طلاق غضبان
طلاق عام طور پر غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے اور عام غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے، شریعت نے طلاق کے صریح الفاظ استعمال ہونے کے بعد ان میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں کیا۔
صورت مسئولہ میں اگر شوہر کا غصہ ایسا تھا کہ غصہ کے باوجود اس کو یاد ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہے تھے اور یہ الفاظ کہتے وقت وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ ان الفاظ سے طلاق ہو جاتی ہے ، اپنے اختیار و ارادے سے الفاظ ادا کیے تھے ،تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔
تاہم اگر غصہ یا ذہنی دباؤ کا اس قدر غلبہ ہو جائے کہ دماغ ماؤف ہو جائے اور طلاق دینے والے کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کی خبر نہ رہے ، طلاق کے الفاظ کہتے وقت غصے کی وجہ سے اس درجہ حواس باختہ ہوچکا ہو کہ اس کو یہ تمیز نہ رہے کہ اس کے منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں ؟ یا جو الفاظ نکل رہے ہیں ان کا کیا معنی و مطلب ہے ؟ تو پھراگر شوہر کی یہ جنونی کیفیت پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ حلفیہ بیان بھی دے کہ طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس پر یہ جنونی کیفیت طاری تھی ، تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
یا پھر موقع پر موجود لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر آدمی بوقت طلاق اس کی کیفیت و حرکات کودیکھتے ہوئے مغلوب الحواس ہونے کی گواہی دیں کہ شوہر کا غصہ واقعتاً اس قدر شدید تھا کہ اس کی عقل مغلوب ہوگئی تھی، خود پر کنٹرول ختم ہوگیا تھا ، حواس باختہ ہوچکا تھا اور زبان پر مکمل کنٹرول ختم ہونے کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہے تھے، تواس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی :
الدر المختار مع رد المحتار3/ 641):
قال العلامة الحصكفي رحمه الله : (ويقع طلاق) ... (ولو عبدا)... (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق، فجرى على لسانه الطلاق، أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا.
رد المحتار(3/ 244):
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ ،وهذا الموافق عندنا؛ لما مر في المدهوش... وصرح في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول ، وسعه الأخذ بشهادتهما، وإلا لا ، مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول ، يقع طلاقه .. ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين.
رد المحتار(3/ 244):
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : ينبغي التعويل عليه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته.. وقال : سئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق .فقط
No comments:
Post a Comment