واضح رہے کہ شرعاً دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کا فاصلہ ہونا ضروری ہے،پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون شرعاً استحاضہ شمار ہوگا،اور عورت کی عادت کے مطابق ہی حیض اور طہر کے ایام مقرر کیے جائیں گے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کے حیض کی عادت چوں کہ ایک ہفتہ کی ہے اس لیے ایک ہفتہ مذکورہ خاتون کو جو خون آرہا ہے وہ حیض شمار ہوگا اور آٹھویں دن حیض سے پاک ہوکر مذکورہ خاتون کوپندرہویں دن سے پہلے جو خون آرہاہے وہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اور استحاضہ کے دنوں کا حکم یہ ہے کہ اس میں نماز ،روزہ ،تلاوت ،قربت غرض یہ کہ پاکی والے تمام اعمال کیے جائیں گے، اور عادت کے مطابق جب تک پاکی کے 15دن مکمل نہ ہوجائیں اس وقت تک مذکورہ خاتون پاک شمار ہوگی،اور جب مذکورہ خاتون کے پاکی کے دن عادت کے مطابق مکمل ہوجائیں تو حیض کے ایام اس پاکی کے بعد سے شمارکیے جائیں گے۔
نیز استحاضہ کے ایام میں اگر مذکورہ خاتون کو خون اتنے وقفے سے آتاہو کہ کپڑے پاک کرکے باوضو ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکتی ہو تو ایسی صورت میں پاکی کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے نماز ادا کرنی ہوگی ، اور اگر استحاضہ کا خون مسلسل جاری ہو اور اتنا وقت بھی نہ مل رہا ہو کہ پاک صاف ہوکر وقتی فرض نماز ادا کرسکے ،تو ایسی صورت میں ہرنماز کے وقت میں نیا وضو کرناہوگا، پھر اس وضو سے اگلی نماز کے وقت تک جتنے فرائض و نوافل چاہےپڑھ سکتی ہے، نیز روزے بھی رکھ سکتی ہے اور قرآنِ کریم کی تلاوت بھی کرسکتی ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"فالأصل عند أبي يوسف وهو قول أبي حنيفة الآخر على ما في المبسوط أن الطهر المتخلل بين الدمين إذا كان أقل من خمسة عشر يوما لا يصير فاصلا بل يجعل كالدم المتوالي؛ لأنه لا يصلح للفصل بين الحيضتين فلا يصلح للفصل بين الدمين."
( كتاب الطهارة،باب الحيض،216/1،ط:دار الکتب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"ودم الإستحاضة حکمه کرعاف دائم وقتًا کاملاً لایمنع صومًا وصلاةً ولو نفلاً وجماعَا؛ لحدیث: توضئي وصلي وإن قطر الدم علی الحصیر".
(کتاب الطهارۃ،باب الحیض،298/1،ط: سعید )
احسن الفتاویٰ میں ہے:
"زوجہ مفقود کے لیے قاضی کی عدالت میں فسخِ نکاح کی درخواست کے بعد جو مزید چار سال کے انتظام کا حکم دیا گیا ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ عورت کے لیے نفقہ اور گزارے کا بھی کچھ انتظام ہو اور عفت اور عصمت کے ساتھ یہ مدت گزارنے پر قدرت بھی ہو، اور اگر اس کے نفقہ اور گزارے کا کوئی انتظام نہ ہو، نہ شوہر کے مال سے، نہ کسی عزیز و قریب یا حکومت کے تکفل سے اور خود بھی محنت و مزدوری، پردہ و عفت کے ساتھ کر کے اپنا گزارا نہیں کر سکتی، تو جب تک صبر کر سکے، شوہر کا انتظار کرے، جس کی مدت ایک ماہ سے کم نہ ہو، اس کے بعد قاضی یا کسی مسلمان حاکم مجاز کی عدالت میں فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر کرے، اور اگر نفقہ اور گزارے کا انتظام ہے مگر بغیر شوہر کے رہنے میں اپنی عفت و عصمت کا اندیشہ قوی ہے، تو سال بھر صبر کرنے کے بعد قاضی کی طرف مرافعہ کرے، اور دونوں صورتوں میں گواہوں کے ذریعہ یہ ثابت کرے کہ اس کا شوہر فلاں اتنی مدت سے غائب ہے، اور اس نے اس کے لیے کوئی نان و نفقہ نہیں چھوڑا، اور نہ کسی کو نفقہ کا ضامن بنایا، اور اس نے اپنا نفقہ اس کو معاف بھی نہیں کیا، اور اس عورت پر حلف بھی کرے، اور دوسری صورت یعنی عفت کے خطرے کی حالت میں قسم کھائے کہ میں بغیر شوہر کے اپنی عفت قائم نہیں رکھ سکتی، قاضی کے پاس جب یہ ثبوت مکمل ہو جائے، تو قاضی اس کو کہہ دے کہ میں نے تمہارا نکاح فسخ کر دیا، یا شوہر کی طرف سے طلاق دے دی، یا خود عورت کو اختیار دے دے کہ وہ اپنے نفس پر طلاق واقع کرے اور جب عورت اپنے نفس پر طلاق واقع کرے تو قاضی اس طلاق کو نافذ کر دے۔"
(جلد:5، صفحہ:422، طبع: ایچ ایم سعید)