صورتِ مسئولہ میں جب شوہر دو مرتبہ طلاق دینے کا اقرار کر رہا ہے اور عورت کو تعداد یاد نہیں ہے (اور تین کا کوئی معتبر شرعی ثبوت یا گواہ موجود نہیں ہیں)، تو فقہی اصول کے مطابق دو طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہیں۔ [1, 2, 3]
اس سے متعلق اہم احکام درج ذیل ہیں:
- طلاق کی تعداد: شوہر کی جانب سے دو مرتبہ طلاق دیے جانے کے اعتراف اور بیوی کو یقین نہ ہونے کی صورت میں صرف دو طلاقیں شمار ہوں گی۔ [1, 2]
- رجوع کا حق: دو طلاقِ رجعی کے بعد شوہر کو عدت (تین ماہواری) کے اندر اندر رجوع کرنے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ [1, 2, 3]
- رجوع کا طریقہ: زبان سے کہہ دینا (مثلاً یہ کہنا کہ "میں نے رجوع کیا") یا عدت کے دوران تعلقات قائم کرنے سے رجوع ہو جاتا ہے۔ رجوع پر گواہ بنانا سنت و بہتر ہے۔ [1, 2, 3]
- عدت گزرنے کا حکم: اگر عدت گزر گئی اور شوہر نے رجوع نہیں کیا، تو یہ طلاقِ بائن بن جائے گی اور دوبارہ ساتھ
- رہنے کے لیے نئے مہر اور گواہوں کے ساتھ تجدیدِ نکاح (نئے نکاح) کی ضرورت ہوگی۔ [1, 2, 3]
- قال تعالیٰ: {وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ، فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأْتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآئِ} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۸۲]
ونصابہا لغیرہا من الحقوق، سواء کان الحق مالا أو غیرہ، کنکاح وطلاق … رجلان أو رجل وامرأتان۔ (الدر المختار مع الشامي ۱۱؍۹۶-۹۷ زکریا)
والمرأۃ کالقاضي إذا سمعتہ أو أخبرہا عدل لایحل لہا تمکینہ۔ (شامي ۳؍۲۵۱ کراچی، ۴؍۴۶۳ زکریا، تبیین الحقائق ۲؍۲۱۸، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۳۵۴ زکریا، البحر الرائق / باب الطلاق ۳؍۲۵۷ کوئٹہ)
ویقع طلاق من غضب خلافا لابن القیم۔ (شامي ۴؍۴۵۲ زکریا) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
No comments:
Post a Comment