https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Monday, 14 September 2026

 شوہر کے انتقال کی صورت میں اس کے ترکہ (چھوڑے ہوئے مال) میں سے سب سے پہلے بیوی کا حقِ مہر بطور قرض ادا کیا جائے گا، اس کے بعد بقیہ مال سے میراث تقسیم ہوگی۔  2]

  • مہر شوہر پر قرض ہے: حقِ مہر بیوی کا شرعی حق اور شوہر کے ذمے ایک قرض ہوتا ہے2]
  • ترکہ کی تقسیم سے پہلے ادائیگی: شریعت کا اصول ہے کہ کسی بھی میت کی جائیداد یا میراث تقسیم کرنے سے پہلے اس کے ذمے لازم تمام قرضے ادا کیے جاتے ہیں، جن میں بیوی کا مہر بھی شامل ہے۔  2]
  • مہر کے علاوہ میراث کا حصہ: بیوی کو اس کا حقِ مہر پورا دینے کے بعد، مرحوم شوہر کے باقی ماندہ ترکہ میں سے شرعی اصولوں کے مطابق بیوہ کا جو حصہ بنتا ہے، وہ بھی اسے الگ سے ملے گا۔ [1]
  • معافی کا اختیار: اگر بیوی خود اپنی خوش دلی سے حقِ مہر معاف کر دے تو شوہر اس ذمہ داری سے بری ہو جاتا ہے، ورنہ ورثاء پر لازم ہے کہ وہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے مہر کی رقم ادا کریں۔  3]