تخلیق کائنات پر غوروفکر کرنے والی آیات کی مکمل فہرست مع اُردو ترجمہ وعربی متن وحوالہ آیت
قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر تخلیقِ کائنات اور اس میں موجود نشانیوں پر غور و فکر (تفکر و تدبر) کرنے کی واضح دعوت دی گئی ہے۔ ذیل میں تخلیقِ کائنات پر غور و فکر سے متعلق اہم ترین قرآنی آیات کی فہرست، عربی متن، اردو ترجمہ اور حوالہ جات کے ساتھ درج ہے:
1۔ سورة آل عمران (آیت 190 - 191)
یہ آیات کائنات کی تخلیق، دن رات کے بدلنے اور ان میں دانشوروں کے لیے غور و فکر کی اہمیت کو سب سے نمایاں انداز میں بیان کرتی ہیں۔
عربی متن:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿١٩0﴾ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿١٩١﴾
اردو ترجمہ:
"بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے میں عقل مندوں کے لیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد اور بیکار پیدا نہیں کیا، تو (عبث کام سے) پاک ہے، پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے"۔
2۔ سورۃ البقرہ (آیت 164)
کائنات کے نظام اور عناصرِ فطرت پر تفصیلی تدبر کی دعوت دینے والی جامع ترین آیت۔
عربی متن:
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿١٦٤﴾
اردو ترجمہ:
"بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے باری باری آنے جانے میں، اور ان کشتیوں (و جہازوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والا سامان لے کر چلتی ہیں، اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت (یعنی بنجر ہونے) کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیے، اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکمِ الٰہی کا) پابند ہو کر مٹھی میں رہتا ہے، ان لوگوں کے لیے (اللہ کی توحید و قدرت کی) بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔"
3۔ سورۃ الانبیاء (آیت 30)
کائنات کی ابتدائی تخلیق (بگ بینگ یا رتق و فتق) پر غور کی دعوت۔
عربی متن:
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ﴿٣٠﴾
اردو ترجمہ:
"اور کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی (آپس میں جڑے ہوئے) تھے، پھر ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز کی نمود پانی سے کی، کیا وہ (ہماری اس خلّاقی کو دیکھ کر بھی) ایمان نہیں لاتے؟"
4۔ سورۃ الجاثیہ (آیت 3 - 5)
زمین و آسمان اور انسان کی اپنی تخلیق پر تفکر کا حکم۔
عربی متن:
إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ﴿٣﴾ وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿٤﴾ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٥﴾
اردو ترجمہ:
"بیشک آسمانوں اور زمین میں مومنوں کے لیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں میں جنہیں وہ (زمین میں) پھیلاتا ہے، یقین رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور اس رزق (بارش) میں جسے اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔"
5۔ سورۃ الروم (آیت 8)
انسان کو اپنی ذات اور کائنات کی تخلیق کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت۔
عربی متن:
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِم ۗ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى... ﴿٨﴾
اردو ترجمہ:
"کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، پیدا نہیں کیا مگر حق (حکمت و مصلحت) کے ساتھ اور ایک مقررہ وقت کے لیے..."
6۔ سورۃ الاعراف (آیت 185)
کائنات کی سلطنت اور ملکوت پر نظر دوڑانے کی دعوت۔
عربی متن:
أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ... ﴿١٨٥﴾
اردو ترجمہ:
"کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور ان چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں، غور و فکر کی نظر سے نہیں دیکھا؟..."
7۔ سورۃ یونس (آیت 101)
کائنات کی نشانیوں کو دیکھنے کی براہِ راست دعوت۔
عربی متن:
قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ ﴿١٠١﴾
اردو ترجمہ:
"آپ فرما دیجئے: تم غور کرو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ (نشانیاں) ہیں! اور نشانیاں اور ڈرانے والے (رسول) ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے جو ایمان نہیں لانا چاہتے۔"
8۔ سورۃ الغاشیہ (آیت 17 - 20)
مظاہرِ فطرت (اونٹ، آسمان، پہاڑ، زمین) کی ساخت پر غور کرنے کی ترغیب۔
عربی متن:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿١٧﴾ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَت * وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ * وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿٢٠﴾
اردو ترجمہ:
"تو کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے (عجیب ساخت پر) پیدا کیے گئے؟ اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے کھڑے کیے گئے؟ اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی؟"
No comments:
Post a Comment