https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Wednesday 13 October 2021

سالی سے زنا کی صورت میں استبراء واجب ہے یا مستحب

 

زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے خواہ کسی کے ساتھ ہو، لہٰذا سالی کے ساتھ زنا بھی کبیرہ گناہ ہے جس پر فوری طور پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔ نیز اجنبیہ کے ساتھ زنا کے جو احکام ہیں سالی سے زنا ثابت ہوجائے تو وہی احکام جاری ہوں گے، لہٰذا  اگر شرعی گواہوں یا اقرار زنا کی وجہ سے عدالت میں زنا ثابت ہوجائے تو قاضی ایسے شخص کو سنگسار کرنے کا پابند ہوگا۔ اسی طرح  اگر اس بدترین فعل کو جائز و حلال سمجھ کر کیا تو آیت قرآنی: (وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الأّخْتَيْن) کے انکار کی وجہ سے تجدیدِ ایمان و تجدید نکاح کرنا لازم ہوگا۔  بصورت دیگر سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی سے نکاح ختم تو نہیں ہوگا، مگر جب تک سالی ایک ماہواری سے پاک نہ ہوجائے اس وقت تک اپنی بیوی سے ہمبستری کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی، اور اگر سالی اس زنا کی وجہ سے حاملہ ہو گئی تو جب تک ولادت نہ ہوجائے زانی کے لیے  اپنی بیوی سے ہمبستری کی شرعاً اجازت نہ ہوگی۔ نیز آئندہ  ایسے شخص کے لیے  اپنی سالی سے پردہ کرنا ضروی ہوگا۔ 

واضح رہے کہ سالی سے زنا کرناانتہائی قبیح فعل، اور کبیرہ  گناہ کا ارتکاب  ہے، اس پر توبہ واستغفار لازم ہے، لیکن  سالی سے زنا کرنے سے بیوی حرام نہیں ہوتی، لیکن اس  کے استبراء یعنی  (اس ہمبستری کے بعد) ایک حیض گزرنے تک یاحاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل تک اپنی بیوی سے ہم بستری کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته

(قوله: وفي الخلاصة إلخ) هذا محترز التقييد بالأصول والفروع وقوله: لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة، فالمعنى: لا تحرم حرمة مؤبدة، وإلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبهة قال في البحر: لو وطئ أخت امرأة بشبهة تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة، وفي الدراية عن الكامل لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضة۔ واستشكله في الفتح ووجهه أنه لا اعتبار لماء الزاني ولذا لو زنت امرأة رجل لم تحرم عليه وجاز له وطؤها عقب الزنا. اهـ.(3/ 34، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ط: سعید)

علامہ شامی رحمہ اللہ نے  آخر میں  فتح سے یہ اشکال نقل کیا ہے کہ زانی کے پانی کا اعتبار نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ کوئی شخص منکوحہ سے نکاح کرلے تو  اس کا شوہر اس کے بعد فورا اس سے ہم بستری کرسکتا ہے۔

دراصل اس مسئلے  میں کہ مزنیہ کا استبراء واجب ہے یا مستحب ؟  تو احناف کے ہاں اس مسئلے میں دو قول ملتے ہیں ، ایک قول شامی میں نقل کیا گیا ہے کہ استبراء مستحب ہے ، یعنی :

 اذا زنی باخت امرأته او بعمتھا أو بنت اخیھا أو اختھا بلا شبھة فان الافضل ان لایطاء امراته حتی تستبرأ المزنیة۔۔۔۔الخ ۔شامی ج:۶،ص:۳۸۰ باب الاستبراء (طبع سعید)۔

اور یہی قول جامع الرموز للقھستانی، کتاب الکراھیۃ ،جج:۲،ص:۳۱۴ (طبع سعید)میں بھی مذکور ہے ۔(وکذا فی شرح الملتقی ،ص:۲۱۱ علی مجمع الانھار )۔

مگر ایک دوسرا قول استبراء کے واجب ہونے کا بھی ہے ، جو درایۃ عن الکامل کی عبارت : وفي الدراية عن الكامل لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى حيضة، کے علاوہ النتف فی الفتاویٰ ، کتاب النکاح ، ص:۱۸۹ (طبع دار الکتب العلمیۃ بیروت) میں یوں مذکور ہے :

والخامس عشر اذا وطأ ذات محرم من امرأته ممن لا يحرم عليه بزنا فانه لا يطأ امرأته حتى يستبرئ الموطوءة بحيضة لانه لا يحل له رحمان محرمان فيهما ماؤه۔ (النتف في الفتاوى للسغدي (1 / 294)

نيز مجمع الانهر ميں  علامه عبدالرحمن شیخی زادہ نے  صرف درایہ عن الکامل کی عبارت ذکر کی ہے ، اس پر کوئی اشکال وغیرہ ذکر نہیں فرمایا  اس سے معلوم ہوا کہ حنفیہ کے ہاں ایک قول استبراء کے واجب ہونے کا بھی ہے۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1 / 325):

وفي الدراية لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى بحيضة 

نیز  مصنف ابن ابی شیبہ میں  حضرت قتادہ سے بھی یہی منقول ہے، اور حنابلہ کا مسلک بھی یہی ہے، اور بالخصوص فروج کے معاملہ میں احتیاط کا پہلو مد نظر رکھا جاتا ہے، اس لیے ہمارے اکابرین نے اسی پر فتوی دیا ہے کہ احتیاطا ایک حیض کا  استبرا واجب ہے۔

مصنف ابن أبي شيبة (3 / 491):

"حدثنا أبو بكر قال: نا سعيد: قال قتادة: «لا يحرمها ذلك عليه، غير أنه لا يغشى امرأته، حتى تنقضي عدة التي زنى بها» "

الفقہ الاسلامی وأدلتہ ،ج:۷،ص:۱۶۵ (طبع دار الفکر دمشق):

"وان زنی الرجل بامرأة فلیس له أن یتزوج بأختھا حتی تنقضی عدتھا وحکم العدة من الزنا والعدة من وطء الشبھة كحكم العدة من النکاح"

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

سالی  سے زنا سے زانی شخص پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ جب تک مزنیہ کو ایک حیض نہ آئے  اس وقت تک اس کو منکوحہ بیوی سے الگ رہنا واجب ہے۔(4/560، ط: جمعیت پبلیشرز)۔

2 comments: