https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Sunday, 8 November 2026

ہ تک ایک دوسرے سے

لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ. وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ.

اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم کھالیں چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ (اس مدت میں) رجوع کر لیں تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کر لیا ہو تو بیشک اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔

البقرہ، 2: 226-227

درج بالا آیت سے واضح ہوا کہ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ چار ماہ سے زائد مدت تک بیوی کے حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں تاخیر کرے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ آپ رات کے وقت گشت کر رہے تھے تو ایک گھر سے ایک عورت کی آواز آرہی تھی اور وہ کچھ اشعار پڑھ رہی تھی۔ مفہوم یہ تھا کہ اس کا شوہر گھر سے کہیں دور چلا گیا تھا اور وہ اسکے فراق میں غمزدہ تھی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا کہ تین سے چار ماہ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جائے تاکہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔

(تاریخ الخلفاء: 142)

اس لیے علمائے کرام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر شوہر بغیر کسی عذر کے چار ماہ تک بیوی کے حقوقِ زوجیت ادا نہیں کرتا تو بیوی کو مطالبۂ طلاق اور معاملۂ خلع کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ملازمت یا روزگار کے سلسلے میں یا کسی بھی دوسری غرض سے اہلِ خانہ سے دور رہائش پذیر افراد‘ جن کے لیے اہلِ خانہ کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہیں‘ ان کے لیے لازم ہے کہ وہ چار ماہ کی مدت میں اہلِ خانہ کے پاس جائیں۔ اگر بوجوہ ایسا ممکن نہ ہو فریقِ ثانی کی رضامندی، زوجین کے فتنے میں پڑنے کا اندیشوں اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے متعلق ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔

 امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رات کے گشت کے دوران جس خاتون کو اپنے شوہر (جو جہاد/فوج میں گئے ہوئے تھے) کی جدائی میں اشعار گنگناتے سنا تھا، وہ عربی کے مشہور اشعار ہیں۔ [1, 2]

اس واقعے کے بعد آپؓ نے ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مشاورت کر کے فوجیوں کے لیے گھر سے دور رہنے کی زیادہ سے زیادہ مدت چار ماہ مقرر فرمائی تھی۔ [1, 2]
خاتون کے گنگنائے جانے والے اصل عربی اشعار اور ان کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:
اصل عربی اشعار:
تَطَاوَلَ هَذَا اللَّيْلُ وَاسْوَدَّ جَانِبُهْ
وَأَرَّقَنِي أَنْ لَا خَلِيلَ أُلَاعِبُهْ
فَوَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ أَنِّي أُرَاقِبُهْ
لَحُرِّكَ مِنْ هَذَا السَّرِيرِ جَوَانِبُهْ
اشعار کا اردو ترجمہ:
یہ رات بہت لمبی ہو گئی ہے اور اس کے اطراف سیاہ (تاریک) ہو گئے ہیں،
اور مجھے اس بات نے بے خواب (بیدار) کر دیا ہے کہ میرا کوئی محبوب (شوہر) نہیں جس کے ساتھ میں دل بہلا سکوں۔
پس اللہ کی قسم! اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا جس کے سامنے میں جوابدہ ہوں اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے،
تو یقیناً اس چارپائی کے پائے (شدتِ جذبات سے) ہلا دیے جاتے۔

کتابوں کے حوالے (کتبِ حدیث و تاریخ):
یہ واقعہ اسلامی تاریخ اور حدیث کی متعدد مستند کتب میں مروی ہے: [1, 2]
  1. المؤطا امام مالک: کتاب الجہاد، باب ما جاء في أمر الغزو۔ (روایتِ عبد اللہ بن دینار)۔
  2. السنن الکبریٰ للبیہقی: جلد 9، صفحہ 29، حدیث نمبر 17908۔
  3. مصنف عبد الرزاق: جلد 7، صفحہ 151، حدیث نمبر 12593 اور 12594۔
  4. سنن سعید بن منصور: جلد 2، صفحہ 210، حدیث نمبر 2463۔
  5. تاريخ المدینۃ لابن شبہ: جلد 1، صفحہ 403