نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہو، اور یہ شرط، ٹیلی فون یا موبائل کے ذریعہ براہِ راست نکاح کرنے میں نہیں پائی جاتی، اس لیے ٹیلی فون یا موبائل پر نکاح درست نہیں۔ ہاں البتہ نکاح کا وکیل بنایا جاسکتا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً عاقدین میں سے ایک شخص سعودی عرب میں ہو، اور وہ ٹیلیفون کے ذریعہ ہندوستان میں کسی کو اپنے نکاح کاوکیل بنادے اور وکیل دو گواہوں کے سامنے اپنے موٴکل کی طرف سے ایجاب کرے اور دوسرا فریق اسی مجلس میں اسے قبول کرلے تو اس طرح نکاح منعقد ہوجائے گا۔ کیوں کہ اس صورت میں ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں پایا گیا۔
الفتاوى الهندية (1/ 268)
'' (ومنها) سماع الشاهدين كلامهما معاً، هكذا في فتح القدير''
No comments:
Post a Comment