احادیث کی فنی حیثیت (صحت و ضعف کی وضاحت)
- لفظِ "البتہ" والی روایت (سنن ابی داود و ترمذی): اس روایت کے راویوں میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی بن یزید شامل ہیں۔ امام بخاری، امام شوکانی اور دیگر محدثین نے اس سند کو مضطرب اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [1]
- لفظِ "ثلاثاً" (تین طلاق) والی روایت (مسند احمد): اس کی سند میں محمد بن اسحاق (صاحبِ مغازی) موجود ہیں، جن پر تدلیس کا اعتراض ہے۔ چانچہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ سند بھی کلام سے خالی نہیں، تاہم امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اس کی سند کو جید (بہتر) قرار دیا ہے۔ [1, 2]
- اس کی سند بالاتفاق بالکل صحیح اور مستند ہے۔ امام مسلم نے اسے عبد اللہ بن طاؤس عن ابیہ عن ابن عباس کی مضبوط ترین سند سے روایت کیا ہے۔
- تاہم، امام احمد بن حنبل نے اس روایت کے متن کو دیگر روایات کے مقابلے میں "شاذ اور مطروح" (یعنی سند صحیح ہونے کے باوجود جمہور راویوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل) کہا ہے۔ [1, 2]
- پہلا جواب: اس دور میں لوگ تاکید کے لیے ایک ہی لفظ کو بار بار دہراتے تھے (مثلاً: طالق، طالق، طالق)。 چونکہ نیت ایک ہی طلاق کی ہوتی تھی، اس لیے اسے ایک مانا جاتا تھا۔ بعد میں لوگوں نے تاکید کے بجائے بیک وقت تین طلاقیں دینے کی نیت شروع کر دی، جس پر حضرت عمر نے اسے تین ہی شمار کیا۔ [1, 2, 3, 4]
- دوسرا جواب: اس سے مراد وہ غیر مدخولہ عورت (جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو) کی طلاق ہے، کیونکہ غیر مدخولہ کو ایک طلاق دینے سے ہی وہ بائنہ ہو جاتی ہے، لہذا بعد والے دو لفظ لغو ہو جاتے تھے۔