https://follow.it/amir-samdani?action=followPub

Friday, 2 October 2026

ایک نشست کی تین طلاق کو ایک شمار کرنے والی احادیث کی حیثیت اور ان کے جوابات

 احادیث کی فنی حیثیت (صحت و ضعف کی وضاحت)

الف) حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی روایت
اس حدیث کے کتبِ حدیث میں دو مختلف الفاظ ملتے ہیں، جن پر محدثین کا کلام ہے:
  1. لفظِ "البتہ" والی روایت (سنن ابی داود و ترمذی): اس روایت کے راویوں میں زبیر بن سعید اور عبد اللہ بن علی بن یزید شامل ہیں۔ امام بخاری، امام شوکانی اور دیگر محدثین نے اس سند کو مضطرب اور ضعیف قرار دیا ہے۔ [1]
  2. لفظِ "ثلاثاً" (تین طلاق) والی روایت (مسند احمد): اس کی سند میں محمد بن اسحاق (صاحبِ مغازی) موجود ہیں، جن پر تدلیس کا اعتراض ہے۔ چانچہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ سند بھی کلام سے خالی نہیں، تاہم امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے اس کی سند کو جید (بہتر) قرار دیا ہے۔ [1, 2]
ب) صحیح مسلم کی روایت (اثرِ ابن عباس رضی اللہ عنہما)
  • اس کی سند بالاتفاق بالکل صحیح اور مستند ہے۔ امام مسلم نے اسے عبد اللہ بن طاؤس عن ابیہ عن ابن عباس کی مضبوط ترین سند سے روایت کیا ہے۔
  • تاہم، امام احمد بن حنبل نے اس روایت کے متن کو دیگر روایات کے مقابلے میں "شاذ اور مطروح" (یعنی سند صحیح ہونے کے باوجود جمہور راویوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل) کہا ہے۔ [1, 2]

2. ائمہ اربعہ (جمہور فقہاء) کے جوابات
ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل) اس بات پر متفق ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں اور عورت مغلظہ بائنہ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مذکورہ احادیث کے درج ذیل علمی جوابات دیے ہیں: [1]
جواب 1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجماعِ صحابہ
جمہور ائمہ فرماتے ہیں کہ جب لوگوں نے طلاق کو مذاق بنا لیا تو حضرت عمر بن خطاب نے صحابہ کرام کی موجودگی میں تین طلاقوں کو تین ہی نافذ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس فیصلے پر تمام صحابہ نے سکوت اختیار کیا، جس سے اس پر اجماعِ صحابہ منعقد ہو گیا اور سابقہ رخصت منسوخ ہو گئی۔ [1, 2]
جواب 2: صحیح مسلم کی روایت کی توجیہ (تاویل)
جمہور فقہاء صحیح مسلم کی حدیث (کہ عیدِ نبوی میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں) کے دو جواب دیتے ہیں:
  • پہلا جواب: اس دور میں لوگ تاکید کے لیے ایک ہی لفظ کو بار بار دہراتے تھے (مثلاً: طالق، طالق، طالق)。 چونکہ نیت ایک ہی طلاق کی ہوتی تھی، اس لیے اسے ایک مانا جاتا تھا۔ بعد میں لوگوں نے تاکید کے بجائے بیک وقت تین طلاقیں دینے کی نیت شروع کر دی، جس پر حضرت عمر نے اسے تین ہی شمار کیا۔ [1, 2, 3, 4]
  • دوسرا جواب: اس سے مراد وہ غیر مدخولہ عورت (جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو) کی طلاق ہے، کیونکہ غیر مدخولہ کو ایک طلاق دینے سے ہی وہ بائنہ ہو جاتی ہے، لہذا بعد والے دو لفظ لغو ہو جاتے تھے۔
جواب 3: خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ
ائمہ اربعہ کا سب سے بڑا استدلال یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی خود حضرت عبداللہ بن عباس ہیں۔ لیکن جب ان سے کسی نے پوچھا کہ "میں نے اپنی بیوی کو اکٹھی سو (100) طلاقیں دے دی ہیں"، تو انہوں نے فتویٰ دیا: "تین سے وہ تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی 97 اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کا گناہ ہے"۔ اصولِ حدیث کا قاعدہ ہے کہ جب راوی کا اپنا فتویٰ اپنی ہی روایت کے خلاف ہو، تو فتویٰ کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ راوی کو روایت کا ناسخ یا اصل مفہوم زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ [1]
جواب 4: حضرت رکانہ کی حدیث سے جمہور کا استدلال
جمہور ائمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ سے قسم لی تھی کہ "کیا تم نے ایک ہی کی نیت کی تھی؟"۔ اگر ایک مجلس کی تین طلاقیں ہر حال میں ایک ہی ہوتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیت کی پوچھ گچھ کرنے اور قسم کھلانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ آپ کا قسم لینا ثابت کرتا ہے کہ اگر وہ تین کی نیت کرتے تو تین ہی واقع ہوتیں۔ [1]

Tuesday, 29 September 2026

  واضح رہے کہ شوہر کی طرف سے بیوی پر ظلم و زیادتی نیز شقاق یعنی ایک دوسرے سے نفرت، عداوت اور دشمنی کی بنیاد پر فسخ نکاح احناف کے نزدیک نہیں ہے، لیکن ضرورت و حاجت کے پیش نظر احناف نے امام مالک کا قول اختیار کر لیا ہے، موجودہ دارالقضاؤں کا عمل اسی پر ہے۔

” شقاق” کا مفہوم یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات آخری درجہ میں خراب ہوجائیں، ان کے درمیان نفرت پیدا ہو جائے اور وہ یہ سمجھیں کہ اب ان کا ایک ساتھ رہنا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارپانا مشکل ہے ،خواہ یہ نفرت بیوی کو تکلیف دہ مار پیٹ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو یا بیوی کے نشوز یا دونوں خاندانوں میں دشمنی یا دیگر وجوہات سے پیدا ہوئی ہو۔

 یہ بھی واضح رہے کہ ایک فریق کی طرف سے بھی تنفر ہو تو شقاق متحقق ہو جائے گا، اس لیے کہ ایک فریق نفرت کرےگا،دوسرا نہ کرے تب بھی وہ الگ گوشہ اختیار کرنے والا قرار دیا جائے گا ۔(اسلامی عائلی قوانین: ۱۷۶- ۱۷۷)

Monday, 14 September 2026

 شوہر کے انتقال کی صورت میں اس کے ترکہ (چھوڑے ہوئے مال) میں سے سب سے پہلے بیوی کا حقِ مہر بطور قرض ادا کیا جائے گا، اس کے بعد بقیہ مال سے میراث تقسیم ہوگی۔  2]

  • مہر شوہر پر قرض ہے: حقِ مہر بیوی کا شرعی حق اور شوہر کے ذمے ایک قرض ہوتا ہے2
  • ترکہ کی تقسیم سے پہلے ادائیگی: شریعت کا اصول ہے کہ کسی بھی میت کی جائیداد یا میراث تقسیم کرنے سے پہلے اس کے ذمے لازم تمام قرضے ادا کیے جاتے ہیں، جن میں بیوی کا مہر بھی شامل ہے۔  2
  • مہر کے علاوہ میراث کا حصہ: بیوی کو اس کا حقِ مہر پورا دینے کے بعد، مرحوم شوہر کے باقی ماندہ ترکہ میں سے شرعی اصولوں کے مطابق بیوہ کا جو حصہ بنتا ہے، وہ بھی اسے الگ سے ملے گا۔ [1]
  • معافی کا اختیار: اگر بیوی خود اپنی خوش دلی سے حقِ مہر معاف کر دے تو شوہر اس ذمہ داری سے بری ہو جاتا ہے، ورنہ ورثاء پر لازم ہے کہ وہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے مہر کی رقم ادا کریں۔ 3
  • فتاوی ہندیہ میں ہے:

    "المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

    (كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، صفحه: 304، ط: دارالفکر)

  • فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

    "قال: (وإذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، وإن لم يكن سمى له مهرًا فلا شيء لورثتها عند أبي حنيفة. وقالا: لورثتها المهر في الوجهين) معناه المسمى في الوجه الأول ومهر المثل في الوجه الثاني، أما الأول؛ فلأن المسمى دين في ذمته وقد تأكد بالموت فيقضى من تركته، إلا إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط  نصيبه من ذلك. وأما الثاني فوجه قولهما أن مهر المثل صار دينا في ذمته كالمسمى فلا يسقط بالموت كما إذا مات أحدهما. ولأبي حنيفة أن موتهما يدل على انقراض أقرانهما فبمهر من يقدر القاضي مهر المثل.

    (قوله: على ما نبينه) يعني في المسألة التي تليها من غير فصل، وهي ما إذا مات الزوجان وقد سمى لها مهرا ثبت ذلك بالبينة أو بتصادق الورثة فلورثتها أن يأخذوا ذلك من ميراث الزوج، هذا إذا علم أن الزوج مات أولا أو علم أنهما ماتا معا أو لم تعلم الأولية؛ لأن المهر كان معلوم الثبوت، فلما لم يتيقن بسقوط شيء منه بموت المرأة أولا لا يسقط، وأما إذا علم أنها ماتت أولا فيسقط منه نصيب الزوج؛ لأنه ورث دينا على نفسه."

     (‌‌كتاب النكاح، باب المهر، ج: 3، ص: 378، ط: دار الفكر)


Thursday, 10 September 2026

ایک بیوی،ایک بیٹا اور تین بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

 صورتِ  مسئولہ میں مرحوم کے کل ترکہ کو  40 حصوں میں تقسیم کرکے، 5 حصے بیوہ کو ، 14 حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور 7 حصے ان کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔ یعنی سو روپے میں سے ساڑھے بارہ روپے مرحوم کی بیوہ کو ، پینتیس روپے مرحوم کے  اکلوتے بیٹے  کو  اور ساڑھے سترہ روپے ان کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔ 

دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 11- 12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ....الخ
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....الخ

الھندیۃ: (447/6، ط: دار الفکر)
"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط۔۔۔ثم بالدين۔۔۔ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين۔۔۔ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث"

و فیھا ایضاً: (448/6، ط: دار الفکر)
"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في

فقط واللہ اعلم بالصواب 

Wednesday, 9 September 2026

وراثت میں حصہ

 بخدمت جناب

محترم قاضی ء شرعی عدالت

مفتی عامر صاحب دامت برکاتہم


موضوع: زرعی زمین میں شادی شدہ بیٹی کے حقِ وراثت کے متعلق


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


محترم جناب!

نہایت ادب سے عرض ہے کہ ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ والدین کی ملکیت میں موجود زرعی زمین میں شادی شدہ بیٹی کا شرعی حصہ ہوتا ہے یا نہیں؟ نیز کیا شادی شدہ ہونے کی وجہ سے بیٹی اپنے والد کی زرعی زمین میں حقِ وراثت سے محروم ہو جاتی ہے؟


براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا شرعی حکم عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔


جزاکم اللہ خیراً


درخواست گزار:

اخلاص شیروانی

179/6، بیت القمر، سرائے رحمان، علی گڑھ

موبائل نمبر:25786 97606


الجواب وباللہ التوفیق ومنہ المستعان وعلیہ التکلان ۔


 ترکہ کی زمین خواہ بسنے والی ہو یعنی (آبادی والی) یا غیر آبادی والی ہو یعنی کھیتی و کاشت والی، زرعی ہر طرح کی زمینوں میں بیٹے اور بیٹی کا حصہ ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ زرعی زمین میں یابسنے والی زمین میں بیٹی کا حصہ نہیں ہوتا ہے،شرعاً درست نہیں ہے۔

نیز شادی سے وراثت یاترکہ میں حصہ داری پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

شادی شدہ بیٹیوں کا والدین کی زرعی یا دوسری زمین میں شرعی حق اور حصہ ہوتا ہے۔ شریعت میں بیٹی کا یہ حق شادی کے بعد ختم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرحوم والدین کی جائیداد میں باقاعدہ وارث بنتی ہے۔

قال اللّٰہ تعالٰی: ”للرجال نصیب مما ترک الوالدٰن والأقربون وللنساء نصیب مما ترک الوالدٰن والأقربون مما قل منہ أو کثر نصیبا مفروضاً“ (سورة النساء، رقم الآیة: ۷)۔

مشکوۃ المصابیح: (باب الغصب و العاریة، 254/1، ط: قدیمی)

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»".


الدر المختار: (689/5، ط: دار الفکر)

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة"


الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: (4984/7، ط: دار الفكر)

ليس المرء حرا بالتصرف في ماله بعد وفاته حسبما يشاء كما هو مقرر في النظام الرأسمالي، وإنما هو مقيد بنظام الإرث الذي يعتبر في الإسلام من قواعد النظام الإلهي العام التي لا يجوز للأفراد الاتفاق على خلافها، فالإرث حق جبري.


فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت."

(کتاب الفرائض،ج۶،ص۴۴۸،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم بالصواب محمد عامر الصمدانی 

٤ربیع الاول ١٤٤٨ھ/١٨اگست٢٠٢٦ء

قاضی ء شریعت دارالقضاء آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،علی گڑھ 

باپ سے ان جایداد میں سے حق مانگنا

 الجواب وباللہ التوفیق ومنہ المستعان وعلیہ التکلان ۔

صورت مسئولہ میں  بیٹے کو باپ کی حیات میں ان کی جائیداد میں سے اپنا حصہ مانگنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔نہ شرعاً نہ قانوناً ۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء... وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره... وأطلق في الابن ولم يقيده بالغنى مع أنه مقيد به لما في شرح الطحاوي ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا."(كتاب الطلاق،باب النفقة،نفقة الأبوين والأجداد والجدات،ج:4،ص:349،348،ط:دارالكتب العلمية)

سنن ترمذی میں ہے:  "عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد."

(‌‌أبواب البر والصلة،باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين،ج:4،ص:310،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:  رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے."

وفیه ایضاً:

"قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:الوالد أوسط أبواب الجنة، فإن شئت فأضع ذلك الباب أو احفظه."

(أبواب البر والصلة،باب ما جاء من الفضل في رضا الوالدين،ج:4،ص:311،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، اگر تم چاہو تو اس دروازہ کو ضائع کر دو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو ۔"

Thursday, 20 August 2026

امام کے ساتھ مقتدی نے سجدۂ تلاوت نہیں کیا نماز لوٹانے کی ضرورت

 صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ مقتدی کی نماز ہوجائے گی، نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر قصداً امام کے ساتھ سجدہ تلاوت نہیں کیا  تو ایسی صورت میں توبہ واستغفار کرنا  لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 472):
’’وإنما تفسد بمخالفته في الفروض كما بسطناه في الخزائن.

(قوله: وإنما تفسد) أي الصلاة بمخالفته في الفروض المراد بالمخالفة هنا عدم المتابعة أصلاً بأنواعها الثلاث المارة، والفساد في الحقيقة إنما هو بترك الفرض، لا بترك المتابعة، لكن أسند إليها لأنه يلزم منها تركه، وخص الفرض؛ لأنه لا فساد بترك الواجب أو السنة‘‘. 

وفیه أیضاً (2/ 82):
’’(ومقتد بسهو إمامه إن سجد إمامه)؛ لوجوب المتابعة (لا بسهوه) أصلاً‘‘.
وفي الرد: ’’... بل الأولى التمسك بما روى ابن عمر عنه صلى الله عليه وسلم: «ليس على من خلف الإمام سهو» اهـ‘‘.

وفیه أیضاً (2/ 110):
’’(ولو تلاها في الصلاة سجدها فيها لا خارجها)؛ لما مر. وفي البدائع: وإذا لم يسجد أثم فتلزمه التوبة.
(قوله: وإذا لم يسجد أثم إلخ) أفاد أنه لا يقضيها. قال في شرح المنية: وكل سجدة وجبت في الصلاة ولم تؤد فيها سقطت أي لم يبق السجود لها مشروعاً؛ لفوات محله. اهـ.
أقول: وهذا إذا لم يركع بعدها على الفور وإلا دخلت في السجود وإن لم ينوها كما سيأتي وهو مقيد أيضاً بما إذا تركها عمداً حتى سلم وخرج من حرمة الصلاة. أما لو سهواً وتذكرها ولو بعد السلام قبل أن يفعل منافياً يأتي بها ويسجد للسهو، كما قدمناه

Monday, 17 August 2026

واپسی ء مھر سے مشروط خلع فریقین نےکیا، عورت نے مھر واپس نہیں کیا تب بھی خلع ہوگیا

 الخلع المشروط بردّ المهر أو جزء منه يقع باختلاف الزوجين إذا تم الاتفاق عليه، لكن الشرط المتعلق بردّ المهر يبقى ديناً في ذمة المرأة إذا لم تقم بتنفيذه، ولا يُلغى الخلع نفسه عند عدم الأداء الفوري.

حكم الخلع عند عدم رد المهر المشروط
  • يصح الخلع ويتم به فراق الزوجة.
  • يلزم الزوجة ردّ ما اشترطه الزوج من مهر أو عوض.
  • عدم أداء الشرط لا يمنع وقوع الخلع في أرجح أقوال أهل العلم.
  • يثبت المال (المهر أو العوض) ديناً حالاً في ذمة الزوجة للمطالبة به قضائياً.

Sunday, 9 August 2026

بیوہ،ماں،اور بہن کے درمیان ترکہ کیسے تقسیم ہوگا

 اگر کسی مرد کا انتقال ہو جائے اور اس کے ورثاء میں صرف ایک بیوہ، ماں اور ایک حقیقی/سگی بہن شامل ہوں (اور اولاد یا باپ موجود نہ ہوں)، تو فقہی اصولِ میراث (عَوْل کے قاعدے کے مطابق) کل ترکہ کو 13 برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ [1]

تفصیلی حصے درج ذیل ہیں:
  • بیوہ کا حصہ: کل ترکہ کا 3/13 واں حصہ (تقریباً 23.07%)
  • ماں کا حصہ: کل ترکہ کا 4/13 واں حصہ (تقریباً 30.77%)
  • بہن کا حصہ: کل ترکہ کا 6/13 واں حصہ (تقریباً 46.15%) [1]
تقسیم سے پہلے ضروری اقدامات
جائیداد یا رقم تقسیم کرنے سے پہلے ان تین کاموں کو پورا کرنا لازمی ہے:
  • میت کے کفن دفن اور تجہیز و تکفین کا متوسط خرچ نکالنا۔
  • میت کے ذمے کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنا۔
  • اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو کل مال کے ایک تہائی (1/3) حصے سے اسے نافذ کرنا