.

(قوله: على ما نبينه) يعني في المسألة التي تليها من غير فصل، وهي ما إذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، هذا إذا علم أن الزوج مات أولا أو علم أنهما ماتا معا أو لم تعلم الأولية؛ لأن المهر كان معلوم الثبوت، فلما لم يتيقن بسقوط شيء منه بموت المرأة أولا لا يسقط، وأما إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط منه نصيب الزوج؛ لأنه ورث دينا على نفسه.‘‘

Sunday, 23 February 2025

خلع کا جواز

 اگر زوجین میں نبھاؤ کی کوئی شکل نہ رہے اور شوہر بلاعوض طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو ،تو  شریعت نے  اس طرح کی صورت حال میں عورت  کو یہ تجویز دی ہے کہ وہ اپنے شوہر  سے کچھ مال کے عوض  اس کی رضامندی سےخلع   لے لے،لیکن  شرعاً خلع صحیح ہونے کے لیے شوہر کا اسے قبول کرنا ضروری ہے۔یک طرفہ خلع یاشوہر کی رضامندی کے بغیر کسی عدالت کاخلع دیناشرعاً معتبر نہیں ہے۔شوہر کا خلع دینے کی صورت میں عورت کو ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور عورت  پر مال کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔اس کے بعد عورت پر عدت (تین ماہواریاں  اگر حمل نہ ہو،اگر حمل ہے تو بچہ کی پیدائش تک)لازم ہے،البتہ اس کے بعد اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوگواہوں کی موجودگی میں تجدید مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں،اس صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

لیکن اگرشوہر نے تین کی نیت کی یا خلع نامہ میں تین طلاق کا ذکر ہو تو پھر عورت شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگی، البتہ اگر عورت سابقہ شوہر کی عدت پوری کرکے دوسری جگہ نکاح کرلےاور  دوسرے شوہر کے  ساتھ جسمانی تعلق ہوجانے کے بعد دوسرے شوہر کاانتقال ہوجائے یا وہ  خود ہی اسے طلاق دے دے اور اس کی عدت بھی گزر جائے، تو مذکورہ عورت کے لیے پہلے شوہر سے نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا درست ہوگا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"{وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلاَّ اَنْ یَّخَافَا اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ  تِلْك حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلاَ تَعْتَدُوْهَا  وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓـئِكَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ}"( البقرۃ : 229) 
ترجمہ: اور تم کو یہ روا نہیں ہے کہ عورتوں کو دیا ہوا کچھ بھی مال اُن سے واپس لو ، مگر یہ کہ جب میاں بیوی اِس بات سے ڈریں کہ اللہ کے اَحکام پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ پس اگر تم لوگ اِس بات سے ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے تو اُن دونوں پر کچھ گناہ نہیں ہے اِس میں کہ عورت بدلہ دے کر چھوٹ جائے ، یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، سو اُن سے آگے نہ بڑھو ، اور جو کوئی اللہ کی حدود سے آگے بڑھے گا سو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ 

حدیث مبارکہ میں ہے:

 حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا)پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ثابت کے اخلاق اور اُن کی دین داری کے بارے میں تو کوئی عیب نہیں لگاتی ؛ لیکن مجھے اُن کی ناقدری کا خطرہ ہے ( اِس لیے میں اُن سے علیحدگی چاہتی ہوں ) تو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  : ’’ اُنہوں نے جو  باغ تمہیں مہر میں دیا ہے وہ تم اُنہیں لوٹادوگی ؟ ‘‘ تو اہلیہ نے اِس پر رضامندی ظاہر کی ، تو پیغمبر علیہ السلام نے حضرت ثابت کو بلاکر فرمایا : ’’ اپنا باغ واپس لے لو اوراِنہیں طلاق دے دو ‘‘ ۔

(سنن ابی داود،باب فی الخلع،ج۳،ص۵۴۵،ط؛دار الرسالۃ العالمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية

(وشرطه) شرط الطلاق(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين. و تصح نية الثلاث فيه. و لو تزوجها مرارًا و خلعها في كل عقد عندنا لايحل له نكاحها بعد الثلاث قبل الزوج الثاني، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان."

(کتاب الطلاق،باب الخلع،ج۱،ص۴۸۸،ط؛دار الفکر)

Thursday, 20 February 2025

دو بیٹے ایک بیوی اور پانچ بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

 الجواب وباللہ التوفیق ومنہ المستعان وعلیہ التکلان 

صورت مسئولہ میں مرحوم ضیاء الدین کی بیوی، دو بیٹے اور پانچ بیٹیوں کے درمیان مرحوم کی کل جائیداد منقولہ وغیرمنقولہ: زمین، مکان، پیسہ، زیورات اور اثاثہ وغیرہ سب کے، بعد ادائے حقوق  واجبہ متقدمہ علی الارث کل ۷۲/ حصے ہوں گے

 جن میں سے 9 حصے  مرحوم کی بیوی کو اور ،14,14 حصے ہر ایک بیٹے کو اور سات سات حصے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے ۔مرحوم نے اپنی صحت والی زندگی میں جو جائیداد،فیکٹری یاپلاٹ،فلیٹ وغیرہ اپنی اولادیابیوی وغیرہ کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ رجسٹری یاہبہ کر دی تھی یاقبضہ دیدیا تھا تووہ ان کی ملکیت بن چکی جن کے نام رجسٹری یاہبہ کی تھی وہ جائیداد اب مرحوم کے ترکے میں شامل نہ ہوگی۔

کما فی شرح المجلة : وتنعقد الهبة بالإيجاب والقبول وتتم بالقبض الكامل، لأنها من التبرعات والتبرع لايتم إلا بالقبض۔( المادة: 837، ص:462)۔
و فی الھندیہ:"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية۔(4/378)۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية.(5/690)۔

فقط واللہ أعلم بالصواب

 محمد عامر الصمدانی

قاضی شریعت

دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ علی گڑھ 

٢١, شعبان المعظم ١٤٤٦ھ/٢٠فروری٢٠٢٥ء

Tuesday, 18 February 2025

دواخیافی بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ رکھنا

 دوعلاتی یااخیافی بہنیں ایک مرد کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(وأما الجمع ‌بين ‌ذوات ‌الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج. والأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا؛ لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الرابع المحرمات بالجمع، ج: 1، ص: 277، ط: دار الفكر بيروت)