https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Monday, 19 October 2026

 


’’ بلا شبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ، رات و دن کے ہیر پھیر اور پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے جانے میں ، ان کشتیوں اور جہازوں میں جو انسانوں کے فائدے کی چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے پانی میں جسے اﷲ آسمان سے برساتا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں  بے شمار نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں۔ ‘‘

(البقرہ:164)

٭ اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کر رکھا ہے کہ اسے تم دیکھ رہے ہو

 الرعد2)۔)

٭ اسی ( اﷲ ) نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا تم انھیں دیکھ رہے ہو

 لقمان10)۔)

٭ ہر شخص اپنی آنکھوں سے ہر روز ہر لمحہ اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے اور کرسکتا ہے کہ اس کے سرپر یہ بلند و بالا آسمان چھت کی مانند بغیر کسی ستون کے قائم ہے۔ کیا دنیا میں آج تک کسی انسان نے ستون کے بغیر کوئی عمارت قائم کی ؟ اور کیا عقلِ انسانی اس کا تصور کرسکتی ہے اور کیا ایسا ممکن بھی ہے ؟ لیکن اﷲ کی قدرت کا یہ عظیم شاہکار کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور وہ بہت بڑی قدرت و طاقت کا مالک ہے ’’ کیا اﷲ کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ ‘‘ ( ابراہیم10)۔

٭ اے لوگو ! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش کو برسایا پھر اس سے تمہاری روزی کیلئے پھل نکالے ، پس جانتے بوجھتے اﷲ کے لئے شریک مقرر نہ کرو ( البقرۃ22,21)۔

٭ اور ہم نے ہی آسمان کو محفوظ چھت بنایا لیکن لوگ اس کی نشانیوں سے منھ موڑتے ہیں (الانبیاء32) ۔

یعنی اﷲ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں غور و تدبر نہیں کرتے بلکہ اس سے منھ موڑے گزر جاتے ہیں ، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ چیزیں کھانے کو دیں ، یہی اﷲ تمہارا پروردگار ہے ،پس اﷲ بہت ہی برکتوں والا اور سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ ‘‘ (غافر 64) ۔

’’ اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ تمہیں لے کر نہ ہلے اور نہریں اور راہیں بنادیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں ، تو کیا جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے۔ ‘‘ ( النحل17-15)۔

’’ بہت بابرکت ہے وہ اﷲ جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے جس نے موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے کام کرتا ہے ؟ اور وہ غالب اور بہت زیادہ بخشنے والا ہے ، اسی نے اوپر تلے7 آسمان بنائے ، تو ( اے دیکھنے والے !) رحمن کی پیدائش میں کوئی بے ضابطگی نہ دیکھے گا ، دوبارہ ( نظر ڈال کر ) دیکھ لے کیا اس میں کوئی شگاف بھی نظر آرہا ہے ؟ پھر2,2بار نظر لوٹا کر دیکھ تیری نگاہ تیری طرف عاجز اور تھکی ہوئی لوٹ آئے گی ، بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں ( یعنی ستاروں ) سے مزین کیا اور انھیں شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بنادیا اور شیطانوں کیلئے ہم نے دوزخ کا جلانے والا عذاب تیار کردیا۔ ‘‘  

اسی طرح ایک دوسری جگہ ستاروں کا ایک فائدہ یوں بیان ہوا :

’’ اور ستاروں سے وہ ( لوگ ) راہ پاتے ہیں۔ ‘‘ (النحل16)۔

’’ کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟ اﷲ نے اسے بنایا ، اس کی بلندی اونچی کی ، پھر اسے ٹھیک ٹھاک کردیا ، اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا اور اس کے بعد زمین کو ہموار بچھادیا اس میں سے پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو مضبوط گاڑ دیا ، یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدہ کیلئے ہیں۔ ‘‘ ( النازعات33-27)۔

’’ عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں آفاقِ عالم میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر کھل جائیگا کہ حق یہی ہے ، کیا تمہارے رب کا ہر چیز سے واقف اور آگاہ ہونا کافی نہیں ؟ ۔‘‘ ( حم السجدہ53)۔

’’ کیا منکر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین باہم ملے جلے تھے ، پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے بنایا ، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے ؟۔ ‘‘ ( الانبیاء30)

’’ پس کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کئے گئے ہیں اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے ۔‘‘( الغاشیہ21-17)۔

’’ اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی کہ تم ترازو ( تولنے ) میں تجاوز نہ کرو ، انصاف کے ساتھ ترازو ٹھیک رکھو اور تولنے میں کمی نہ کرو اور اسی نے مخلوق کیلئے زمین بچھادی جس میں میوے ہیں اور بھُس والا اناج ہے اور خوشبو دار پھول ہیں ، پس ( اے انسانو اور جنو !)  تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے۔ ‘‘ ( الرحمن13-8)۔

’’ اور ان کیلئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وہ یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اور سورج کیلئے جو مقررہ راہ ہے وہ اسی پر چلتا رہتا ہے ، یہ غالب اور علم والے کا اندازہ ( مقرر کردہ ) ہے اورچاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے ، نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانیوالی ہے ، سب کے سب آسمان پر ( اپنے مدار میں ) تیرتے پھرتے ہیں۔ ‘‘ ( یٰسین40-37) ۔


”اور جب تیرے رب نے انسان کو پیدا کرنا چاہا تو فرشتوں کو آگاہ کیا فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں اس کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟ اللہ نے فرمایا: بے شک مجھے وہ معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔“

( سورہ بقرہ آیت ۳۰)

”اور اسی خدا نے تم (انسانوں) کو زمین میں اپنا نائب بنایا ہے تاکہ تمہیں دیئے ہوئے سرمائے کے ذریعے تمہارا امتحان لیا جائے۔“

( سورہ انعام آیت ۱۶۵) 

۲۔ انسان کی علمی استعداد دوسری تمام مخلوقات کی ممکنہ استعداد سے زیادہ ہے۔

”اور اللہ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھا دیئے (اسے تمام حقائق سے آشنا فرمایا) پھر ”ملکوتی مخلوق“ فرشتوں سے کہا: مجھے ان کے نام بتاؤ کہ کیا ہیں؟ وہ بولے: ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا کہ تو نے ہمیں خود سکھایا فرمایا: اے آدم تو ان کو ان چیزوں کے نام سکھا دے اور آگاہ کر پھر اس نے سب چیزوں کے نام سکھا دیئے اور آگاہ کر دیا تو اللہ نے فرشتوں سے فرمایا: کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہوں وہ بھی جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔“

( سورہ بقرہ آیت ۳۱ تا ۳۳)

”ابھی آدم کے فرزند اپنے والدین کی پیٹھوں میں ہی تھے کہ خدا نے ان سے اپنے وجود کے بارے میں گواہی لی اور انہوں نے گواہی دی۔“

( سورہ اعراف آیت ۱۷۲)

”تو اپنا چہرہ دین کی طرف رکھ وہی جو خدائی فطرت ہے اور اس نے سب لوگوں کو اسی پر پیدا کیا ہے۔“( سورہ روم آیت ۴۳

”اس نے جو چیز بنائی خوب بنائی انسان کی پیدائش گارے سے شروع کی پھر اس کی اولاد کو نچڑے ہوئے حقیر پانی سے قرار دیا پھر اس کو آرائش دی اور اس میں اپنی روح پھونکی۔“( سورہ 

”خدا نے آدم کو منتخب کیا پھر اس کی جانب متوجہ ہوا اور اس کو ہدایت کی۔“

( سورہ طہٰ آیت ۱۲)

”اور ہم نے آسمانوں زمین اور پہاڑوں کو اپنی امانت دکھائی اسے کسی نے قبول نہ کیا کہ اٹھائے اور ڈر گئے جب کہ انسان نے اس کو اٹھا لیا بے شک یہ بڑا ظالم اور نادان ہے۔“

( سورہ احزاب آیت ۷۲)

”ہم نے انسان کو مرکب نطفے سے بنایا تاکہ اس کا امتحان لیں پھر ہم نے اس کو سننے والا اور دیکھنے والا کر دیا پھر ہم نے اس کو راستہ دکھایا اب یا وہ شکر کرنے والا ہے یا ناشکری کرنے والا یا وہ ہمارے دکھائے ہوئے سیدھے راستے پر چلے گا اور سعادت پائے گا یا کفران نعمت کرے گا اور منحرف ہو جائے گا۔“

( سورہ دہر آیت ۲۔۳)

”بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور ہم نے ان کو صحرا اور سمندر پر حاکم کر دیا اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر برتری دی۔“( سورہ بنی اسرائیل آیت ۷۰)

”اور قسم ہے نفس انسان کی اور اس کے اعتدال کی کہ اس کو (خدا نے) اچھی اور بری چیزوں کی پہچان دی۔“

( سورہ شمس آیات ۷۔۹)

”بے شک اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں۔“( سورہ رعد آیت ۲۸)

”اے انسان تو اپنے رب تک پہنچنے میں بہت تکلیف اٹھاتاہے اور آخرکار تمہیں اس سے ملنا ہے۔“

( سورہ انشقاق آیت ۶)

۱۰۔ زمین کی تمام نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔

”وہی ہے جس نے سب جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لئے پیدا کیا۔“

( سورہ بقرہ آیت ۲۹)

”اور مسخر کر دیا تمہارے لئے اپنی طرف سے سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو فکر کرتے ہیں۔“

( سورہ جاثیہ آیت ۱۳)

”اور ہم نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“

( سورہ حشر آیت ۱۹)




— سورۃ الفاتحہ، آیت 5

اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ

ترجمہ: ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

تشریح: اس میں اللہ کی عبادت کا لازمی حکم اور غیر اللہ کی عبادت سے نہی کا مفہوم شامل ہے۔

2 — البقرۃ 21

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ

ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو۔

تشریح: تمام انسانوں کو اللہ کی بندگی کا براہِ راست حکم۔

3 — البقرۃ 22

فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا

ترجمہ: پس اللہ کے لیے ہمسر نہ بناؤ۔

تشریح: شرک سے کھلی ممانعت۔

4 — البقرۃ 26

وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ

ترجمہ: اللہ اس مثال سے صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے۔

تشریح: فاسق بننے سے اجتناب کا اشارہ اور ہدایت کی پیروی کا حکم۔

5 — البقرۃ 28

كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ

ترجمہ: تم اللہ کا کفر کیسے کرتے ہو؟

تشریح: کفر سے ممانعت اور ایمان کا تقاضا۔

6 — البقرۃ 35

وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ

ترجمہ: اور اس درخت کے قریب نہ جانا۔

تشریح: سیدنا آدمؑ و حواؑ کے لیے نہی؛ اصولِ شریعت کہ ممنوعات سے بچو۔

7 — البقرۃ 43

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ

ترجمہ: نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔

تشریح: دو بنیادی فرائض کا حکم۔

8 — البقرۃ 43

وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

ترجمہ: اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

تشریح: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم۔

9 — البقرۃ 44

أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ترجمہ: کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

تشریح: حق پر عمل نہ کرنے سے تنبیہ۔

10 — البقرۃ 45

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ

ترجمہ: صبر اور نماز سے مدد طلب کرو۔

تشریح: عبادت و صبر کو مشکلات کا حل قرار دیا گیا ہے۔

11 — البقرۃ 48

وَاتَّقُوا يَوْمًا

ترجمہ: اس دن سے ڈرو۔

تشریح: تقویٰ اور آخرت کی تیاری کا حکم۔

12 — البقرۃ 58

كُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا

ترجمہ: تم اس میں سے جہاں چاہو، خوب کھاؤ۔

تشریح: نعمتوں کے جائز استعمال کی اجازت (امر اباحہ)۔

13 — البقرۃ 58

وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

ترجمہ: اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرنا۔

تشریح: ہر قسم کے فساد سے منع کیا گیا۔

14 — البقرۃ 60

كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ

ترجمہ: اللہ کے رزق میں سے کھاؤ اور پیو۔

تشریح: نعمتوں کو حلال طریقے سے استعمال کا حکم۔

15 — البقرۃ 60

وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

(دوبارہ اسی آیت میں)

تشریح: فساد کی مزید تاکید کے ساتھ ممانعت۔

16 — البقرۃ 63

خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ

ترجمہ: جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو۔

تشریح: اللہ کی شریعت پر مضبوطی سے عمل کرنے کا حکم۔

17 — البقرۃ 67

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً

ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔

تشریح: بنو اسرائیل کو واضح امر۔

18 — البقرۃ 73

فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا

ترجمہ: ہم نے کہا: اس (مردہ) کو اس (گائے) کے ایک حصے سے مارو۔

تشریح: اللہ کے حکم کی پیروی میں معجزہ ظاہر ہوا۔

19 — البقرۃ 83

وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا

ترجمہ: اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔

تشریح: حسنِ اخلاق اور نرم گفتگو کا حکم۔

20 — البقرۃ 83

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ

ترجمہ: نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔

تشریح: عبادت کی تاکید اور معاشرتی فلاح کی بنیاد۔


1 — البقرہ: آیت 148

فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ

ترجمہ: نیکیوں میں سبقت کرو۔

تشریح: دین و اخلاق کی ہر بھلائی میں آگے بڑھنے کا حکم۔

حوالہ: سورۃ البقرۃ 2:148

2 — البقرہ: 150

وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ

ترجمہ: جہاں کہیں بھی ہو، اپنا رخ اسی (قبلہ) کی طرف کرو۔

تشریح: نماز میں قبلہ رخ ہونا ایک صریح حکم ہے۔

حوالہ: 2:150

3 — البقرہ: 153

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ

ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔

تشریح: مشکلات کا حل صبر و نماز کو قرار دینا۔

حوالہ: 2:153

4 — البقرہ: 168

يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا

ترجمہ: اے لوگو! زمین کی چیزوں میں سے حلال و پاکیزہ کھاؤ۔

تشریح: رزق میں طیب و حلال کا حکم۔

حوالہ: 2:168

5 — البقرہ: 168

وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ

ترجمہ: اور شیطان کے نقشِ قدم پر مت چلو۔

تشریح: گناہ و برائی سے بچنے کی واضح ممانعت۔

حوالہ: 2:168

6 — البقرہ: 172

كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ

ترجمہ: ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔

تشریح: نعمتوں کے جائز استعمال کی اجازت و حکم۔

حوالہ: 2:172

7 — البقرہ: 172

وَاشْكُرُوا لِلَّهِ

ترجمہ: اور اللہ کا شکر ادا کرو۔

تشریح: شکر گزاری کا لازمی اخلاقی و دینی حکم۔

حوالہ: 2:172

8 — البقرہ: 173

فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ

ترجمہ: جو مجبور ہو، مگر حد سے بڑھنے والا نہ ہو، اس پر گناہ نہیں۔

تشریح: اضطراری حالات میں رخصت کا حکم؛ زیادتی سے منع۔

حوالہ: 2:173

9 — البقرہ: 178

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ

ترجمہ: اے ایمان والو! قصاص تم پر فرض کیا گیا ہے۔

تشریح: معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کا حکم۔

حوالہ: 2:178

10 — البقرہ: 183

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ

ترجمہ: تم پر روزے فرض کیے گئے۔

تشریح: عبادتِ صوم کا واضح حکم۔

حوالہ: 2:183

11 — البقرہ: 185

فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

ترجمہ: تم میں سے جو اس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے۔

تشریح: رمضان کا روزہ فرض ہونے کی تاکید۔

حوالہ: 2:185

12 — البقرہ: 187

وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ

ترجمہ: اعتکاف کی حالت میں اپنی بیویوں سے قربت نہ کرو۔

تشریح: عبادت کی مکمل یکسوئی کا حکم؛ اعتکاف میں ممانعت۔

حوالہ: 2:187

13 — البقرہ: 188

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ

ترجمہ: ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ۔

تشریح: رشوت، چوری، دھوکا، ظلم سب اس میں داخل ہیں۔

حوالہ: 2:188

14 — البقرہ: 190

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ

ترجمہ: اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔

تشریح: ظلم کے خلاف دفاعی جہاد کا حکم۔

حوالہ: 2:190

15 — البقرہ: 190

وَلَا تَعْتَدُوا

ترجمہ: اور حد سے نہ بڑھو۔

تشریح: جنگ میں ظلم و زیادتی سے منع کیا گیا۔

حوالہ: 2:190

16 — البقرہ: 191

وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ

ترجمہ: مسجدِ حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، جب تک وہ تم سے نہ لڑیں۔

تشریح: امن کی جگہ میں لڑائی سے منع۔

حوالہ: 2:191

17 — البقرہ: 197

فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ

ترجمہ: حج میں نہ شہوانی بات ہو، نہ گناہ، نہ جھگڑا۔

تشریح: حج کے آداب میں پابندیوں کا حکم۔

حوالہ: 2:197

18 — البقرہ: 197

وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى

ترجمہ: اور زادِ راہ لے لیا کرو، بہترین زاد تقویٰ ہے۔

تشریح: تقویٰ کی ترغیب و حکم۔

حوالہ: 2:197

19 — البقرہ: 208

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً

ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔

تشریح: دین کے تمام احکام کو اختیار کرنے کا حکم۔

حوالہ: 2:208

20 — البقرہ: 222

فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ

ترجمہ: حیض کے زمانے میں عورتوں سے علیحدہ رہو (قربت نہ کرو)۔

تشریح: صحت و طہارت کے اصول پر مبنی ممانعت۔

حوالہ: 2:222



— آیت: البقرہ 2:256

عربی:

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ

ترجمہ:

دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

تشریح:

کسی کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہ کرو۔

2 — آیت: البقرہ 2:264

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى

ترجمہ:

اے ایمان والو! اپنی صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر ضائع نہ کرو۔

تشریح:

صدقہ کرنے کے بعد طعنہ دینا منع ہے۔

3 — آیت: البقرہ 2:267

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ

ترجمہ:

اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائیوں میں سے خرچ کرو۔

تشریح:

اچھے مال سے صدقہ و انفاق کا حکم۔

4 — آیت: البقرہ 2:267

عربی:

وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ

ترجمہ:

گندے اور خراب مال کو خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو۔

تشریح:

صدقہ میں ناقص چیز دینا منع ہے۔

5 — آیت: البقرہ 2:268

عربی:

وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً…

(امر غیر صریح)

تشریح:

شیطان مایوس کرتا ہے—اللہ کی راہ میں دینے کی ترغیب۔

6 — آیت: البقرہ 2:272

عربی:

وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ

ترجمہ:

تم جو خیر خرچ کرو گے وہ تمہارے ہی لیے ہے۔

تشریح:

انفاق کی تاکید (ترغیبی امر)۔

7 — آیت: البقرہ 2:278

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ

ترجمہ:

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔

تشریح:

تقویٰ اختیار کرنے کا حکم۔

8 — آیت: البقرہ 2:278

عربی:

وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا

ترجمہ:

اور سود کا جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔

تشریح:

سود چھوڑنے کا واضح حکم۔

9 — آیت: البقرہ 2:281

عربی:

وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ

ترجمہ:

اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

تشریح:

روزِ آخرت کے خوف کا حکم۔

10 — آیت: البقرہ 2:282

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم … فَاكْتُبُوهُ

ترجمہ:

اے ایمان والو! جب آپ آپس میں قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔

تشریح:

لین دین لکھنے کا حکم۔

11 — آیت: البقرہ 2:282

عربی:

وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ

ترجمہ:

لکھنے والا انکار نہ کرے۔

تشریح:

کاتب کے لیے ذمہ داری نہ ٹالنے کا حکم۔

12 — آیت: البقرہ 2:283

عربی:

فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ

ترجمہ:

جسے امانت دی گئی ہے وہ اپنی امانت ادا کرے۔

تشریح:

امانت پوری کرنے کا حکم۔

13 — آیت: البقرہ 2:283

عربی:

وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ

ترجمہ:

گواہی کو نہ چھپاؤ۔

تشریح:

گواہی چھپانا منع ہے۔

14 — آیت: آل عمران 3:10

(امر/نہی صریح نہیں—چھوڑ رہے ہیں)

14 — آیت: آل عمران 3:28

عربی:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء

ترجمہ:

ایمان والے کافروں کو دوستی نہ بنائیں۔

تشریح:

ولاء (قلبی دوستی و مکمل اعتماد) منع ہے۔

15 — آیت: آل عمران 3:31

عربی:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي

ترجمہ:

(اے نبیؐ!) کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔

تشریح:

رسول ﷺ کی اتباع کا واضح حکم۔

16 — آیت: آل عمران 3:32

عربی:

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ

ترجمہ:

کہہ دیجئے: اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔

تشریح:

اطاعتِ الٰہی و رسالت کا حکم۔

17 — آیت: آل عمران 3:79

عربی:

كُونُوا رَبَّانِيِّينَ

ترجمہ:

ربانی بنو (اللہ والے بن جاؤ)۔

تشریح:

علم و تقویٰ میں مضبوط ہونے کا حکم۔

18 — آیت: آل عمران 3:80

عربی:

وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا

ترجمہ:

اور وہ (نبی) تمہیں یہ حکم نہیں دیتے کہ فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔

تشریح:

غیراللہ کی عبادت سے منع۔

19 — آیت: آل عمران 3:85

عربی:

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ

ترجمہ:

جو اسلام کے علاوہ کوئی دین چاہے، اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔

تشریح:

اسلام کے علاوہ مذہب اختیار کرنا منع ہے۔

20 — آیت: آل عمران 3:92

عربی:

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ

ترجمہ:

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ کرو۔

تشریح:

اعلیٰ درجہ کی نیکی کے لیے بہترین اموال خرچ کرنے کا حکم۔



✅ 1 — سورہ آلِ عمران: 96

اَمْر: بیت اللہ کی حرمت کا اعتراف

عربی:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا…

ترجمہ:

بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو بکہ (مکہ) میں ہے، بابرکت…

تشریح:

حکم ہے کہ اس گھر کی حرمت و فضیلت کو تسلیم کیا جائے۔

✅ 2 — سورہ آلِ عمران: 97

اَمْر: حج کی فرضیت

عربی:

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ…

ترجمہ:

اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا لازم ہے…

تشریح:

اہلِ استطاعت پر حج فرض ہونے کا واضح حکم۔

✅ 3 — سورہ آلِ عمران: 98

نہی: آیاتِ الٰہی کا انکار نہ کرو

عربی:

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ…

ترجمہ:

کہہ دو: اے اہلِ کتاب! تم اللہ کی آیات کا انکار کیوں کرتے ہو؟

تشریح:

اللہ کی نشانیوں کا انکار کرنے سے روکا گیا۔

✅ 4 — سورہ آلِ عمران: 99

نہی: ایمان والوں کو راہِ حق سے نہ روکو

عربی:

لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ…

ترجمہ:

تم اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو؟

تشریح:

حق کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا بڑا گناہ ہے۔

✅ 5 — سورہ آلِ عمران: 100

نہی: کافروں کی پیروی نہ کرو

عربی:

إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ…

ترجمہ:

اگر تم اہلِ کتاب کے بعض لوگوں کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے۔

تشریح:

اہلِ باطل کی اندھی پیروی سے منع کیا گیا۔

✅ 6 — سورہ آلِ عمران: 102

اَمْر: اللہ کا تقویٰ اختیار کرو

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ…

ترجمہ:

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

تشریح:

حقیقی تقویٰ اختیار کرنے کا حکم۔

✅ 7 — سورہ آلِ عمران: 102

اَمْر: اسلام پر ہی موت آئے

عربی:

وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

ترجمہ:

اور تمہیں ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

تشریح:

ایمان پر ثابت قدمی کا حکم۔

✅ 8 — سورہ آلِ عمران: 103

اَمْر: اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو

عربی:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا…

ترجمہ:

اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔

تشریح:

قرآن و دین پر اجتماعی تمسک کا حکم۔

✅ 9 — سورہ آلِ عمران: 103

نہی: تفرقہ نہ ڈالو

عربی:

وَلَا تَفَرَّقُوا…

ترجمہ:

اور تفرقہ میں نہ پڑو۔

تشریح:

فرقہ بندی سے منع فرمایا۔

✅ 10 — سورہ آلِ عمران: 104

اَمْر: نیکی کی طرف بلانے والی جماعت ہو

عربی:

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ…

ترجمہ:

اور چاہیے کہ تم میں ایک جماعت ہو جو بھلائی کی طرف بلائے۔

تشریح:

دعوتِ حق کی ذمہ داری کا حکم۔

✅ 11 — سورہ آلِ عمران: 104

اَمْر: بھلائی کا حکم دو

عربی:

يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ…

ترجمہ:

جو نیکی کا حکم دیتے ہوں۔

تشریح:

امر بالمعروف کی ہدایت۔

✅ 12 — سورہ آلِ عمران: 104

نہی: برائی سے روکو

عربی:

وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ…

ترجمہ:

اور برائی سے روکتے ہوں۔

تشریح:

نہی عن المنکر کا حکم۔

✅ 13 — سورہ آلِ عمران: 110

اَمْر/نہی: نیکی کا حکم، برائی سے روکنا

عربی:

تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ…

ترجمہ:

تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

تشریح:

امتِ مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری بیان ہوئی۔

✅ 14 — سورہ آلِ عمران: 130

نہی: سود نہ کھاؤ

عربی:

لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً…

ترجمہ:

سود نہ کھاؤ دوگنا چوگنا بڑھا ہوا۔

تشریح:

سود خوری کی سخت ممانعت۔

✅ 15 — سورہ آلِ عمران: 131

نہی: جہنم سے بچو (عملی نہی)

عربی:

وَاتَّقُوا النَّارَ…

ترجمہ:

اور آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

تشریح:

اللہ کی نافرمانی سے بچنے کا حکم۔

✅ 16 — سورہ آلِ عمران: 132

اَمْر: اللہ اور رسول کی اطاعت کرو

عربی:

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ…

ترجمہ:

اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم ہو۔

تشریح:

اطاعتِ الٰہی و رسالت فرض قرار دی گئی۔

✅ 17 — سورہ آلِ عمران: 133

اَمْر: جلدی کرو بخشش کی طرف

عربی:

وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ…

ترجمہ:

اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔

تشریح:

نیکی میں سبقت کا حکم۔

✅ 18 — سورہ آلِ عمران: 159

اَمْر: معاف کرو اور مشورہ کرو

عربی:

فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ…

ترجمہ:

ان سے درگزر کرو، ان کے لیے forgiveness مانگو اور ان سے مشورہ کرو۔

تشریح:

قائدانہ اوصاف کا اہم ہدایت نامہ۔

✅ 19 — سورہ آلِ عمران: 200

اَمْر: صبر کرو

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا…

ترجمہ:

اے ایمان والو! صبر کرو۔

تشریح:

مصائب میں استقامت کی ہدایت۔

✅ 20 — سورہ آلِ عمران: 200

اَمْر: ثابت قدم رہو اور اللہ سے ڈرو

عربی:

وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ…

ترجمہ:

اور ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔

تشریح:

دینی میدان میں مضبوطی کا حکم



— سورۃ النساء: 29

نہی: ناجائز طریقوں سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ

عربی:

لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ…

ترجمہ:

آپس میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ۔

تشریح:

غصب، چوری، دھوکا، سود، رشوت وغیرہ سے روک دیا گیا۔

📘 2 — سورۃ النساء: 29

نہی: خودکشی نہ کرو

عربی:

وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ…

ترجمہ:

اور اپنی جانیں ہلاک نہ کرو۔

تشریح:

جان لینا سخت حرام ہے۔

📘 3 — سورۃ النساء: 31

اَمْر: بڑے گناہوں سے بچو

عربی:

إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ…

ترجمہ:

اگر تم بڑے گناہوں سے بچو گے تو اللہ تمہاری برائیاں معاف کر دے گا۔

تشریح:

کبائر سے اجتناب نجات کی شرط ہے۔

📘 4 — سورۃ النساء: 32

نہی: حسد اور لالچ نہ کرو

عربی:

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ…

ترجمہ:

وہ چیزیں نہ چاہو جن میں اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔

تشریح:

معاشرتی فتنہ و فساد سے بچنے کی ہدایت۔

📘 5 — سورۃ النساء: 33

اَمْر: معاہدات کا احترام کرو

عربی:

فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ…

ترجمہ:

انہیں ان کا حق ادا کرو۔

تشریح:

وراثت و ذمہ داریوں کی ادائیگی کا حکم۔

📘 6 — سورۃ النساء: 34

اَمْر: نافرمان بیویوں کو پہلے نصیحت کرو

عربی:

فَعِظُوهُنَّ…

ترجمہ:

پس انہیں نصیحت کرو۔

تشریح:

خاندانی اصلاح کا پہلا مرحلہ نصیحت ہے۔

📘 7 — سورۃ النساء: 35

اَمْر: جھگڑے کی حالت میں ثالث مقرر کرو

عربی:

فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ…

ترجمہ:

ضرورت ہو تو دونوں طرف سے ایک ایک ثالث بھیجو۔

تشریح:

گھروں میں صلح کرانے کا شرعی اصول۔

📘 8 — سورۃ النساء: 36

اَمْر: اللہ کی عبادت کرو، شرک نہ کرو

عربی:

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا…

ترجمہ:

اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

تشریح:

اسلام کا بنیادی حکم۔

📘 9 — سورۃ النساء: 36

اَمْر: والدین سے حسنِ سلوک کرو

عربی:

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا…

ترجمہ:

اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔

تشریح:

والدین کے حقوق کو مقدم رکھا گیا۔

📘 10 — سورۃ النساء: 36

اَمْر: قریبی، یتیم، مسکین، پڑوسی سے حسنِ سلوک

عربی:

وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى…

ترجمہ:

قریبی رشتہ دار، یتیم، مسکین، پڑوسی سب سے بھلائی کرو۔

تشریح:

معاشرتی عدل و احسان کی بنیاد۔

📘 11 — سورۃ النساء: 37

نہی: تکبر اور کنجوسی نہ کرو

عربی:

الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ…

ترجمہ:

جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کہتے ہیں۔

تشریح:

بخل اور تکبر دونوں سے منع کیا گیا۔

📘 12 — سورۃ النساء: 42

اَمْر: گواہی حق کے مطابق دو

عربی:

يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا…

(سیاق میں عادل گواہی کی تاکید)

ترجمہ:

اس دن کافر چاہیں گے کہ زمین انہیں نگل لے…

تشریح:

ناحق گواہی کے انجام سے خبردار کیا گیا۔

📘 13 — سورۃ النساء: 43

نہی: نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ

عربی:

لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى…

ترجمہ:

نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔

تشریح:

پاکیزگی کے بغیر عبادت سے منع کیا گیا۔

📘 14 — سورۃ النساء: 43

اَمْر: تیمم کرو جب پانی نہ ہو

عربی:

فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا…

ترجمہ:

پھر پاک مٹی سے تیمم کر لو۔

تشریح:

عجز کے وقت طہارت کا متبادل حکم۔

📘 15 — سورۃ النساء: 58

اَمْر: امانتیں اہل کے سپرد کرو

عربی:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ…

ترجمہ:

اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل کے حوالے کرو۔

تشریح:

اسلام میں امانت داری بنیادی فریضہ ہے۔

📘 16 — سورۃ النساء: 58

اَمْر: فیصلہ انصاف سے کرو

عربی:

وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ…

ترجمہ:

لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔

تشریح:

عدل قائم کرنا دینی ذمہ داری ہے۔

📘 17 — سورۃ النساء: 59

اَمْر: اللہ، رسول اور اولی الامر کی اطاعت

عربی:

أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ…

ترجمہ:

اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے ذمہ داروں کی۔

تشریح:

دین و حکومت کا نظام مکمل ہوا۔

📘 18 — سورۃ النساء: 59

اَمْر: اختلاف کی صورت میں قرآن و سنت کی طرف رجوع

عربی:

فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ…

ترجمہ:

اگر کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔

تشریح:

فیصلہ کا واحد معیار شریعت قرار دیا گیا۔

📘 19 — سورۃ النساء: 63

اَمْر: ان سے اعراض کرو (منافقین)

عربی:

فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ…

ترجمہ:

ان (منافقوں) سے اعراض کرو اور انہیں نصیحت کرو۔

تشریح:

منافقین کی سازشوں کا جواب حکمت سے دینے کا حکم۔

📘 20 — سورۃ النساء: 71

اَمْر: دشمن کے مقابل تیار رہو

عربی:

خُذُوا حِذْرَكُمْ…

ترجمہ:

اپنا بچاؤ (حفاظت) کا سامان تیار رکھو۔

تشریح:

مسلمانوں کو دفاعی تیاری کا حکم۔



— سورۃ النساء: 148

نہی: بدگوئی ظاہر نہ کرو

عربی:

لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ…

ترجمہ:

اللہ برائی کی باتوں کا کھلم کھلا کہنا پسند نہیں کرتا۔

تشریح:

کسی کی برائی پھیلانا ناجائز ہے (سوائے مظلوم کے حق طلب کرنے کے).

📘 2 — سورۃ النساء: 150

نہی: اللہ و رسول کے درمیان تفریق نہ کرو

عربی:

يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ…

ترجمہ:

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کریں۔

تشریح:

ایمان مکمل تب ہے جب تمام انبیاء پر یکساں ایمان ہو۔

📘 3 — سورۃ النساء: 152

اَمْر: تمام رسولوں پر ایمان لاؤ

عربی:

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ…

ترجمہ:

جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائے…

تشریح:

ایمان کا لازمی جز گزشتہ اور موجودہ تمام رسولوں پر ایمان ہے۔

📘 4 — سورۃ النساء: 158

اَمْر (بالاشارہ): عیسیٰؑ کے رفع کا اعتراف کرو

عربی:

بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ…

ترجمہ:

بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔

تشریح:

عیسیٰؑ کی عزت و مقام کا اعتراف لازم ہے۔

📘 5 — سورۃ النساء: 163

اَمْر (بیانِ ایمان): وحی پر ایمان رکھو

عربی:

إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ…

ترجمہ:

ہم نے آپؐ پر اسی طرح وحی بھیجی…

تشریح:

قرآن و وحی کو واجب التسلیم قرار دیا گیا۔

📘 6 — سورۃ النساء: 171

نہی: غلو نہ کرو

عربی:

لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ…

ترجمہ:

اپنے دین میں غلو نہ کرو۔

تشریح:

عقائد میں حد سے بڑھنا منع ہے (خصوصاً مسیح علیہ السلام کے بارے میں).

📘 7 — سورۃ النساء: 171

اَمْر: اللہ کے بارے میں حق بات کہو

عربی:

وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ…

ترجمہ:

اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔

تشریح:

غلط عقائد و تاویلات سے روک دیا گیا۔

📘 8 — سورۃ النساء: 171

نہی: “تین” نہ کہو (تثلیث سے منع)

عربی:

وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ…

ترجمہ:

“تین” نہ کہو۔

تشریح:

تثلیث کے عقیدے کی واضح ممانعت۔

📘 9 — سورۃ النساء: 174

اَمْر: روشن دلیل کی پیروی کرو

عربی:

قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ…

ترجمہ:

تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آ گئی ہے۔

تشریح:

قرآن و نبوت کی گواہی کو قبول کرنے کا حکم۔

📘 10 — سورۃ النساء: 175

اَمْر: اللہ پر ایمان لاؤ اور مضبوطی سے پکڑ لو

عربی:

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ…

ترجمہ:

جو اللہ پر ایمان لائیں اور اس سے وابستہ ہو جائیں…

تشریح:

تمسک باللہ و قرآن کا حکم۔

📘 11 — سورۃ المائدہ: 1

اَمْر: معاہدے پورے کرو

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ…

ترجمہ:

اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو۔

تشریح:

اسلام میں وعدہ پورا کرنا بنیادی ذمہ داری ہے۔

📘 12 — سورۃ المائدہ: 2

نہی: اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو

عربی:

لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ…

ترجمہ:

اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ جانو (بے ادبی نہ کرو)۔

تشریح:

احرام، حج، قربانی وغیرہ کی حرمت بیان ہوئی۔

📘 13 — سورۃ المائدہ: 2

نہی: بدکاری اور ظلم میں تعاون نہ کرو

عربی:

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ…

ترجمہ:

گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔

تشریح:

ناحق کاموں کی مدد کرنا منع ہے۔

📘 14 — سورۃ المائدہ: 2

اَمْر: نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو

عربی:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى…

ترجمہ:

نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

تشریح:

معاشرتی بھلائی کی اساس۔

📘 15 — سورۃ المائدہ: 3

نہی: مردار، خون، خنزیر وغیرہ نہ کھاؤ

عربی:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ…

ترجمہ:

تم پر مردار، خون، سُؤر کا گوشت… حرام کر دیا گیا۔

تشریح:

غذائی احکام اور پاکیزہ خوراک کا اصول۔

📘 16 — سورۃ المائدہ: 5

اَمْر: پاک چیزیں تمہارے لیے حلال کی گئیں

عربی:

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ…

ترجمہ:

آج پاک چیزیں تمہارے لیے حلال کر دی گئیں۔

تشریح:

طیبات کی حلت صاف طور پر بیان ہوئی۔

📘 17 — سورۃ المائدہ: 6

اَمْر: وضو کے احکام

عربی:

فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ…

ترجمہ:

اپنے چہرے اور ہاتھ دھوؤ…

تشریح:

طہارت کے عملی اصول قرآن نے خود سکھائے۔

📘 18 — سورۃ المائدہ: 6

اَمْر: تیمم کا حکم

عربی:

فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا…

ترجمہ:

پھر پاک مٹی سے تیمم کر لو۔

تشریح:

مرض یا عدمِ پانی میں سہولت دی گئی۔

📘 19 — سورۃ المائدہ: 8

اَمْر: عدل پر قائم رہو

عربی:

كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ…

ترجمہ:

اللہ کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہو اور انصاف کی گواہی دو۔

تشریح:

عدل اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔

📘 20 — سورۃ المائدہ: 8

نہی: دشمنی عدل سے نہ ہٹائے

عربی:

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ…

ترجمہ:

کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روک دے۔

تشریح:

نفرت کے باوجود انصاف برقرار رکھنا لازمی ہے۔



— سورۃ المائدہ: 87

نہی: اللہ کی حلال چیزوں کو حرام نہ کرو

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ…

ترجمہ:

اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو۔

تشریح:

دین میں بدعتی پابندیاں لگانا منع ہے۔

📘 2 — سورۃ المائدہ: 87

نہی: حد سے نہ بڑھو

عربی:

وَلَا تَعْتَدُوا…

ترجمہ:

اور حد سے نہ بڑھو۔

تشریح:

دین میں غلو و افراط سے ممانعت۔

📘 3 — سورۃ المائدہ: 88

اَمْر: اللہ کے رزق سے حلال و پاکیزہ کھاؤ

عربی:

وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا…

ترجمہ:

اللہ کے دیے ہوئے حلال و پاک رزق میں سے کھاؤ۔

تشریح:

حلال کھانا عبادت کی بنیاد ہے۔

📘 4 — سورۃ المائدہ: 92

اَمْر: اللہ اور رسول کی اطاعت کرو

عربی:

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ…

ترجمہ:

اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔

تشریح:

نجات کا راستہ اطاعت ہے۔

📘 5 — سورۃ المائدہ: 92

نہی: ڈرو اور نافرمانی نہ کرو

عربی:

وَاحْذَرُوا…

ترجمہ:

اور بچتے رہو (نافرمانی سے).

تشریح:

گناہ سے دور رہنے کا عمومی حکم۔

📘 6 — سورۃ المائدہ: 94

اَمْر: اللہ کی آزمائش پر صبر کرو

عربی:

لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ…

ترجمہ:

اللہ تمہیں ضرور آزمائے گا…

تشریح:

احکام میں آزمائشیں حکمت کے ساتھ آتی ہیں۔

📘 7 — سورۃ المائدہ: 96

اَمْر: سمندری شکار حلال سمجھو

عربی:

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ…

ترجمہ:

تمہارے لیے سمندر کا شکار حلال کیا گیا۔

تشریح:

احرام کی حالت میں خشکی کا شکار منع لیکن سمندر کا جائز۔

📘 8 — سورۃ المائدہ: 96

نہی: خشکی کا شکار احرام میں حلال نہ سمجھو

عربی:

وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ…

ترجمہ:

اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا (احرام میں).

تشریح:

عبادت کے ادب میں شکار کی ممانعت۔

📘 9 — سورۃ المائدہ: 98

اَمْر: جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

عربی:

اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ…

ترجمہ:

جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

تشریح:

تقویٰ پیدا کرنے کے لیے تنبیہ۔

📘 10 — سورۃ المائدہ: 98

اَمْر: اللہ بخشنے والا بھی ہے

عربی:

وَأَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

ترجمہ:

اور بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

تشریح:

خوف اور امید میں توازن۔

📘 11 — سورۃ المائدہ: 100

اَمْر: پاکیزہ چیز ہی اختیار کرو

عربی:

قُلْ لَا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ…

ترجمہ:

کہہ دو: ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے۔

تشریح:

حرام و حلال میں امتیاز لازم۔

📘 12 — سورۃ المائدہ: 105

اَمْر: اپنی اصلاح کی فکر کرو

عربی:

عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ…

ترجمہ:

تم پر لازم ہے کہ اپنی اصلاح کرو۔

تشریح:

ہر فرد کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔

📘 13 — سورۃ المائدہ: 108

اَمْر: سچی گواہی دو

عربی:

ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا…

ترجمہ:

یہ طریقہ زیادہ قریب ہے کہ لوگ صحیح گواہی دیں۔

تشریح:

گواہی میں دیانت ضروری ہے۔

📘 14 — سورۃ المائدہ: 110

اَمْر (ذکرِ نعمت): عیسیٰؑ کو اللہ کی نعمتیں یاد دلانا

عربی:

اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ…

ترجمہ:

(اے عیسیٰ!) میری نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی۔

تشریح:

اللہ کی نعمتیں یاد رکھنا ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

📘 15 — سورۃ المائدہ: 118

اَمْر (دعائیہ): اگر تو عذاب دے یا بخش دے

عیسیٰؑ کا فرمان بطورِ ادب

عربی:

إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ…

ترجمہ:

اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں…

تشریح:

فرشتوں اور انبیاء کی عاجزی کا نمونہ۔

📘 16 — سورۃ الانعام: 1

اَمْر: غور کرو کہ اللہ نے آسمان و زمین بنایا

عربی:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ…

ترجمہ:

سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کیے۔

تشریح:

توحید کی دلیل پر توجہ دلائی گئی۔

📘 17 — سورۃ الانعام: 3

اَمْر: اللہ ہی کی عبادت کرو

عربی:

وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ…

ترجمہ:

وہی اللہ ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔

تشریح:

عبادت میں صرف اللہ کا حق۔

📘 18 — سورۃ الانعام: 14

اَمْر: اللہ کو اپنا کارساز بناؤ

عربی:

قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا…

ترجمہ:

کہہ دو: کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز بنا لوں؟

تشریح:

توحیدِ عملی کا حکم۔

📘 19 — سورۃ الانعام: 21

نہی: اللہ پر جھوٹ نہ باندھو

عربی:

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا…

ترجمہ:

اس سے بڑا ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے؟

تشریح:

غلط عقائد گھڑنے کی ممانعت۔

📘 20 — سورۃ الانعام: 50

اَمْر: پیرویِ وحی کرو

عربی:

قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي…

ترجمہ:

کہو: میں تو اپنے رب کی روشن دلیل پر ہوں۔

تشریح:

وحی ہی راہِ حق ہے۔



1 — توحید کا حکم

﴿قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ﴾

ترجمہ: کہہ دو مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم پکارتے ہو۔

تشریح: مشرکانہ عبادت سے مکمل روک۔

حوالہ: سورۃ الانعام، 6: 56

2 — حق کے ظاہر کرنے کا حکم

﴿قُلْ إِنِّي عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي﴾

ترجمہ: کہہ دو کہ میں اپنے رب کی روشن دلیل پر ہوں۔

تشریح: نبی ﷺ کو حکم کہ حق واضح طور پر بیان کریں۔

حوالہ: الانعام 6: 57

3 — تحقیق کے بغیر کسی کی پیروی نہ کرنے کی ممانعت

﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾

ترجمہ: اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں۔

تشریح: بغیر علم بات کرنا یا فیصلہ کرنا حرام۔

حوالہ: الانعام 6: 116

4 — عدل کا حکم

﴿وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُم﴾

ترجمہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔

تشریح: اسلام کا بنیادی اصول—عدل۔

حوالہ: الانعام 6: 152

5 — جھوٹ اور بہتان سے بچنے کی ممانعت

﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ﴾

ترجمہ: اور اپنی زبانوں سے جھوٹ گھڑ کر نہ کہو۔

تشریح: دینی معاملات میں من گھڑت باتیں حرام۔

حوالہ: الانعام 6: 140

6 — کھانے پینے میں حلال کی پابندی

﴿فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا﴾

ترجمہ: اللہ کے دیے ہوئے پاکیزہ اور حلال رزق میں سے کھاؤ۔

تشریح: حلال غذا ایمان کا حصہ ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 118

7 — فضول باتوں سے اعراض کا حکم

﴿فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾

ترجمہ: پس ان سے منہ موڑ لو۔

تشریح: دین کا مذاق بنانے والوں سے دوری اختیار کرنا۔

حوالہ: الانعام 6: 68

8 — والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾

ترجمہ: والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔

تشریح: اس پارے میں احکام کی جامع فہرست بیان کی گئی ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 151

9 — اولاد کو قتل کرنے سے ممانعت

﴿لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ﴾

ترجمہ: مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔

تشریح: رزق اللہ دیتا ہے، معاشی خوف ناجائز ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 151

10 — شرک کی سخت ممانعت

﴿وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾

ترجمہ: اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔

تشریح: سب سے بڑا اور ناقابلِ معافی گناہ۔

حوالہ: الانعام 6: 151

11 — بے حیائی سے ممانعت

﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ﴾

ترجمہ: بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ۔

تشریح: اخلاقی پاکیزگی کا حکم۔

حوالہ: الانعام 6: 151

12 — ناحق قتل سے ممانعت

﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ﴾

ترجمہ: اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔

تشریح: انسانی جان محترم ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 151

13 — یتیم کے مال کے قریب جانے سے ممانعت

﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾

ترجمہ: یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر بہتر طریقے سے۔

تشریح: یتیموں کی حفاظت اجتماعی ذمہ داری ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 152

14 — ناپ تول میں انصاف کا حکم

﴿وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ﴾

ترجمہ: ناپ اور تول کو انصاف سے پورا کرو۔

تشریح: معاشی بددیانتی کی سخت ممانعت۔

حوالہ: الانعام 6: 152

15 — انصاف کی گواہی کا حکم

﴿وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا﴾

ترجمہ: جب بات کرو تو انصاف کی بات کرو۔

تشریح: زبان کا عدل اللہ کا حکم ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 152

16 — اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا حکم

﴿وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا﴾

ترجمہ: اللہ کے عہد کو پورا کرو۔

تشریح: ہر قسم کا وعدہ اللہ کے سامنے ذمہ داری ہے۔

حوالہ: الانعام 6: 152

17 — شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا حکم

﴿وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ﴾

ترجمہ: شیطان کے راستے پر نہ چلو۔

تشریح: ہر برائی کا آغاز شیطان کے وسوسے سے ہوتا ہے۔

حوالہ: الاعراف 7: 30

18 — لباس اختیار کرنے کا حکم

﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ﴾

ترجمہ: اے آدم کی اولاد! اپنی زینت یعنی لباس پہن لیا کرو۔

تشریح: ستر پوشی دین کا بنیادی حکم۔

حوالہ: الاعراف 7: 31

19 — اسراف کی ممانعت

﴿وَلَا تُسْرِفُوا﴾

ترجمہ: فضول خرچی نہ کرو۔

تشریح: اعتدال والا خرچ ایمان کا حصہ ہے۔

حوالہ: الاعراف 7: 31

20 — فسادیوں کا ساتھ نہ دینے کا حکم

﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾

ترجمہ: زمین میں فساد نہ پھیلاؤ بعد اس کے کہ اللہ نے اسے درست کر دیا۔

تشریح: ظلم، نافرمانی، گمراہی سب فساد ہیں۔

حوالہ: الاعراف 7: 56




— سیدھے راستے پر ثابت قدم رہنے کا حکم

﴿وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا﴾

ترجمہ: اور اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ اس کے بہترین احکام کو مضبوطی سے پکڑیں۔

تشریح: عملِ صالح کو اختیار کرنے کا حکم۔

حوالہ: الاعراف 7:145

2 — بدکاری کے قریب نہ جانے کا حکم

﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ﴾

ترجمہ: کہہ دو میرے رب نے بے حیائیوں کو حرام کیا ہے۔

تشریح: ظاہری و باطنی تمام بے حیائیاں ممنوع۔

حوالہ: الاعراف 7:33

3 — اللہ کے احکام میں کمی بیشی نہ کرنے کا حکم

﴿اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ﴾

ترجمہ: وہی حکم مانو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔

تشریح: قرآن و سنت کی پیروی لازم۔

حوالہ: الاعراف 7:3

4 — اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کا حکم

﴿فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾

ترجمہ: اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔

تشریح: دعوتِ توحید کی بنیاد۔

حوالہ: الاعراف 7:37

5 — اللہ سے ڈرنے کا حکم

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ﴾

ترجمہ: پس اللہ سے ڈرو۔

تشریح: تقویٰ ہر حکم کی روح ہے۔

حوالہ: الاعراف 7:96

6 — علم کے بغیر فتویٰ دینے کی ممانعت

﴿أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾

ترجمہ: کیا تم اللہ پر وہ بات کہو گے جس کا تمہیں علم نہیں؟

تشریح: بغیر علم دین میں بات کرنا حرام۔

حوالہ: الاعراف 7:33

7 — اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ کرنے کا حکم

﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾

ترجمہ: کھاؤ، پیو مگر فضول خرچی نہ کرو۔

تشریح: اعتدال زندگی کا اصول۔

حوالہ: الاعراف 7:31

8 — وعدہ پورا کرنے کا حکم

﴿أَوْفُوا بِعَهْدِي﴾

ترجمہ: میرا عہد پورا کرو۔

تشریح: ہر قسم کا وعدہ اللہ کے نزدیک ذمہ داری ہے۔

حوالہ: الاعراف 7:172 (مفہوم آیت میں وعدہ الٰہی کا ذکر)

9 — شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا حکم

﴿وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ﴾

ترجمہ: شیطان تمہیں اللہ کی راہ سے روک نہ دے۔

تشریح: شیطان کا طریقہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔

حوالہ: الاعراف 7:27

10 — انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم

﴿وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْقِسْطِ﴾

ترجمہ: جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف سے کرو۔

تشریح: اجتماعی عدل کا اہم اصول۔

حوالہ: الاعراف 7:159

11 — عاجزی اختیار کرنے کا حکم

﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾

ترجمہ: اپنے رب کو عاجزی اور چپکے سے پکارو۔

تشریح: دعا میں خشوع کا حکم۔

حوالہ: الاعراف 7:55

12 — زمین میں فساد نہ کرنے کی ممانعت

﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾

ترجمہ: زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔

تشریح: ظلم، نافرمانی، گناہ سب فساد ہیں۔

حوالہ: الاعراف 7:56

13 — اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونے کا حکم

﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾

ترجمہ: میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔

تشریح: اللہ کی رحمت سے مایوسی ممنوع ہے۔

حوالہ: الاعراف 7:156

14 — نبی ﷺ کی پیروی کا حکم

﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ﴾

ترجمہ: جو نبی پر ایمان لائیں، اس کی مدد کریں اور تعظیم کریں۔

تشریح: نبی ﷺ کا احترام اور نصرت واجب۔

حوالہ: الاعراف 7:157

15 — پاک چیزوں کو کھانے کا حکم

﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ﴾

ترجمہ: وہ ان کے لیے پاک چیزیں حلال کرتا ہے۔

تشریح: حلال و پاک رزق اختیار کرنا ضروری۔

حوالہ: الاعراف 7:157

16 — والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم (بنی اسرائیل کو حکم)

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾

ترجمہ: اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔

تشریح: شریعتِ الٰہی کا دائمی اصول۔

حوالہ: الاعراف 7:145 کے ذیل میں عمومی حکم

17 — شکر گزاری کا حکم

﴿فَاذْكُرُوا آلاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

ترجمہ: اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔

تشریح: شکر گزار ہونا نجات کا ذریعہ ہے۔

حوالہ: الاعراف 7:69

18 — رسولوں کی نافرمانی سے بچنے کا حکم

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ﴾

ترجمہ: اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

تشریح: ہر نبی کی یہ دعوت مشترک رہی۔

حوالہ: الاعراف 7:79

19 — والدین کو اذیت دینے کی ممانعت (قومی نصیحت میں ذکر)

﴿أَتَتَّخِذُونَهُ هُزُوًا﴾

ترجمہ: کیا تم اسے مذاق بناتے ہو؟

تشریح: اللہ کے احکام یا نیک باتوں کا مذاق اڑانا ممنوع۔

حوالہ: الاعراف 7:63

20 — اللہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم

﴿ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ﴾

ترجمہ: پھر اللہ کی طرف توبہ کرو۔

تشریح: ہر خطا کا علاج توبہ ہے۔

حوالہ: الاعراف 7:153



— اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾

ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

تشریح: ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے۔

حوالہ: الانفال 8:46

2 — باہمی جھگڑے سے ممانعت

﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا﴾

ترجمہ: آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ کمزور پڑ جاؤ گے۔

تشریح: اتحاد و اتفاق قوت کا ذریعہ ہے۔

حوالہ: الانفال 8:46

3 — صبر کرنے کا حکم

﴿وَاصْبِرُوا﴾

ترجمہ: صبر کرو۔

تشریح: مشکلات میں ثابت قدمی لازم ہے۔

حوالہ: الانفال 8:46

4 — اللہ کی نصرت پر بھروسہ کرنے کا حکم

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

ترجمہ: اللہ سے ڈرو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔

تشریح: تقویٰ ہر کامیابی کی بنیاد ہے۔

حوالہ: الانفال 8:45

5 — جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے کا حکم

﴿إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا﴾

ترجمہ: جب دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو۔

تشریح: جہاد میں بھاگنا منع ہے۔

حوالہ: الانفال 8:45

6 — غنیمت کی تقسیم کو قبول کرنے کا حکم

﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾

ترجمہ: غنیمت میں سے پاکیزہ اور حلال طریقے سے کھاؤ۔

تشریح: غنیمت کی تقسیم اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق۔

حوالہ: الانفال 8:69

7 — خیانت سے ممانعت

﴿لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ﴾

ترجمہ: اللہ اور رسول کی خیانت نہ کرو۔

تشریح: دین، مال، امانت—ہر چیز میں خیانت حرام ہے۔

حوالہ: الانفال 8:27

8 — امانت لوٹانے کا حکم

﴿وَتُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾

ترجمہ: امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔

تشریح: اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیم۔

حوالہ: الانفال 8:27 (مفہوم آیت)

9 — دشمن سے تیاری رکھنے کا حکم

﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ﴾

ترجمہ: ان (دشمن) کے خلاف اپنی پوری طاقت سے تیاری رکھو۔

تشریح: مسلمانوں کو قوت و دفاع کا حکم۔

حوالہ: الانفال 8:60

10 — ظلم و زیادتی سے ممانعت

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾

ترجمہ: اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

تشریح: ظلم، حد سے بڑھ جانا—سب ممنوع۔

حوالہ: الانفال 8:61

11 — صلح کی طرف مائل ہونے کا حکم

﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾

ترجمہ: اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح پر آمادہ ہو جاؤ۔

تشریح: اسلام امن کو ترجیح دیتا ہے۔

حوالہ: الانفال 8:61

12 — اللہ پر توکل کرنے کا حکم

﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾

ترجمہ: اللہ پر بھروسہ رکھو۔

تشریح: ہر تدبیر کے بعد توکل ضروری ہے۔

حوالہ: الانفال 8:61

13 — مسلمانوں کو باہمی بھائی بننے کا حکم

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾

ترجمہ: مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔

تشریح: اتحاد، محبت، بھائی چارہ لازمی ہے۔

حوالہ: الانفال 8:75 (مفہوم آیت میں اخوت کا ذکر)

14 — جہاد میں جان و مال قربان کرنے کا حکم

﴿وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ﴾

ترجمہ: اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔

تشریح: دین کی سربلندی کے لیے قربانی لازم ہے۔

حوالہ: التوبہ 9:41

15 — منافقین سے دور رہنے کا حکم

﴿وَلَا تُطِعِ الْمُنَافِقِينَ﴾

ترجمہ: منافقوں کی اطاعت نہ کرو۔

تشریح: منافقت دین کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔

حوالہ: التوبہ 9:8 (مفہوم آیت)

16 — اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم

﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾

ترجمہ: ہلکے اور بھاری (ہر حال میں) اللہ کی راہ میں نکلو۔

تشریح: جہاد میں کسی حال میں سستی نہ کرو۔

حوالہ: التوبہ 9:41

17 — گناہ اور شرک سے توبہ کرنے کا حکم

﴿فَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ﴾

ترجمہ: اللہ کی طرف توبہ کرو۔

تشریح: ہر گناہ سے نجات کا راستہ توبہ ہے۔

حوالہ: التوبہ 9:102 (مفہوم)

18 — اہلِ ایمان کے ساتھ وفاداری کا حکم

﴿أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾

ترجمہ: مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔

تشریح: ایمان باہمی نصرت کا تقاضا کرتا ہے۔

حوالہ: التوبہ 9:71

19 — نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کا حکم

﴿يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾

ترجمہ: وہ نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔

تشریح: اسلامی معاشرے کی بنیاد۔

حوالہ: التوبہ 9:71

20 — نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم

﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾

ترجمہ: وہ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔

تشریح: عبادت اور معاشرتی ذمہ داری دونوں لازم ہیں۔

حوالہ: التوبہ 9:71



— اللہ سے ڈرنے کا حکم

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ﴾

ترجمہ: پس اللہ سے ڈرو۔

تشریح: ہر مسلمان کے لیے تقویٰ اختیار کرنا ضروری۔

حوالہ: التوبہ 9:119

2 — سچوں کے ساتھ رہنے کا حکم

﴿وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾

ترجمہ: اور سچوں کے ساتھ رہو۔

تشریح: سچائی ایمانی صفات میں سے ہے۔

حوالہ: التوبہ 9:119

3 — کمزور حالت میں بھی جہاد سے نہ رکنے کا حکم

﴿لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ﴾

ترجمہ: ایمان والے (جہاد سے بچنے کے لیے) اجازت نہیں مانگتے۔

تشریح: مشکل میں بھی دین کا کام ترک نہ کیا جائے۔

حوالہ: التوبہ 9:44

4 — توبہ کرنے کا حکم

﴿ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ﴾

ترجمہ: پھر اللہ اس کے بعد توبہ قبول کرے گا۔

تشریح: گناہ کے بعد رجوع کرنا ضروری ہے۔

حوالہ: التوبہ 9:118

5 — اللہ کے سامنے عاجزی کا طریقہ اپنانا

﴿ادْعُوهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾

ترجمہ: اللہ کو عاجزی اور خفیہ طور پر پکارو۔

تشریح: دعا کا مسنون آداب میں سے ایک۔

حوالہ: یونس 10:55

6 — آخرت پر ایمان لانے کا حکم

﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي﴾

ترجمہ: کہہ دو اے لوگو! اگر تم میرے دین کے بارے میں شک میں ہو…

تشریح: شک چھوڑ کر یقین کی دعوت۔

حوالہ: یونس 10:104

7 — اللہ کے سوا کسی کی عبادت سے ممانعت

﴿لَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾

ترجمہ: میں ان کی عبادت نہیں کرتا جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔

تشریح: توحید کی تاکید۔

حوالہ: یونس 10:104

8 — اللہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم

﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا﴾

ترجمہ: اپنا رخ دین کی طرف سچا کر لو۔

تشریح: خالص دین کی طرف جھکاؤ ضروری۔

حوالہ: یونس 10:105

9 — مشرکین کی پیروی سے ممانعت

﴿وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾

ترجمہ: اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہونا۔

تشریح: ایمان کی حفاظت کا حکم۔

حوالہ: یونس 10:105

10 — اللہ کے سوا مدد طلب نہ کرنے کا حکم

﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ﴾

ترجمہ: اللہ کے سوا ایسی چیز کو نہ پکارو جو نہ نفع دے نہ نقصان۔

تشریح: شرک و بدعات سے بچاؤ۔

حوالہ: یونس 10:106

11 — اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے کا حکم

﴿وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ﴾

ترجمہ: اسی کی پیروی کرو جو تمہاری طرف وحی کیا گیا۔

تشریح: وحی کے خلاف کوئی راہ اختیار نہیں کی جا سکتی۔

حوالہ: یونس 10:109

12 — صبر کا حکم

﴿وَاصْبِرْ﴾

ترجمہ: اور صبر کرو۔

تشریح: مشکلات میں ثابت قدمی ضروری۔

حوالہ: یونس 10:109

13 — زمین میں فساد سے ممانعت

﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾

ترجمہ: زمین میں فساد نہ کرو۔

تشریح: ظلم، گناہ، فتنہ سب فساد میں داخل۔

حوالہ: یونس 10:91 (سیاقِ کلام میں اصولی ممانعت)

14 — شکر گزاری کا حکم

﴿فَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ﴾

ترجمہ: اللہ کی نعمت کو یاد کرو۔

تشریح: شکر گزار بندہ اللہ کو پسند ہے۔

حوالہ: یونس 10:60

15 — اللہ کے نشانات میں غور و فکر کا حکم

﴿قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾

ترجمہ: کہہ دو! دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔

تشریح: غور و فکر ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

حوالہ: یونس 10:101

16 — حق کی پیروی کا حکم

﴿اتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ﴾

ترجمہ: وہ بہترین (کلام) مانو جو تم پر نازل کیا گیا۔

تشریح: قرآن پر عمل سب سے بہترین راستہ ہے۔

حوالہ: یونس 10:71 (مفہوم آیت)

17 — ظالموں سے دوستی کی ممانعت

﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا﴾

ترجمہ: ظالموں کی طرف نہ جھکو۔

تشریح: ظالم و فاسق سے دوستی ایمان کے لیے خطرہ۔

حوالہ: یونس 10:113 (سیاقِ معنی)

18 — اللہ کے سامنے جھکنے کا حکم

﴿وَاسْجُدُوا لِلَّهِ﴾

ترجمہ: اللہ کے آگے سجدہ کرو۔

تشریح: عبادت کی سب سے اہم صورت۔

حوالہ: یونس 10:87 (مفہوم)

19 — نماز قائم کرنے کا حکم

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾

ترجمہ: نماز قائم کرو۔

تشریح: نماز دین کا ستون ہے۔

حوالہ: یونس 10:87

20 — اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے کا حکم

﴿وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾

ترجمہ: اگر تم مؤمن ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔

تشریح: ایمان کا اہم تقاضا توکل ہے۔

حوالہ: یونس 10:84



ـ نیک اعمال سے غافل نہ رہو

سورۂ ہود 11:6

Arabic:

وَما مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها

ترجمہ:

زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔

تشریح:

رزق کی فکر میں حرام سے بچنے کا حکم اور توکل اختیار کرنے کی ہدایت ہے۔

2 ـ دین میں استقامت اختیار کرو

ہود 11:12

Arabic:

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ

ترجمہ:

پس جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، استقامت اختیار کیجئے۔

تشریح:

استقامت ایک بنیادی امر ہے جو دین پر مضبوطی سے قائم رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

3 ـ مایوس نہ ہو

ہود 11:9

Arabic:

لَا يَئُوسٌ كَفُورٌ

ترجمہ:

(انسان) بہت مایوس اور ناشکرا ہے۔

تشریح:

مایوسی سے بچنے اور شکر گزاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

4 ـ فتنہ و فساد سے روکا گیا

ہود 11:18

Arabic:

أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

ترجمہ:

یاد رکھو! اللہ کی لعنت ظالموں پر ہے۔

تشریح:

ظلم سے سخت ممانعت (نہی) اور عدل کا امر اس میں مضمر ہے۔

5 ـ قیامت کا انکار نہ کرو

ہود 11:20

Arabic:

وَما كانُوا مُعْجِزِينَ

ترجمہ:

وہ (اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں۔

تشریح:

کافروں کو انکارِ آخرت سے روکا گیا ہے۔

6 ـ اللہ کی آیات کو جھٹلانے سے منع

ہود 11:22

Arabic:

بِآياتِ رَبِّهِمْ يَجْحَدُونَ

ترجمہ:

وہ اپنے رب کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

تشریح:

اللہ کی نشانیوں کا انکار سخت گناہ ہے۔

7 ـ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو

ہود 11:26

Arabic:

أَلّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ

ترجمہ:

کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔

تشریح:

توحید کا بنیادی امر۔

8 ـ اللہ سے ڈرو

ہود 11:26

Arabic:

وَإِنِّي أَخافُ عَلَيْكُمْ عَذابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ

ترجمہ:

اور میں تم پر دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

تشریح:

خوفِ الٰہی کا حکم (امر)۔

9 ـ زمین میں فساد نہ کرو

ہود 11:36

Arabic:

وَلا تُخاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا

ترجمہ:

ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کیجئے۔

تشریح:

ظلم اور فساد سے منع کیا گیا۔

10 ـ کشتی میں سوار ہونے کا حکم

ہود 11:41

Arabic:

ارْكَبُوا فِيها

ترجمہ:

اس (کشتی) میں سوار ہوجاؤ۔

تشریح:

اللہ کی حفاظت کے لیے نبی نوحؑ کو دی گئی ہدایت۔

11 ـ کفر اور سرکشی چھوڑ دو

ہود 11:46

Arabic:

إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ

ترجمہ:

یہ (بیٹا) عملِ بےکار ہے۔

تشریح:

نافرمانی والے رویے سے بچنے کی تنبیہ۔

12 ـ بے صبری سے روکا گیا

ہود 11:49

Arabic:

فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

ترجمہ:

صبر کرو، بے شک انجام متقیوں کا ہے۔

تشریح:

صبر ایک صریح امر ہے۔

13 ـ اللہ کی نافرمانی نہ کرو

ہود 11:59

Arabic:

وَعَصَوْا رَبَّهُمْ

ترجمہ:

انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔

تشریح:

نافرمانی سے نہی (منع)۔

14 ـ غرور اور سرکشی سے روکا گیا

ہود 11:60

Arabic:

أَلا بُعْدًا لِعادٍ

ترجمہ:

خبردار! عاد (قوم) پر دوری (رحمت سے) ہو۔

تشریح:

سرکشی کی ناپسندیدگی کی تنبیہ۔

15 ـ رسالت کی تکذیب سے منع

ہود 11:63

Arabic:

لا أُريدُ أَنْ أُخالِفَكُمْ

ترجمہ:

میں تمہاری مخالفت نہیں چاہتا۔

تشریح:

نبی کی مخالفت سے روکا گیا ہے۔

16 ـ فساد نہ پھیلاؤ

ہود 11:85

Arabic:

وَلا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

ترجمہ:

زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

تشریح:

بدعنوانی و فساد سے واضح نہی۔

17 ـ ناپ تول میں کمی نہ کرو

ہود 11:85

Arabic:

وَلا تَبْخَسُوا النّاسَ أَشْياءَهُمْ

ترجمہ:

اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔

تشریح:

معاشرتی انصاف کا حکم۔

18 ـ صبر کرو

ہود 11:115

Arabic:

وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ:

صبر کرو، یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

تشریح:

صبر و استقامت کا امر۔

19 ـ رسول کی پیروی کرو

یوسف 12:108

Arabic:

قُلْ هذِهِ سَبِيلِي أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ

ترجمہ:

کہہ دو: یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔

تشریح:

دعوتِ الی اللہ کا حکم۔

20 ـ برائی سے بچو، نیکی کرو

یوسف 12:90

Arabic:

إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ

ترجمہ:

بے شک جو تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے…

تشریح:

تقویٰ اور صبر پر قائم رہنے کی ترغیب (امر)۔



1 ـ نیکی پر ثابت قدم رہنے کا حکم

یوسف 12:53

Arabic:

إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ

ترجمہ:

بے شک نفس برائی پر ابھارتا ہے۔

تشریح:

برائی کے وسوسوں سے بچنے اور خیر پر قائم رہنے کی ہدایت۔

2 ـ اللہ کی سزا سے بچو

یوسف 12:57

Arabic:

وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ

ترجمہ:

اور آخرت کا اجر بہتر ہے۔

تشریح:

تبلیغ ہے کہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کی فکر کرو۔

3 ـ گناہ اور بدکاری سے روکا گیا

یوسف 12:64

Arabic:

فَاللَّهُ خَيْرٌ حافِظًا

ترجمہ:

اللہ بہترین نگہبان ہے۔

تشریح:

اللہ پر اعتماد اور گناہ سے دوری کا درس۔

4 ـ مایوسی سے بچنے کا حکم

یوسف 12:87

Arabic:

لَا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ

ترجمہ:

اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

تشریح:

ناامیدی سخت گناہ ہے۔

5 ـ اللہ سے معافی کا امر

یوسف 12:98

Arabic:

سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي

ترجمہ:

میں تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا۔

تشریح:

استغفار کی فضیلت پر واضح اشارہ۔

6 ـ والدین کی عظمت کا ادب

یوسف 12:100

Arabic:

وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ

ترجمہ:

اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔

تشریح:

والدین کی عزت کو عملی مثال کے ذریعے واضح کرنا۔

7 ـ اخلاص کا حکم

یوسف 12:108

Arabic:

قُلْ هذِهِ سَبِيلِي أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ

ترجمہ:

کہہ دو: یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔

تشریح:

دعوتِ الی اللہ کا حکم۔

8 ـ شرک سے ممانعت

یوسف 12:106

Arabic:

وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ

ترجمہ:

اکثر لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ شریک بھی کرتے ہیں۔

تشریح:

شرک سے بچنے کی تنبیہ۔

9 ـ اللہ کی نشانیوں سے دلیل لو

الرعد 13:2

Arabic:

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ

ترجمہ:

وہی تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔

تشریح:

حکم یہ ہے کہ اللہ کی قدرت کو پہچانو۔

10 ـ اللہ سے ڈرنے کا حکم

الرعد 13:7

Arabic:

إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ

ترجمہ:

(اے نبی!) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔

تشریح:

لوگوں کو عذاب سے ڈرنے کی دعوت۔

11 ـ دعا کرنے کا حکم

الرعد 13:12

Arabic:

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ

ترجمہ:

اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

تشریح:

یعنی غور کرو، دعا اور رجوع کرو۔

12 ـ صبر کی تلقین

الرعد 13:22

Arabic:

وَصَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ

ترجمہ:

وہ اپنے رب کی رضا کے لئے صبر کرتے ہیں۔

تشریح:

صبر ایک مضبوط امر ہے۔

13 ـ برائی کا جواب بھلائی سے دو

الرعد 13:22

Arabic:

وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ

ترجمہ:

اور برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں۔

تشریح:

اچھائی عام کرنے کا حکم۔

14 ـ نماز قائم کرنے کا حکم

الرعد 13:22

Arabic:

أَقَامُوا الصَّلَاةَ

ترجمہ:

وہ نماز قائم کرتے ہیں۔

تشریح:

نماز ادا کرنے کا واضح امر۔

15 ـ اللہ کے بندوں سے قطع تعلق نہ کرو

الرعد 13:25

Arabic:

وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ

ترجمہ:

وہ ان چیزوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔

تشریح:

صلۂ رحمی کا واضح حکم اور قطع تعلقی سے منع۔

16 ـ ایمان مضبوط رکھو

الرعد 13:28

Arabic:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

ترجمہ:

خبردار! دلوں کو سکون اللہ کے ذکر سے ملتا ہے۔

تشریح:

ذکرِ الٰہی کا امر۔

17 ـ اللہ کی نشانیوں پر غور کرو

الرعد 13:31

Arabic:

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآياتٍ

ترجمہ:

بے شک اس میں نشانیاں ہیں۔

تشریح:

توحید کو سمجھنے کا حکم۔

18 ـ نبی کی تکذیب سے روکا گیا

الرعد 13:32

Arabic:

فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ

ترجمہ:

آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے۔

تشریح:

تکذیبِ رسالت سے منع۔

19 ـ عہد شکنی سے روکا گیا

الرعد 13:20

Arabic:

الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ

ترجمہ:

وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں۔

تشریح:

عہد توڑنے کی ممانعت۔

20 ـ تقویٰ اختیار کرو

الرعد 13:37

Arabic:

إِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ

ترجمہ:

اگر تم ان کی خواہشات کی پیروی کرو گے تو (نقصان ہے)۔

تشریح:

خواہش پرستی سے منع اور تقویٰ کا حکم۔




ـ سیدھے راستے پر چلو

الحجر 15:41

Arabic:

هٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ

ترجمہ:

یہ (میرا) سیدھا راستہ ہے۔

تشریح:

سیدھے راستے پر چلنے کا ممکنہ امر۔

2 ـ مایوس نہ ہو

الحجر 15:56

Arabic:

وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ

ترجمہ:

اپنے رب کی رحمت سے صرف گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔

تشریح:

مایوسی سے منع (نہی)۔

3 ـ اللہ سے ڈرو

الحجر 15:94

Arabic:

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ

ترجمہ:

آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے صاف صاف بیان کیجئے۔

تشریح:

دعوتِ حق کا امر۔

4 ـ مشرکین کی باتوں کا غم نہ کرو

الحجر 15:97

Arabic:

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ

ترجمہ:

ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔

تشریح:

غم سے نہی اور صبر کا حکم۔

5 ـ اللہ کی تسبیح کرو

الحجر 15:98

Arabic:

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ

ترجمہ:

پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے۔

تشریح:

ذکر و عبادت کا امر۔

6 ـ سجدہ کرو

الحجر 15:98

Arabic:

وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ

ترجمہ:

اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوجاؤ۔

تشریح:

نماز و عبادت پر تاکید۔

7 ـ شیطان کی پیروی نہ کرو

الحجر 15:39

Arabic:

لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ

ترجمہ:

شیطان نے کہا: میں سب کو بہکاؤں گا۔

تشریح:

شیطان کی پیروی سے نہی۔

8 ـ اللہ کی پناہ مانگو

الحجر 15:65

Arabic:

فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ

ترجمہ:

راتوں رات اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ۔

تشریح:

اطاعتِ الٰہی کا حکم۔

9 ـ اللہ کی نشانیوں پر غور کرو

الحجر 15:75

Arabic:

إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآياتٍ

ترجمہ:

یقیناً اس میں نشانیاں ہیں۔

تشریح:

غور و فکر کا امر۔

10 ـ نیک لوگوں کے راستے پر چلو

الحجر 15:79

Arabic:

وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ

ترجمہ:

اور یہ دونوں (قومیں) واضح رہنمائی (عبرت) ہیں۔

تشریح:

نیک لوگوں سے سبق سیکھنے کا حکم۔

سورۃ النحل

11 ـ اللہ سے ڈرو

النحل 16:2

Arabic:

أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ

ترجمہ:

خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس مجھ سے ڈرو۔

تشریح:

توحید اور تقویٰ کا امر۔

12 ـ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرو

النحل 16:18

Arabic:

وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا

ترجمہ:

اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو گن نہیں سکو گے۔

تشریح:

شکر کا حکم اور ناشکری سے منع۔

13 ـ عدل و احسان کرو

النحل 16:90

Arabic:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ

ترجمہ:

بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔

تشریح:

اسلام کا عظیم اخلاقی حکم۔

14 ـ فحاشی و برائی سے روکا گیا

النحل 16:90

Arabic:

وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ

ترجمہ:

اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے روکتا ہے۔

تشریح:

سب سے جامع قسم کی ممانعت۔

15 ـ عہد پورا کرو

النحل 16:91

Arabic:

أَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ

ترجمہ:

اللہ کے عہد کو پورا کرو۔

تشریح:

معاہدات پورے کرنے کا صریح حکم۔

16 ـ قسمیں توڑنے سے منع

النحل 16:91

Arabic:

وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ

ترجمہ:

اپنی قسمیں نہ توڑو۔

تشریح:

وعدہ خلافی سے سخت ممانعت۔

17 ـ انصاف کرو

النحل 16:76

Arabic:

هَلْ يَسْتَوِي

ترجمہ:

کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟

تشریح:

ظلم کا رد، عدل کا حکم۔

18 ـ رہنمائی کی پیروی کرو

النحل 16:89

Arabic:

تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ

ترجمہ:

یہ (قرآن) ہر چیز کی وضاحت ہے۔

تشریح:

ہدایت کی پیروی کا امر۔

19 ـ نیکی کا حکم، برائی سے روکنے کی سنت

النحل 16:125

Arabic:

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ

ترجمہ:

اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو۔

تشریح:

امر بالمعروف کا حکم۔

20 ـ بحث حکمت سے کرو

النحل 16:125

Arabic:

وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

ترجمہ:

اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو۔

تشریح:

دعوت و تبلیغ کے آداب کا حکم۔




ـ والدین کے ساتھ نرمی کا حکم

الإسراء 17:23

Arabic:

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا

ترجمہ:

والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔

تشریح:

اسلام کا بنیادی اخلاقی حکم؛ والدین کی خدمت فرض ہے۔

2 ـ والدین سے سخت بات کہنے سے منع

الإسراء 17:23

Arabic:

فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ

ترجمہ:

ان سے اُف تک نہ کہو۔

تشریح:

سب سے ہلکی بدتمیزی بھی ممنوع ہے۔

3 ـ والدین کے سامنے عاجزی کا حکم

الإسراء 17:24

Arabic:

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ

ترجمہ:

ان کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو۔

تشریح:

غیر معمولی احترام کا حکم۔

4 ـ والدین کے لیے دعا کرو

الإسراء 17:24

Arabic:

وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا

ترجمہ:

اور کہو: اے رب! ان پر رحم فرما۔

تشریح:

والدین کے حق میں دعا کرنا لازم ہے۔

5 ـ قریبیوں، مسکینوں اور مسافروں کو حق دو

الإسراء 17:26

Arabic:

وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ

ترجمہ:

قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دو۔

تشریح:

صلۂ رحمی اور سماجی خدمت کا حکم۔

6 ـ اسراف سے روکا گیا

الإسراء 17:26

Arabic:

وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

ترجمہ:

فضول خرچی نہ کرو۔

تشریح:

اسراف اللہ کو ناپسند ہے۔

7 ـ کفایت شعاری اختیار کرو

الإسراء 17:29

Arabic:

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً

ترجمہ:

اپنا ہاتھ نہ تو بالکل بند رکھو…

تشریح:

کنجوسی سے منع۔

8 ـ فضول خرچی بھی نہ کرو

الإسراء 17:29

Arabic:

وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ

ترجمہ:

اور نہ ہی بالکل کھول دو۔

تشریح:

اعتدال کا حکم۔

9 ـ اولاد کو قتل نہ کرو

الإسراء 17:31

Arabic:

وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ

ترجمہ:

تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔

تشریح:

قتلِ اولاد (اسقاط کے ناجائز طریقے بھی) ممنوع ہیں۔

10 ـ بدکاری کے قریب بھی نہ جاؤ

الإسراء 17:32

Arabic:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ

ترجمہ:

بدکاری کے قریب بھی نہ جاؤ۔

تشریح:

صرف زنا نہیں؛ اس کے اسباب بھی حرام۔

11 ـ ناحق قتل سے منع

الإسراء 17:33

Arabic:

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ

ترجمہ:

اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے محترم قرار دیا۔

تشریح:

انسانی جان کی حرمت اسلام کا عظیم اصول۔

12 ـ یتیم کا مال ناحق نہ کھاؤ

الإسراء 17:34

Arabic:

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ

ترجمہ:

یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر بہترین طریقے سے۔

تشریح:

یتیموں کے حقوق کی حفاظت۔

13 ـ وعدہ پورا کرو

الإسراء 17:34

Arabic:

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ

ترجمہ:

اور وعدہ پورا کرو۔

تشریح:

مسلمان کا قول معتبر ہونا چاہیے۔

14 ـ ناپ تول میں انصاف کا حکم

الإسراء 17:35

Arabic:

أَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ

ترجمہ:

جب ناپو تو پورا ناپو۔

تشریح:

معاشی انصاف کا حکم۔

15 ـ ظلم نہ کرو

الإسراء 17:35

Arabic:

ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

ترجمہ:

یہ بہتر اور اچھا انجام دینے والا ہے۔

تشریح:

ظلم سے واضح ممانعت۔

16 ـ ایسی بات نہ کرو جس کا علم نہ ہو

الإسراء 17:36

Arabic:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

ترجمہ:

اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا علم نہیں۔

تشریح:

غیبت، جھوٹ، بدگمانی سے روکنا۔

17 ـ غرور سے نہ چلو

الإسراء 17:37

Arabic:

وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا

ترجمہ:

زمین میں اتراتے ہوئے نہ چلو۔

تشریح:

تکبر کی سخت ممانعت۔

18 ـ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو

الإسراء 17:42

Arabic:

قُلْ إِنْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ

ترجمہ:

کہہ دو: اگر اس کے ساتھ اور معبود ہوتے…

تشریح:

شرک سے ممانعت۔

19 ـ قرآن کو غور سے سننے کا حکم

الإسراء 17:46

Arabic:

وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ

ترجمہ:

جب آپ قرآن پڑھتے ہیں…

تشریح:

قرآن کی سماعت میں توجہ اور ادب ضروری ہے۔

20 ـ شیطان کی پیروی نہ کرو

الإسراء 17:53

Arabic:

إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ

ترجمہ:

شیطان تو ان کے درمیان پھوٹ ڈالتا ہے۔

تشریح:

جھگڑا، فساد اور بغض سے ممانعت۔


— سورۃ الکہف، آیت 77

وَاسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا

ترجمہ: دونوں نے بستی والوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے میزبانی سے انکار کر دیا۔

تشریح: یہ آیت “احسان کرنے کے باوجود بخل سے منع” کے مفہوم کو ظاہر کرتی ہے۔

حوالہ: الکہف 18:77

2 — سورۃ الکہف، آیت 79

فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا

ترجمہ: میں نے چاہا کہ کشتی میں عیب ڈال دوں۔

تشریح: اس سے یہ نہی مستفاد ہوتی ہے کہ ظاہری نقصان بعض اوقات بری چیز سے بچانے کے لئے ہوتا ہے—اللہ کے فیصلوں پر اعتراض سے روکا گیا ہے۔

3 — سورۃ الکہف، آیت 80

فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا

ترجمہ: ہمیں اندیشہ تھا کہ وہ لڑکا والدین کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کرے گا۔

تشریح: والدین پر ظلم اور نافرمانی کی ممانعت کا مفہوم نکلتا ہے۔

4 — سورۃ الکہف، آیت 82

وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي

ترجمہ: میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا۔

تشریح: اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرنے کا اصول۔

5 — سورۃ مریم، آیت 14

وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا

ترجمہ: (یحییٰ) اپنے والدین کے مطیع تھے، نہ سرکش تھے اور نہ نافرمان۔

تشریح: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم اور نافرمانی سے ممانعت۔

6 — سورۃ مریم، آیت 32

وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا

ترجمہ: اور مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا، اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔

تشریح: ماں کی خدمت اور اطاعت کا واضح حکم۔

7 — سورۃ مریم، آیت 39

وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ

ترجمہ: اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرائیں۔

تشریح: تبلیغ، نصیحت اور انذار کا حکم۔

8 — سورۃ مریم، آیت 44

يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ

ترجمہ: اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر۔

تشریح: شرک و گمراہی کی پیروی سے سخت ممانعت۔

9 — سورۃ مریم، آیت 45

إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ

ترجمہ: مجھے ڈر ہے کہ تمہیں عذاب نہ آ پکڑے۔

تشریح: برائی سے روکنے اور خیرخواہی کا حکم۔

10 — سورۃ مریم، آیت 64

وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ

ترجمہ: ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم سے۔

تشریح: ہر کام میں اللہ کے امر کی پابندی لازم ہے۔

11 — سورۃ مریم، آیت 65

فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ

ترجمہ: پس اسی کی عبادت کر اور اس کی عبادت پر ثابت رہ۔

تشریح: توحید، عبادت اور صبر کا حکم۔

12 — سورۃ مریم، آیت 90

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ

ترجمہ: قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔

تشریح: شرک کے دعوے سے سختی سے منع کرنا مقصود ہے۔

13 — سورۃ مریم، آیت 98

فَلَا تُسْمِعُ إِلَّا هَمْسًا

ترجمہ: وہاں تم آہٹ کے سوا کچھ نہ سنو گے۔

تشریح: اللہ کے عذاب سے بچنے کی نصیحت (نہی کا مفہوم)۔

14 — سورۃ طٰہٰ، آیت 14

فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي

ترجمہ: تو میری عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔

تشریح: نماز کا حکم اور عبادت میں اخلاص۔

15 — سورۃ طٰہٰ، آیت 16

فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَا يُؤْمِنُ

ترجمہ: جو ایمان نہیں رکھتے وہ تمہیں اس (قیامت کی تیاری) سے روک نہ دیں۔

تشریح: گمراہ لوگوں کی پیروی سے ممانعت۔

16 — سورۃ طٰہٰ، آیت 17–19

وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَى … أَلْقِهَا يَا مُوسَى

ترجمہ: اے موسیٰ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ … اسے ڈال دو، اے موسیٰ!

تشریح: اللہ کے حکم پر بلا چون و چرا عمل کرنے کا درس۔

17 — سورۃ طٰہٰ، آیت 43–44

اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ… فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا

ترجمہ: فرعون کے پاس جاؤ… اس سے نرم بات کہنا۔

تشریح: نیکی کا حکم، حق کی دعوت، نرم لہجے کی تاکید۔

18 — سورۃ طٰہٰ، آیت 89

أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا

ترجمہ: کیا وہ دیکھتے نہیں کہ وہ (بچھڑا) جواب نہیں دیتا؟

تشریح: بت پرستی اور تقلیدِ باطل سے منع۔

19 — سورۃ طٰہٰ، آیت 132

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا

ترجمہ: اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت رہو۔

تشریح: گھرانے میں دین قائم کرنے اور نماز کی پابندی کا واضح حکم۔

20 — سورۃ طٰہٰ، آیت 135

فَتَرَبَّصُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ

ترجمہ: تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

تشریح: جھٹلانے سے روکا گیا اور انجامِ بد سے خبردار کیا گیا۔



— سورۃ الانبیاء، آیت 3

وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا

ترجمہ: اور ظالم چپکے چپکے مشورے کرنے لگے۔

تشریح: ظلم و باطل کی خفیہ سازشوں سے ممانعت۔

حوالہ: الانبیاء 21:3

2 — سورۃ الانبیاء، آیت 7

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ

ترجمہ: اہلِ ذکر سے پوچھ لو۔

تشریح: علم نہ ہو تو اہلِ علم سے سوال کرنے کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:7

3 — سورۃ الانبیاء، آیت 25

فَاعْبُدُونِ

ترجمہ: پس میری عبادت کرو۔

تشریح: توحید اور عبادتِ الٰہی کا واضح حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:25

4 — سورۃ الانبیاء، آیت 26

لَا نَعْبُدُهُمْ

ترجمہ: ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔

تشریح: فرشتوں یا مخلوق کی پرستش سے ممانعت۔

حوالہ: الانبیاء 21:26

5 — سورۃ الانبیاء، آیت 29

وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ… نَجْزِهِ

ترجمہ: جو بھی کہے کہ میں معبود ہوں… ہم اسے سزا دیں گے۔

تشریح: الوہیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے سے سختی سے ممانعت۔

حوالہ: الانبیاء 21:29

6 — سورۃ الانبیاء، آیت 47

لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا

ترجمہ: ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے۔

تشریح: ظلم سے ممانعت، انصاف کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:47

7 — سورۃ الانبیاء، آیت 49

يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ

ترجمہ: جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

تشریح: خشیتِ الٰہی کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:49

8 — سورۃ الانبیاء، آیت 57

وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ

ترجمہ: اللہ کی قسم میں تمہارے بتوں کے خلاف تدبیر کروں گا۔

تشریح: شرک کے بتوں کو توڑنے اور باطل سے انکار کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:57

9 — سورۃ الانبیاء، آیت 60

قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى… يَذْكُرُهُمْ

ترجمہ: انہوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے جو بتوں کی برائی کرتا ہے۔

تشریح: باطل کی مذمت کرنے کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:60

10 — سورۃ الانبیاء، آیت 73

وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ

ترجمہ: ہم نے انہیں نیکیاں کرنے کا حکم دیا۔

تشریح: خیر کے کاموں کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:73

11 — سورۃ الانبیاء، آیت 73

وَإِقَامَ الصَّلَاةِ

ترجمہ: اور نماز قائم کرنے کا (حکم دیا)۔

تشریح: نماز کی پابندی کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:73

12 — سورۃ الانبیاء، آیت 73

وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ

ترجمہ: اور زکوٰۃ دینے کا۔

تشریح: مالی عبادت کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:73

13 — سورۃ الانبیاء، آیت 79

وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ

ترجمہ: ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے۔

تشریح: عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اصول۔

حوالہ: الانبیاء 21:79

14 — سورۃ الانبیاء، آیت 90

إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ

ترجمہ: وہ نیکیوں میں سبقت کرتے تھے۔

تشریح: نیکی میں جلدی کرنے کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:90

15 — سورۃ الانبیاء، آیت 94

فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ

ترجمہ: جو ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے۔

تشریح: ایمان کے ساتھ نیکی کا حکم۔

حوالہ: الانبیاء 21:94

16 — سورۃ الحج، آیت 1

اتَّقُوا رَبَّكُمْ

ترجمہ: اپنے رب سے ڈرو۔

تشریح: تقویٰ اختیار کرنے کا حکم۔

حوالہ: الحج 22:1

17 — سورۃ الحج، آیت 5

فَانْظُرْ إِلَىٰ آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ

ترجمہ: اللہ کی رحمت کے آثار پر غور کرو۔

تشریح: تدبر، غور و فکر کا حکم۔

حوالہ: الحج 22:5

18 — سورۃ الحج، آیت 30

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ

ترجمہ: بتوں کی گندگی سے بچو۔

تشریح: شرک اور بت پرستی سے سخت ممانعت۔

حوالہ: الحج 22:30

19 — سورۃ الحج، آیت 30

وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

ترجمہ: جھوٹی بات سے بچو۔

تشریح: جھوٹ، بہتان، جھوٹی گواہی سے ممانعت۔

حوالہ: الحج 22:30

20 — سورۃ الحج، آیت 77

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا

ترجمہ: اے ایمان والو! رکوع کرو اور سجدہ کرو۔

تشریح: نماز، عبادت اور اطاعت کا واضح حکم۔

حوالہ: الحج 22:77




— سورۃ المؤمنون، آیت 1

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ

ترجمہ: بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے۔

تشریح: ایمان اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:1

2 — سورۃ المؤمنون، آیت 2

الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ

ترجمہ: جو اپنی نمازوں میں خشوع رکھتے ہیں۔

تشریح: خشوع کے ساتھ نماز ادا کرنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:2

3 — سورۃ المؤمنون، آیت 3

وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ

ترجمہ: جو لغویات سے منہ موڑتے ہیں۔

تشریح: فضول مشاغل اور بے فائدہ گفتگو سے ممانعت۔

حوالہ: المؤمنون 23:3

4 — سورۃ المؤمنون، آیت 4

وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ

ترجمہ: جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔

تشریح: زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:4

5 — سورۃ المؤمنون، آیت 5–6

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ…

ترجمہ: جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں…

تشریح: زنا اور بے حیائی سے بچنے کا واضح حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:5–6

6 — سورۃ المؤمنون، آیت 8

وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ

ترجمہ: جو اپنی امانتوں اور وعدوں کا خیال رکھتے ہیں۔

تشریح: وعدہ وفائی اور امانت داری کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:8

7 — سورۃ المؤمنون، آیت 9

وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

ترجمہ: جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

تشریح: نمازوں کی پابندی کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:9

8 — سورۃ المؤمنون، آیت 51

يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا

ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو۔

تشریح: حلال کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:51

9 — سورۃ المؤمنون، آیت 52

وَإِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً

ترجمہ: تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔

تشریح: وحدتِ امت قائم رکھنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:52

10 — سورۃ المؤمنون، آیت 96

ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

ترجمہ: برائی کو بھلائی سے دفع کرو۔

تشریح: بدلے میں نیکی کرنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:96

11 — سورۃ المؤمنون، آیت 97

وَقُلْ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ

ترجمہ: کہہ دو اے میرے رب! میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

تشریح: شیطان سے بچنے کے لیے دعا کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:97

12 — سورۃ المؤمنون، آیت 98

وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

ترجمہ: اور (اے رب) ان کے پاس آنے سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔

تشریح: شیطانی اثر سے بچنے کی ہدایت۔

حوالہ: المؤمنون 23:98

13 — سورۃ المؤمنون، آیت 110

فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا

ترجمہ: تم نے انہیں مذاق بنا لیا۔

تشریح: نیک لوگوں کا مذاق اڑانے سے ممانعت۔

حوالہ: المؤمنون 23:110

14 — سورۃ المؤمنون، آیت 118

وَقُلْ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ

ترجمہ: (اے نبی) کہئے: اے میرے رب! بخش دے اور رحم فرما۔

تشریح: دعا اور مغفرت طلب کرنے کا حکم۔

حوالہ: المؤمنون 23:118

🌙 سورۃ النور (آیات 1–20)

15 — سورۃ النور، آیت 2

وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ

ترجمہ: اللہ کے دین کے معاملے میں ان پر ترس نہ کھاؤ۔

تشریح: حد نافذ کرنے میں تساہل سے منع۔

حوالہ: النور 24:2

16 — سورۃ النور، آیت 3

وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ: یہ کام ایمان والوں پر حرام کیا گیا ہے۔

تشریح: بدکاری اور اس کے تعلقات سے ممانعت۔

حوالہ: النور 24:3

17 — سورۃ النور، آیت 6

وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ

ترجمہ: وہ اس سے (گواہی سے) عذاب ٹال دے گا۔

تشریح: نکاح اور پاکدامنی کے تحفظ کا حکم۔

حوالہ: النور 24:6

18 — سورۃ النور، آیت 17

لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ

ترجمہ: اسے اپنے لیے برا نہ سمجھو۔

تشریح: مومن پر افترا کے معاملے میں اللہ کی حکمت کا بیان—بدگمانی سے منع۔

حوالہ: النور 24:17

19 — سورۃ النور، آیت 19

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ

ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی پھیلے…

تشریح: فحاشی، افواہوں اور بدکاری کے پھیلاؤ کی سخت ممانعت۔

حوالہ: النور 24:19

20 — سورۃ النور، آیت 20

وَاللَّهُ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

ترجمہ: اور اللہ مہربان اور رحم والا ہے۔

تشریح: نصیحت: اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لیے گناہوں سے بچنے کا حکم۔

حوالہ: النور 24:20




سورۃ النور (آیات 21–64)

1 — سورۃ النور، آیت 21

وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ

ترجمہ: شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔

تشریح: برائی کے راستے پر چلنے سے سخت ممانعت۔

حوالہ: النور 24:21

2 — سورۃ النور، آیت 27

لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا

ترجمہ: اپنے گھروں کے سوا کسی گھر میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو۔

تشریح: پردہ، حیا اور پرائیویسی کا احترام کرنے کا حکم۔

حوالہ: النور 24:27

3 — سورۃ النور، آیت 28

فَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا

ترجمہ: اگر تم سے کہا جائے کہ واپس جاؤ تو واپس لوٹ جاؤ۔

تشریح: زبردستی داخل ہونے یا ضد کرنے سے ممانعت۔

حوالہ: النور 24:28

4 — سورۃ النور، آیت 30

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ

ترجمہ: ایمان والوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

تشریح: نظر کی پاکیزگی اور فحاشی سے بچنے کا حکم۔

حوالہ: النور 24:30

5 — سورۃ النور، آیت 31

وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ

ترجمہ: اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

تشریح: عورتوں کے لیے حیا، پردہ اور پاکیزگی کا حکم۔

حوالہ: النور 24:31

6 — سورۃ النور، آیت 31

وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ

ترجمہ: اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں۔

تشریح: غیر محرم کے سامنے زیب و زینت دکھانے سے ممانعت۔

حوالہ: النور 24:31

7 — سورۃ النور، آیت 32

وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ

ترجمہ: اپنے غیر شادی شدہ لوگوں کے نکاح کروا دو۔

تشریح: نکاح میں آسانی اور فحاشی سے بچنے کی تعلیم۔

حوالہ: النور 24:32

8 — سورۃ النور، آیت 33

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا

ترجمہ: جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں وہ پاکدامنی اختیار کریں۔

تشریح: زنا اور اخلاقی خرابیوں سے بچنے کا حکم۔

حوالہ: النور 24:33

9 — سورۃ النور، آیت 36

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ

ترجمہ: ان گھروں میں جن کے بلند کرنے کا حکم اللہ نے دیا۔

تشریح: مساجد کی تعظیم و آبادکاری کا حکم۔

حوالہ: النور 24:36

10 — سورۃ النور، آیت 58

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ

ترجمہ: اے ایمان والو! تمہارے چھوٹے بچے اجازت لے کر آئیں۔

تشریح: گھر کے اندر پردے اور آداب کی تعلیم۔

حوالہ: النور 24:58

11 — سورۃ النور، آیت 59

فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ

ترجمہ: بالغ ہونے پر انہیں بھی اجازت لینا چاہیے۔

تشریح: گھریلو زندگی میں حیا اور آدابِ استئذان کا حکم۔

حوالہ: النور 24:59

12 — سورۃ النور، آیت 61

فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا

ترجمہ: جب گھروں میں داخل ہو تو سلام کرو۔

تشریح: سلام کو عام کرنے اور خیر پھیلانے کا حکم۔

حوالہ: النور 24:61

13 — سورۃ النور، آیت 63

لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ

ترجمہ: رسول کے بلانے کو آپس میں بلانے جیسا نہ سمجھو۔

تشریح: نبی ﷺ کی عزت، ادب اور اطاعت کا حکم۔

حوالہ: النور 24:63

14 — سورۃ النور، آیت 63

فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ

ترجمہ: جو رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ ڈریں۔

تشریح: نبی ﷺ کی نافرمانی سے ممانعت اور اس کے انجام سے تنبیہ۔

حوالہ: النور 24:63

🔹 سورۃ الفرقان (آیات 1–20)

15 — سورۃ الفرقان، آیت 1

وَلِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا

ترجمہ: تاکہ وہ سارے جہان والوں کو ڈر سنانے والے ہوں۔

تشریح: نبی ﷺ کا کام انذار ہے، لوگوں کو نصیحت قبول کرنے کا حکم۔

حوالہ: الفرقان 25:1

16 — سورۃ الفرقان، آیت 4

إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ

ترجمہ: یہ (قرآن) محض بہتان ہے جو اس نے بنا لیا۔

تشریح: جھوٹا اتہام لگانے سے ممانعت۔

حوالہ: الفرقان 25:4

17 — سورۃ الفرقان، آیت 6

قُلْ أَنْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ

ترجمہ: کہہ دو کہ اسے اس نے اتارا ہے جو آسمان و زمین کے بھید جانتا ہے۔

تشریح: قرآن کے بارے میں شک کرنے سے روکنا، اللہ کی معرفت کی دعوت۔

حوالہ: الفرقان 25:6

18 — سورۃ الفرقان، آیت 18

سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنْبَغِي لَنَا

ترجمہ: پاک ہے تو! ہمیں لائق نہیں تھا کہ ہم تیرا شریک بنائیں۔

تشریح: شرک کی نفی اور خالص توحید کا حکم۔

حوالہ: الفرقان 25:18

19 — سورۃ الفرقان، آیت 20

وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً

ترجمہ: ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے۔

تشریح: آزمائش میں صبر اور اللہ کی اطاعت کا حکم۔

حوالہ: الفرقان 25:20

20 — سورۃ الفرقان، آیت 20

أَتَصْبِرُونَ

ترجمہ: کیا تم صبر کرو گے؟

تشریح: صبر اختیار کرنے کا براہِ راست حکم۔

حوالہ: الفرقان 25:20



سورۃ النمل (56–93)

1 — النمل 56

أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ …

ترجمہ: (لوطؑ کی قوم نے) کہا کہ لوطؑ کے گھر والوں کو نکال دو۔

تشریح: نیک لوگوں کو ستانے اور ظلم کرنے سے ممانعت۔

حوالہ: النمل 27:56

2 — النمل 59

قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ

ترجمہ: کہہ دو: سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔

تشریح: حمد و شکر کا حکم۔

حوالہ: النمل 27:59

3 — النمل 62

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ

ترجمہ: کون ہے جو بے کس کی دعا قبول کرتا ہے؟

تشریح: مشکل میں اللہ کو پکارنے کا حکم۔

حوالہ: النمل 27:62

4 — النمل 64

قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ

ترجمہ: کہہ دو: اپنی دلیل لاؤ۔

تشریح: باطل عقائد کو دلیل سے رد کرنے کا حکم۔

حوالہ: النمل 27:64

5 — النمل 69

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ

ترجمہ: کہہ دو: زمین میں چل پھر کر دیکھو۔

تشریح: ماضی کی قوموں کے انجام سے سبق لینے کا حکم۔

حوالہ: النمل 27:69

6 — النمل 72

قُلْ عَسَىٰ أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ

ترجمہ: کہہ دو: قریب ہے کہ جس چیز کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ تمہیں آ لگی۔

تشریح: عذاب کے مطالبے سے منع اور خبردار کرنے کا حکم۔

حوالہ: النمل 27:72

7 — النمل 73

إِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ

تشریح: اللہ کی رحمت بیان کر کے اس کی ناامیدی سے روکا گیا۔

حوالہ: النمل 27:73

8 — النمل 91

أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَذِهِ الْبَلْدَةِ

ترجمہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں۔

تشریح: عبادتِ الٰہی کا براہ راست حکم۔

حوالہ: النمل 27:91

9 — النمل 92

وَأَنْ أَتْلُوَا الْقُرْآنَ

ترجمہ: اور یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناؤں۔

تشریح: قرآن کی تلاوت و تبلیغ کا حکم۔

حوالہ: النمل 27:92

10 — النمل 92

فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ

تشریح: ہدایت کو قبول کرنے کی ترغیب اور گمراہی سے منع۔

حوالہ: النمل 27:92

🔹 سورۃ القصص (1–44)

11 — القصص 3

وَنَتْلُو عَلَيْكَ …

ترجمہ: ہم تم پر ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔

تشریح: قرآن سننے اور اس سے عبرت لینے کا حکم۔

حوالہ: القصص 28:3

12 — القصص 7

فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي

ترجمہ: (موسیٰ کی ماں سے کہا) اسے دریا میں ڈال دو اور نہ ڈرو۔

تشریح: اللہ پر کامل بھروسہ کرنے کا حکم۔

حوالہ: القصps 28:7

13 — القصps 7

وَلَا تَحْزَنِي

ترجمہ: اور غم نہ کرو۔

تشریح: اللہ پر یقین کے ذریعے اضطراب سے ممانعت۔

حوالہ: القصps 28:7

14 — القصps 15

قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ

تشریح: شیطانی کاموں سے بچنے کا حکم۔

حوالہ: القصps 28:15

15 — القصps 21

اخْرُجْ مِنْهَا إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ

ترجمہ: نکل جاؤ، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔

تشریح: نقصان کے مواقع سے دور رہنے کا حکم۔

حوالہ: القصps 28:21

16 — القصps 22

رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

ترجمہ: اے رب! مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔

تشریح: ظالموں سے بچنے اور اللہ سے مدد مانگنے کا حکم۔

حوالہ: القصps 28:22

17 — القصps 24

رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

ترجمہ: اے رب! میں تیرے نازل کیے ہوئے خیر کا محتاج ہوں۔

تشریح: عاجزی اور دعا کا حکم۔

حوالہ: القصps 28:24

18 — القصps 25

قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ

ترجمہ: اس نے کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں۔

تشریح: نیکی کی دعوت قبول کرنے کا حکم۔

حوالہ: القصps 28:25

19 — القصps 35

سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخِيكَ

تشریح: اس میں اللہ پر بھروسہ اور اتحاد کا حکم شامل ہے۔

حوالہ: القصps 28:35

20 — القصps 43

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ

تشریح: کتابِ الٰہی کی پیروی کا حکم اور نافرمانی سے ممانعت۔

حوالہ: القصps 28:43


1. سورۃ العنكبوت — آیت 8

عربی:

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا…

ترجمہ:

اور ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے…

تشریح: والدین کے حقوق ادا کرنا اللہ کا حکم ہے؛ نافرمانی منع ہے۔

حوالہ: (العنكبوت 29: 8)

2. سورۃ العنكبوت — آیت 45

عربی:

اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ…

ترجمہ:

(اے نبی!) وہ کتاب جو تم پر وحی کی گئی ہے پڑھتے رہو اور نماز قائم کرو…

تشریح: نماز قائم کرنے کا حکم اور برائیوں سے بچنے کی تلقین ہے۔

حوالہ: (العنكبوت 29: 45)

3. سورۃ العنكبوت — آیت 46

عربی:

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ…

ترجمہ:

اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر اچھے طریقے سے…

تشریح: نرم اور حکمت سے گفتگو کا حکم ہے؛ جھگڑا منع ہے۔

حوالہ: (العنكبوت 29: 46)

4. سورۃ العنكبوت — آیت 69

عربی:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا…

ترجمہ:

جو لوگ ہمارے راستے میں جہاد کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھاتے ہیں…

تشریح: کوشش کرنے کا حکم، سستی و غفلت سے منع۔

حوالہ: (العنكبوت 29: 69)

5. سورۃ الروم — آیت 31

عربی:

مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ…

ترجمہ:

اللہ کی طرف جھکتے رہو، اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو…

تشریح: تقویٰ اختیار کرنے اور نماز کا حکم۔

حوالہ: (الروم 30: 31)

6. سورۃ الروم — آیت 38

عربی:

فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ…

ترجمہ:

قریب دار کو اس کا حق دو اور مسکین کو بھی…

تشریح: صلہ رحمی اور صدقہ دینے کا حکم۔

حوالہ: (الروم 30: 38)

7. سورۃ لقمان — آیت 12

عربی:

أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ…

ترجمہ:

(ہم نے حکم دیا:) اللہ کا شکر ادا کرو…

تشریح: اللہ کی نعمتوں کا شکر کرنا واجب ہے۔

حوالہ: (لقمان 31: 12)

8. سورۃ لقمان — آیت 13

عربی:

لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ…

ترجمہ:

اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا…

تشریح: شرک کی سخت ممانعت۔

حوالہ: (لقمان 31: 13)

9. سورۃ لقمان — آیت 14

عربی:

أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ…

ترجمہ:

(ہم نے کہا:) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو…

تشریح: شکر گزاری کا حکم۔

حوالہ: (لقمان 31: 14)

10. سورۃ لقمان — آیت 15

عربی:

وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا…

ترجمہ:

اگر والدین دباؤ ڈالیں تو بھی اُن کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے سے رہو…

تشریح: نافرمانی کے باوجود حسنِ سلوک کا حکم۔

حوالہ: (لقمان 31: 15)

11. سورۃ لقمان — آیت 17

عربی:

يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ…

ترجمہ:

اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو…

تشریح: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا جامع حکم۔

حوالہ: (لقمان 31: 17)

12. سورۃ لقمان — آیت 18

عربی:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ…

ترجمہ:

لوگوں سے منہ پھیر کر تکبر نہ کرو…

تشریح: غرور و تکبر کی ممانعت۔

حوالہ: (لقمان 31: 18)

13. سورۃ لقمان — آیت 19

عربی:

وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ…

ترجمہ:

چلنے میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز نیچی رکھو…

تشریح: تواضع اور تحمل کا حکم۔

حوالہ: (لقمان 31: 19)

14. سورۃ السجدہ — آیت 15

عربی:

إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ… يَسْجُدُونَ…

ترجمہ:

ہمارے سچے مومن وہ ہیں جو سجدہ کرتے ہیں…

تشریح: سجدہ اور اطاعت کا حکم۔

حوالہ: (السجدہ 32: 15)

15. سورۃ السجدہ — آیت 16

عربی:

يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا…

ترجمہ:

وہ اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں…

تشریح: دعا اور عبادت کا حکم۔

حوالہ: (السجدہ 32: 16)

16. سورۃ الاحزاب — آیت 1

عربی:

اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ…

ترجمہ:

(اے نبی!) اللہ سے ڈرو اور کافروں کی بات نہ مانو…

تشریح: تقویٰ کا حکم اور گمراہوں کی پیروی کی ممانعت۔

حوالہ: (الأحزاب 33: 1)

17. سورۃ الاحزاب — آیت 6

عربی:

النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ…

ترجمہ:

نبی اہلِ ایمان پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں…

تشریح: نبی کی اطاعت کا حکم۔

حوالہ: (الأحزاب 33: 6)

18. سورۃ الاحزاب — آیت 33

عربی:

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ…

ترجمہ:

(اے ازواجِ نبی!) گھروں میں قرار سے رہو اور بے پردگی نہ کرو…

تشریح: پردہ اور حیا کا حکم۔

حوالہ: (الأحزاب 33: 33)

19. سورۃ الاحزاب — آیت 41

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا…

ترجمہ:

اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو…

تشریح: ذکرِ الٰہی کا واضح حکم۔

حوالہ: (الأحزاب 33: 41)

20. سورۃ الاحزاب — آیت 70

عربی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا…

ترجمہ:

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو…

تشریح: تقویٰ اور سچ بولنے کا حکم۔

حوالہ: (الأحزاب 33: 70)


1. سورۃ سبأ — آیت 10

عربی:

أَنْ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ

ترجمہ:

(ہم نے کہا:) کشادہ زرہیں تیار کرو اور جوڑنے میں اندازہ رکھو۔

تشریح: صنعت و مہارت کے درست استعمال کا حکم۔

حوالہ: سبأ 34: 10

2. سورۃ سبأ — آیت 13

عربی:

اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا

ترجمہ:

اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرتے رہو۔

تشریح: اعمال کے ذریعے شکر گزاری کا حکم۔

حوالہ: سبأ 34: 13

3. سورۃ سبأ — آیت 46

عربی:

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو کہ میں تمہیں ایک ہی نصیحت کرتا ہوں…

تشریح: نصیحت قبول کرنے کا حکم۔

حوالہ: سبأ 34: 46

4. سورۃ فاطر — آیت 3

عربی:

اُذْكُرُوا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ

ترجمہ:

اللہ کی نعمت کو یاد کرو۔

تشریح: اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھنا اور کفران سے بچنا۔

حوالہ: فاطر 35: 3

5. سورۃ فاطر — آیت 5

عربی:

فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا

ترجمہ:

دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔

تشریح: دنیا پرستی سے منع۔

حوالہ: فاطر 35: 5

6. سورۃ فاطر — آیت 6

عربی:

فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا

ترجمہ:

شیطان کو دشمن بناؤ۔

تشریح: شیطان کی پیروی سے منع۔

حوالہ: فاطر 35: 6

7. سورۃ فاطر — آیت 10

عربی:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الدُّنْيَا

ترجمہ:

اے لوگو! اللہ کا وعدہ سچا ہے، لہٰذا دنیا دھوکا نہ دے۔

تشریح: آخرت کو مقدم رکھنا۔

حوالہ: فاطر 35: 10

8. سورۃ فاطر — آیت 18

عربی:

وَمَنْ تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ

ترجمہ:

جو پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے۔

تشریح: اصلاحِ نفس کا حکم۔

حوالہ: فاطر 35: 18

9. سورۃ یٰسین — آیت 11

عربی:

فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ

ترجمہ:

(اے نبی!) ایسے شخص کو مغفرت کی خوشخبری دو۔

تشریح: ایمان والوں کو بشارت دینے کا حکم۔

حوالہ: یٰسین 36: 11

10. سورۃ یٰسین — آیت 20

عربی:

اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ:

رسولوں کی پیروی کرو۔

تشریح: اتباعِ رسل کا حکم۔

حوالہ: یٰسین 36: 20

11. سورۃ یٰسین — آیت 21

عربی:

اتَّبِعُوا مَنْ لَا يَسْأَلُكُمْ أَجْرًا

ترجمہ:

ان کی پیروی کرو جو تم سے اجر نہیں مانگتے۔

تشریح: خالص داعیانِ حق کی پیروی کا حکم۔

حوالہ: یٰسین 36: 21

12. سورۃ یٰسین — آیت 25

عربی:

فَاسْمَعُونِ

ترجمہ:

لہٰذا میری بات سنو۔

تشریح: نیکی کی دعوت کو سننے کی ترغیب۔

حوالہ: یٰسین 36: 25

13. سورۃ یٰسین — آیت 60

عربی:

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ… أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ

ترجمہ:

کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرو؟

تشریح: معصیت اور شیطان کی اطاعت سے ممانعت۔

حوالہ: یٰسین 36: 60

14. سورۃ یٰسین — آیت 61

عربی:

وَأَنِ اعْبُدُونِي

ترجمہ:

اور یہ کہ صرف میری عبادت کرو۔

تشریح: توحید کے حکم کی تاکید۔

حوالہ: یٰسین 36: 61

15. سورۃ یٰسین — آیت 66

عربی:

وَلَوْ نَشَاءُ لَطَمَسْنَا عَلَى أَعْيُنِهِمْ

ترجمہ:

اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں۔

تشریح: گناہ سے باز آنے کی تنبیہ۔

حوالہ: یٰسین 36: 66

16. سورۃ الصافات — آیت 102

عربی:

يَا بُنَيَّ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ

ترجمہ:

(ابراہیم نے کہا) اے بیٹے! جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزر۔

تشریح: اللہ کے حکم کی مکمل اطاعت۔

حوالہ: الصافات 37: 102

17. سورۃ الصافات — آیت 164

عربی:

وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ

ترجمہ:

ہم میں سے ہر ایک کا مقررہ مقام ہے۔

تشریح: فرشتوں کی طرح منظم اطاعت کا سبق۔

حوالہ: الصافات 37: 164

18. سورۃ الصافات — آیت 171

عربی:

إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ

ترجمہ:

وہی لوگ مدد دیے جائیں گے۔

تشریح: اہلِ ایمان کو نصرت کی بشارت۔

حوالہ: الصافات 37: 171

19. سورۃ الصافات — آیت 180

عربی:

فَسُبْحَانَ اللّٰهِ

ترجمہ:

پس اللہ پاک ہے۔

تشریح: تسبیح کا حکم۔

حوالہ: الصافات 37: 180

20. سورۃ الصافات — آیت 181

عربی:

وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ:

اور سلام ہو رسولوں پر۔

تشریح: انبیاء کی تعظیم کا حکم۔

حوالہ: الصافات 37: 181



. سورۃ یٰسین — آیت 82

عربی:

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

ترجمہ:

اس کا حکم تو یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے۔

تشریح: اللہ کے حکم کی کامل قدرت بیان کی گئی—انسان کو اسی قادر مطلق کی اطاعت کرنی چاہیے۔

حوالہ: یٰسین 36: 82

2. سورۃ یٰسین — آیت 83

عربی:

فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ

ترجمہ:

پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے۔

تشریح: اللہ کی تسبیح کرنے کا حکم۔

حوالہ: یٰسین 36: 83

3. سورۃ الصافات — آیت 37

عربی:

قُلْ بَلَىٰ وَأَنْتُمْ دَاخِرُونَ

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو: کیوں نہیں، تم ضرور عاجز ہو جاؤ گے۔

تشریح: اللہ کے حکم کے سامنے انسان کے کمزور ہونے کی یاد دہانی۔

حوالہ: الصافات 37: 37

4. سورۃ ص — آیت 26

عربی:

يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً… فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ

ترجمہ:

اے داؤد! ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا، پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔

تشریح: عدل قائم کرنے کا حکم۔

حوالہ: ص 38: 26

5. سورۃ ص — آیت 29

عربی:

كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ… لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ

ترجمہ:

یہ کتاب ہم نے اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں۔

تشریح: قرآن پر تدبر کرنے کا حکم۔

حوالہ: ص 38: 29

6. سورۃ الزمر — آیت 2

عربی:

فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ

ترجمہ:

اللہ ہی کی عبادت کرو، دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر۔

تشریح: عبادت میں اخلاص کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 2

7. سورۃ الزمر — آیت 10

عربی:

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو: اے ایمان والو! اپنے رب سے ڈرو۔

تشریح: تقویٰ اختیار کرنے کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 10

8. سورۃ الزمر — آیت 17

عربی:

فَبَشِّرْ عِبَادِ

ترجمہ:

پس میرے بندوں کو خوشخبری دے دو۔

تشریح: ایمان والوں کی دل جوئی کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 17

9. سورۃ الزمر — آیت 18

عربی:

فَاتَّبِعُوا أَحْسَنَهُ

ترجمہ:

بہترین بات کی پیروی کرو۔

تشریح: حق بات قبول کرنے کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 18

10. سورۃ الزمر — آیت 22

عربی:

فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ

ترجمہ:

تو ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے۔

تشریح: دل سخت کرنے اور نصیحت رد کرنے سے منع۔

حوالہ: الزمر 39: 22

11. سورۃ الزمر — آیت 53

عربی:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا… لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

تشریح: گناہگاروں کو توبہ کی طرف واپس آنے کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 53

12. سورۃ الزمر — آیت 54

عربی:

وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ

ترجمہ:

اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔

تشریح: توبہ و استغفار کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 54

13. سورۃ الزمر — آیت 55

عربی:

وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ

ترجمہ:

پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تم پر اتاری گئی ہے۔

تشریح: قرآن کے حکم پر عمل کی تاکید۔

حوالہ: الزمر 39: 55

14. سورۃ الزمر — آیت 64

عربی:

قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو: کیا تم مجھے اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم دیتے ہو؟

تشریح: شرک کی ممانعت۔

حوالہ: الزمر 39: 64

15. سورۃ الزمر — آیت 66

عربی:

بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ

ترجمہ:

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو۔

تشریح: توحید کا واضح حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 66

16. سورۃ الزمر — آیت 70

عربی:

وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ

ترجمہ:

ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

تشریح: اعمال کی اصلاح کی طرف حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 70

17. سورۃ الزمر — آیت 73

عربی:

وَقِيلَ لَهُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ

ترجمہ:

اور ان سے کہا جائے گا: تم پر سلامتی ہو۔

تشریح: نیک عمل پر جنت کی خوشخبری—نیکی پر قائم رہنے کی ترغیب۔

حوالہ: الزمر 39: 73

18. سورۃ غافر — آیت 14

عربی:

فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ

ترجمہ:

اللہ کو پکارو، دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔

تشریح: عبادت و دعا میں اخلاص کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 14

19. سورۃ غافر — آیت 41

عربی:

يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ

ترجمہ:

اے میری قوم! میری پیروی کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گا۔

تشریح: نیک رہنمائی قبول کرنے کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 41

20. سورۃ غافر — آیت 55



1. سورۃ الزمر — آیت 56

عربی:

أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطْتُ

ترجمہ:

کہیں کوئی شخص نہ کہے: ہائے افسوس اس کوتاہی پر جو میں نے کی۔

تشریح: غفلت اور نافرمانی سے بچنے کی سخت تنبیہ۔

حوالہ: الزمر 39: 56

2. سورۃ الزمر — آیت 64

عربی:

قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو: کیا تم مجھے اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم دیتے ہو؟

تشریح: شرک کی واضح ممانعت۔

حوالہ: الزمر 39: 64

3. سورۃ الزمر — آیت 66

عربی:

بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ

ترجمہ:

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو۔

تشریح: توحید اور خالص عبادت کا حکم۔

حوالہ: الزمر 39: 66

4. سورۃ الزمر — آیت 70

عربی:

وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ

ترجمہ:

ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔

تشریح: اعمال کی اصلاح اور برائی سے بچنے کی تاکید۔

حوالہ: الزمر 39: 70

5. سورۃ غافر — آیت 10

عربی:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا… ادْعُوا مَا شِئْتُمْ

ترجمہ:

(کہا جائے گا:) پکار لو جسے چاہو!

تشریح: غیراللہ کو پکارنے سے نفرت اور اس فعل کی ممانعت۔

حوالہ: غافر 40: 10

6. سورۃ غافر — آیت 14

عربی:

فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ

ترجمہ:

اللہ کو پکارو، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔

تشریح: عبادت و دعا میں اخلاص کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 14

7. سورۃ غافر — آیت 17

عربی:

وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْآزِفَةِ

ترجمہ:

اور انہیں نزدیک آ لینے والے دن (قیامت) سے ڈراؤ۔

تشریح: لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کرانے کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 17

8. سورۃ غافر — آیت 40

عربی:

وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ

ترجمہ:

جو برائی کرے گا بدلہ پائے گا۔

تشریح: گناہ سے روکنے کی سخت تنبیہ۔

حوالہ: غافر 40: 40

9. سورۃ غافر — آیت 41

عربی:

يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ

ترجمہ:

اے میری قوم! میری پیروی کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گا۔

تشریح: نیک رہنمائی قبول کرنے کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 41

10. سورۃ غافر — آیت 43

عربی:

إِنِي آمَنْتُ بِرَبِّي فَاسْمَعُونِ

ترجمہ:

میں اپنے رب پر ایمان لایا ہوں، پس میری بات سنو۔

تشریح: حق بات سننے اور ماننے کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 43

11. سورۃ غافر — آیت 55

عربی:

فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ

ترجمہ:

پس صبر کرو، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

تشریح: مشکلات میں ثابت قدم رہنے کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 55

12. سورۃ غافر — آیت 60

عربی:

ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ

ترجمہ:

مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

تشریح: اللہ سے دعا مانگنے کا واضح حکم۔

حوالہ: غافر 40: 60

13. سورۃ غافر — آیت 64

عربی:

فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ:

پس بابرکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا رب۔

تشریح: اللہ کی حمد و ثنا کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 64

14. سورۃ غافر — آیت 65

عربی:

فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ

ترجمہ:

سو اسی کو پکارو، اخلاصِ دین کے ساتھ۔

تشریح: اللہ کے سوا کسی کی عبادت سے ممانعت۔

حوالہ: غافر 40: 65

15. سورۃ غافر — آیت 66

عربی:

أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ… وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ

ترجمہ:

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں… اور یہ کہ سب سے پہلے سرِ تسلیم خم کروں۔

تشریح: عبادتِ الٰہی اور اطاعتِ کامل کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 66

16. سورۃ غافر — آیت 73

عربی:

هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ

ترجمہ:

(کہا جائے گا) لاؤ اپنی دلیل!

تشریح: باطل معبودوں کی پیروی سے منع؛ دلیل پر قائم رہنے کا حکم۔

حوالہ: غافر 40: 73

17. سورۃ حم السجدہ (فصلت) — آیت 6

عربی:

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ… فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ

ترجمہ:

کہہ دو: میں تمہاری طرح بشر ہوں… لہٰذا اسی کی طرف سیدھے ہو جاؤ۔

تشریح: توحید اور استقامت کا حکم۔

حوالہ: فصلت 41: 6

18. سورۃ فصلت — آیت 7

عربی:

الَّذِينَ لَا يُؤْتُونَ الزَّكَاةَ

ترجمہ:

وہ لوگ جو زکوٰة ادا نہیں کرتے۔

تشریح: زکوٰة نہ دینے کی مذمت—اسے ادا کرنے کا حکم لازم۔

حوالہ: فصلت 41: 7

19. سورۃ فصلت — آیت 30

عربی:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا

ترجمہ:

بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے، پھر ثابت قدم رہے۔

تشریح: استقامتِ دین کا حکم و فضیلت۔

حوالہ: فصلت 41: 30

20. سورۃ فصلت — آیت 34

عربی:

ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ

ترجمہ:

برائی کا جواب اچھے طریقے سے دو۔

تشریح: اخلاقِ حسنہ کا اعلیٰ حکم—بدلہ نیکی سے دو۔

حوالہ: فصلت 41: 34




. اللہ ہی کی بندگی کرو

﴿ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا … فَلَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ﴾

ترجمہ: جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہتے ہیں… تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔

تشریح: استقامت کا حکم ہے، خوف و غم سے ممانعت۔

حوالہ: فصلت 30

2. نیکی اور بدی برابر نہیں—برائی کو بھلے طریقے سے دفع کرو

﴿ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾

ترجمہ: برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو۔

تشریح: برائی کا جواب اچھائی سے دینے کا حکم۔

حوالہ: فصلت 34

3. شیطان کے وسوسے سے پناہ مانگو

﴿ وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ﴾

ترجمہ: اگر شیطان کا کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو۔

تشریح: وسوسوں سے بچاؤ کے لیے اللہ سے مدد کا حکم۔

حوالہ: فصلت 36

4. اللہ کے نشانوں میں غور کرو

﴿ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ … ﴾

ترجمہ: کہہ دو: ذرا سوچو اگر اللہ کا عذاب آئے…

تشریح: غور و فکر کا حکم۔

حوالہ: فصلت 40

5. اللہ کو پکارو—عبادت میں اخلاص

﴿ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ﴾

ترجمہ: اپنے رب کو عاجزی اور پوشیدگی سے پکارو۔

تشریح: دعا میں خشوع و اخلاص کی تاکید۔

حوالہ: الأعراف 55 (پارہ 25 میں تلاوتِ حصہ)

6. بدلہ برابری سے لو—لیکن معاف کرنا بہتر ہے

﴿ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا … وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ ﴾

ترجمہ: برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے… اور اگر صبر کرو تو بہتر ہے۔

تشریح: قصاص کی اجازت اور معافی کی ترغیب۔

حوالہ: الشوریٰ 40

7. اگر بدلہ لو تو حد سے نہ بڑھو

﴿ وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَٰئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِن سَبِيلٍ ﴾

ترجمہ: جو ظلم کے بعد بدلہ لیتے ہیں، ان پر گناہ نہیں۔

تشریح: بدلہ لینے میں حدود کی پابندی کا حکم۔

حوالہ: الشوریٰ 41

8. معاف کرو—اللہ کے فرمان کی پیروی کرو

﴿ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا ﴾

ترجمہ: معاف کر دو اور درگزر کرو۔

تشریح: نرمی اور درگزر کی ہدایت۔

حوالہ: الشوریٰ 43

9. دین میں تفرقہ نہ ڈالو

﴿ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ﴾

ترجمہ: دین کو قائم رکھو، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔

تشریح: اتحاد کا حکم اور اختلاف سے ممانعت۔

حوالہ: الشوریٰ 13

10. دنیاوی فریب سے دھوکا نہ کھاؤ

﴿ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ﴾

ترجمہ: دنیا کی زندگی تمہیں دھوکا نہ دے۔

تشریح: دنیا پرستی سے بچنے کی ہدایت۔

حوالہ: فاطر 5 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

11. اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو

﴿ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ﴾

ترجمہ: اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔

تشریح: شرک کی سخت ممانعت۔

حوالہ: الجن 18 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

12. والدین کے ساتھ بھلائی کرو

﴿ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ ﴾

ترجمہ: میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔

تشریح: والدین کے حقوق کا حکم۔

حوالہ: لقمان 14 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

13. تکبر سے بچو

﴿ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ ﴾

ترجمہ: لوگوں سے منہ پھیر کر (تکبر سے) بات نہ کرو۔

تشریح: غرور اور خود پسندی سے ممانعت۔

حوالہ: لقمان 18

14. میانہ روی اختیار کرو

﴿ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ ﴾

ترجمہ: اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو۔

تشریح: اعتدال کی تلقین۔

حوالہ: لقمان 19

15. اپنی آواز پست رکھو

﴿ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ﴾

ترجمہ: اپنی آواز کو نیچا رکھو۔

تشریح: بلند آواز سے ممانعت، اخلاقی تربیت۔

حوالہ: لقمان 19

16. اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ کرو

﴿ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ ﴾

ترجمہ: ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ کرو۔

تشریح: شریعت کی پیروی کا حکم۔

حوالہ: المائدہ 49 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

17. ظالموں کی طرف نہ جھکو

﴿ وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا ﴾

ترجمہ: ظالموں کی طرف نہ جھکو۔

تشریح: ظلم کا ساتھ دینے کی ممانعت۔

حوالہ: ہود 113 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

18. قرآن سنتے وقت خاموش رہو

﴿ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا ﴾

ترجمہ: جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو۔

تشریح: قرآن کے ادب اور احترام کا حکم۔

حوالہ: الأعراف 204 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

19. شیطان کی پیروی نہ کرو

﴿ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ﴾

ترجمہ: شیطان کے راستوں پر نہ چلو۔

تشریح: گناہوں اور برائیوں کے اسباب سے دور رہنے کی ہدایت۔

حوالہ: النور 21 (پارہ 25 میں تلاوت حصہ)

20. اللہ سے ڈرو (تقویٰ اختیار کرو)

﴿ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ﴾

ترجمہ: اے عقل والو! اللہ سے ڈرو۔

تشریح: تقویٰ ہر حکم کی بنیاد ہے۔

حوالہ: الطلاق 10 (پارہ 25 کے ضمنی حصے میں قراءت)



1. اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو

﴿ قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ﴾

ترجمہ: کہہ دو: جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو (وہ کچھ کام نہیں آتے)۔

تشریح: شرک اور غیر اللہ کو پکارنے سے ممانعت۔

حوالہ: الاحقاف 4

2. صبر پر قائم رہو

﴿ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ﴾

ترجمہ: صبر کرو جیسے پختہ ارادے والے رسولوں نے کیا۔

تشریح: آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا حکم۔

حوالہ: الاحقاف 35

3. والدین سے احسان کرو

﴿ وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ﴾

ترجمہ: ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔

تشریح: والدین کے حقوق پر زور۔

حوالہ: الاحقاف 15

4. تکبر نہ کرو اور حق قبول کرو

﴿ وَلَا تَسْتَكْبِرُوا عَنْ آيَاتِ اللَّهِ ﴾

ترجمہ: اللہ کی آیات سے تکبر نہ کرو۔

تشریح: تکبر کے ذریعے حق کو رد کرنے سے ممانعت۔

حوالہ: الاحقاف 31

5. اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو

﴿ أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ ﴾

ترجمہ: اللہ کے بلانے والے کی دعوت قبول کرو۔

تشریح: نبی ﷺ کی اطاعت و اتباع کا حکم۔

حوالہ: الاحقاف 31

6. کافروں کی اطاعت نہ کریں

﴿ فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ ﴾

ترجمہ: کافروں کی اطاعت نہ کریں۔

تشریح: دین کے معاملے میں غیر مسلموں کے دباؤ سے بچنے کی ہدایت۔

حوالہ: محمد 1

7. اطاعت اور نیکی کرو

﴿ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﴾

ترجمہ: اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔

تشریح: دین کا بنیادی حکم۔

حوالہ: محمد 33

8. کمزوری نہ دکھاؤ اور صلح کی طرف نہ جھکو

﴿ فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ ﴾

ترجمہ: کمزور نہ پڑو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔

تشریح: جہاد میں مضبوط رہنے کی ہدایت۔

حوالہ: محمد 35

9. اللہ کی راہ میں خرچ کرو

﴿ أَنفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ ﴾

ترجمہ: اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو۔

تشریح: صدقہ و خیرات کا حکم۔

حوالہ: البقرۃ 267 (پارہ 26 میں تلاوت حصہ)

10. نبی ﷺ کی مدد اور تعظیم کرو

﴿ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ ﴾

ترجمہ: تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی مدد و تعظیم کرو۔

تشریح: نبی کی نصرت اور احترام کا حکم۔

حوالہ: الفتح 9

11. مومنوں کے حق میں نرمی کرو

﴿ مُّحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ﴾

ترجمہ: مومن آپس میں رحم دل ہیں۔

تشریح: مسلمانوں کے لئے نرمی، کفار کے مقابلے میں سختی۔

حوالہ: الفتح 29

12. ہر خبر کی تحقیق کرو

﴿ فَتَبَيَّنُوا ﴾

ترجمہ: (خبر ملے تو) تحقیق کر لیا کرو۔

تشریح: افواہوں پر عمل کرنے سے ممانعت۔

حوالہ: الحجرات 6

13. ایک دوسرے پر طعنہ نہ دو

﴿ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ ﴾

ترجمہ: آپس میں طعنہ نہ دو۔

تشریح: اخلاقی تربیت اور سماجی اصلاح۔

حوالہ: الحجرات 11

14. ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو

﴿ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ﴾

ترجمہ: ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو۔

تشریح: دل آزاری اور بد زبانی سے ممانعت۔

حوالہ: الحجرات 11

15. بہت زیادہ گمان سے بچو

﴿ اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ ﴾

ترجمہ: بہت سے گمانوں سے بچو۔

تشریح: بدگمانی سے ممانعت۔

حوالہ: الحجرات 12

16. تجسس نہ کرو

﴿ وَلَا تَجَسَّسُوا ﴾

ترجمہ: (ایک دوسرے کے) عیب نہ تلاش کرو۔

تشریح: پرائیویسی کی پامالی سے منع۔

حوالہ: الحجرات 12

17. غیبت نہ کرو

﴿ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ﴾

ترجمہ: ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔

تشریح: غیبت کو مردار کھانے کے برابر قرار دیا گیا۔

حوالہ: الحجرات 12

18. اللہ سے متکبرانہ رویہ اختیار نہ کرو

﴿ فَلَا تَسْتَكْبِرُوا عَلَيْهِ ﴾

ترجمہ: اس کے سامنے تکبر نہ کرو۔

تشریح: عاجزی ایمان کی روح ہے۔

حوالہ: النحل 23 (پارہ 26 تلاوت حصہ)

19. قرآن کی طرف متوجہ ہو کر سنو

﴿ وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ﴾

ترجمہ: جب ہماری آیات پڑھی جائیں تو توجہ سے سنو۔

تشریح: قرآن کے ادب کا حکم۔

حوالہ: الانعام 46 (پارہ 26 تلاوت حصہ)

20. اللہ کی طرف دوڑو

﴿ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ﴾

ترجمہ: اللہ کی طرف بھاگ آؤ۔

تشریح: یعنی گناہوں سے بچ کر اللہ کی پناہ میں آنا۔

حوالہ: الذاریات 50



1. اللہ کی طرف بھاگ آؤ

﴿ فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ﴾

ترجمہ: اللہ کی طرف بھاگ آؤ۔

تشریح: گناہوں سے بچ کر اللہ کی پناہ اختیار کرنے کا حکم۔

حوالہ: الذاریات 50

2. اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو

﴿ وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ﴾

ترجمہ: اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ۔

تشریح: شرک کی سخت ممانعت۔

حوالہ: الذاریات 51

3. رسول کی اطاعت کرو

﴿ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾

ترجمہ: رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

تشریح: نبی ﷺ کی فرمانبرداری لازمی ہے۔

حوالہ: النور 56 (پارہ کے ضمنی رکوع میں)

4. رب کی تسبیح بیان کرو

﴿ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ ﴾

ترجمہ: اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو۔

تشریح: اللہ کی پاکی بیان کرنے کا حکم۔

حوالہ: الطور 48

5. صبر کرو

﴿ وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ ﴾

ترجمہ: اپنے رب کے حکم (کے فیصلے) پر صبر کرو۔

تشریح: آزمائشوں میں ثابت قدمی کی تاکید۔

حوالہ: الطور 48

6. جھٹلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھرو

﴿ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ ﴾

ترجمہ: ہر زیادہ قسم کھانے والے ذلیل شخص کا کہا نہ مانو۔

تشریح: باطل لوگوں کی رہنمائی کو رد کرنے کا حکم۔

حوالہ: القلم 10 (پارہ 27 تلاوت حصہ)

7. قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کرو

﴿ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ﴾

ترجمہ: اسے جلدی حاصل کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ۔

تشریح: قرآن کی تلاوت میں سکون کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت۔

حوالہ: القیامہ 16 (پارہ 27 تلاوت حصہ)

8. ستاروں کی پوجا سے منع

﴿ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ﴾

ترجمہ: اپنے آپ کو پاک ثابت نہ کرو۔

تشریح: تکبر سے ممانعت۔

حوالہ: النجم 32

9. سنو اور غور کرو

﴿ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا ﴾

ترجمہ: اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو۔

تشریح: قرآن سننے کا ادب۔

حوالہ: الأعراف 204 (پارہ کے ضمن)

10. قیامت کی نشانیوں پر غور کرو

﴿ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ﴾

ترجمہ: (اے نبی!) ان سے اعراض کرو۔

تشریح: ضدی کافروں کے سامنے بحث سے گریز۔

حوالہ: القمر 6

11. مومنوں کو خوشخبری دے دو

﴿ فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴾

ترجمہ: میرے بندوں کو خوشخبری دے دو۔

تشریح: ایمان والوں کے لیے بشارت۔

حوالہ: الزمر 17

12. انسانو! اپنے رب کی نعمتوں کو جھٹلاؤ نہیں

﴿ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴾

ترجمہ: تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

تشریح: نعمتوں کے انکار سے ممانعت۔

حوالہ: الرحمٰن، متعدد مقامات

13. نیک لوگوں کے راستے پر چلو

﴿ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴾

ترجمہ: سبقت کرنے والے ہی آگے نکل جانے والے ہیں۔

تشریح: نیکیوں میں سبقت کی ترغیب۔

حوالہ: الواقعہ 10

14. اللہ کے خزانوں کا اعتراف کرو

﴿ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴾

ترجمہ: اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرو۔

تشریح: اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم۔

حوالہ: الواقعہ 74

15. اللہ کی عظمت کو یاد رکھو

﴿ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ﴾

ترجمہ: میں ستاروں کے ٹھکانوں کی قسم کھاتا ہوں۔

تشریح: اللہ کی قدرت کا اعتراف۔

حوالہ: الواقعہ 75

16. انفاق کا حکم

﴿ أَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ﴾

ترجمہ: اس مال میں سے خرچ کرو جس میں تم کو نائب بنایا گیا ہے۔

تشریح: مال اللہ کی امانت ہے، خرچ کرنے کا حکم۔

حوالہ: الحديد 7

17. اللہ اور رسول پر ایمان لاؤ

﴿ آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ﴾

ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔

تشریح: ایمان کی بنیادی دعوت۔

حوالہ: الحديد 7

18. دنیا کی بے ثباتی کو یاد رکھو

﴿ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ ﴾

ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ ہے۔

تشریح: دنیا پرستی سے ممانعت۔

حوالہ: الحديد 20

19. اللہ کے راستے میں سبقت کرو

﴿ سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِن رَّبِّكُمْ ﴾

ترجمہ: اپنے رب کی مغفرت کی طرف سبقت کرو۔

تشریح: نیکی میں سبقت کا حکم۔

حوالہ: الحديد 21

20. اللہ سے ڈرتے رہو

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ ﴾

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو۔

تشریح: تقویٰ ہر حکم کی بنیاد ہے۔

حوالہ: الحديد 28




اور اللہ اپنے رب سے ڈرو…

تشریح

طلاق کے احکام میں تقویٰ اور حدودِ الٰہی کو نہ توڑنے کا حکم۔


1. سورۃ الملک — آیت 1

عربی:

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ...

ترجمہ:

بہت بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے…

تشریح:

بالواسطہ حکم کہ اسی کی بادشاہی کو مانو، غیر کی بندگی نہ کرو۔

حوالہ: سورۃ الملك 1

2. سورۃ الملک — آیت 2

عربی:

لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا

ترجمہ:

تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھا عمل کرتا ہے۔

تشریح:

امر بالمعروف کا تقاضا—اچھے عمل اختیار کرو۔

حوالہ: الملك 2

3. سورۃ الملک — آیت 15

عربی:

فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ...

ترجمہ:

پس اس (زمین) کی راہوں میں چلو اور اس کا رزق کھاؤ…

تشریح:

رزق کی تلاش کا حکم۔

حوالہ: الملك 15

4. سورۃ الملک — آیت 16

عربی:

أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ...

ترجمہ:

کیا تم اس سے بے خوف ہوگئے جو آسمان میں ہے؟

تشریح:

اللہ سے بے خوف ہونے سے سخت نہی، تقویٰ کی ترغیب۔

حوالہ: الملك 16

5. سورۃ القلم — آیت 1

عربی:

نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ

ترجمہ:

ن، قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں۔

تشریح:

بالواسطہ حکم علم کی عظمت—علم سیکھنے کی ترغیب۔

حوالہ: القلم 1

6. سورۃ القلم — آیت 8

عربی:

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ

ترجمہ:

تو جھٹلانے والوں کی بات نہ مان۔

تشریح:

کفار و منکروں کی اطاعت سے سخت ممانعت۔

حوالہ: القلم 8

7. سورۃ القلم — آیت 10

عربی:

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ

ترجمہ:

اور کسی بھی بہت قسمیں کھانے والے کمینے کا کہا نہ مان۔

تشریح:

بدکردار افراد کے پیچھے چلنے کی ممانعت۔

حوالہ: القلم 10

8. سورۃ القلم — آیت 48

عربی:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ...

ترجمہ:

تو اپنے رب کے حکم پر صبر کر…

تشریح:

صبر و استقامت کا واضح حکم۔

حوالہ: القلم 48

9. سورۃ الحاقّة — آیت 30

عربی:

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ

ترجمہ:

اسے پکڑو اور جکڑ دو۔

تشریح:

قیامت کے دن مجرموں کے بارے میں حکم (انجام کا بیان)۔

حوالہ: الحاقة 30

10. سورۃ الحاقّة — آیت 31

عربی:

ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ

ترجمہ:

پھر اسے جہنم میں جھونک دو۔

تشریح:

اخروی عذاب کا حکم—دنیا میں گناہوں سے بچنے کی تنبیہ۔

حوالہ: الحاقة 31

11. سورۃ المعارج — آیت 5

عربی:

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا

ترجمہ:

پس (اے نبی) خوبصورت صبر کرو۔

تشریح:

اعلیٰ درجے کے صبر کا حکم۔

حوالہ: المعارج 5

12. سورۃ نوح — آیت 3

عربی:

أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ...

ترجمہ:

یہ کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو…

تشریح:

عبادت کا حکم اور شرک سے نہی۔

حوالہ: نوح 3

13. سورۃ نوح — آیت 10

عربی:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ...

ترجمہ:

میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو…

تشریح:

استغفار کا حکم۔

حوالہ: نوح 10

14. سورۃ الجن — آیت 1

عربی:

قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ...

ترجمہ:

(اے نبی!) کہہ دو کہ میری طرف وحی کی گئی ہے…

تشریح:

’’قل‘‘ کے ذریعے اعلان کا حکم۔

حوالہ: الجن 1

15. سورۃ الجن — آیت 18

عربی:

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا

ترجمہ:

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔

تشریح:

شرک سے واضح ممانعت۔

حوالہ: الجن 18

16. سورۃ المزمل — آیت 1

عربی:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ

ترجمہ:

اے چادر اوڑھنے والے!

تشریح:

اگلی آیات میں حکمِ قیام اللیل کی تمہید۔

حوالہ: المزمل 1

17. سورۃ المزمل — آیت 2

عربی:

قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا

ترجمہ:

رات کو کھڑے ہو جاؤ مگر تھوڑا سا حصہ چھوڑ کر۔

تشریح:

نمازِ تہجد کا براہِ راست حکم۔

حوالہ: المزمل 2

18. سورۃ المزمل — آیت 4

عربی:

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا

ترجمہ:

اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔

تشریح:

تجوید و خشوع کے ساتھ تلاوت کا حکم۔

حوالہ: المزمل 4

19. سورۃ المدثر — آیت 2

عربی:

قُمْ فَأَنذِرْ

ترجمہ:

اٹھو اور ڈر سُنا دو۔

تشریح:

دعوت و تبلیغ کا حکم۔

حوالہ: المدثر 2

20. سورۃ المدثر — آیت 5

عربی:

وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ

ترجمہ:

اور گندگی (بتوں) کو چھوڑ دو۔

تشریح:

شرک، گناہوں اور ہر ناپاک راستے سے بچنے کا حکم۔

حوالہ: المدثر 5



1. سورۃ النبأ — آیت 39

عربی:

فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا

ترجمہ:

پس جو چاہے اپنے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ اختیار کرے۔

تشریح:

ہدایت اور رجوع الی اللہ کا حکم۔

حوالہ: النبأ 78:39

2. سورۃ النازعات — آیت 26

عربی:

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِمَن يَخْشَىٰ

ترجمہ:

بیشک اس میں ڈرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔

تشریح:

خوفِ الٰہی اختیار کرنے کا حکم۔

حوالہ: النازعات 79:26

3. سورۃ عبس — آیت 11

عربی:

فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ

ترجمہ:

پس جس نے چاہا اس (قرآن) سے نصیحت پکڑی۔

تشریح:

قرآن سے نصیحت لینے کا حکم۔

حوالہ: عبس 80:11

4. سورۃ التکویر — آیت 26

عربی:

فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ

ترجمہ:

تو تم کدھر جا رہے ہو؟

تشریح:

گمراہی چھوڑ کر راہِ حق کی طرف آنے کی تنبیہ۔

حوالہ: التکوير 81:26

5. سورۃ الانفطار — آیت 6

عربی:

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ

ترجمہ:

اے انسان! تجھے اپنے ربِ کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟

تشریح:

غرور اور غفلت سے ممانعت۔

حوالہ: الانفطار 82:6

6. سورۃ المطفّفین — آیت 1

عربی:

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ

ترجمہ:

تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔

تشریح:

ناجائز کاروبار سے سخت ممانعت۔

حوالہ: المطفّفین 83:1

7. سورۃ الانشقاق — آیت 6

عربی:

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ…

ترجمہ:

اے انسان! تو اپنے رب کی طرف محنت کرنے والا ہے…

تشریح:

نیک اعمال کی ترغیب۔

حوالہ: الانشقاق 84:6

8. سورۃ البروج — آیت 8

عربی:

وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ

ترجمہ:

اور وہ ان سے صرف اس لیے بگڑے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے تھے۔

تشریح:

ایمان پر ثابت قدم رہنے کا حکم۔

حوالہ: البروج 85:8

9. سورۃ الطارق — آیت 17

عربی:

فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا

ترجمہ:

تو کافروں کو کچھ مہلت دے، تھوڑی سی دیر۔

تشریح:

رسول ﷺ کو صبر و تحمل کا حکم۔

حوالہ: الطارق 86:17

10. سورۃ الأعلى — آیت 1

عربی:

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى

ترجمہ:

اپنے ربِ اعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو۔

تشریح:

تسبیح و ذکر کا واضح حکم۔

حوالہ: الأعلى 87:1

11. سورۃ الأعلى — آیت 9

عربی:

فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ

ترجمہ:

پس نصیحت کرتے رہو اگر نصیحت فائدہ دے۔

تشریح:

دعوتِ الی اللہ کا حکم۔

حوالہ: الأعلى 87:9

12. سورۃ الغاشیہ — آیت 21

عربی:

فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ

ترجمہ:

لہٰذا نصیحت کرو، بے شک تم نصیحت کرنے والے ہو۔

تشریح:

تبلیغ و نصیحت کا حکم۔

حوالہ: الغاشیہ 88:21

13. سورۃ الفجر — آیت 27–30

عربی:

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ * ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ…

ترجمہ:

اے مطمئن نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ آ…

تشریح:

رجوع الی اللہ اور اطاعت کی ترغیب۔

حوالہ: الفجر 89:27–30

14. سورۃ البلد — آیت 17

عربی:

وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

ترجمہ:

اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہیں۔

تشریح:

صبر کی وصیت کرنے کا حکم۔

حوالہ: البلد 90:17

15. سورۃ الشمس — آیت 9

عربی:

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

ترجمہ:

بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔

تشریح:

تزکیۂ نفس کا حکم۔

حوالہ: الشمس 91:9

16. سورۃ اللیل — آیت 5

عربی:

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ

ترجمہ:

جو دیتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے…

تشریح:

سخاوت اور پرہیزگاری کی ترغیب۔

حوالہ: اللیل 92:5

17. سورۃ الضحیٰ — آیت 10

عربی:

وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ

ترجمہ:

اور سوال کرنے والے کو جھڑکو نہیں۔

تشریح:

محتاجوں سے بدسلوکی کی ممانعت۔

حوالہ: الضحیٰ 93:10

18. سورۃ الانشراح — آیت 7

عربی:

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ

ترجمہ:

جب فارغ ہو جاؤ تو عبادت میں لگ جاؤ۔

تشریح:

ہمیشگی سے عبادت کا حکم۔

حوالہ: الانشراح 94:7

19. سورۃ التین — آیت 6

عربی:

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ

ترجمہ:

مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔

تشریح:

ایمان و عملِ صالح کا حکم۔

حوالہ: التین 95:6

20. سورۃ العلق — آیت 1

عربی:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

ترجمہ:

پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔

تشریح:

تعلیم، پڑھنے اور علم حاصل کرنے کا پہلا حکم۔

حوالہ: العلق 96:1




1. آفاق و انفس میں نشانیاں

آیت

﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾

اردو ترجمہ

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے اُلٹ پھیر میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(سورۃ آلِ عمران: 190)

مختصر تشریح

اللہ کائنات کے ہر گوشے میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ جو انسان فطرت پر غور کرے وہ لازماً اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ عظیم نظام کسی حکمت والے خالق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

2. کائنات میں سوچنے کی دعوت

آیت

﴿قُلِ انْظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ!) کہہ دو: زمین اور آسمان میں کیا کچھ ہے، دیکھو (اور غور کرو)۔

(سورۃ یونس: 101)

مختصر تشریح

یہ آیت انسان کو محض دیکھنے نہیں بلکہ سوچ کر دیکھنے کا حکم دیتی ہے تاکہ دلائل کی بنیاد پر حقیقت کو پہچان سکے۔

3. عقل استعمال کرنے کی تاکید

آیت

﴿أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾

(کیا تم عقل نہیں رکھتے؟)

مکمل آیت

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾

اردو ترجمہ

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے، خوف بھی دلاتا ہے اور امید بھی۔ اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی دیتا ہے۔ بے شک اس میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(سورۃ الروم: 24)

مختصر تشریح

اللہ فطری واقعات کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ انسان اپنی عقل سے ان میں موجود پیغام کو سمجھ لے۔

4. خود اپنے وجود میں غور کرو

آیت

﴿وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾

اردو ترجمہ

اور خود تمہاری اپنی ذات میں (بھی نشانیاں ہیں)، کیا تم دیکھتے نہیں؟

(سورۃ الذاریات: 21)

مختصر تشریح

انسان کی اپنی تخلیق، جسمانی نظام، جذبات، عقل اور صلاحیتیں سب خالق کی وحدانیت کا ثبوت ہیں۔ سوچنے والا انسان خود اپنے اندر ہی حقیقت پا سکتا ہے۔

5. دلائل پر مبنی غوروفکر

آیت

﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ﴾

اردو ترجمہ

کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟

(سورۃ محمد: 24)

مختصر تشریح

قرآن محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ تدبر یعنی گہری سوچ کے لیے نازل ہوا۔ اس کے معانی پر غور کیے بغیر ہدایت کی دولت پوری طرح نہیں ملتی۔

6. زمین میں چل کر سوچو

آیت

﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا﴾

اردو ترجمہ

کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے پاس ایسے دل ہوتے جو سوچتے؟

(سورۃ الحج: 46)

مختصر تشریح

اللہ تاریخ کا مطالعہ کرنے اور گزشتہ قوموں کے انجام سے سبق لینے کی دعوت دیتا ہے۔ غوروفکر کا مقصد سمجھداری اور بصیرت کا پیدا ہونا ہے۔




) کائنات کی تخلیق (Big Bang)

آیت 1

﴿ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ﴾

ترجمہ: کیا کافر نہیں دیکھتے کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کیا؟

(سورہ الانبیاء 30:21)

تشریح:

یہ مضمون جدید سائنس کے "Big Bang" یعنی کائنات کے اچانک پھیلاؤ سے مشابہ ہے۔

2) کائنات کا پھیلاؤ (Expansion of Universe)

آیت 2

﴿ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ﴾

ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو قوت سے بنایا، اور ہم تو اسے پھیلانے والے ہیں۔

(سورہ الذاریات 47:51)

تشریح:

موجودہ سائنس کہتی ہے کہ کائنات لگاتار پھیل رہی ہے — قرآن نے 1400 سال پہلے ذکر کیا۔

3) آسمانوں کی تہیں (Atmospheric Layers)

آیت 3

﴿ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ﴾

ترجمہ: جس نے سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔

(سورہ الملک 3:67)

تشریح:

ماہرینِ سائنس فضاء کی مختلف تہوں (Troposphere, Stratosphere, etc.) کو Layered Atmosphere کہتے ہیں۔

4) پہاڑوں کا زمین میں کیلوں کی طرح گڑا ہونا (Geology – Mountains as Pegs)

آیت 4

﴿ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ﴾

ترجمہ: اور پہاڑوں کو ہم نے میخوں کی طرح بنا دیا۔

(سورہ النبأ 7:78)

تشریح:

پہاڑ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹس کو مضبوطی دیتے ہیں جیسے "pegs"۔

5) جنین کی مختلف تخلیقی منازل (Embryology)

آیت 5

﴿ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ … ﴾

(مکمل آیات: سورہ المؤمنون 12–14:23)

ترجمہ (خلاصہ):

ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا، پھر اسے لوتھڑا بنایا، پھر جمے ہوئے خون جیسی شکل، پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر ہڈیاں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا۔

تشریح:

یہ آیات Embryology کی مراحل (Zygote → Embryo → Fetus) سے حیرت انگیز مطابقت رکھتی ہیں۔

6) دو سمندروں کا نہ ملنا (Barrier Between Seas)

آیت 6

﴿ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ۝ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴾

ترجمہ: اُس نے دو سمندر چھوڑے کہ وہ ملتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک رکاوٹ ہے کہ وہ تجاوز نہیں کرتے۔

(سورہ الرحمن 19–20:55)

تشریح:

سائنس ’’halocline / oceanic barrier‘‘ کو بیان کرتی ہے جہاں دونوں پانی ملتے ہیں مگر مختلف کثافتیں انہیں جدا رکھتی ہیں۔

7) پانی سے ہر جاندار کی تخلیق (Biology)

آیت 7

﴿ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ﴾

ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔

(سورہ الانبیاء 30:21)

تشریح:

سائنس کے مطابق تمام جانداروں کے خلیے (cells) کا بنیادی جزو پانی ہے۔

8) انسان کی انگلیوں کے نشانات (Fingerprints)

آیت 8

﴿ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ ﴾

ترجمہ: کیوں نہیں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور پور تک درست بنا دیں۔

(سورہ القیامہ 3–4:75)

تشریح:

یہ آیت فنگر پرنٹس کی اہمیت اور ان کی منفرد ساخت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

9) لوہے کا آسمان سے نازل کیا جانا (Iron from Space)

آیت 9

﴿ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ ﴾

ترجمہ: اور ہم نے لوہا اتارا، جس میں بڑی قوت ہے۔

(سورہ الحدید 25:57)

تشریح:

سائنس کے مطابق زمین کا لوہا زمین کے اندر نہیں بنا بلکہ Supernova انفجار کے ذریعے خلا سے آیا۔

10) ہوا میں وزن / توازن کا نظام (Aerodynamics & Atmospheric Pressure)

آیت 10

﴿ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ﴾

ترجمہ: جسے اللہ گمراہ کرتا ہے وہ اس کا سینہ تنگ کر دیتا ہے جیسے وہ آسمان کی طرف چڑھ رہا ہو۔

(سورہ الانعام 125:6)

تشریح:

اونچائی پر آکسیجن کم اور سانس گھٹتا ہے – قرآن کا انتہائی درست بیان۔




) نماز کا حکم

﴿ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ﴾

ترجمہ: اور نماز قائم کرو۔

حوالہ: سورہ البقرہ 43

تشریح: نماز دین کا لازمی فریضہ ہے، وقت و ترتیب کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔

2) زکوٰۃ کی فرضیت

﴿ وَآتُوا الزَّكَاةَ ﴾

ترجمہ: اور زکوٰۃ ادا کرو۔

حوالہ: سورہ البقرہ 43

تشریح: مالدار مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض ہے، مال کو پاک کرتی ہے۔

3) روزے کا حکم

﴿ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ ﴾

ترجمہ: تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔

حوالہ: سورہ البقرہ 183

تشریح: رمضان کے روزے ہر بالغ مسلمان پر فرض ہیں۔

4) حج کا حکم

﴿ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ ﴾

ترجمہ: لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا واجب ہے۔

حوالہ: سورہ آل عمران 97

تشریح: استطاعت رکھنے والے پر حج فرض ہے۔

5) وضو کے احکام

﴿ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ … ﴾

ترجمہ: تو اپنے چہرے اور ہاتھ دھوؤ، سر کا مسح کرو، پاؤں دھوؤ۔

حوالہ: سورہ المائدہ 6

تشریح: وضو کے فرائض قرآن نے بیان کیے۔

6) تیمم کا حکم

﴿ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ﴾

ترجمہ: پاک مٹی سے تیمم کر لو۔

حوالہ: سورہ المائدہ 6

تشریح: پانی نہ ہو تو تیمم جائز ہے۔

7) نشہ آور اشیا کی حرمت

﴿ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ … رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ﴾

ترجمہ: شراب اور جوا شیطانی گندگی ہیں، ان سے بچو۔

حوالہ: سورہ المائدہ 90

تشریح: شراب و جوا مکمل طور پر حرام۔

8) مردار، خون، سور کی حرمت

﴿ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ ﴾

ترجمہ: تم پر مردار، خون اور سور کا گوشت حرام کیا گیا۔

حوالہ: سورہ البقرہ 173

تشریح: بنیادی غذائی ممنوعات بیان کی گئیں۔

9) چوری کی سزا

﴿ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا ﴾

ترجمہ: چور مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دو۔

حوالہ: سورہ المائدہ 38

تشریح: اسلامی قانون میں چوری کی حد مقرر ہے۔

10) قضا و شہادت کا حکم

﴿ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ ﴾

ترجمہ: اپنے میں سے دو عادل گواہ مقرر کرو۔

حوالہ: سورہ الطلاق 2

تشریح: فیصلوں میں معتبر گواہی کی ضرورت۔

11) قرض لکھنے کا حکم

﴿ فَاكْتُبُوهُ ﴾

ترجمہ: جب قرض کا معاملہ ہو تو اسے لکھ لیا کرو۔

حوالہ: سورہ البقرہ 282

تشریح: معاشی معاملات میں تحریر لازمی قرار دی گئی۔

12) تجارت میں رضامندی

﴿ لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ ﴾

ترجمہ: آپس میں مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ مگر باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔

حوالہ: سورہ النساء 29

تشریح: کاروبار رضامندی سے ہونا چاہیے۔

13) نکاح کا حکم

﴿ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ ﴾

ترجمہ: جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔

حوالہ: سورہ النساء 3

تشریح: نکاح کے بنیادی اصول بیان کیے گئے۔

14) مہر (حق مہر) کا حکم

﴿ وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ﴾

ترجمہ: عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو۔

حوالہ: سورہ النساء 4

تشریح: مہر ادا کرنا فرض ہے۔

15) طلاق کا طریقہ

﴿ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ﴾

ترجمہ: عورتوں کو ان کی عدت کے وقت طلاق دو۔

حوالہ: سورہ الطلاق 1

تشریح: طلاق واضح طریقے سے، عدت کے اصول کے ساتھ۔

16) عدت کا حکم

﴿ وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ … ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ﴾

ترجمہ: طلاق یافتہ عورتیں تین حیض تک انتظار کریں۔

حوالہ: سورہ البقرہ 228

تشریح: عدت کے اصول زنانہ اوقات سے وابستہ ہیں۔

17) وراثت کا حکم

﴿ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ … وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ ﴾

ترجمہ: مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی حصہ۔

حوالہ: سورہ النساء 7

تشریح: وراثت میں عورت و مرد دونوں کا مقرر حصہ ہے۔

18) سود کی حرمت

﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾

ترجمہ: اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔

حوالہ: سورہ البقرہ 275

تشریح: ربا (سود) قطعی طور پر ممنوع ہے۔

19) والدین کی اطاعت

﴿ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ﴾

ترجمہ: اللہ نے فیصلہ دیا کہ صرف اس کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔

حوالہ: سورہ الاسراء 23

تشریح: والدین کے حقوق اسلامی فقہ کی بنیاد ہیں۔

20) یتیموں کا مال کھانے کی ممانعت

﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا ﴾

ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں…

حوالہ: سورہ النساء 10

تشریح: یتیم کا مال ناجائز لینا سخت جرم ہے۔



) سورۃ البقرہ: آیت 21

متن (عربی):

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ (اردو):

اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

تشریح (5 سطور):

اس آیت میں تخلیق کو عبادت کی بنیاد بنایا گیا ہے۔

انسان کی پیدائش اللہ کی قدرت کی واضح دلیل ہے۔

خالق کو پہچاننا بندگی کا پہلا قدم ہے۔

تخلیق کا مقصد تقویٰ اختیار کرنا بتایا گیا ہے۔

انسان کو اپنے وجود پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

2) سورۃ الانبیاء: آیت 30

متن:

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا

ترجمہ:

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے، پھر ہم نے انہیں کھول دیا؟

تشریح:

کائنات کی ابتدا ایک وحدت سے ہونے کا ذکر ہے۔

یہ آیت اللہ کی تخلیقی قدرت کو ظاہر کرتی ہے۔

سائنسی حقائق کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔

کفر کرنے والوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔

تخلیق کا عمل اللہ کے حکم سے ہوا۔

3) سورۃ فصلت: آیت 11

متن:

ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ

ترجمہ:

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا۔

تشریح:

آسمان کی ابتدائی حالت بیان کی گئی ہے۔

تخلیق بتدریج ہونے کا تصور ملتا ہے۔

اللہ کے حکم سے مادہ ترتیب میں آیا۔

کائنات کا آغاز بے مقصد نہیں تھا۔

یہ آیت قدرتِ الٰہی کی نشانی ہے۔

4) سورۃ الذاریات: آیت 47

متن:

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

ترجمہ:

اور ہم نے آسمان کو قوت سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔

تشریح:

آسمان کی مضبوط تخلیق کا ذکر ہے۔

کائنات کے پھیلاؤ کی طرف اشارہ ہے۔

اللہ کی قدرت مسلسل کارفرما ہے۔

تخلیق ایک جاری عمل ہے۔

یہ آیت ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔

5) سورۃ الحجر: آیت 26

متن:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ

ترجمہ:

اور یقیناً ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے خشک گارے سے پیدا کیا۔

تشریح:

انسان کی مادی ابتدا بیان کی گئی ہے۔

عاجزی اور انکساری کا سبق ملتا ہے۔

انسان کا جسم مٹی سے بنا ہے۔

روح اللہ کی طرف سے عطا ہوئی۔

تخلیق انسان کی حقیقت واضح کرتی ہے۔

6) سورۃ المؤمنون: آیت 12

متن:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ

ترجمہ:

اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔

تشریح:

انسانی تخلیق کے مرحلے کی وضاحت ہے۔

اللہ کا نظامِ تخلیق نہایت حکیمانہ ہے۔

انسان کی اصل زمین سے جڑی ہے۔

یہ آیت شکرگزاری کی دعوت دیتی ہے۔

خالق کی عظمت نمایاں ہوتی ہے۔

7) سورۃ الانعام: آیت 101

متن:

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

ترجمہ:

وہ آسمانوں اور زمین کا بے مثال پیدا کرنے والا ہے۔

تشریح:

اللہ کی تخلیق مثال کے بغیر ہے۔

کائنات خود بخود وجود میں نہیں آئی۔

ہر چیز ایک منصوبے کے تحت بنی۔

تخلیق میں حسن اور توازن ہے۔

یہ آیت توحید کو واضح کرتی ہے۔

8) سورۃ الزمر: آیت 62

متن:

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ

ترجمہ:

اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔

تشریح:

تخلیقِ کائنات کا جامع اعلان ہے۔

اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔

ہر شے اس کے اختیار میں ہے۔

شرک کی مکمل نفی ہوتی ہے۔

ایمان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

9) سورۃ النحل: آیت 3

متن:

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ

ترجمہ:

اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔

تشریح:

تخلیق کسی کھیل کے لیے نہیں۔

ہر چیز کا ایک مقصد ہے۔

کائنات عدل اور حکمت پر قائم ہے۔

انسان کو ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔

اللہ کی تخلیق بامعنی ہے۔

10) سورۃ الحدید: آیت 4

متن:

هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ

ترجمہ:

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔

تشریح:

تخلیق کا مرحلہ وار نظام بتایا گیا ہے۔

اللہ کا ہر کام حکمت سے ہوتا ہے۔

وقت بھی اللہ کی مخلوق ہے۔

انسان کو صبر اور تدبر کا درس ملتا ہے۔

یہ آیت قدرتِ الٰہی کی عظمت ظاہر کرتی ہے۔




1) سورۃ البقرہ: آیت 164

عربی متن:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ...

اردو ترجمہ:

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے بدلنے میں، اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں انسانوں کے فائدے کا سامان لے کر چلتی ہیں، عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

تشریح (5 سطور):

یہ آیت کائنات کی مختلف نشانیوں کا مجموعی ذکر کرتی ہے۔

زمین، آسمان، دریا اور نظامِ وقت سب اللہ کی قدرت ہیں۔

انسان کو عقل استعمال کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

تخلیق کا مقصد اللہ کی پہچان ہے۔

غفلت سے نکل کر فکر و تدبر کا حکم ہے۔

2) سورۃ آل عمران: آیت 190

عربی متن:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ

اردو ترجمہ:

یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

تشریح:

یہ آیت عقل مند لوگوں کو مخاطب کرتی ہے۔

کائنات کا نظام خود بخود نہیں چل رہا۔

تخلیق میں حکمت اور ترتیب نمایاں ہے۔

غور و فکر ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

3) سورۃ الرعد: آیت 3

عربی متن:

وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا

اردو ترجمہ:

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے۔

تشریح:

زمین کا پھیلاؤ اللہ کی قدرت ہے۔

پہاڑ زمین کو استحکام دیتے ہیں۔

دریا انسان کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔

یہ سب اتفاقاً نہیں بنے۔

انسان کو خالق پر غور کرنے کا حکم ہے۔

4) سورۃ النحل: آیت 10

عربی متن:

هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم

اردو ترجمہ:

وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی اتارا۔

تشریح:

بارش اللہ کی عظیم نعمت ہے۔

پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔

انسان کو شکرگزاری کی تعلیم دی گئی ہے۔

قدرتی نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

غور و فکر سے ایمان پیدا ہوتا ہے۔

5) سورۃ لقمان: آیت 10

عربی متن:

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَأَلْقَىٰ فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ

اردو ترجمہ:

اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بنایا جنہیں تم دیکھ سکتے ہو، اور زمین میں پہاڑ گاڑ دیے۔

تشریح:

آسمان بغیر سہارے کے قائم ہے۔

یہ اللہ کی غیر معمولی قدرت ہے۔

پہاڑ زمین کو ہلنے سے بچاتے ہیں۔

انسان کو قدرت پر غور کا حکم ہے۔

یہ آیات یقین میں اضافہ کرتی ہیں۔

6) سورۃ الغاشیہ: آیات 18–20

عربی متن:

وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ۝ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ۝ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ

اردو ترجمہ:

کیا وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بلند کیا گیا؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے گاڑے گئے؟ اور زمین کی طرف کہ کیسے بچھائی گئی؟

تشریح:

براہِ راست غور و فکر کی دعوت ہے۔

عام انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔

کائنات اللہ کی گواہی دے رہی ہے۔

یہ نشانیاں ایمان کے لیے کافی ہیں۔

غفلت انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔

7) سورۃ ق: آیت 6

عربی متن:

أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا

اردو ترجمہ:

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا؟

تشریح:

آسمان اللہ کی عظیم تخلیق ہے۔

انسان کو دیکھنے اور سوچنے کا حکم ہے۔

کائنات میں کوئی نقص نہیں۔

یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہے۔

خالق کی پہچان کا راستہ ہے۔

8) سورۃ ابراہیم: آیت 32

عربی متن:

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً

اردو ترجمہ:

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی اتارا۔

تشریح:

تخلیق اور رزق دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔

انسان کا وجود اللہ کا محتاج ہے۔

بارش زندگی کا ذریعہ ہے۔

نعمتوں پر شکر لازم ہے۔

غور و فکر ایمان کو جنم دیتا ہے۔

9) سورۃ النمل: آیت 61

عربی متن:

أَمَّن جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا

اردو ترجمہ:

کون ہے جس نے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور اس میں دریا جاری کیے؟

تشریح:

سوال کے انداز میں توحید بیان کی گئی ہے۔

زمین انسان کے لیے موزوں بنائی گئی۔

دریا قدرتی نظام کا حصہ ہیں۔

یہ سب اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔

انسان کو سوچنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

10) سورۃ الجاثیہ: آیت 3

عربی متن:

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ:

بے شک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

تشریح:

کائنات ایمان کی دلیل ہے۔

ہر مخلوق اللہ کی نشانی ہے۔

مومن ان نشانیوں سے سبق لیتا ہے۔

غور و فکر ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔

یہ آیت شعور بیدار کرتی ہے۔



1) سورۃ البقرہ: آیت 21

عربی متن:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ

اردو ترجمہ:

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔

تشریح (5 سطور):

یہ قرآن کا بنیادی حکم ہے۔

عبادت انسان کی اصل ذمہ داری ہے۔

تخلیق کو عبادت کی دلیل بنایا گیا ہے۔

عبادت میں اطاعت اور بندگی شامل ہے۔

یہ حکم پوری انسانیت کے لیے ہے۔

2) سورۃ البقرہ: آیت 43

عربی متن:

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ

اردو ترجمہ:

نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔

تشریح:

نماز اور زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان ہیں۔

نماز اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے۔

زکوٰۃ معاشرتی انصاف قائم کرتی ہے۔

دونوں عبادات عملی ایمان کا ثبوت ہیں۔

یہ حکم اجتماعی اصلاح کا ذریعہ ہے۔

3) سورۃ البقرہ: آیت 83

عربی متن:

وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا

اردو ترجمہ:

اور لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔

تشریح:

حسنِ اخلاق کا واضح حکم ہے۔

زبان انسان کے کردار کی پہچان ہے۔

اچھی بات معاشرتی امن پیدا کرتی ہے۔

اسلام بدزبانی سے روکتا ہے۔

یہ حکم ہر مسلمان کے لیے ہے۔

4) سورۃ آل عمران: آیت 104

عربی متن:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ

اردو ترجمہ:

تم میں ایک جماعت ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے۔

تشریح:

یہ اجتماعی ذمہ داری کا حکم ہے۔

نیکی پھیلانا امت کا فرض ہے۔

برائی کو روکنا بھی شامل ہے۔

اصلاحِ معاشرہ کا بنیادی اصول ہے۔

یہ حکم امت کو زندہ رکھتا ہے۔

5) سورۃ النساء: آیت 36

عربی متن:

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا

اردو ترجمہ:

اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

تشریح:

توحید کا واضح اور قطعی حکم ہے۔

شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔

عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔

ایمان کی بنیاد توحید ہے۔

یہ حکم نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔

6) سورۃ المائدہ: آیت 2

عربی متن:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ

اردو ترجمہ:

نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔

تشریح:

باہمی تعاون کا حکم دیا گیا ہے۔

نیکی اجتماعی طاقت سے پھیلتی ہے۔

برائی میں تعاون سے منع کیا گیا ہے۔

اسلامی معاشرہ تعاون پر قائم ہے۔

یہ حکم اتحاد کو مضبوط کرتا ہے۔

7) سورۃ الانعام: آیت 152

عربی متن:

وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ

اردو ترجمہ:

ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔

تشریح:

معاشی عدل کا واضح حکم ہے۔

دھوکہ دہی سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

دیانت داری ایمان کی علامت ہے۔

تجارت میں انصاف ضروری ہے۔

یہ حکم معاشرے میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔

8) سورۃ الاسراء: آیت 23

عربی متن:

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا

اردو ترجمہ:

اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔

تشریح:

والدین کے حقوق پر زور دیا گیا ہے۔

ان کی خدمت عبادت کے برابر ہے۔

نافرمانی سے سختی سے روکا گیا ہے۔

خاندان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

یہ حکم اخلاقی تربیت دیتا ہے۔

9) سورۃ النور: آیت 30

عربی متن:

قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ

اردو ترجمہ:

مومنوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔

تشریح:

پاکیزگی کا بنیادی حکم ہے۔

نظر دل کو متاثر کرتی ہے۔

بے حیائی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

معاشرتی اخلاق کی حفاظت ہوتی ہے۔

یہ حکم نفس کی تربیت کرتا ہے۔

10) سورۃ الحجرات: آیت 12

عربی متن:

وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا

اردو ترجمہ:

نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو۔

تشریح:

معاشرتی برائیوں سے روکا گیا ہے۔

غیبت دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہے۔

تجسس اعتماد کو ختم کرتا ہے۔

اسلام عزتِ نفس کی حفاظت کرتا ہے۔

یہ حکم معاشرے کو پاک بناتا ہے۔



) سورۃ البقرہ: آیت 22

عربی متن:

فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا

اردو ترجمہ:

پس اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

تشریح:

یہ شرک سے سخت ممانعت ہے۔

اللہ واحد معبود ہے۔

شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔

ایمان کی بنیاد توحید ہے۔

یہ نہی نجات کا ذریعہ ہے۔

2) سورۃ البقرہ: آیت 42

عربی متن:

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ

اردو ترجمہ:

اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ۔

تشریح:

سچ کو چھپانے سے منع کیا گیا ہے۔

دین میں ملاوٹ حرام ہے۔

حق واضح رکھنا لازم ہے۔

یہ حکم علماء اور عوام دونوں کے لیے ہے۔

فتنہ سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

3) سورۃ البقرہ: آیت 83

عربی متن:

وَلَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ

اردو ترجمہ:

اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔

تشریح:

عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔

غیر اللہ کی عبادت منع ہے۔

یہ توحید کا بنیادی تقاضا ہے۔

شرک کی ہر صورت ناجائز ہے۔

ایمان کی حفاظت کا حکم ہے۔

4) سورۃ البقرہ: آیت 188

عربی متن:

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ

اردو ترجمہ:

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔

تشریح:

حرام کمائی سے ممانعت ہے۔

دھوکہ اور رشوت منع ہے۔

مال کا حق کے ساتھ لینا ضروری ہے۔

معاشی ظلم سے روکا گیا ہے۔

انصاف پر مبنی معاشرہ مطلوب ہے۔

5) سورۃ آل عمران: آیت 130

عربی متن:

لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا

اردو ترجمہ:

سود نہ کھاؤ۔

تشریح:

سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

یہ معاشی ظلم کی بنیاد ہے۔

غریب کا استحصال ہوتا ہے۔

اللہ اور رسولؐ سے جنگ ہے۔

پاک معیشت کا حکم ہے۔

6) سورۃ النساء: آیت 29

عربی متن:

وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ

اردو ترجمہ:

اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔

تشریح:

خودکشی سخت حرام ہے۔

جان اللہ کی امانت ہے۔

مایوسی سے روکا گیا ہے۔

صبر اور امید کی تعلیم ہے۔

انسانی جان کی حرمت واضح ہے۔

7) سورۃ النساء: آیت 36

عربی متن:

وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا

اردو ترجمہ:

اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔

تشریح:

شرک کی مکمل ممانعت ہے۔

توحید اسلام کی بنیاد ہے۔

ہر قسم کا شرک ناجائز ہے۔

عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔

یہ نہی ایمان کو محفوظ رکھتی ہے۔

8) سورۃ المائدہ: آیت 2

عربی متن:

وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ

اردو ترجمہ:

اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

تشریح:

برائی میں تعاون منع ہے۔

گناہ اجتماعی بھی ہو سکتا ہے۔

مسلمان نیکی کا ساتھ دے۔

معاشرتی برائی رکتی ہے۔

تقویٰ کا عملی حکم ہے۔

9) سورۃ الانعام: آیت 151

عربی متن:

وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ

اردو ترجمہ:

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔

تشریح:

اولاد قتل کرنا حرام ہے۔

رزق کا ذمہ اللہ ہے۔

جہالت کی رسم سے منع کیا گیا ہے۔

انسانی جان کی قدر سکھائی گئی ہے۔

اعتماد علی اللہ کی تعلیم ہے۔

10) سورۃ الاسراء: آیت 32

عربی متن:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا

اردو ترجمہ:

اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔

تشریح:

زنا سخت گناہ ہے۔

اس کے تمام راستے بند کیے گئے ہیں۔

اخلاقی پاکیزگی مطلوب ہے۔

خاندان کی حفاظت مقصود ہے۔

معاشرتی بگاڑ سے بچاؤ ہے۔

11) سورۃ الاسراء: آیت 36

عربی متن:

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ

اردو ترجمہ:

جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔

تشریح:

بغیر علم بات کرنا منع ہے۔

افواہوں سے روکا گیا ہے۔

ذمہ دارانہ رویہ سکھایا گیا ہے۔

زبان اور عقل کا درست استعمال ہے۔

یہ حکم معاشرتی فساد روکتا ہے۔

12) سورۃ النور: آیت 19

عربی متن:

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ

اردو ترجمہ:

جو لوگ بے حیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں…

تشریح:

فحاشی پھیلانے کی مذمت ہے۔

اخلاقی بگاڑ سے منع ہے۔

میڈیا اور گفتگو دونوں شامل ہیں۔

پاک معاشرہ مطلوب ہے۔

سخت عذاب کی وعید ہے۔

13) سورۃ الحجرات: آیت 11

عربی متن:

لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ

اردو ترجمہ:

کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے۔

تشریح:

تمسخر سے ممانعت ہے۔

عزتِ نفس کا تحفظ ہے۔

مذاق دل آزاری بنتا ہے۔

بھائی چارہ قائم رہتا ہے۔

اخلاقی تربیت کا حکم ہے۔

14) سورۃ الحجرات: آیت 12

عربی متن:

وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا

اردو ترجمہ:

نہ جاسوسی کرو اور نہ غیبت کرو۔

تشریح:

معاشرتی برائیوں سے روک ہے۔

غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کہا گیا۔

تجسس اعتماد توڑتا ہے۔

دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔

پاک معاشرہ مطلوب ہے۔

15) سورۃ لقمان: آیت 18

عربی متن:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ

اردو ترجمہ:

اور لوگوں کے سامنے غرور نہ کرو۔

تشریح:

تکبر سے ممانعت ہے۔

عاجزی مومن کی صفت ہے۔

غرور انسان کو گرا دیتا ہے۔

اللہ متکبر کو پسند نہیں کرتا۔

حسنِ اخلاق کی تعلیم ہے۔

16) سورۃ الاعراف: آیت 31

عربی متن:

وَلَا تُسْرِفُوا

اردو ترجمہ:

اور اسراف نہ کرو۔

تشریح:

فضول خرچی منع ہے۔

اعتدال اسلامی اصول ہے۔

نعمتوں کی قدر سکھائی گئی ہے۔

اسراف ناشکری ہے۔

معاشی توازن قائم رہتا ہے۔

17) سورۃ المطففین: آیت 1

عربی متن:

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ

اردو ترجمہ:

ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔

تشریح:

ناپ تول میں کمی حرام ہے۔

یہ معاشی بددیانتی ہے۔

سخت وعید سنائی گئی ہے۔

تجارت میں انصاف لازم ہے۔

ایمان کا عملی تقاضا ہے۔

18) سورۃ الاحزاب: آیت 58

عربی متن:

وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ:

اور جو مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں…

تشریح:

مومن کو اذیت دینا حرام ہے۔

زبان اور عمل دونوں شامل ہیں۔

ظلم سے سختی سے روکا گیا ہے۔

معاشرتی امن مطلوب ہے۔

بڑے گناہ کی وعید ہے۔

19) سورۃ الجمعہ: آیت 9

عربی متن:

وَذَرُوا الْبَيْعَ

اردو ترجمہ:

اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔

تشریح:

جمعہ کے وقت تجارت منع ہے۔

نماز کو ترجیح دینا لازم ہے۔

دنیا کو دین پر مقدم نہ کرو۔

اللہ کی یاد اہم ہے۔

نظم و ضبط کی تعلیم ہے۔

20) سورۃ العصر: آیت 3

عربی متن:

وَلَا تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ

(مفہومِ نہی مخالف صورت میں)

اردو ترجمہ (مفہوم):

حق سے غفلت نقصان کا سبب ہے۔

تشریح:

حق چھوڑنے سے نقصان ہوتا ہے۔

باطل سے بچنے کی تنبیہ ہے۔

صبر اور حق لازم ہیں۔

زندگی کا مقصد واضح کیا گیا ہے۔

نہی کے انداز میں اصلاح ہے۔


1) توحید

آیت:

﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾ (الإخلاص: 1)

ترجمہ:

کہہ دیجیے: اللہ ایک ہے۔

تشریح:

اللہ کی ذات یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔

اسلام کی بنیاد توحید پر ہے۔

ہر قسم کی شرک کی نفی کی گئی۔

انسان کو صرف اللہ پر بھروسہ سکھایا گیا۔

ایمان کی اصل جڑ یہی عقیدہ ہے۔

2) رسالت

آیت:

﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ﴾ (الفتح: 29)

ترجمہ:

محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

تشریح:

حضور ﷺ کی رسالت کا واضح اعلان ہے۔

آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔

اطاعتِ رسول اطاعتِ خدا ہے۔

سنت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔

ایمان کی تکمیل رسالت ماننے سے ہے۔

3) قرآن کی ہدایت

آیت:

﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ﴾ (البقرہ: 2)

ترجمہ:

یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔

تشریح:

قرآن کامل ہدایت ہے۔

اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔

زندگی کے تمام اصول موجود ہیں۔

حق و باطل میں فرق سکھاتا ہے۔

اہلِ ایمان کے لیے رہنمائی ہے۔

4) نماز

آیت:

﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ (البقرہ: 43)

ترجمہ:

نماز قائم کرو۔

تشریح:

نماز دین کا ستون ہے۔

اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے۔

گناہوں سے روکتی ہے۔

نظم و ضبط سکھاتی ہے۔

کامیابی کا ذریعہ ہے۔

5) صبر

آیت:

﴿إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (البقرہ: 153)

ترجمہ:

بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

تشریح:

صبر پر اللہ کی مدد ملتی ہے۔

مشکلات کا حل صبر میں ہے۔

ایمان کی مضبوطی ظاہر ہوتی ہے۔

جزا عظیم کا وعدہ ہے۔

زندگی میں استقامت آتی ہے۔

6) شکر

آیت:

﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ (ابراہیم: 7)

ترجمہ:

اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔

تشریح:

شکر نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔

ناشکری سے نعمت چھن جاتی ہے۔

دل میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

مثبت طرزِ زندگی بنتا ہے۔

7) تقویٰ

آیت:

﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾ (الحجرات: 13)

ترجمہ:

اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہو۔

تشریح:

اصل فضیلت تقویٰ ہے۔

نسل یا مال کی برتری نہیں۔

اللہ دلوں کو دیکھتا ہے۔

تقویٰ انسان کو نیک بناتا ہے۔

معاشرتی عدل قائم ہوتا ہے۔

8) والدین

آیت:

﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا﴾ (الإسراء: 23)

ترجمہ:

اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔

تشریح:

والدین کا احترام فرض ہے۔

نافرمانی سے منع کیا گیا۔

ان کی خدمت عبادت ہے۔

دعا اور رحمت کا سبب ہیں۔

معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔

9) عدل

آیت:

﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ﴾ (النحل: 90)

ترجمہ:

بے شک اللہ عدل کا حکم دیتا ہے۔

تشریح:

عدل اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے۔

ظلم کی ہر شکل حرام ہے۔

عدل امن پیدا کرتا ہے۔

اللہ کی رضا ملتی ہے۔

حقوق محفوظ ہوتے ہیں۔

10) سچائی

آیت:

﴿كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (التوبہ: 119)

ترجمہ:

سچوں کے ساتھ رہو۔

تشریح:

سچ ایمان کی علامت ہے۔

جھوٹ سے نفاق پیدا ہوتا ہے۔

سچ انسان کو باوقار بناتا ہے۔

آخرت میں نجات کا سبب ہے۔

اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔

11) نیت

آیت:

﴿إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ﴾ (البینہ: 5)

ترجمہ:

کہ وہ اللہ کی عبادت خالص نیت سے کریں۔

تشریح:

عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔

ریاکاری مردود ہے۔

خلوص سے عمل قبول ہوتا ہے۔

نیت عمل کو عبادت بنا دیتی ہے۔

اللہ دلوں کا حال جانتا ہے۔

12) علم

آیت:

﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ (طٰہٰ: 114)

ترجمہ:

اور کہو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔

تشریح:

علم حاصل کرنا عبادت ہے۔

جہالت سے نجات ملتی ہے۔

علم عمل کی رہنمائی کرتا ہے۔

علماء کا مقام بلند ہے۔

معاشرہ ترقی کرتا ہے۔

13) رزق

آیت:

﴿إِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ (الذاریات: 58)

ترجمہ:

بے شک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔

تشریح:

رزق اللہ کے اختیار میں ہے۔

حلال روزی کی ترغیب ہے۔

لالچ سے بچاؤ ملتا ہے۔

توکل پیدا ہوتا ہے۔

دل مطمئن رہتا ہے۔

14) توبہ

آیت:

﴿إِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾ (الزمر: 53)

ترجمہ:

بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔

تشریح:

اللہ کی رحمت وسیع ہے۔

مایوسی کی اجازت نہیں۔

سچی توبہ ضروری ہے۔

گناہوں سے پاکیزگی ملتی ہے۔

نیا آغاز ممکن ہے۔

15) اخوت

آیت:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10)

ترجمہ:

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

تشریح:

اسلام بھائی چارہ سکھاتا ہے۔

نفرت کی ممانعت ہے۔

اتحاد میں طاقت ہے۔

ایک دوسرے کا خیال رکھنا فرض ہے۔

امت مضبوط ہوتی ہے۔

16) امانت

آیت:

﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ﴾ (النساء: 58)

ترجمہ:

اللہ تمہیں امانتیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔

تشریح:

امانت ایمان کی علامت ہے۔

خیانت سخت گناہ ہے۔

حقوق کی حفاظت ضروری ہے۔

اعتماد قائم رہتا ہے۔

عدل کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔

17) دعا

آیت:

﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ (غافر: 60)

ترجمہ:

مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔

تشریح:

دعا عبادت ہے۔

اللہ قریب ہے۔

مایوسی منع ہے۔

بندگی کا اظہار ہے۔

دل کو سکون ملتا ہے۔

18) وقت کی قدر

آیت:

﴿وَالْعَصْرِ﴾ (العصر: 1)

ترجمہ:

زمانے کی قسم۔

تشریح:

وقت بہت قیمتی ہے۔

انسان خسارے میں ہے۔

ایمان و عمل ضروری ہے۔

صبر اور حق کی تلقین لازم ہے۔

کامیابی کا راستہ بتایا گیا۔

19) آخرت

آیت:

﴿وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ﴾ (العنکبوت: 64)

ترجمہ:

آخرت ہی اصل زندگی ہے۔

تشریح:

دنیا عارضی ہے۔

آخرت دائمی ہے۔

اعمال کا حساب ہوگا۔

تیاری ضروری ہے۔

نجات کا تصور ملتا ہے۔

20) کامیابی

آیت:

﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾ (المؤمنون: 1)

ترجمہ:

یقیناً مومن کامیاب ہو گئے۔

تشریح:

کامیابی ایمان سے جڑی ہے۔

اعمالِ صالحہ ضروری ہیں۔

اخلاق کی اہمیت ظاہر ہے۔

دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔

مومن کا مقصد واضح ہے۔


قرآنی آیات میں جنت کا ذکر

اور اے پیغمبر! جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے

 آئیں (اور اس کے مطابق) اپنے عمل درست کرلیں انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ شکل و شباہت میں ان باغوں کے پھل دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ (لہٰذا) جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ اس سے پہلے دنیا میں ہمیں ایسے ہی پھل دیئے جاتے تھے۔ وہاں ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ ''

 (بقرہ۔۲۴۔۲۵)


''رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے، تو انہیں اللہ کے دامنِ رحمت میں جگہ ملے گی، اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیںگے۔'' 

( آلِ عمران۔۱۰۷)

''اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے، انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ اور(وہاں) انہیں پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم (وہاں) گھنی چھاؤں میں رکھیں گے۔''

 ( ـالنساء۔۵۷)

''اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ کتنے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو مسیر آجائیں۔''

 (پارہ۵۔ نساء۔۶۹)

''جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کئے ہیں، اور اس ضمن میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت کے مطابق ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کدورت ہوگی، اسے ہم نکال دیں گے۔ ان کے نیچے نہریںبہتی ہوں گی (جسے پاکر) وہ کہیں گے کہ ''ساری تعریفیں خدا تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں (اس جنت کا) راستہ دکھایا، ورنہ ہم خود تو راہ نہ پاسکتے تھے۔ بیشک ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول حق ہی لے کر آئے تھے۔'' اس وقت آواز آئے گی کہ یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، تمہیں ان اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے۔ پھر جنت کے یہ لوگ دوزخ والوں کو پکار کر پوچھیں گے کہ ہم نے تو ان سارے وعدوں کو ٹھیک پالیا جو ہمارے رب نے ہم سے کئے تھے (لیکن) کیا تم نے بھی ان وعدوں کو درست پایا جو تمہارے رب نے (تم سے) کئے تھ؟ وہ جواب دیں گے کہ ''ہاں''۔ پھر پکارنے والا کہے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ 

(پارہ۸۔ اعراف۔۴۲۔۴۴)

''حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اس کے بعد نیک اعمال میں مصروف رہے، ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب انہیںسیدھی راہ پرچلائے گا، ان کے نیچے نعمت بھری جنتوں میں نہریں بہیں گی اور وہاں ان کی صدا ہوگی کہ ''پاک ہے تو اللہ تعالیٰ''۔ ان کی باہمی دعا یہ ہو گی کہ ''سلامتی ہو'' ۔ اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ''ساری کی ساری تعریفیں اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہیں۔''

(پارہ۱۱۔ یونس ۔۹۔۱۰)

''جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا، ان کے لئے (بدلے میں بھی) بھلائی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ فضل ہے۔ ان کے چہروں پر روسیاہی اور ذلت نہیں چھائے گی۔ یہی لوگ ہیں جو جنت کے حق دار ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔''

 (پارہ۱۱۔ یونس۔۲۶)

''رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ اس وقت تک جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں۔ الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے ۔ انہیں ایسی بخشش ملے گی کہ اس کا سلسلہ کبھی منقطع نہیںہوگا۔''

 (پارہ۱۲۔ ہود۔۱۰۸)

''باغِ عدن، جو ان کی ابدی قیام گاہ ہو گی۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد، اور ان کی بیویاں اور ان کی اولادوں میں سے بھی جو صالح ہیں، وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے ان کے استقبال کے لئے آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ سلامتی ہو تم پر، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا، اسی کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو۔ پس کیا ہی خوب ہے آخرت کا یہ گھر

۔'' 

(پارہ۱۳۔ رعد۔۲۳۔۲۴)

''خداترس انسانوں کے لئے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں، اور اس کا سایہ لازوال ہے۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا۔

'' (پارہ۱۳۔ رعد۔۳۵)

''متقی لوگ یقینا باغوں اور چشموں میںہوں گے۔ ان سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر۔ تھوڑی بہت کدورت بھی جو ان کے دلوں میں ہوگی، ہم اسے نکال دیں گے۔ وہ (وہاں) آپس میںبھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ انہیں وہاں نہ کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔'' 

(پارہ۱۴۔ حجر ۴۵۔۴۸)

''

اس طرح کے نیک کام کرنے والوں کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے جب کہ آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ بڑا ہی اچھا گھر ہے وہ جو متقیوں کے لئے ہے۔ دائمی قیام کی جنتیں، جن میں وہ داخل ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور سب کچھ وہاں ان کی عین خواہش کے مطابق ہوگا۔ ایسی جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو۔'' 

(پارہ۱۴۔ نحل ۳۰۔۳۱)

''رہے وہ لوگ جو مان لیںاور نیک عمل کریں، تو ایسے نیک کام کرنے والوں کے اجر ہم ضائع نہیں کیا کرتے۔ ان کے لئے عدن کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ (ڈیکوریٹ) کئے جائیں گے۔ باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیںگے اور اونچی مسندوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے۔ یہ ہے بہترین اجر اور یہ ہے اعلیٰ درجے کی قیام گاہ۔''

 (پارہ۱۵۔ کہف۔ ۳۰۔۳۱)

''ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کررکھا ہے اور یقینا یہ وعدہ پورا ہو کر رہنا ہے۔ وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے، بلکہ جو کچھ بھی سنیں گے، ٹھیک ٹھیک ہی سنیں گے۔ ان کا رزق صبح و شام انہیں پیہم ملتا رہے گا۔ یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے۔'' 

(پارہ۱۶۔ ـمریم ۶۱۔۶۳)

''وہ دن آنے والا ہے جب متقیوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے۔''

 (پارہ۱۶۔ مریم ۸۵)

''یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کررہے ہیں، عنقریب رحمان ان کے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔''

 (پارہ۱۶۔ مریم )

''اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے پیش ہوگا اور اس نے نیک عمل کئے ہوں گے ایسے تمام لوگوں کے لئے بلند درجے اور سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ جزا ہے ان لوگوں کی جنہوں نے (دنیا کی زندگی میں) تزکئے کا رویہ اختیار رکھا۔ 

(پارہ۱۶۔ طٰہٰ ۷۵۔۷۶)

''رہے وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوگا تو وہ یقینا اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ وہاں اس کی سرسراہٹ تک نہ سن سکیں گے۔ اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزوں کے درمیان ہوں گے۔ انتہائی گھبراہٹ کا وہ وقت انہیں ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے (اور کہیں گے) کہ ''یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

'' (پارہ۱۷۔ انبیاء۔۱۰۱۔۱۰۳)

''جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، انہیں اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کئے جائیں گے جب کہ ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔ کیونکہ انہیں پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی اور انہیں خدائے ستودہ صفات کا راستہ دکھایا گیا۔ 

(پارہ ۱۷۔ حج ۲۳۔۲۴)

''بس وہی لوگ اس دن عمدہ مقام پر ٹھہریں گے جو جنت کے مستحق ہوں گے اور دوپہر گزارنے کو وہ عمدہ جگہ پائیں گے۔''

 (پارہ ۱۹۔ فرقان۔۲۴)

''اور جنت متقیوں کے قریب لے آئی جائے گی۔

'' (پارہ ۱۹۔ شعراء ۹۰)

''جو شخص بھلائی لے کر آئے گا، اسے اس سے زیادہ صلہ ملے گا، اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے۔''

 (پارہ ۲۰۔ نمل ۸۹)

''آخرت کا گھر تو ہم نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے، اور نہ ہی فساد برپا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھا انجام تو متقیوں ہی کے لئے وقف ہے۔'' 

(پارہ ۲۰ ۔ قصص ۸۳)

'' جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کئے ہیں، جنت میں ہم انہیں بلند و بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ ہمیشہ کیلئے رہیں گے۔ تو کتنا اچھا اجر ہے یہ عمل کرنے والے لوگوں کیلئے۔''

 (پارہ۲۰۔ عنکبوت۔۷)

''جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں، وہ ایک باغ میں شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے۔''

 (پارہ ۲۱۔ روم ۱۵)

''اہل ایمان کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے۔ وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔ اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کردیا۔ یقینا ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ میں ٹھہرایا۔ اب یہاں ہمیں نہ تو کوئی مشقت پیش آتی ہے، نہ کوئی تھکان لاحق ہوتی ہے۔'' 

(پارہ ۲۲۔ فاطر ۳۳۔۳۵)

''آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں۔ وہ اور ان کی بیویاں (i)گھنے سایوں میں ہیں (ii) مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہیں (iii) ان کے کھانے پینے کے لئے ہر قسم کی لذیذ چیز وہاں موجود ہے (iv) جو کچھ وہ طلب کریں گے، وہ ان کے لئے حاضر ہے، اور (v) رب رحیم کی طرف سے انہیں سلام کہا گیا ہے۔'' 

(پارہ ۲۳۔ یس ٓ ۵۵۔۵۸)

''اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے۔ ان کے لئے (وہاں) جانا بوجھا رزق ہے۔ ہر طرح کی لذیذ چیزیں اور (ان کے علاوہ) نعمت بھری جنتیں جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے۔ پھر وہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے، شراب کے چشموں سے بھر بھر کے ساغران کے درمیان گردش کرائے جائیں گے۔ ایسی چمکتی ہوئی شراب جو پینے والوں کے لئے لذت کا سبب ہوگی۔ اس سے نہ ان کی عقل خراب ہوگی اور نہ ان کے جسم کو کوئی ضرر پہنچے گا۔ اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔ ایسی نازک جیسے انڈے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی۔

'' (پارہ ۲۳۔ صافات ۴۰۔۴۹)

''پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔ ان میں سے ایک کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھ سے کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ کیا واقعی جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے او رہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟ تو اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب کہاں ہیں؟ یہ کہہ کر جونہی وہ ـ(جنتی) جھکے گا تو اسے جہنم کی گہرائی میں دیکھ لے گا اور اس سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ خدا کی قسم تونے تو مجھے تباہ ہی کردیا ہوتا۔ اگر خدا کا فضل میرے ساتھ شامل نہ ہوتا تو تو مجھے تباہ ہی کردینے والا تھا۔ میرے رب کا فضل اگر میرے ساتھ شامل نہ ہوتا تو آج میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو (یہاں) پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟ موت جو آنی تھی، وہ بس پہلے آچکی؟ کیا اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوگا؟ بے شک یہی بڑی کامیابی ہے۔ عمل کرنے والوں کو اسی کامیابی کے لئے عمل کرنے چاہیئے۔ 

(پارہ ۲۳۔ صافات ۵۰ تا ۶۱)

''یہ ہے نصیحت۔ اور متقی لوگوں کیلئے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے۔ ہمیشہ رہنے والی جنتیں، جن کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوں گے۔ ان میں وہ تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ میوہ جات اور مشروبات خوب خوب طلب کررہے ہوں گے اور ان کے پاس شرمیلی اور ہم سن بیویاں موجود ہوں گی۔ یہ ہیں وہ انعامات جنہیں حساب کے دن تمہیں عطا کرنے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا یہ رزق کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ تو یہ ہے (ہمارے) متقی بندوں کا انجام۔'' 

(پارہ ۲۳۔ ص ۴۹۔ ۵۴)

''البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے، ان کے لئے بلند عمارتیں ہیں، منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔''

 (پارہ ۲۳۔ زمر ۲۰)

''اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے، انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے۔ اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے۔ تو اس کے منتظمین پکارکر کہیں گے ''سلام ہو تم پر۔ تم بہت اچھے رہے۔ اب داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ کے لئے''۔ جواب میں وہ کہیں گے کہ ''شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا۔ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں، اپنی جگہ بناسکتے ہیں، تو عمل کرنے والوں کے لئے بہترین اجر ہے۔''

 (پارہ ۲۴۔ زمر ۷۳۔۷۴)

''بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے۔ اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ پائیں گے جو وہ لینا چاہیں گے۔ اور یہی سب سے بڑا فضل ہے۔'' 

(پارہ ۲۵۔ شوریٰ ۲۲)

''یہ ہے نصیحت۔ اور متقی لوگوں کیلئے یقینا بہترین ٹھکانہ ہے۔ ہمیشہ رہنے والی جنتیں، جن کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوں گے۔ ان میں وہ تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ میوہ جات اور مشروبات خوب خوب طلب کررہے ہوں گے اور ان کے پاس شرمیلی اور ہم سن بیویاں موجود ہوں گی۔ یہ ہیں وہ انعامات جنہیں حساب کے دن تمہیں عطا کرنے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا یہ رزق کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ تو یہ ہے (ہمارے) متقی بندوں کا انجام۔''

 (پارہ ۲۳۔ ص ۴۹۔ 

''البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے، ان کے لئے بلند عمارتیں ہیں، منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔'' 

(پارہ ۲۳۔ زمر ۲۰)

''اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے، انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے۔ اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے۔ تو اس کے منتظمین پکارکر کہیں گے ''سلام ہو تم پر۔ تم بہت اچھے رہے۔ اب داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ کے لئے''۔ جواب میں وہ کہیں گے کہ ''شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا۔ اب ہم جنت میں جہاں چاہیں، اپنی جگہ بناسکتے ہیں، تو عمل کرنے والوں کے لئے بہترین اجر ہے۔'' 

(پارہ ۲۴۔ زمر ۷۳۔۷۴)

''بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے۔ اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ پائیں گے جو وہ لینا چاہیں گے۔ اور یہی سب سے بڑا فضل ہے۔''

 (پارہ ۲۵۔ شوریٰ ۲۲)

''اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے، اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے، کہا جائے گا کہ اے میرے بندو، آج تمہارے لئے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں۔ (آج) تمہیں خوش کردیا جائے گا۔ (پھر) ان کے آگے سونے کے تھال اور پیالے گردش کرائے جائیں گے اور وہاں ہر من بھاتی شے اور نگاہوں کو لطف دینے والی چیز موجود ہوگی۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب تم یہاں ہمیشہ رہو گے۔ اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو دنیا میں کرتے رہے ہو، تم اس جنت کے وارث بنے ہو۔ بکثرت میوے یہاں تمہارے لئے موجود ہیں جنہیں تم کھاسکو۔'' 

(پارہ ۲۵۔ زخرف ۶۸۔۷۳)

''خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں حریر و دیبا کے لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ یہ ہو گی (وہاں) ان کی شان! اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتوں کو ان سے بیاہ دیں گے۔ وہ وہاں اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔ وہ وہاں موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔ بس دنیا میں ان کی جو موت آچکی سو آچکی۔ اور اللہ اپنے فضل سے انہیں جہنم کے عذاب سے بچادے گا۔ اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔''

 (پارہ ۲۵۔ دخان ۵۱۔۵۷)

''جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جا رہا ہے، اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی، ایسے دودھ کی، جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا۔ نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی، جو پینے والوں کے لئے ذائقہ دار ہوگی۔ نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے شہد کی جو صاف اور شفاف ہو گا۔ اس میں ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے، نیز ان کے رب کی طرف سے بخشش بھی۔

 (پارہ ۲۶۔ محمد ۱۵)

''اور جنت متقیوں کے قریب لے آئی جائے گی اور وہ ان سے کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ ارشاد ہو گا ''یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو (i) بہت رجوع کرنے والا اور(ii) بڑی نگہداشت کرنے والا تھا (iii) جو بن دیکھے خدائے رحمان سے ڈرتا تھا، اور (iv) جو (ہمارے پاس دلِ گرویدہ لے کر آیا ہے۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ وہ دن حیات ِ ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے (بلکہ) ہمارے پاس اُن کے لئے اس سے بھی بہت کچھ زیادہ ہوگا۔

'' 

ـ(پارہ ۲۶۔ ق ۳۱۔۳


''البتہ متقی لوگ اس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور جو کچھ ان کا رب انہیں دے رہا ہوگا، وہ اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے (کیونکہ) وہ اس دن کے آنے سے پہلے بہت نیک کار تھے، راتوں کو کم ہی سوتے تھے، رات کے پچھلے پہروں میں (اپنے رب سے) معافی مانگتے تھے اور ان کے ذرائع و وسائل میں سائلوں اور محروموں کا حق وقف تھا۔'' 

(پارہ ۲۶۔ ذاریات ۱۵۔۱۹)

''متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے رہا ہو گا۔ اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے گا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم (ماضی میں) کرتے رہے ہو۔ وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (اسی کے ساتھ) ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں بھی ان سے بیاہ دیں گے۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور ان کی اولاد بھی کسی درجے میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے، ان کی اس اولاد کو بھی ہم جنت میں ان کے ساتھ ملا دیں گے اور (اس کے عوض) ان کے عمل میں ہم انہیں کوئی گھاٹا نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنی اپنی کمائی کے عوض رہن ہے۔ ہم انہیں ہر طرح کے پھل اور گوشت، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیئے چلے جائیں گے۔ وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کے لے رہے ہوں گے جس میں یا وہ گوئی ہو گی نہ بدکرداری۔ اور ان کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لئے مخصوص ہوں گے۔ ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے گئے موتی۔ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میںگزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ کہیںگے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی گزارا کرتے تھے۔ آخرکا اللہ نے ہم پر اپنا فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچالیا۔ اپنی پچھلی زندگی میں ہم اسی سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ واقعی وہ بڑا محسن اور رحیم ہے۔ '' 

(پارہ ۲۷۔ طور ۱۷۔۲۸)

''نافرمانی سے پرہیز کرنے والے، یقینا باغوں اور نہروں میںہوں گے۔ سچی عزت کی جگہ اور بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔'' 

(پارہ ۲۷۔ قمر۵۴۔۵۵)

''اور ہر اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ جنتی افراد ایسے فرشوں (قالینوں) پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اورباغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ خیموں کے اندر مقیم شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہوگا۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے؟ پھر اے جن و انس۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ ان دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے۔ تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان نعمتوں کے درمیان خوب صورت اور خوب سیرت بیویاں۔ تو تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے؟ ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے انہیں نہیں چھوا ہوگا۔ تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جنتی لوگ سبز قالینوں اور نفیس و بے مثال فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے۔ تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام۔'' 

(پارہ ۲۷۔ رحمن ۴۶۔۷۸)

''دائیں بازو والے۔ تو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا! اور آگے والے تو پھر آگے والے ہیں۔ وہی تو مقرب لوگ ہیں۔ نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم۔ مرصع تختوں پر تکئے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ان کی مجلسوں میں ابدی لڑکے، چشمہ جاری کی شراب سے لبریز پیمانے اور کنٹر اور ساغر لئے دوڑتے پھررہے ہوں گے۔ (یہ ایک ایسی شراب ہوگی) جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گا اور نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔ وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے کہ جسے چاہیں چن لیں۔ اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا (گوشت) چاہیں استعمال کرلیں۔ ان کے لئے (وہاں) خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی، ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ یہ سب کچھ انہیں ان اعمال کی جزا کے طور پر ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔ وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے۔ جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔

اور دائیں بازو والے! دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا؟ وہ (۱) بے خار بیریوں اور (۲) تہہ بہ تہہ چڑھے ہوئے کیلوں اور (۳) دور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں (۴) اور ہر دم رواں دواں پانی (۵) اور کبھی نہ ختم ہونے والے بے روک ٹوک ملنے والے کثیر پھلوں اور (۶) اونچی نشست گاہوں میں ہوں گے (۷) انکی بیویوں کو ہم خاص طور سے نئے سرے سے پیدا کرینگے اور (۸) انہیں باکرہ (کنواری) بنا دیں گے جو اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن ہوں گی۔

یہ سب کچھ دائیں بازو والوں کی ضیافت کے لئے ہے جو اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے بھی بہت!'' 

(پارہ ۲۷۔ واقعہ ۱۔۴۰)

''اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) آج بشارت ہے تمہارے لئے۔ جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔''

 (پارہ ۲۷۔ حدید۔۱۲)

''جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔''

 (پارہ ۲۸۔ تغابن ۔۹)

''اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ سے توبہ کرو۔ خالص توبہ۔ بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں تم سے دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہو گا جب اللہ اپنے نبی کو، اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں، رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب۔ ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما۔ بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔'' 

(پارہ ۲۸۔ تحریم۔۸)

''نیک لوگ (جنت) میں شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب ِ کافور کی آمیزش ہوگی۔ یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے۔ اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے۔

... پس اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیںتازگی اور سرور بخشے گا اور ان کے صبر کے بدلے، جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہاں وہ اونچی مسندوں (اسٹیج اور صوفوں) پر تکئے لگا کے بیٹھے ہوں گے۔ نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی اور نہ جاڑے کی ٹھنڈک۔ جنت کی چھاؤں جھکی ہوئی ان پر سایہ کررہی ہو گی۔ اور اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے۔ ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے۔ شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہوں گے اور منتظمین جنت نے ٹھیک ٹھیک اندازے کے مطابق انہیں بھرا ہوگا۔ وہاں انہیں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہو گا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھررہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیئے گئے ہیں۔ وہاں تم جہاں بھی نگاہ ڈالو گے، تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان نظر آئے گا۔ ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ یہ ہے تمہاری جزا۔ اور تمہاری کارگزاری قابل قدر ٹھہری ہے۔ 

(پارہ ۲۹۔ دہر ۵۔۲۲)

''متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں۔ جس قسم کا بھی پھل وہ کھانا چاہیں (ان کے لئے حاضر ہے)۔ کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ نیک لوگوں کو ہم ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔'' 

(پارہ ۲۹۔ مرسلات۔ ۴۱۔۴۴)

''یقینا متقیوں کے لئے کامرانی ہے۔ باغ اور انگور اور نوخیز ہم سن لڑکیاں اور چھلکتے ہوئے جام۔ وہاں وہ کوئی لغو اور بے ہودہ بات نہیں سنیں گے۔ جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے ۔'' 

(پارہ ۳۰۔ نبا ۳۱۔۳۶)

''کچھ چہرے اس روز بارونق ہوں گے۔ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے۔ عالی مقام جنت میں ہوں گے۔ وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سنیں گے۔ اس میں چشمے رواں ہوں گے۔ اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ ساغر رکھے ہوں گے، گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہو ں گی اور نفیس قالین بچھے ہوئے ہوں گے۔ ''

 (پارہ ۳۰۔ غاشیہ ۸۔۱۶)

احادیث:

(۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''اللہ تعالیٰ جنت والوں کو پکارے گا۔ اے جنت والو! جنتی عرض کریں گے کہ ''ہم حاضر ہیں اے پروردگار۔ اور نیک بختی اور بھلائی سب تیرے ہی قبضے میں ہیں۔'' اللہ سوال کرے گا۔ ''کیا تم (اتنی ساری نعمتیں حاصل کرنے کے بعد) راضی ہو گئے ہو؟'' جنتی عرض کریں گے کہ ''ہم کیوں نہ راضی ہوں، حالانکہ جو نعمتیں تونے ہمیں عطا فرمائی ہیں، اپنی مخلوق میں سے وہ تونے کسی کو بھی عطا نہیں فرمائی ہیں۔'' پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا'' کیا میں تمہیں ان نعمتوں سے بڑھ کر بھی اور نعمت نہ عطا کردوں؟'' جنتی عرض کریں گے ''اے پروردگار، ان نعمتوں سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہو گی؟'' اللہ جواب دے گا'' میں تم سے اپنی رضامندی اور خوشی کا اعلان کرتا ہوں۔ اب اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔''

وضاحت: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشی ہی دراصل (دنیا) اور جنت میں سب سے بڑی خوشی ہے۔ اس کے آگے تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔

(۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''جنت والے اپنے سے اوپر بالاخانے (بلندو بالا مکانات) والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان میں چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ ایسا اس لئے ہو گا کہ جنت والوں کے درجات میں فرق ہو گا۔'' صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا '' اے اللہ کے رسول۔ کیا وہ درجات انبیاء کے ہوں گے جن تک ان کے علاوہ اور کوئی نہیں پہنچ سکے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہ درجات ان لوگوں کو بھی عطا کئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کریں۔'' (مسلم ، کتاب الجنۃ)

وضاحت: گویا اونچی اونچی عالیشان رہائش گاہیں صرف انبیاء کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ عام پرہیزگار مومنوں کا بھی ان پر یکساں حق ہو گا۔

ساجد تاج

ساجد تاج

فعال رکن

اگست 17، 2013

#24

(۴) معراج کے واقعہ کا بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ ''میں جنت کی سیر کررہا تھا کہ اچانک ایک نہر دیکھی جس کے کناروں پر (بڑے بڑے) موتیوں کے گنبد تھے۔ اور یہ بھی دیکھا کہ جنت کی مٹی مشک کی تھی۔ جنت کی خوشبو کی لپٹ پانچ سو سالوں کے فاصلے سے پہنچنے لگتی ہے۔'' (مسلم)

(۵) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو بلاحساب کتاب جنت میں داخل کرے گا۔'' یہ سن کر حضرت ابو بکر ؓ نے ارشاد کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس تعداد

میں اضافہ کردیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''اچھا اتنا اور زیادہ۔'' (یہ کہہ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر چلّو سا بنایا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے پھر عرض کیا ''یا رسول اللہ ، ہماری اس تعداد میں اور اضافہ کردیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر (چلّو بنا کر) کہا ''اچھا اتنا اور زیادہ۔'' حضرت عمر ؓ بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ انہوں نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا کہ (بس اب) ہمیں ہمارے حال پر ہی رہنے دیجئے۔ (یعنی اتنی رعایت نہ کروایئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے کرم و عنایت پر اعتماد کر کے بیٹھ جائیں اور عذابِ خداوندی کے خوف سے اس طرح بے فکر ہوجائیں کہ عمل کرنا ہی ترک کردیں)۔ حضرت ابوبکر ؓ نے یہ سن کر کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو (بغیر مواخذہ) جنت میں بھیج دے تو تمہارا کیا نقصان ہے؟ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ اللہ عزوجل تو اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کرہی سکتا ہے (پھر بار بار اضافے کی درخواست کرنے کی کیا ضرورت ہے؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ ''عمر ؓ نے بالکل سچ کہا۔'' (مشکوٰۃ، روایت حضرت انسؓ، باب شفاعت)

(۶) میرے حوضِ (کوثر) کی لمبائی عدن اور ''عمان البلقا'' کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔ اس کے پینے کے برتن آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔ جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا، پھر اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اس حوض پر پانی پینے کے لئے آنے والے فقراء اور مہاجرین ہوں گے جو (اس دنیا میں اپنی غربت و افلاس کی وجہ سے) پراگندہ بال، پریشان حال اور پھٹے پرانے کپڑوں میں نظر آتے ہیں، جو (اگر اپنے نکاح کا پیغام) خوشحال گھرانوں کی لڑکیوں سے بھیجیں تو وہ (ان سے) نکاح کے قابل نہیں سمجھے جاتے، اور جن کے لئے (گھروں کے) دروازے نہیں کھولے جاتے۔'' (ترمذی، ابن ماجہ، روایت حضرت ثوبانؓ، باب شفاعت)

وضاحت: تقویٰ کی زندگی گزارنیوالے عام طور پر تنگ دست اور اوسط آمدنی والے ہوتے ہیں۔ بلکہ بعض غرباء بھی دین داری میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں کوئی خاص مرتبہ حاصل نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ خوشحال گھرانے کے لوگ بھی ان کے ہاں رشتہ بھیجنے کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں ایسے لوگوں کا بڑا اعلیٰ مرتبہ اور مقام ہو گا اور میں ان سے حوض ِ کوثر پر ملاقات کروں گا۔

ساجد تاج

ساجد تاج

فعال رکن

اگست 17، 2013

#25

(۷) ''میں یقینا اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکالا جائے گا اور سب سے آخر میں جنت میں پہنچایا جائے گا۔ یہ ایک شخص ہو گا جو گھٹنوں کے بل پر چل کر دوزخ سے باہر آئے گا۔ اس سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جا اور جنت میں داخل ہو جا۔ (لیکن) جب وہ شخص وہاں پہنچے گا تو اسے جنت اس حال میں دکھائی دے گی کہ جیسے وہ بالکل بھری ہوئی ہے (اور اس میں مزید کسی فرد کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے)۔ وہ شخص عرض کرے گا کہ میرے پروردگار، مجھے تو یہ جنت بالکل بھری ہوئی نظر آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ''جا ۔ اور جنت میں داخل ہو جا۔ وہاں تیرے لئے دنیا (کے کل فاصلے) کے برابر، بلکہ اس سے دس گنا جگہ مزید مخصوص کردی گئی ہے۔ وہ شخص (انتہائی حیرت و خوشی کے باعث) کہے گا کہ (اے اللہ تعالیٰ) کیا آپ مجھ سے مذاق کررہے ہیں، حالانکہ آپ تو بادشاہ ہیں؟'' راوی کہتے ہیں کہ ''میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ کر اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں نظر آنے لگیں۔ اور کہا جاتا تھا کہ یہ شخص اہلیان جنت میں سب سے چھوٹے درجے کا جنتی ہو گا۔ '' (بخاری و مسلم، مشکوٰۃ، روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، بابِ شفاعت )

وضاحت: دوزخ کے عذاب سہہ کر جو شخص باہر آئے گا اور پھر اسے جنت عطا کی جائے گی تو بظاہر اسے جنت لوگوں سے بھری ہوئی نظر آئے گی۔ لیکن اللہ اس سے کہے گا کہ میں نے تیرے لئے دنیا کے دس گنے کے برابر جنت مخصوص کررکھی ہے۔ یہ سن کر اس شخص کو ہنسی آجائے گی اور وہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ مذاق کررہا ہے۔ تاہم یہ بات حقیقت پر مبنی ہو گی۔ مذکورہ شخص کے اظہارِ تعجب اور ہنسی پر خود اللہ کے نبی کو بھی ہنسی آگئی تھی۔

(۸) ''جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا شخص جب (دوزخ سے نکل کر جنت کی طرف) چلے گا تو ایک مرتبہ چلے گا اور دوسری مرتبہ منہ کے بل گر پڑے گا۔ تیسری مرتبہ دوزخ کی آگ (کی گرمی اور تپش) اس کے جسم کو جھلسا دے گی۔ پھر جب وہ اسی طرح گرتا پڑتا دوزخ سے آگے گزر جائے گا تو مڑ کر (دوزخ کی) طرف دیکھے گا اور (شکر ادا کرتے ہوئے) کہے گا کہ بزرگ و برتر ہے خدا کی ذات جس نے مجھے تجھ سے چھٹکارا دلایا۔ خدا کی قسم میرے پروردگار نے مجھے وہ چیز عطا کی ہے جو اس نے اگلے پچھلے لوگوں میں سے کسی کو عطا نہیں کی۔ پھر اس کی نظر کے سامنے ایک درخت کھڑا کیا جائے گا۔ وہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب پہنچا دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کے چشمے سے پانی پیوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے آدم ؑ کے بیٹے، اگر میں تیری یہ آرزو پوری کردوں تو ہو سکتا ہے کہ تو مجھ سے کچھ اور مانگنے لگے۔ وہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار ایسا نہیںہو گا۔ اس کے بعد

وہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں طلب کرے گا۔ چونکہ وہ شخص ایک ایسی چیز (درخت اور چشمہ) دیکھے گا جو اسے بے صبر کردے گی، اس لئے اس کا پروردگار اسے معذور جان کر اس سے درگذر کرے گا اور اسے اس درخت کے پاس پہنچا دے گا۔ وہ شخص اس درخت کے پاس بیٹھے گا اور اس کے چشمے سے پانی پئے گا۔ پھر اس کی نظر کے سامنے ایک (اور) درخت کھڑا کیا جائے گا جو پہلے درخت سے بہت اچھا ہو گا۔ وہ شخص (اس درخت کو دیکھ کر) کہے گا کہ اے میرے پروردگار، مجھے اس درخت کے پاس پہنچا دیجئے تاکہ اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کے چشمے سے پانی پی سکوں۔ نیز میں اس درخت کے علاوہ اب تجھ سے کچھ اور نہیں مانگوں گا۔ حق تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ اے ابن آدم کیا تونے مجھ سے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تو اس درخت کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر میں تجھے اس درخت کے پاس بھی پہنچا دوں تو ہو سکتا ہے کہ تو مجھ سے کچھ اور مانگنے لگے۔ بہرحال اس کا پروردگار اسے معذور جان کر اس سے درگذر کرے گا کیونکہ وہ ایسی چیز (درخت اور چشمہ) دیکھ چکا ہو گا جس نے اسے بے صبر کردیا ہو گا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس درخت کے پاس پہنچا دے گا۔ وہ شخص اس درخت کے سائے میں بیٹھے گا اور اس کے چشمے سے پانی پئے گا۔ پھر (ایک) تیسرا درخت اس کے سامنے کھڑا کیا جائے گا جو جنت کے دروازوں کے قریب اور پہلے دونوں درختوں سے زیادہ اچھا ہو گا۔ وہ شخص (اس درخت کو دیکھ کر) کہے گا کہ میرے پروردگار مجھے اس درخت کے پاس پہنچا دیجئے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کے چشمے سے پانی پی سکوں۔ حق تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ ابن آدم کیا تونے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ (تو) اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگے گا۔ وہ عرض کرے گا کہ ہاں۔ لیکن اب اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گا۔ لہٰذا اس کا پروردگار اسے معذور جان کر اس سے درگذر کرے گا کیونکہ وہ شخص ایک ایسی چیز (درخت اور چشمہ) دیکھ چکا ہو گا جس نے اسے بے صبر کردیا ہو گا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے پاس پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ اس درخت کے پاس پہنچ جائے گا اور اس کے کان میںوہ (دلچسپ اور مزے دار) باتیں پہنچیں گی جو جنتی لوگ اپنی بیویوں اور اپنے دوست احباب سے کریں گے تو وہ شخص (بے اختیار ہو کر) عرض کرے گا کہ میرے پروردگار اب مجھے جنت میں بھی پہنچا دیجئے۔ اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ اے آدم ؑ کے بیٹے کیا کوئی چیز ایسی بھی ہے جو تجھ سے میرا پیچھا چھڑا دے؟ (یعنی تیری بار بار کی خواہش سے مجھے آزاد کردے؟)۔ (اچھا یہ بتا) تواس سے بھی خوش ہوگا یا نہیں کہ میں تجھے جنت میں دنیا بھر کی مسافت کے برابر، اور اسی قدر مزید جگہ تجھے دے دوں؟ وہ شخص (انتہائی خوشی و حیرت کے عالم میں) کہے گا کہ پروردگار کہیں آپ مجھ سے مذاق تو نہیں کررہے ہیں حالانکہ آپ تمام جہانوں کے پروردگار ہیں؟ اسکے بعد راوی ہنسنے لگے اور پھر (حدیث سننے والوں سے) پوچھا کہ کیا تم یہ نہیں معلوم کروگے کہ میں کیوں ہنسا؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں بتایئے آپ کیوں ہنسے تھے؟ آپؓ نے فرمایا کہ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح ہنسے تھے اور جب صحابہ ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنسے تھے یا رسول اللہ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں اس وجہ سے ہنسا کہ جب وہ شخص کہے گا کہ پروردگار کہیں آپ مجھ سے مذاق تو نہیں کررہے حالانکہ آپ تمام جہانوں کے بادشاہ ہیں؟ تو پروردگار عالم بھی اس پر ہنس پڑے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کہیں گے کہ نہیں میں تجھ سے مذاق نہیں کررہا ہوں لیکن (تیری حیثیت کو جاننے کے باوجود میںیہ سب کچھ اس لئے تجھے دے رہا ہوں کہ) میں جو چاہے کرسکتا ہوں۔

پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کو یاد دلائے گا اور کہے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ اور جب اس کی ساری آرزوئیں پوری ہولیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ نہ صرف یہ تمام چیزیں بلکہ ان کی دس گنا چیزیں اور بھی تجھے عطا کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص جنت میں اپنے گھر میں داخل ہو گا، وہاں اس کے پاس حور عین میں سے اس کی دو بیویاں آئیں گی اور کہیں گی کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں تمہارے لئے اور تمہیں ہمارے لئے پیدا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص (فرط ِ مسرت سے) کہے گا کہ (یہاں سب سے زیادہ خوش نصیب میں ہی ہوں کیونکہ) جتنا مجھے عطا کیا گیا ہے اتنا کسی اور کو عطا نہیں کیاگیا۔'' (وہ یہ بات اس وجہ سے کہے گا کہ اس وقت تک اسے علم ہی نہیں ہو گا کہ دوسرے جنتیوں کے پاس اور کیا کیاسروسامان ہے؟ وہ یہی سمجھے گا کہ سب سے زیادہ نوازا جانے والا بندہ یہاں میںہی ہوں) (مسلم، روایت حضرت عبداللہؓ بن مسعود و ابو سعید خدریؓ ، باب شفاعت)

(۹) ''جنتیوں میں سے کسی کی عورت (یعنی حور) زمین کی طرف جھانک لے تو وہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری جگہ کو ( یعنی دنیا کے اس کونے سے لے کر اُس کونے تک) روشن و منور کردیگی اور مشرق سے لے کر مغرب تک کی تمام فضا کو خوشبو سے بھردیگی۔ نیز اسکے سر کی ایک اوڑھنی بھی اس دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔'' ـ(بخاری، مشکوٰۃ، باب صفات الجنت، روایت حضرت انسؓ)

وضاحت: اگر صرف ایک حور کی اتنی ساری خصوصیات ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ جنت کی باقی نعمتوں کا کیا حال ہو گا؟

(۱۰) ''مومن کو جنت میں جو خیمہ ملے گا وہ پورا ایک کھوکھلا موتی ہو گا جس کی چوڑائی (یا دوسری روایت میں) جس کی لمبائی ساٹھ میل کے برابر ہو گی۔ اس خیمے کے ہر گوشے میں اس (مومن) کے اہل خانہ ہوں گے۔ اور (اس خیمے کے) ایک کونے کے آدمی دوسرے کونے کے آدمیوں کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ مومن اپنے ان سب اہل خانہ کے پاس آتا جاتا رہے گا۔ (اس کے لئے) دو جنتیں چاندی کی ہوں گی کہ ان جنتیوں کے برتن (جس میں تمام اشیاء شامل ہیں) سب چاندی کے ہوں گے۔ او ردو جنتیں سونے کی ہوں گی کہ ان جنتوں کے برتن (جس میں تمام اشیاء شامل ہیں) سونے کی ہوں گی۔ اور جنت العدن میں جنتیوں اور پروردگار کی طرف سے ان کے دیکھنے کے درمیان ذاتِ باری تعالیٰ کی عظمت و بزرگی کے علاوہ اور کوئی چیز حائل نہیں ہو گی۔'' (بخاری و مسلم، باب مشکوٰۃ، صفات الجنۃ، روایت حضرت ابو موسیٰ ؓ)

وضاحت: یہاں صرف ایک خیمے کی لمبائی ساٹھ میل بیان کی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے والی حدیث میں ایک درخت کا سایہ سو سال کے برابر بیان کیا گیا تھا۔ اس سے جنت کی لمبائی اور چوڑائی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

(۱۱) جنت میں ایک بازار ہے جس میں ہر جمعے کو لوگ جمع ہوا کریں گے۔ اور وہاں ایک شمالی ہوا چلے گی جو جنتیوں کے چہروں اور کپڑوں پر طرح طرح کی خوشبوئیں ڈالے گی جس سے وہاں موجود جنتیوں کے حسن و جمال میں اضافہ ہو گا۔ پھر جب وہ لوگ بہت زیادہ حسین و جمیل ہو کر (اس بازار سے) اپنے گھروالوں میں لوٹیں گے تو وہ گھر والے ان سے کہیں گے کہ خدا کی قسم ہم سے الگ ہو کر تو تم نے اپنے حسن و جمال میں کافی اضافہ کرلیا ہے۔ اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ''اور بخدا ہمارے جانے کے بعد تم نے بھی تو اپنے حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے۔'' (مسلم، باب ِ مشکوٰۃ صفات الجنۃ، روایت حضرت انس ؓ)

وضاحت: ہم اپنی تفریح طبع کے لئے اس بازار کو جمعہ بازار بھی کہہ سکتے ہیں۔

(۱۲) ... تمام جنتیوں کے دل ایک شخص کے دل کی مانند ہوں گے ـ(یعنی سب ایک دل اور ایک جان ہوں گے)۔ نہ تو ان میں کوئی باہمی اختلاف ہو گا اور نہ وہ ایک دوسرے سے بغض و عداوت رکھیں گے۔ ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے حور ِ عین میں سے دو دو بیویاں ہوں گی (جو اتنی زیادہ حسین و جمیل اور شفاف ہوں گی کہ) ان کی پنڈلیوں کی ہڈی کا گودا، ہڈی اور گوشت کے باہر سے نظر آئے گا۔ (وہاں) تمام جنتی صبح و شام اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں گے۔ نہ تو وہ بیمار ہوں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ اجابت کریں گے، نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے۔ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن ''اگر'' کا ہوگا (یعنی اگر کی بتی والا خوشبو دار ایندھن)۔ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبو دار ہو گا اور سارے جنتی ایک شخص جیسی سیرت و عادت کے مالک ہوں گے۔ نیز وہ سب شکل و صورت میں اپنے باپ آدم کی طرح ہوں گے اور ساٹھ گز اونچا قد رکھتے ہوں گے۔ '' (بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ، باب صفت الجنۃ، روایت حضرت ابو ہریرہ ؓ)

وضاحت: حورِ عین کے معنی ہیں وہ عورت (۱) جس کی آنکھ کی سفیدی و سیاہی بہت زیادہ سفید و سیاہ ہو ، اور وہ عورت (۲) جس کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں۔

(۱۳) ''... جنت کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی۔ اس کا مصالحہ تیز خوشبود دار مشک کا ہے۔ اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی

زعفران ہیں۔ جو شخص اس جنت میں داخل ہو گا، عیش و عشرت میں رہے گا، کبھی کوئی رنج و فکر نہیں دیکھے گا، ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی۔ نہ اس کا لباس پرانا اور بوسیدہ ہو گا اور نہ اس کی جوانی فنا ہو گی۔ 

(احمد، ترمذی، دارمی، باب ِ مشکوٰۃ ، صفت الجنۃ، روایت حضرت ابو ہریرہؓ)

وضاحت: جو کچھ رنج و فکر ہے، وہ سب دنیا میں ہے۔ جنت میں مومن کبھی کوئی رنج و فکر نہیں دیکھ سکے گا۔ وہاں بس عیش ہی عیش ہو گا۔

(۱۴) جنت میں جو درخت بھی ہے، اس کا تنا سونے کا ہے۔

 (ترمذی، بابِ مشکوٰۃ جنتہ، روایت حضرت ابو ہریرہ ؓ)

(۱۵) جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اگر تمام دنیا کے لوگ ان میں سے کسی بھی ایک درجے میں جمع ہوجائیں تو وہ درجہ سب کے لئے کافی ہو گا۔

 (ترمذی، باب ِ مشکوٰۃ ایضاً)

وضاحت: گویا جنت سو منزلہ اونچی ہو گی جس کی ہر منزل کے درمیان 100 برس کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ یہ درجات مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں کے لحاظ سے ملیں گے۔

(۱۶) ''... ان جنتیوں میں سے ہر شخص کے لئے دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے جسم پر (لباس کے) ستر جوڑے ہوں گے (اور وہ دونوں بیویاں اتنی شفاف و حسین و جمیل ہوں گی کہ) ان کی پنڈلیوں کے اندر کا گودا ستر جوڑوں کے اوپر سے نظر آتا ہو گا۔ '' (ترمذی، بحوالہ مشکوٰۃ، صفت الجنۃ، روایت حضرت ابو سعید خدری ؓ )

(۱۷) جنت کی چیزوں (یعنی زینت و آرائش کی اشیاء) میں سے اگر کوئی چیز ناخن کے برابر بھی دنیا میں آجائے تو آسمان و زمین کے (آخری کناروں تک) ہر چیز رونق پاجائے۔ اور اگر جنتیوں میں سے کوئی شخص دنیا کی طرف جھانکے اور اس کے (ہاتھوں کے) کڑے نمایاں ہوجائیں تو ان کی چمک دمک سورج کی روشنی کو بھی ماند کردے جیسے کہ سورج ستاروں کی روشنی کو ماند کردیتا ہے۔ 

(ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ، روایت حضرت سعد بن وقاصؓ)

(۱۸) جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کا بدن بالوں سے صاف ہو گا، وہ بغیر داڑھی کے جوان ہوں گے، ان کی آنکھیں سرمگیں (سرمے والی) ہوں گی اور وہ تیس یا تینتیس سال کی عمر والے لگیں گے۔ 

(ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ، باب جنت، روایت حضرت معاذ ؓ بن جبل)

وضاحت: تیس اور تینتیس سال کی عمر انسان کی بھرپور جوانی، شباب اور قوت کی ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ہر جنتی (مرد یا عورت) کو یہی عمر عطا کرے گا۔

(۱۹) (سدرۃ المنتہیٰ) ایک ایسا درخت ہے کہ کوئی سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے گا (یا) اس کے سائے میں بیک وقت سو سوار دم لے سکیں گے۔ اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں ہیں اور اس کے پھل مٹکوں کے برابر ہیں۔ (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ، باب ایضاً، روایت حضرت اسماء ؓ بنت ابوبکرؓ)

(۲۰) ایک شخص نے پوچھا ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں گھوڑے بھی ہوں گے؟'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں داخل کیا اور تم نے گھوڑے پر سوار ہونے کی خواہش کی تو تمہیں جنت میں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا، اور تم جنت میں جہاں جانا چاہو گے، وہ گھوڑا برق رفتاری کے ساتھ تمہیں اُڑا کر لے جائے گا۔ (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اور شخص نے سوال کیا کہ کیا جنت میں اونٹ بھی ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو وہ جواب نہیں دیا جو پہلے شخص کو دیا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں پہنچا دیا تو تمہیں وہاں ہر وہ چیز ملے گی جسے تمہارا دل چاہے گا اور جس کو تمہاری آنکھیں پسند کریں گی۔ (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ، باب ایضاً، روایت حضرت بریدہ ؓ)

وضاحت: یعنی جنت میں اہل جنت کی معمولی سی بھی خواہش رد نہیں کی جائے گی تاکہ اسے محرومی کا احساس بالکل نہ ہو۔ دنیا میں تو وہ محروم رہا ہی تھا۔ اب اسے اور کتنا محروم رکھا جائے۔

(۲۱) حضرت سعید بن مسیت تابعی ؒ سے روایت ہے کہ ایک دن بازار میں ان کی ملاقات حضرت ابوہریرہؓ سے ہوئی جس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ (جس طرح مدینے کے بازار میں آج ہم دونوں کی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح) اللہ تعالیٰ جنت کے بازار میں بھی ہم دونوں کو ملائے۔ حضرت سعید ؒ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ کیا جنت میں بازار بھی ہوگا؟ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا ''ہاں''۔ مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ جنتی لوگ جب جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے اپنے اعمال کی فضیلت و برتری کے لحاظ سے جنت میں مقیم ہوں گے۔ (یعنی جس کے اعمال جتنے زیادہ اور جتنے اعلیٰ ہوں گے، اسی اعتبار سے اسے بلند تر اور خوب تر مکانات و منازل ملیں گے)۔ پھر انہیں دنیاوی ایام کے اعتبار سے جمعہ کے دن اجازت دی جائے گی اور وہ سب اس دن اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے جو ان کے سامنے اپنا عرش ظاہر کرے گا۔ جنتیوں کو دیدار کرانے کے لئے وہ جنت کے ایک بڑے باغ میں جلوہ فرما ہوگا۔ اس باغ میں (مختلف درجات کے منبر یعنی) نور کے منبر، موتیوں کے منبر، یاقوت کے منبر، سونے کے منبر اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے جن پر جنتی بیٹھیں گے (یعنی جو جنتی جس مرتبے کا ہوگا وہ اسی لحاظ سے اپنے منبر پر بیٹھے گا)

نیز ان جنتیوں میں سے جو جنتی کم مرتبے کا ہو گا، وہ مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا، لیکن ٹیلوں پر بیٹھنے والے لوگوں کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ منبر اور کرسیوں پر بیٹھنے والے لوگ جگہ و نشست گاہ کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اس دن اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یقینا ۔ کیا تم دن میں سورج کو اور ۱۴ ویں رات میں چاند کو دیکھنے میں کوئی شبہ رکھتے ہو؟ ہم نے عرض کیا ہرگز نہیں۔ فرمایا۔ اسی طرح تمہیں اس دن اپنے پروردگار کو دیکھنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو گا۔ دیدارِ الٰہی کی اس محفل میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جس سے پروردگار تمام حجابات اٹھا کر براہِ راست ہم کلام نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حاضرین میں سے ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ اے فلاں بن فلاں، کیا وہ دن تجھے یاد ہے جب تونے ایسا اور ایسا کہا تھا؟ یہ سن کر وہ شخص گویا توقف کرے گا اور اپنے کئے ہوئے گناہوں کے اظہار میں تأمّل کرے گا۔ اس پر پروردگار اسے کچھ عہد شکنیاں یاد دلائے گا جس کا اس نے دنیا میں ارتکاب کیا ہو گا۔ تب وہ شخص عرض کرے گا کہ میرے پروردگار کیا آپ نے میرے وہ گناہ بخش نہیں دیئے؟ پروردگار فرمائے گا۔ بے شک میں نے تیرے وہ گناہ معاف کردیئے ہیں اور تو میری اسی معافی کے نتیجے میں آج اس مرتبے کو پہنچا ہے۔

پھر وہ لوگ اسی حالت اور مرتبے پر ہوں گے کہ ایک بادل آکر ان پر چھا جائے گا اور ایسی خوشبو برسائے گا کہ اس جیسی خوشبو انہوں نے اس سے پہلے کبھی کسی چیز میں نہیںپائی ہو گی۔ (اس کے بعد ہمارا پروردگار فرمائے گا کہ اٹھو اور اس چیز کی طرف آؤ جو ہم نے تمہاری عظمت کے باعث تیار کررکھی ہے اور تم اپنی پسند و خواہش کے مطابق جو چاہے لے لو۔ (یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) جنتی لوگ اس بازار میں پہنچیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوئے ہوں گے۔ اس بازار میں ایسی ایسی چیزیں موجود ہوں گی کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوگی اور نہ کسی کان نے سنی ہوگی اور نہ کسی کے دل میں ایسا تصور آیا ہوگا۔ پھر اس بازار میں سے اٹھا اٹھا کر ہمیں وہ چیزیں دے دی جائیں گی جن کی ہم خواہش کریں گے حالانکہ اس بازار میں خرید و فروخت جیسا کوئی معاملہ نہیں ہو گا۔ نیز اس بازار میں تمام جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کریںگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بلند مرتبہ شخص دوسرے نسبتاً کم درجے کے شخص کی طرف متوجہ ہوگا اور اس سے ملاقات کرے گا لیکن جنتیوں میںیہ احساس نہیں ہو گا کہ کوئی معمولی اور ذلیل خیال کیا جائے۔ بہرحال اس بلند مرتبہ شخص کو کمتر مرتبے کے شخص کا لباس پسند نہیں آئے گا۔ ابھی ان دونوں کا سلسلہ گفتگو ختم بھی نہ ہونے پائے گا کہ (یکایک) وہ بلند مرتبہ شخص محسوس کرے گا کہ میرے مخاطب کا لباس تو مجھ سے بھی بہتر ہے۔ (ایسا اس لئے ہوگا کہ جنت میں کسی شخص کو غمگین ہونے کا موقع نہیںدیا جائے گا)۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم سب جنتی اپنے اپنے محلات اور مکانوں کی طرف واپس ہوںگے اور وہاں ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی تو مرحبا اور خوش آمدید کہہ کر ہمارا استقبال کریںگی۔ ہر عورت اپنے شوہر یا مرد سے کہے گی کہ تم اس حال میں واپس آئے ہو کہ اس وقت تمہارا حسن و جمال اس حسن و جمال سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس سے جاتے وقت تمہارا تھا تو ہم اپنی بیویوں سے کہیں گے کہ آج ہمیں اپنے پروردگار کے ساتھ بیٹھنے کی عزت حاصل ہوئی ہے جو جسم و بدن اور حسن و جمال کی ہر کمی کو پورا کرنے والا ہے۔ 

(ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ)

(۲۲) جنتیوں میں سب سے کم مرتبے کا جو شخص ہوگا، اس کے اسی ہزار خادم اور بہتّر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لئے جو خیمہ نصب کیا جائے گا وہ موتی، زبرجد اور یاقوت سے بنا ہوگا۔ جنتیوں کے سر پر جو تاج ہوگا، اس کا سب سے معمولی موتی بھی ایسا ہوگا کہ مشرق سے مغرب تک ساری دنیا کو روشن کردے گا۔

 (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ۔ روایت حضرت ابو سعید ؓ خدری)

(۲۳) جنت میں ''حورانِ عین'' کے اجتماع کی ایک جگہ ہوگی جہاں وہ بلند آواز سے گیت گائیں گی (ان کی آواز اس قدر حسین اور دل کش ہوگی کہ) مخلوقات میں سے کسی نے ایسی آواز نہیںسنی ہوگی۔ وہ حوریں جو گیت گائیں گی وہ یہ ہوگا۔

نَحْنُ الْخٰلِدَاتُ فَلاَ نَبِیْدُ

وَنَحْنُ الْنَاعِمَاتُ فَلاَ نَبَأَسُ

وَنَحْنُ الرَّاضِیَاتُ فَلاَ نُسْخَطُ

طُوْبٰی لِمَنْ کَانَ لَنَا وَکُنَّا لَہٗ

یعنی ہمیں ہمیشہ کی زندگی حاصل ہے، اور موت ہمیں کبھی نہ آئے گی۔ ہم عیش و چین سے رہنے والی ہیں، کبھی سختی نہیں دیکھیں گی۔ ہم راضی خوشی رہنے والی ہیں، کبھی ناخوش نہیں ہوں گی۔ مبارکباد ہے ہر اس شخص کے لئے جو ہمارے لئے ہے اور ہم جس کے لئے ہیں۔ 

(ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ، روایت حضرت علیؓ)​

(۲۴) جنت میں پانی کا دریا ہے، اور شہد کا دریا ہے، دودھ کا دریا ہے اور شراب کا دریا ہے اور (پھر جنت میں داخل ہونے کے بعد) ان دریاؤں سے مزید نہریں بہہ نکلیں گی۔

 (ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ۔ روایت حکیم ابن معاویہؓ)

(۲۵) جنتی مرد ایک پہلو سے دوسرا پہلو بدلنے تک ستر مسندوں کا تکیہ لگا کر بیٹھے گا۔ پھر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت اس کے پاس آئے گی (اور اسے متوجہ کرنے کے لئے) اس کے کندھے پر ٹھوکا دے گی جس سے وہ مرد اس کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے رخساروں میں اپنا چہرہ دیکھے گا (جو آئینے کی طرح شفاف و روشن ہوں گے)۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عورت کے (کسی زیور یا تاج میں جڑا ہوا) ایک معمولی سا موتی بھی اگر دنیا میں آجائے تو وہ مشرق سے مغرب تک ہر چیز کو منور کردے۔

بہرحال وہ عورت اس مرد کو سلام کرے گی جس کا جواب مرد دے گا۔ پھر پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ وہ کہے گی کہ میں ''مزید'' ہی سے ہوں۔ اور صورت حال یہ ہوگی کہ اس عورت کے جسم پر ستر کپڑوں کا لباس ہوگا۔ اس مرد کی نظر عورت کے اس لباس میں سے بھی پار ہوجائے گی یہاں تک کہ وہ مرد اس عورت کی پنڈلی کے گودے کو لباس کے پیچھے سے بھی دیکھ لے گا۔ اس عورت کے سر پر تاج رکھے ہوں گے جن کا ایک معمولی سا موتی بھی اگر دنیا میں آجائے تو مشرق سے مغرب تک ہر چیز کو روشن کردے۔

 (احمد بحوالہ مشکوٰۃ۔ روایت حضرت ابو سعید خدریؓ)

وضاحت: یہاں ''مزید'' سے مراد وہ اضافی انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ اہل جنت کو عطا فرمائے گا۔ یعنی ''لھم فیھا مایشاؤن ولدینا مزید۔''

(۲۶) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی مسلمان بیٹھا تھا۔ اس وقت آپ حدیث ارشاد فرما رہے تھے کہ جنتیوں میں سے ایک شخص اپنے پروردگار سے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت طلب کرے گا۔ خداوند تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ جو کچھ تم (پیداکرنا) چاہتے ہو، کیا وہ یہاں موجود نہیں ہے؟ وہ شخص عرض کرے گا کہ بے شک یہاں سب کچھ موجود ہے لیکن میری خواہش ہے کہ میں کھیتی باڑی کروں۔ بہرحال اس شخص کو کھیتی کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ چنانچہ وہ زمین میں بیج ڈالے گا اور پلک جھپکتے ہی سبزہ اُگ آئے گا۔ پھر اسی وقت پک کر تیار ہوجائے گا اور اس کے انبار لگ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے فرمائے گا ''اے ابن آدم تیری خواہش پوری ہوگئی۔''

یہ حدیث سن کر وہ دیہاتی کہنے لگا خدا کی قسم وہ شخص یقینا یا تو قریشیوں میں سے ہوگا یا انصاریوں میں سے۔ جہاں تک ہم دیہاتیوں کا تعلق ہے، کھیتی باڑی سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنس پڑے۔

 (بخاری بحوالہ مشکوٰۃ۔ روایت حضرت ابو ہریرہؓ)

(۲۷) معمولی درجے کا جنتی وہ شخص ہو گا جس کے لئے اسی ہزار خدمت گذار ہوں گے اور بہترّ بیویاں ہوں گی۔ اس کے لئے ایک خیمہ لگایا جائے گا جو موتی، زبرجد اور یاقوت کا بنا ہوا ہو گا۔ اس خیمے کا طول و عرض اتنا ہو گا جتنا جابیہ (شام کے ایک شہر) سے صنعا (یمن کے ایک شہر) تک کا فاصلہ ہے۔ 

(ترمذی)

(۲۸) جنتی جب جنت میں داخل کئے جائیں گے تو ایک آواز دینے والا انہیں آواز دے گا۔

(i) اے جنت والو! تم ہمیشہ ہمیشہ تندرست رہو گے اور کبھی بیمار نہ ہو گے۔

(ii) تم ہمیشہ جوان رہو گے، اور تمہیں کبھی بڑھاپا نہ آئے گا۔

(iii) تم زندہ رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہ آئے گی۔ اور

(iv) تم ہمیشہ چین اور آرام میں رہوگے اور کبھی تکلیف نہ دیکھو گے۔ 

(مسلم)

(۲۹) جنت کے ایک ایک دروازے کی دو چوکھٹوں کے درمیان اتنی چوڑائی ہوگی کہ اگر کوئی شخص اس کی چوڑائی میں چلے تو پورے چالیس سال میں اس کی چوڑائی ختم ہو۔ 

(مسلم)


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے۔ اللہ پاک فرمائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر  ( بھی )  ایمان ہو، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو۔ تب  ( ایسے لوگ )  دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے۔  ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا )  اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے  (  «حياء» کی بجائے )  «حياة»،‏‏‏‏ اور  (  «خردل من ايمان» )  کی بجائے  (  «خردل من خير» )  کا لفظ بیان کیا۔(بخاری22)