https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Sunday, 27 September 2026

میری طرف سے تم آزاد سے طلاق


باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ’  میری طرف سے تم آزاد ہو،، کا جملہ ہمارے عرف میں بیوی کے حق میں الفاظ صریح میں سے ہے، اس سے طلاق صریح رجعی واقع ہوجاتی ہے، بلانیت استعمال کرنے سے بھی ایک طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے؛ لہٰذا مذکورہ صورت میں بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، عدت کے اندر رجعت کر کے بیوی بنا کر رکھنے کی گنجائش ہے اور رجعت کا مطلب یہ ہے کہ شوہر بیوی سے یا دوسرے لوگوں سے کہہ دے کہ میں نے بیوی کودوبارہ زوجیت میں واپس لے لیا ہے میں نے رجعت کرلی یابیوی کے ساتھ ہمبستری ہوجائے ۔
سرحتک وہو ’’رہاکردم‘‘ لأنہ صار صریحاً في العرف-وقولہ-فإذا قال: ’’رہاکردم‘‘ أي سرحتک یقع بہ الرجعي مع أن أصلہ کنایۃٌ أیضا۔ (شامي، کتاب الطلاق، باب الکنایات، زکریا۴/۵۳۰، کراچي۳/۲۹۹)
والرجعۃ أن یقول: راجعتک أوراجعت امرأتي وہذا صریح في الرجعۃ…أویطأہا، أویقبلہا، أویلمسہا بشھوۃ۔ (ہدایۃ، اشرفي دیوبند۲/۳۹۵) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ