قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 229 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ"۔
اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے: "پھر یا تو بھلائی کے ساتھ روک رکھنا ہے یا نیکی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے"۔
یہ آیت اسلامی عائلی قوانین (Family Laws) اور میاں بیوی کے تعلقات کے حوالے سے ایک بنیادی اور سنہری اصول بیان کرتی ہے۔ یہ اصول خاص طور پر اس وقت لاگو ہوتا ہے جب ازدواجی زندگی میں دراڑ آ جائے اور علیحدگی یا طلاق کی نوبت آ پہنچے۔
اس حکمِ الٰہی کی تفصیلی تشریح درج ذیل دو اہم حصوں پر مشتمل ہے:
1۔ اِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ (بھلائی کے ساتھ روک رکھنا)
- معنی: اگر میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہوں اور طلاق (پہلی یا دوسری) کے بعد رجوع کرنے کا موقع ہو، تو شوہر کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔
- تشریح: "بھلائی کے ساتھ روکنے" کا مطلب یہ ہے کہ اگر شوہر رجوع کر رہا ہے، تو اس کی نیت بیوی کو ستانا، ذلیل کرنا یا انتقام لینا نہ ہو، بلکہ محبت اور خلوص کے ساتھ دوبارہ گھر بسانا ہو۔ اسے بیوی کے تمام حقوق (نان و نفقہ، عزت، اور حسنِ سلوک) اسی طرح ادا کرنے ہوں گے جیسے ایک اچھے شوہر کو کرنے چاہئیں۔
- ممانعت: اسلام اس بات کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ بیوی کو صرف اس لیے نکاح میں جکڑ کر رکھا جائے تاکہ اسے تنگ کیا جائے یا وہ مجبور ہو کر اپنا مہر چھوڑ دے۔
2۔ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ (نیکی کے ساتھ رخصت کر دینا)
- معنی: اگر شوہر کو یہ محسوس ہو کہ اب مزاج یا حالات کے فرق کی وجہ سے نباہ ممکن نہیں ہے، اور دل صاف کر کے ساتھ رہنا محال ہے، تو اسلام اسے الگ ہونے کا راستہ دیتا ہے۔ لیکن یہ علیحدگی لڑائی جھگڑے، گالی گلوچ یا دشمنی کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے۔
- تشریح: "احسان کے ساتھ رخصت کرنے" کا مطلب یہ ہے کہ طلاق انتہائی باوقار طریقے سے دی جائے۔ رخصت کرتے وقت عورت پر جھوٹے الزامات نہ لگائے جائیں، اس کی کردار کشی نہ ہو، اور جو تحائف یا مہر اسے دیا جا چکا ہے، وہ واپس نہ مانگا جائے (جیسا کہ اسی آیت کے اگلے حصے میں تفصیل ہے)۔ بلکہ رخصت کرتے وقت بھی اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ یا کپڑے وغیرہ (متاع) دے کر رخصت کیا جائے تاکہ اس کی دلجوئی ہو۔
خلاصہ اور حاصلِ کلام
یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں شرافت کے ساتھ جینے اور شرافت کے ساتھ الگ ہونے کا حکم ہے۔
- اگر ساتھ رہنا ہے، تو عزت اور محبت کے ساتھ رہا جائے۔
- اگر الگ ہونا ہے، تو خوش اسلوبی، امن اور احترام کے ساتھ الگ ہوا جائے، نہ کہ ایک دوسرے کی زندگی کو عذاب بنا کر
No comments:
Post a Comment