واضح رہے کہ شوہر کی طرف سے بیوی پر ظلم و زیادتی نیز شقاق یعنی ایک دوسرے سے نفرت، عداوت اور دشمنی کی بنیاد پر فسخ نکاح احناف کے نزدیک نہیں ہے، لیکن ضرورت و حاجت کے پیش نظر احناف نے امام مالک کا قول اختیار کر لیا ہے، موجودہ دارالقضاؤں کا عمل اسی پر ہے۔
” شقاق” کا مفہوم یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات آخری درجہ میں خراب ہوجائیں، ان کے درمیان نفرت پیدا ہو جائے اور وہ یہ سمجھیں کہ اب ان کا ایک ساتھ رہنا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارپانا مشکل ہے ،خواہ یہ نفرت بیوی کو تکلیف دہ مار پیٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو یا بیوی کے نشوز یا دونوں خاندانوں میں دشمنی یا دیگر وجوہات سے پیدا ہوئی ہو۔
یہ بھی واضح رہے کہ ایک فریق کی طرف سے بھی تنفر ہو تو شقاق متحقق ہو جائے گا، اس لیے کہ ایک فریق نفرت کرےگا،دوسرا نہ کرے تب بھی وہ الگ گوشہ اختیار کرنے والا قرار دیا جائے گا ۔(اسلامی عائلی قوانین: ۱۷۶- ۱۷۷)
No comments:
Post a Comment