https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Sunday, 9 August 2026

بیوہ،ماں،اور بہن کے درمیان ترکہ کیسے تقسیم ہوگا

 اگر کسی مرد کا انتقال ہو جائے اور اس کے ورثاء میں صرف ایک بیوہ، ماں اور ایک حقیقی/سگی بہن شامل ہوں (اور اولاد یا باپ موجود نہ ہوں)، تو فقہی اصولِ میراث (عَوْل کے قاعدے کے مطابق) کل ترکہ کو 13 برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ [1]

تفصیلی حصے درج ذیل ہیں:
  • بیوہ کا حصہ: کل ترکہ کا 3/13 واں حصہ (تقریباً 23.07%)
  • ماں کا حصہ: کل ترکہ کا 4/13 واں حصہ (تقریباً 30.77%)
  • بہن کا حصہ: کل ترکہ کا 6/13 واں حصہ (تقریباً 46.15%) [1]
تقسیم سے پہلے ضروری اقدامات
جائیداد یا رقم تقسیم کرنے سے پہلے ان تین کاموں کو پورا کرنا لازمی ہے:
  • میت کے کفن دفن اور تجہیز و تکفین کا متوسط خرچ نکالنا۔
  • میت کے ذمے کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنا۔
  • اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو کل مال کے ایک تہائی (1/3) حصے سے اسے نافذ کرنا

No comments:

Post a Comment