https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Monday, 19 October 2026

 تخلیق کائنات پر غوروفکر کرنے والی آیات کی مکمل فہرست مع اُردو ترجمہ وعربی متن وحوالہ آیت

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر تخلیقِ کائنات اور اس میں موجود نشانیوں پر غور و فکر (تفکر و تدبر) کرنے کی واضح دعوت دی گئی ہے۔ ذیل میں تخلیقِ کائنات پر غور و فکر سے متعلق اہم ترین قرآنی آیات کی فہرست، عربی متن، اردو ترجمہ اور حوالہ جات کے ساتھ درج ہے:

1۔ سورة آل عمران (آیت 190 - 191)

یہ آیات کائنات کی تخلیق، دن رات کے بدلنے اور ان میں دانشوروں کے لیے غور و فکر کی اہمیت کو سب سے نمایاں انداز میں بیان کرتی ہیں۔

  • عربی متن:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿١٩0﴾ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿١٩١﴾

  • اردو ترجمہ:

"بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے میں عقل مندوں کے لیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں:) اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد اور بیکار پیدا نہیں کیا، تو (عبث کام سے) پاک ہے، پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے"۔


2۔ سورۃ البقرہ (آیت 164)

کائنات کے نظام اور عناصرِ فطرت پر تفصیلی تدبر کی دعوت دینے والی جامع ترین آیت۔

  • عربی متن:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِن مَّاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿١٦٤﴾

  • اردو ترجمہ:

"بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے باری باری آنے جانے میں، اور ان کشتیوں (و جہازوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والا سامان لے کر چلتی ہیں، اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت (یعنی بنجر ہونے) کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلا دیے، اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکمِ الٰہی کا) پابند ہو کر مٹھی میں رہتا ہے، ان لوگوں کے لیے (اللہ کی توحید و قدرت کی) بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔"


3۔ سورۃ الانبیاء (آیت 30)

کائنات کی ابتدائی تخلیق (بگ بینگ یا رتق و فتق) پر غور کی دعوت۔

  • عربی متن:

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ﴿٣٠﴾

  • اردو ترجمہ:

"اور کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی (آپس میں جڑے ہوئے) تھے، پھر ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا، اور ہم نے (زمین پر) ہر زندہ چیز کی نمود پانی سے کی، کیا وہ (ہماری اس خلّاقی کو دیکھ کر بھی) ایمان نہیں لاتے؟"


4۔ سورۃ الجاثیہ (آیت 3 - 5)

زمین و آسمان اور انسان کی اپنی تخلیق پر تفکر کا حکم۔

  • عربی متن:

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ﴿٣﴾ وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِن دَابَّةٍ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿٤﴾ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنزَلَ اللَّهُ مِن السَّمَاءِ مِن رِّزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٥﴾

  • اردو ترجمہ:

"بیشک آسمانوں اور زمین میں مومنوں کے لیے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ اور خود تمہاری پیدائش میں اور ان جانوروں میں جنہیں وہ (زمین میں) پھیلاتا ہے، یقین رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور اس رزق (بارش) میں جسے اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔"


5۔ سورۃ الروم (آیت 8)

انسان کو اپنی ذات اور کائنات کی تخلیق کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت۔

  • عربی متن:

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِم ۗ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى... ﴿٨﴾

  • اردو ترجمہ:

"کیا انہوں نے اپنے دلوں میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، پیدا نہیں کیا مگر حق (حکمت و مصلحت) کے ساتھ اور ایک مقررہ وقت کے لیے..."


6۔ سورۃ الاعراف (آیت 185)

کائنات کی سلطنت اور ملکوت پر نظر دوڑانے کی دعوت۔

  • عربی متن:

أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ... ﴿١٨٥﴾

  • اردو ترجمہ:

"کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور ان چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں، غور و فکر کی نظر سے نہیں دیکھا؟..."


7۔ سورۃ یونس (آیت 101)

کائنات کی نشانیوں کو دیکھنے کی براہِ راست دعوت۔

  • عربی متن:

قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِي الْآيَاتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ ﴿١٠١﴾

  • اردو ترجمہ:

"آپ فرما دیجئے: تم غور کرو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ (نشانیاں) ہیں! اور نشانیاں اور ڈرانے والے (رسول) ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے جو ایمان نہیں لانا چاہتے۔"


8۔ سورۃ الغاشیہ (آیت 17 - 20)

مظاہرِ فطرت (اونٹ، آسمان، پہاڑ، زمین) کی ساخت پر غور کرنے کی ترغیب۔

  • عربی متن:

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ﴿١٧﴾ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَت * وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ * وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ﴿٢٠﴾

  • اردو ترجمہ:

"تو کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے (عجیب ساخت پر) پیدا کیے گئے؟ اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے کھڑے کیے گئے؟ اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی؟"

Saturday, 17 October 2026

 طلاق غضبان

طلاق عام طور پر غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے اور عام غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے، شریعت نے طلاق کے صریح الفاظ استعمال ہونے کے بعد ان میں  نیت کا کوئی اعتبار نہیں کیا۔

صورت  مسئولہ میں اگر شوہر کا غصہ ایسا تھا کہ غصہ کے باوجود اس کو یاد ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہے تھے اور یہ الفاظ کہتے وقت وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ ان الفاظ سے طلاق ہو جاتی ہے ، اپنے اختیار  و ارادے سے الفاظ ادا کیے تھے ،تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔

تاہم  اگر غصہ یا ذہنی دباؤ کا اس قدر غلبہ ہو جائے کہ دماغ ماؤف ہو جائے اور طلاق دینے والے کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کی خبر نہ رہے ،  طلاق کے الفاظ کہتے وقت غصے کی وجہ سے اس درجہ حواس باختہ ہوچکا ہو کہ اس کو یہ تمیز  نہ رہے کہ اس کے منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں ؟ یا جو الفاظ نکل رہے ہیں ان کا کیا معنی و مطلب ہے ؟ تو پھراگر شوہر کی یہ جنونی کیفیت پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ حلفیہ بیان بھی دے کہ طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس پر یہ جنونی کیفیت طاری تھی ، تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔

یا پھر  موقع پر موجود لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر  آدمی بوقت طلاق اس کی کیفیت و حرکات کودیکھتے ہوئے مغلوب الحواس ہونے کی گواہی دیں کہ شوہر کا غصہ واقعتاً اس قدر شدید تھا کہ اس کی عقل مغلوب ہوگئی تھی،  خود پر کنٹرول ختم ہوگیا تھا ،   حواس باختہ ہوچکا  تھا اور زبان پر مکمل کنٹرول ختم ہونے کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہے تھے، تواس صورت میں  طلاق واقع نہیں ہوگی :

الدر المختار مع رد المحتار3/ 641):

قال العلامة الحصكفي رحمه الله :   (ويقع طلاق) ... (ولو عبدا)... (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق، فجرى على لسانه الطلاق، أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا.

رد المحتار(3/ 244):

قال العلامة ابن عابدين  رحمه الله : وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ ،وهذا الموافق عندنا؛ لما مر في المدهوش... وصرح  في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول ، وسعه الأخذ بشهادتهما، وإلا لا ،  مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول ، يقع طلاقه ..  ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين.

رد المحتار(3/ 244):

قال العلامة ابن عابدين  رحمه الله : ينبغي التعويل عليه  إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته.. وقال : سئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق .فقط 


Wednesday, 14 October 2026

 فسخ نکاح کا مطلب ہے رشتہ نکاح کو توڑدینا، ختم کردینا، جب عورت دارالقضاء یا شرعی پنچایت میں دعویٰ دائر کرتی ہے کہ میرا نکاح میرے شوہر سے فلاں سبب سے (فسخ نکاح کے اسباب کتب فقہ میں بیان کیے گئے ہیں) ختم کردیا جائے تاکہ میں اس کی زوجیت سے آزاد ہوجاوٴں، تو قاضی اس درخواست پر غور وفکر او راحوال کی تفتیش کے بعد اگر عورت کا مطالبہ درست سمجھتا ہے تو ضابطے کی کارروائی کے بعد نکاح فسخ کردیتا ہے۔

Friday, 2 October 2026

ایک نشست کی تین طلاق کو ایک شمار کرنے والی احادیث کی حیثیت اور ان کے جوابات

 احادیث کی فنی حیثیت (صحت و ضعف کی وضاحت)

الف) حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی روایت
اس حدیث کے کتبِ حدیث میں دو مختلف الفاظ ملتے ہیں، جن پر محدثین کا کلام ہے:
  1. لفظِ "البتہ" والی روایت (سنن ابی داود و ترمذی): اس روایت کے راویوں میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی بن یزید شامل ہیں۔ امام بخاری، امام شوکانی اور دیگر محدثین نے اس سند کو مضطرب اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [1]
  2. لفظِ "ثلاثاً" (تین طلاق) والی روایت (مسند احمد): اس کی سند میں محمد بن اسحاق (صاحبِ مغازی) موجود ہیں، جن پر تدلیس کا اعتراض ہے۔ چانچہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ سند بھی کلام سے خالی نہیں، تاہم امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اس کی سند کو جید (بہتر) قرار دیا ہے۔ [1, 2]
ب) صحیح مسلم کی روایت (اثرِ ابن عباس رضی اللہ عنہما)
  • اس کی سند بالاتفاق بالکل صحیح اور مستند ہے۔ امام مسلم نے اسے عبد اللہ بن طاؤس عن ابیہ عن ابن عباس کی مضبوط ترین سند سے روایت کیا ہے۔
  • تاہم، امام احمد بن حنبل نے اس روایت کے متن کو دیگر روایات کے مقابلے میں "شاذ اور مطروح" (یعنی سند صحیح ہونے کے باوجود جمہور راویوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل) کہا ہے۔ [1, 2]

2. ائمہ اربعہ (جمہور فقہاء) کے جوابات
ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل) اس بات پر متفق ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور عورت مغلظہ بائنہ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مذکورہ احادیث کے درج ذیل علمی جوابات دیے ہیں: [1]
جواب 1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجماعِ صحابہ
جمہور ائمہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے طلاق کو مذاق بنا لیا تو حضرت عمر بن خطاب نے صحابہ کرام کی موجودگی میں تین طلاقوں کو تین ہی نافذ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس فیصلے پر تمام صحابہ نے سکوت اختیار کیا، جس سے اس پر اجماعِ صحابہ منعقد ہو گیا اور سابقہ رخصت منسوخ ہو گئی۔ [1, 2]
جواب 2: صحیح مسلم کی روایت کی توجیہ (تاویل)
جمہور فقہاء صحیح مسلم کی حدیث (کہ عیدِ نبوی میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں) کے دو جواب دیتے ہیں:
  • پہلا جواب: اس دور میں لوگ تاکید کے لیے ایک ہی لفظ کو بار بار دہراتے تھے (مثلاً: طالق، طالق، طالق)。 چونکہ نیت ایک ہی طلاق کی ہوتی تھی، اس لیے اسے ایک مانا جاتا تھا۔ بعد میں لوگوں نے تاکید کے بجائے بیک وقت تین طلاقیں دینے کی نیت شروع کر دی، جس پر حضرت عمر نے اسے تین ہی شمار کیا۔ [1, 2, 3, 4]
  • دوسرا جواب: اس سے مراد وہ غیر مدخولہ عورت (جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو) کی طلاق ہے، کیونکہ غیر مدخولہ کو ایک طلاق دینے سے ہی وہ بائنہ ہو جاتی ہے، لہذا بعد والے دو لفظ لغو ہو جاتے تھے۔
جواب 3: خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ
ائمہ اربعہ کا سب سے بڑا استدلال یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی خود حضرت عبداللہ بن عباس ہیں۔ لیکن جب ان سے کسی نے پوچھا کہ "میں نے اپنی بیوی کو اکٹھی سو (100) طلاقیں دے دی ہیں"، تو انہوں نے فتویٰ دیا: "تین سے وہ تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی 97 اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کا گناہ ہے"۔ اصولِ حدیث کا قاعدہ ہے کہ جب راوی کا اپنا فتویٰ اپنی ہی روایت کے خلاف ہو، تو فتویٰ کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ راوی کو روایت کا ناسخ یا اصل مفہوم زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ [1]
جواب 4: حضرت رکانہ کی حدیث سے جمہور کا استدلال
جمہور ائمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ سے قسم لی تھی کہ "کیا تم نے ایک ہی کی نیت کی تھی؟"۔ اگر ایک مجلس کی تین طلاقیں ہر حال میں ایک ہی ہوتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیت کی پوچھ گچھ کرنے اور قسم کھلانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ آپ کا قسم لینا ثابت کرتا ہے کہ اگر وہ تین کی نیت کرتے تو تین ہی واقع ہوتیں۔ [1]